اب دوسرے اور تیسرے رکوع میں غزوۂ احزاب کا ذکر ہے۔ یہ غزوہ ۵ ہجری میں ہوا اور اس کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار مدینہ سے نکالے گئے یہودی قبیلہ بنو نضیر کے سرداروں نے ادا کیا۔ بنو نضیر کو عہد شکنی کی سزا کے طور پر ۴ ہجری میں مدینہ سے نکال دیا گیا تھا۔ مدینہ سے نکلنے کے بعد وہ لوگ خیبر میں جا کر آباد ہو گئے تھے۔ وہ نہ صرف مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے تھے بلکہ ان کا خیال تھا کہ اگر مسلمانوں کا قلع قمع ہو جائے تو انہیں دوبارہ مدینہ میں آباد ہونے کا موقع مل جائے گا۔چنانچہ انہوں نے بڑی تگ ودو سے عرب کی تمام مسلم مخالف قوتوں کو متحد کر کے مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ اس کے لیے انہوں نے ابو عامر راہب(جس کا تذکرہ اس سے پہلے سورۃ التوبہ کے مطالعے کے دوران مسجد ضرار کے حوالے سے آیت ۱۰۷ کی تشریح کے ضمن میں ہو چکا ہے) کی مدد سے قریشِ مکہ ‘نجد کے بنو غطفان اور عرب کے دیگر چھوٹے بڑے قبائل سے رابطہ کیا۔ اپنی اس مہم کے نتیجے میں وہ لگ بھگ بارہ ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ایک بہت بڑا لشکر تیار کرنے اور اس کو مدینہ پر چڑھا لانے میں کامیاب ہو گئے۔ عربوں کےمخصوص قبائلی نظام کی تاریخ کو مد نظر رکھا جائے تو اس زمانے میں اتنے بڑے پیمانے پر لشکر کشی ایک انہونی سی بات تھی۔
دوسری طرف مدینہ میں مسلمانوں کی تعداد مشکل سے تین ہزار تھی اور اس میں بھی منافقین کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ اس کے علاوہ ایک بہت طاقتور یہودی قبیلے بنو قریظہ کی مدینہ میں موجودگی بھی ایک بہت بڑے خطرے کی علامت تھی۔ مدینہ میں ان لوگوں نے مضبوط گڑھیاں بنا رکھی تھیں۔اس سے پہلے مدینہ کے دو یہودی قبائل بنو قینقاع اور بنو نضیر میثاقِ مدینہ کی خلاف ورزی کرکے مسلمانوں سے غداری کر چکے تھے۔ اس پس منظر میں اس طاقتور یہودی قبیلے کی طرف سے بھی نہ صرف غداری کا اندیشہ تھا‘ بلکہ حملہ آور قبائل کے ساتھ ان کے خفیہ گٹھ جوڑ کے بارے میں ٹھوس اطلاعات بھی آ چکی تھیں۔ ان حالات میں مٹھی بھر مسلمانوں کے لیے اتنے بڑے لشکر سے مقابلہ کرنا بظاہر ممکن نہیں تھا۔
اس صورت حال میں حضورﷺ نے جب صحابہؓ سے مشورہ کیا تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی طرف سے خندق کھودنے کی تجویز سامنے آئی۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا تعلق ایران سے تھا۔ آپؓ نے ایران میں رائج اس مخصوص طرزِ دفاع کے بارے میں اپنی ذاتی معلومات کی روشنی میں یہ مشورہ دیا جو حضورﷺ نے پسند فرمایا۔ محل وقوع کے اعتبار سے مدینہ کی آبادی تین اطراف سے قدرتی طور پر محفوظ تھی۔ مشرق اور مغرب میں حرات (لاوے کی چٹانوں) پر مشتمل علاقہ تھا۔ اس علاقے میں اونٹوں اور گھوڑوں کی نقل و حرکت نہ ہو سکنے کی وجہ سے ان دونوں اطراف سے کسی بڑے حملے کا خطرہ نہیں تھا۔ عقب میں جنوب کی طرف بنو قریظہ کی گڑھیاں تھیں اور چونکہ ان کے ساتھ حضورﷺ کا باقاعدہ معاہدہ تھا اور ابھی تک ان کی طرف سے کسی بد عہدی کا اظہار نہیں ہوا تھا اس لیے بظاہر یہ سمت بھی محفوظ تھی۔ اس طرح مدینہ کی صرف شمال مغربی سمت میں ہی ایسا علاقہ تھا جہاں سے اجتماعی فوج کشی کا خطرہ باقی رہ جاتا تھا۔ اس لیے اس علاقہ میں حضورﷺ نے خندق کھودنے کا فیصلہ فرمایا۔ خندق کا مقصد اس سمت سے کسی بڑے حملے‘خصوصاً گھڑ سوار دستوں کی یلغار کو نا ممکن بنانا تھا۔ اگر یکبارگی کسی بڑے حملے کا امکان نہ رہتا تو انفرادی طور پر خندق پار کرنے والے جنگجوئوں کے ساتھ آسانی سے نپٹا جا سکتا تھا۔
حضورﷺ کے حکم سے خندق کی کھدائی کا کام شروع ہو گیااو ر چھ دن کے اندر اندر یہ خندق تیار ہو گئی۔ لیکن خندق تو محض ایک مسئلے کا حل تھا‘جبکہ حالات تھے کہ انسانی تصور سے بھی بڑھ کر گھمبیر تھے۔ جزیرہ نمائے عرب کی تاریخ کے سب سے بڑے لشکر سے مقابلہ‘منافقین کی مدینہ کے اندر آستین کے سانپوں کی حیثیت سے موجودگی‘ شدید سردی کا موسم ‘قحط کا زمانہ‘رسد کی شدید کمی اور یہودی قبیلہ بنو قریظہ کی طرف سے بد عہدی کا خدشہ! غرض خطرات و مسائل کا ایک سمندر تھا جس کی خوفناک لہریں پے درپے مسلمانوں پر اپنے تھپیڑوں کی یلغار کیے بڑھتی ہی چلی جا رہی تھیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے صبر اور امتحان کے لیے ایک بہت ہی سخت اور خوفناک صورت پیدا کر دی تھی۔
اسی دوران حضرت نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنوغطفان کی شاخ اَشجع قبیلے سے تھا‘ حضورﷺ سے ملنے مدینہ آئے اور عرض کیا کہ میں اسلام قبو ل کر چکا ہوں مگر اس بارے میں ابھی تک کسی کو علم نہیں ۔ اگر آپﷺ مجھے اجازت دیں تو میں بڑی آسانی سے حملہ آور قبائل اور بنو قریظہ کے مابین بد اعتمادی پیدا کر سکتا ہوں۔ واضح رہے کہ بنوقریظہ اور حملہ آور قبائل کے مابین سلسلۂ جنبانی کا آغاز ہو چکا تھا۔ بنونضیر کا یہودی سردار حُیّ بن اخطب بنوقریظہ کے پاس پہنچا تھا اور انہیں مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی پر آمادہ کر چکا تھا۔ اس طر ح بنوقریظہ عہدشکنی کے مرتکب ہو چکے تھے۔چنانچہ حضورﷺ کی اجازت سے حضرت نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ بنوقریظہ کے پاس گئے اور انہیں سمجھایا کہ دیکھو محمد (ﷺ) کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے۔ اگر تم ان سے عہد شکنی کر کے حملہ آور قبائل کا ساتھ دو گے تو عین ممکن ہے کہ تم اپنی توقعات کے مطابق مسلمانوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاؤ۔ لیکن یہ بھی تو سوچو کہ اگر یہ منصوبہ ناکام ہوا تو تمہارا کیا بنے گا؟ آخر اس کا امکان تو موجود ہے نا‘ خواہ کتنا ہی خفیف کیوں نہ ہو!ایسی صورت میں باہر سے آئے ہوئے سب لوگ تو محاصرہ اٹھا کر چلتے بنیں گے اور تمہیں مسلمانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ جائیں گے۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ حملہ آور قبائل کا ساتھ دینے سے پہلے تم لوگ اپنی حفاظت کی ضمانت کے طور پر ان سے کچھ افراد بطور یرغمال مانگ لو۔
اس کے بعد حضرت نعیم رضی اللہ عنہ حملہ آور قبائل کے سرداروں کے پاس گئے اور انہیں خبردار کیا کہ بنو قریظہ تم لوگوں سے مخلص نہیں‘وہ تم سے کچھ آدمی بطور یرغمال مانگنے کا منصوبہ بنارہے ہیں تا کہ تمہارے آدمی مسلمانوں کے حوالے کر کے انہیں اپنی وفاداری کا یقین دلا سکیں۔ چنانچہ تم لوگ ان سے خبردار رہنا اور کسی قیمت پر بھی اپنے آدمی ان کے سپرد نہ کرنا! حملہ آور قبائل اور بنو قریظہ کے درمیان مسلمانوں پر مشترکہ حملے کے بارے میں معاہدہ طے پانے ہی والاتھا ‘لیکن معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پہلے جب بنو قریظہ نے حملہ آور قبائل سے کچھ افراد بطور ضمانت مانگے تو انہوں نے ان کا یہ مطالبہ رد کر دیا۔اس طرح فریقین کے اندر بد اعتمادی کی فضا پیدا ہو گئی اور مسلمانوں کے خلاف ایک انتہائی خطرناک منصوبہ ناکام ہو گیا۔
بنو قریظہ کی طرف سے عدم تعاون کے بعد حملہ آور لشکر کی کامیابی کی رہی سہی امید بھی دم توڑ گئی۔ دوسری طرف انہیں موسم کی شدت اور رسد کی قلت کی وجہ سے بھی پریشانی کا سامنا تھا۔ ان حالات میں ایک رات قدرتِ الٰہی سے شدید آندھی آئی جس سے ان کے کیمپ کی ہر چیز درہم برہم ہو گئی۔ خیمے اُکھڑ گئے‘کھانے کی دیگیں الٹ گئیں اور جانور دہشت زدہ ہو گئے۔ اس غیبی وار کی شدت کے سامنے ان کی ہمتیں بالکل ہی جواب دے گئیں۔ چنانچہ اسی افراتفری کے عالم میں تمام قبائل نے واپسی کی راہ لی۔
یہ محاصرہ تقریباً پچیس دن تک جاری رہا۔ مسلمانوں کے لیے تویہ ایک بہت سخت امتحان تھا ہی‘ جس سے وہ سرخرو ہو کر نکلے‘ لیکن دوسری طرف ا س آزمائش سے منافقین کے نفاق کا پردہ بھی چاک ہو گیااور ایک ایک منافق کا خبثِ باطن اس کی زبان پر آ گیا۔ یہی دراصل اس آزمائش کا مقصد بھی تھا: {لِیَمِیۡزَ اللّٰہُ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ }(الانفال : ۳۷) ’’ تاکہ اللہ ناپاک کو پاک سے چھانٹ کر الگ کر دے‘‘---- سورۃ العنکبوت کے پہلے رکوع میں یہی اصول اور قانون اللہ تعالیٰ نے سخت تاکیدی الفاظ میں دو دفعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے فرمایا: {فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۳﴾} ’’چنانچہ اللہ ظاہر کر کے رہے گااُن کو جو (اپنے دعوائے ایمان میں) سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں۔‘‘پھر اس کے بعد دوبارہ فرمایا: {وَ لَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ﴿۱۱﴾} ’’اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو‘اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی!‘‘
اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جس طرح ۵نبویؐ میں مکہ کے اندر غلاموں‘نوجوانوں اور بے سہارا مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا (اس کی تفصیل سورۃ العنکبوت کے پہلے رکوع کے مطالعے کے دوران گزر چکی ہے) بالکل اسی طرح ۵ ہجری میں مدینہ کے اندر بھی مسلمانوں کو غزوۂ خندق کی صورت میں سخت ترین آزمائش سے دو چار ہونا پڑا۔ بلکہ اس ضمن میں میری رائے (واللہ اعلم) تو یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ پر ذاتی طور پر سب سے مشکل وقت آپؐ کے سفرِ طائف کے دوران آیا تھا‘ جبکہ مسلمانوں کو اجتماعی سطح پر شدید ترین تکلیف دہ صورت حال کا سامنا غزوۂ خندق کے موقع پر کرنا پڑا۔
’’اے اہلِ ایمان! یاد کرو اللہ کے اُس انعام کو جو تم لوگوں پر ہوا‘‘
اِذۡ جَآءَتۡکُمۡ جُنُوۡدٌ
’’جب تم پر حملہ آور ہوئے بہت سے لشکر‘‘
یہ لشکر مدینہ پر چاروں طرف سے چڑھ آئے تھے۔ بنو غطفان اور بنو خزاعہ کے لشکروں نے مشرق کی طرف سے چڑھائی کی ‘جنوب مغرب کی طرف سے قریشِ مکہ حملہ آور ہوئے‘ جبکہ شمال کی جانب سے انہیں بنو نضیر اور خیبر کے دوسرے یہودی قبائل کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔
’’اور جو کچھ تم لوگ کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔‘‘
اس ایک جملے میں محاصرے کے دوران ہر فرد کے رویے کا احاطہ کر دیا گیا ہے۔ اس دوران کس کا ایمان غیر متزلزل رہا ‘کس کی نیت میں نفاق تھا اور کون اپنے نفاق کو زبان پر لے آیا‘اللہ کو سب معلوم ہے۔ یہ محاصرہ تقریباً پچیس دن تک رہا۔ اس دوران اِکا دُکا مقامات پر معرکہ آرائی بھی ہوئی۔ اس حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عرب کے مشہور پہلوان عبدِ وُدّ کے درمیان ہونے والا مقابلہ تاریخ میں بہت مشہورہے۔ عبدِ وُدّ پورے عرب کا مانا ہوا شہسوار تھا۔ اس کی عمر نوے سال تھی مگر وہ اس عمر میں بھی ہزار جنگجوئوں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ کوئی اکیلا شخص اس کے مقابلے میں آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔وہ گھوڑے کو بھگاتے ہوئے ایک ہی زقند میں خندق پار کرنے میں کامیاب ہو گیااور تنِ تنہا اس طرف آ کر دعوتِ مبارزت دی کہ تم میں سے کوئی ہے جو میرا مقابلہ کرے؟ ادھر سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے کے لیے تیار ہوئے۔
حضرت علیؓ کے سامنے آنے پر اُس نے کہا کہ میں اپنے مقابل آنے والے ہر شخص کو تین باتیں کہنے کا موقع دیتا ہوں اور ان میں سے ایک بات ضرور قبول کرتا ہوں۔ اس لیے تم اپنی تین خواہشات کا اظہار کرو۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میری پہلی خواہش تو یہ ہے کہ تم ایمان لے آؤ۔ اُس نے کہا کہ یہ تو نہیں ہو سکتا۔ حضرت علیؓ نے اپنی دوسری خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تم جنگ سے واپس چلے جاؤ! اُس نے کہا کہ یہ بھی ممکن نہیں۔ ان دونوں باتوں سے انکار پر آپؓ نے فرمایا کہ پھر آؤ اور مجھ سے مقابلہ کرو! اس پر اس نے ایک بھر پور قہقہہ لگاتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا کہ آج تک پورے عرب میں اس کے سامنے کسی کو ایسا کہنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ بہر حال دو بدو مقابلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے واصلِ جہنم کر دیا۔ اس طرح کے اِکا دُکا انفرادی مقابلوں کے علاوہ دونوں لشکروں کے درمیان کسی بڑے اجتماعی معرکے کی نوبت نہیں آئی۔
محاصرے کے غیر متوقع طور پر طول کھینچنے سے کفار کے لشکر میں روز بروزبد دلی پھیلتی جا رہی تھی۔ اس دوران حضرت نعیم بن مسعود اشجعی رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی سے بھی بنو قریظہ اور حملہ آور قبائل کے درمیان بد اعتمادی پیدا ہو گئی۔طویل محاصرے کے بعد اچانک خوفناک آندھی نے بھی اپنا رنگ دکھایا۔ اس پر مستزاد فرشتوں کے لشکروں کی دہشت تھی جس کی کیفیت کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس سب کچھ کا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب کی تاریخ کے سب سے بڑے لشکر کو اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر ناکام و نا مراد لوٹنا پڑا ---- آئندہ آیات میں محاصرے کے دوران کی صورتِ حال پر مزید تبصرہ کیا جا رہا ہے:
’’جب وہ (لشکر) آئے تم پر تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی‘‘
جزیرہ نمائے عرب کا جغرافیائی محل وقوع پہلے بھی کئی بار زیر بحث آ چکا ہے۔ اس میں شمالاً جنوباً حجاز کا طویل پہاڑی سلسلہ ہے۔ مکہ ‘طائف اور مدینہ حجاز ہی میں واقع ہیں‘ جبکہ اسی علاقے میں اوپر شمال کی طرف تبوک کا علاقہ ہے۔ اس پہاڑی سلسلے اور ساحل سمندر کے درمیان ایک وسیع میدان ہے جس کا نام تہامہ ہے۔ حجاز کے پہاڑی سلسلے اور تہامہ کے درمیان سطح مرتفع ہے جو اگرچہ پہاڑی علاقہ تو نہیں مگر میدانی سطح سے بلند ہے۔ اس علاقے میں بنو غطفان وغیرہ قبائل آباد تھے۔ اس لحاظ سے آیت زیر مطالعہ کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ مدینہ کے اوپر کی طرف سے بنو غطفان وغیرہ جبکہ نیچے تہامہ کی طرف سے قریش مکہ حملہ آور ہوئے تھے۔
’’اور جب (خوف کے مارے) نگاہیں پتھرا گئی تھیں اور دل حلق میں آ گئے تھے‘‘
یہ اُس غیر معمولی کیفیت کا نقشہ ہے جب انتہائی خوف اور دہشت کی وجہ سے انسان کی آنکھیں حرکت کرنا بھول جاتی ہیں‘اس کے دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر تیز ہو جاتی ہے اور اسے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے اس کا دل اُچھل کر اب سینے سے باہر نکل جائے گا۔
وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا ﴿۱۰﴾
’’اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کر نے لگے۔‘‘
’’اور جب کہہ رہے تھے منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا کہ نہیں وعدہ کیا تھا ہم سے اللہ اور اُس کے رسولؐ نے مگر دھوکے کا۔‘‘
یعنی اللہ اور اس کے رسولؐ نے ہم سے جو وعدے کیے تھے وہ محض فریب نکلے۔ ہمیں تو انہوں نے سبز باغ دکھا کر مروا دیا ۔ ہم سے تو کہا گیا تھا کہ اللہ کی مدد تمہارے شامل حال رہے گی اور قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں تمہارے قدموںمیں ڈھیر ہو جائیں گی‘ مگر اس کے برعکس آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم قضائے حاجت کے لیے بھی باہر نکلنے سے عاجز ہیں۔ ظاہر ہے اس دور میں آج کل کی طرز کے بیت الخلاء تو تھے نہیں‘چنانچہ محاصرے کے دوران اس نوعیت کے جو مسائل پیدا ہوئے ان پرمنافقین نے خوب واویلا مچایا۔
’’اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے اہلِ یثرب! اب تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں‘چنانچہ تم لوٹ جائو!‘‘
کہ اب تمہارے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ خندق کے سامنے اتنے بڑے لشکر کے مقابلے میں تم کیسے ٹھہر سکو گے؟ چنانچہ تم اپنی جانیں بچانے کی فکر کرو اور شہر کی طرف پلٹ چلو۔
’’اور ان میں سے ایک گروہ نبیؐ سے اجازت طلب کر رہا تھا‘وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔‘‘
محاصرے کے دوران شہر کی صورت حال کچھ یوں تھی کہ حملہ آوروں کے مقابلے کے لیے تمام مرد شہر سے باہر ایک جگہ پر اکٹھے تھے۔ حضورﷺ نے عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا یہ انتظام فرمایا تھا کہ انہیں مدینہ کے وسطی علاقے میں ایک بڑی حویلی کے اندر جمع کر کے وہاں پہرے وغیرہ کا بندوبست فرما دیا تھا۔ جب بنو قریظہ کی طرف سے عہد شکنی کی خبریں آئیں تو اس یہودی قبیلہ کی طرف سے عورتوں اور بچوں پر حملے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ اس صورت حال میں منافقین بار بار آ کر حضورﷺ سے اس بہانے واپس اپنے گھروں کو جانے کی اجازت مانگتے تھے کہ اب ان کے گھر غیر محفوظ ہو گئے ہیں اور ان کے اہل و عیال کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
وَ مَا ہِیَ بِعَوۡرَۃٍ ۚۛ
’’حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے۔‘‘
اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی طرف سے ان کے اہل و عیال کی حفاظت کا مناسب بندوبست کیا گیا تھا اور بظاہر انہیں کوئی خطرہ درپیش نہیں تھا۔
اِنۡ یُّرِیۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴿۱۳﴾
’’حقیقت میں وہ کچھ نہیں چاہتے تھے سوائے فرار کے۔‘‘
ان کی ایسی باتوں کی اصلیت کچھ نہیں تھی ۔ اصل میں وہ جنگ سے بھاگنے کے بہانے تلاش کر رہے تھے۔
’’اور اگر کہیں ان پر دشمن گھس آئے ہوتے مدینہ کے اطراف سے‘پھر ان سے مطالبہ کیا جاتا فتنے (ارتداد) کا‘تو وہ اسے قبول کر لیتے‘‘
اگر خدانخواستہ کفار و مشرکین کے لشکر واقعی مدینہ میں داخل ہو جاتے اور وہ ان منافقین کو علانیہ ارتداد اور مسلمانوں سے جنگ کی دعوت دیتے توایسی صورتِ حال میں یہ لوگ بلا تردد ان کی بات مان لیتے۔
وَ مَا تَلَبَّثُوۡا بِہَاۤ اِلَّا یَسِیۡرًا ﴿۱۴﴾
’’اور اس میں بالکل توقف نہ کرتے مگر تھوڑا سا۔‘‘
چونکہ ایمان ابھی ان کے دلوں میں راسخ ہوا ہی نہیں تھا‘ اس لیے جونہی انہیں ایمان کے دعوے سے پھرنے کا موقع ملتا وہ فوراً ہی اللہ اور اس کے رسولؐ سے بریٔ الذمہ ہونے کا اعلان کر دیتے۔
’’(اے نبیﷺ! ان سے) کہہ دیجیے کہ تمہارا یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا‘اگر تم لوگ موت یا قتل سے بھاگ رہے ہو‘‘
موت سے بھلا کوئی کیسے بھاگ سکتا ہے؟ موت تو ہر جگہ اپنے شکار کا پیچھا کرسکتی ہے۔
وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۶﴾
’’اور (اگر بھاگو گے) تب بھی تم (زندگی کے سازوسامان سے) فائدہ نہیں اٹھا سکو گے مگر تھوڑا سا۔‘‘
اگر وقتی طور پر کوئی شخص ایک جگہ سے بھاگ کر اپنی جان بچا نے میں کامیاب ہو بھی جائے تو بھی وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ تو نہیں ہو سکتا۔ اس کی یہ کوشش اسے اس سے زیادہ بھلا کیا فائدہ پہنچا سکتی ہے کہ کچھ عرصہ وہ مزید جی لے گا۔ آخر ایک نہ ایک دن تو اسے موت کے منہ میں جانا ہی ہے۔ وہ دنیا کی زندگی کا بس اسی قدر لطف اٹھا سکتا ہے جتنا اس کے لیے مقدر ہے۔
’’آپؐ کہیے کہ کون ہے وہ جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ نقصان کا؟ یا (اُس کی رحمت کو روک سکتا ہے) اگروہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ رحمت کا؟‘‘
وہ تمہارے ساتھ جیسا بھی معاملہ کرنا چاہے کوئی اس کے آڑے نہیں آ سکتا۔
’’اوریہ لوگ نہیں پائیں گے اپنے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار۔‘‘
آیت 18
قَدۡ یَعۡلَمُ اللّٰہُ الۡمُعَوِّقِیۡنَ مِنۡکُمۡ
’’ اللہ خوب جانتا ہے تم میں سے ان لوگوں کو جو روکنے والے ہیں‘‘
جیسا کہ قبل ازیں وضاحت کی جا چکی ہے کہ مدینہ کی دو اطراف تو قدرتی رکاوٹوں کی وجہ سے محفوظ تھیں‘جبکہ عقب میں بنو قریظہ کی گڑھیاں تھیں اور جب تک انہوں نے معاہدے کی اعلانیہ خلاف ورزی نہیں کی تھی تب تک ان کی طرف سے بھی بظاہر کوئی خطرہ نہیں تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کی اکثریت حملہ آور لشکر کے سامنے خندق کی اندرونی جانب مورچہ بند تھی اور جنگ کا اصل محاذ وہی مقام تھا۔ منافقین نہ صرف خود اس محاذ کی طرف جانے سے کتراتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی روکتے تھے کہ اس طرف مت جائو۔
’’پھر جب خطرہ جاتا رہتا ہے تو وہ تم لوگوں پر چڑھ دوڑتے ہیں اپنی تیز زبانوں سے‘‘
سَلَقَ یَسْلُقُ سَلْقًا کے معنی ہیں کسی پر ہاتھ یا زبان سے حملہ آور ہونا۔ فقرے کا لغوی مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ آپؐ پر حملہ آور ہوتے ہیں اپنی لوہے کی زبانوں سے۔ یہ گویا محاورہ کا اسلوب ہے ‘جیسے اردو میں ’’قینچی کی طرح زبان کاچلنا‘‘ ایک محاورہ ہے۔ خطرہ گزر جانے کے بعد ان کی زبانیں آپ لوگوں کے سامنے قینچی کی طرح چلنے لگ جاتی ہیں اور یہ اپنے ایمان کا اظہار اور مسلمانوں پر تنقید کرنے لگ جاتے ہیں۔
اَشِحَّۃً عَلَی الۡخَیۡرِ ؕ
’’لالچ کرتے ہوئے مال پر۔‘‘
ان کی خواہش ہو تی ہے کہ سارا مالِ غنیمت انہیں ہی مل جائے۔
’’یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں ایمان نہیں لائے تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے ۔‘‘
وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۱۹﴾
’’اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔‘‘
یہ لوگ زبان سے ایمان کادعویٰ تو کرتے ہیں لیکن دل سے ہرگز ایمان نہیں لائے۔ انہوں نے ا س حالت میں جو بھی نیک اعمال کیے ہیں ان کی انہیں کوئی جزا نہیں ملے گی۔ ظاہر ہے یہ لوگ ایمان کے دعوے کے ساتھ نمازیں بھی پڑھتے تھے اوروہ بھی مسجد نبوی ؐکے اندر رسول اللہﷺکی اقتدا میں۔ لیکن ان کے یہ سارے اعمال ضائع ہو چکے ہیں ‘کیونکہ منافقت کی کیفیت میں کیا گیا نیکی اور بھلائی کاکوئی عمل بھی اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ۔
آیت 20
یَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ یَذۡہَبُوۡا ۚ
’’وہ لشکروں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ گئے نہیں ہیں۔‘‘
اگرچہ کفار کے تمام لشکر واپس جا چکے ہیں مگر ان پر ایسا خوف طاری ہے کہ انہیں یقین ہی نہیں آتا کہ وہ چلے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لشکر کسی حکمت عملی کے تحت تھوڑی دیر کے لیے منظر سے اوجھل ہوئے ہیں اور پھر کچھ ہی دیر کے بعد وہ دوبارہ آ جائیں گے۔ جیسے کسی خوفناک حادثے کی دہشت دیر تک ایک شخص کے اعصاب پر سوار رہتی ہے اسی طرح ان کے اعصاب پر ابھی تک ان لشکروں کا خوف مسلط ہے۔
’’اور اگر لشکر (دوبارہ) حملہ آور ہو جائیں تو ان کی خواہش ہو گی کہ وہ بدوئوں کے ساتھ صحرا میں رہ رہے ہوتے(اور وہیں سے) تمہاری خبریں معلوم کرتے رہتے۔‘‘
ایسی صورت میں یہ لوگ خواہش کریں گے کہ کاش وہ لوگ مدینہ کو چھوڑ کر ریگستان میں چلے گئے ہوتے‘ وہاں اہل بدو کے درمیان محفوظ جگہ پر پناہ لیے ہوئے مدینہ کی خبریں پوچھتے رہتے کہ جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھا ہے۔
’’اور اگر وہ تمہارے درمیان رہتے تو قتال نہ کرتے مگر بہت ہی تھوڑا۔‘‘
اگر وہ لوگ تمہارے درمیان موجود بھی ہوتے تو کسی نہ کسی بہانے جنگ سے جان چھڑا ہی لیتے اور کبھی کبھار محض دکھانے کے لیے کسی مہم میں با دلِ نخواستہ برائے نام حصہ لے لیتے۔
جیسا کہ قبل ازیں ذکر ہو چکا ہے ‘ غزوئہ احزاب کا واقعہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی‘ جس کا مقصد کھرے اور کھوٹے کو پرکھنا تھا۔ چنانچہ اس آزمائش کے نتیجے میں انسانی کردار کی دو تصاویر سامنے آئیں۔ ایک اندھیرے کی تصویر تھی اور دوسری اُجالے کی۔ ان میں سے اندھیرے کی تصویر کا تذکرہ گزشتہ آیات میں ہوا جبکہ دوسری تصویر کی جھلک آئندہ آیات میں دکھائی جا رہی ہے۔ اجالے کی اس تصویر میں خورشیدِ عالم تاب کی علامت چونکہ حضورﷺ کا کردار ہے اس لیے مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا گیا:
’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐمیں ایک بہترین نمونہ ہے ‘‘
بظاہر ہمارے ہاں اس آیت کی تفہیم و تعلیم بہت عام ہے۔ سیرت کا کوئی سیمینار ہو‘میلادکی کوئی محفل ہویا کسی واعظِ رنگین بیان کا وعظ ہو‘اس آیت کی تلاوت لازمی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن رسول اللہﷺکے سیرت وکردار کا نمونہ اپنانے کی جو صورت آج مسلمانوں کے ہاں عموماً دیکھنے میں آتی ہے اس کا تصور بہت محدود نوعیت کا ہے اور جن سنتوں کا تذکرہ عام طو رپر ہمارے ہاں کیا جاتا ہے وہ محض روز مرہ کے معمولات کی سنتیں ہیں‘ جیسے مسواک کی سنت یا مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دایاں پائوں اندر رکھنے اور باہر نکلتے ہوئے بایاں پاؤں باہر رکھنے کی سنت۔ یقینا ان سنتوں کو اپنانے کا بھی ہمیں اہتمام کرنا چاہیے اور ہمارے لیے حضورﷺ کی ہر سنت یقینا منبع خیر و برکت ہے۔ لیکن اس آیت کے سیاق و سباق کو مدنظر رکھ کر غور کریں تو یہ نکتہ بہت آسانی سے سمجھ میں آ جائے گا کہ یہاں جس اُسوہ کا ذکر ہوا ہے وہ طاقت کے نشے میں بدمست باطل کے سامنے بے سروسامانی کے عالم میں جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈٹ جانے کا اُسوہ ہے ۔ اور اُسوۂ رسولﷺ کا یہی وہ پہلو ہے جو آج ہماری نظروں سے اوجھل ہوچکا ہے۔ دراصل اس آیت میں خصوصی طور پر حضورﷺ کے اس کردار کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جس کا نظارہ چشمِ فلک نے غزوۂ خندق کے مختلف مراحل کے دوران کیا۔ اس دوران اگر کسی مرحلے پر فاقوں سے مجبور صحابہؓ نے بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹوں پر پتھر بندھے ہوئے دکھائے تو حضورﷺ نے بھی اپنی قمیص اٹھا کر اپنا پیٹ دکھایا جہاں دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ اُس وقت اگر صحابہؓ خندق کی کھدائی میں لگے ہوئے تھے تو ان کے درمیان حضورﷺ خود بھی بڑ ے بڑے پتھر اپنے کندھوں پر اُٹھا اُٹھا کر باہر پھینکنے میں مصروف تھے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کوئی سنگلاخ چٹان صحابہؓ کی ضربوں سے ٹوٹ نہ سکی اور حضورﷺ کو اطلاع دی گئی تو آپؐ نے بنفسِ نفیس اپنے ہاتھوں سے ضرب لگا کر اسے پاش پاش کیا۔ اس مشکل گھڑی میں ایسا نہیں تھا کہ حضورﷺ کے لیے پر آسائش خیمہ نصب کر دیا گیا ہو ‘آپؐ اس میں محو استراحت ہوں‘خدام مورچھل لیے آپؐ کی خدمت کو موجود ہوں اور باقی لوگ خندق کھودنے میں لگے ہوئے ہوں۔
حضورﷺ کے اُسوہ اور آپؐ کی سنت کو عملی طور پر اپنائے جانے کے معاملے کو سمجھانے کے لیے عام طور پر میں معاشیات کی دو اصطلاحات macro economicsاور micro economics کی مثال دیا کرتا ہوں۔ یعنی جس طرح macro economics کا تعلق بہت بڑی سطح کے معاشی منصوبوں یا کسی ملک کے معاشی نظام کے مجموعی خدوخال سے ہے‘اورچھوٹے پیمانے پر معمول کی معاشی سرگرمیوں کے مطالعے کے لیے micro economics کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے‘ اسی طرح اگر ہم macro sunnah اور micro sunnah کی اصطلاحات استعمال کریں اور اس حوالے سے اپنا اور اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ آج ہماری اکثر یت’’مائیکرو سنت‘‘سے تو خوب واقف ہے‘اکثر لوگ روز مرہ معمول کی سنتوں پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں‘بلکہ بعض اوقات جذبات کی رو میں بہہ کر اس بنا پر دوسروں کے ساتھ جھگڑے بھی مول لیتے ہیں‘ لیکن ’’میکرو سنت‘‘کی اہمیت و ضرورت کا کسی کو ادراک ہے اور نہ ہی اس کی تعمیل کی فکر (اِلاَّ مَا شَا ئَ اللّٰہ) ۔مثلاً حضورﷺ کی سب سے بڑی (macro) سنت تو یہ ہے کہ وحی کے آغاز یعنی اپنی چالیس سال کی عمر کے بعد آپؐ نے اپنی پوری زندگی میں کوئی ایک لمحہ بھی معاشی جدوجہد کے لیے صرف نہیں کیا اور نہ ہی اپنی زندگی میں آپؐ نے کوئی جائیداد بنائی۔ بعثت سے پہلے آپؐ ایک خوشحال اور کامیاب تاجر تھے‘ لیکن سورۃ المدثر کی ان آیات کے نزول کے بعد آپؐ کی زندگی یکسر بدل گئی: {یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿ۙ۳﴾} ’’اے چادر اوڑھنے والے! اُٹھیے‘ اور (لوگوں کو) خبردار کیجیے ‘اور اپنے رب کی تکبیرکیجیے‘‘۔ اس حکم کی تعمیل میں گویا آپؐ نے اپنی ہر مصروفیت کو ترک کر دیا‘ہر قسم کی معاشی جدوجہد سے پہلو تہی اختیار فرمالی‘اور اپنی پوری قوت و توانائی ‘ تمام تر اوقات اور تمام تر تگ و دو کا رخ دعوتِ دین‘ اقامتِ دین اورتکبیر رب کی طرف پھیر دیا۔ یہ وہ ’’میکرو سنت‘‘ ہے جس سے نبی اکرمﷺ کی زندگی کا ایک لمحہ بھی خالی نظر نہیںآتا۔
آج اس درجے میں نہ سہی مگر اس میکرو سنت کے رنگ کی کچھ نہ کچھ جھلک تو بحیثیت مسلمان ہماری زندگیوں میں نظر آنی چاہیے‘ اوراس رنگ کے ساتھ ساتھ مائیکرو قسم کی سنتوں کا بھی اہتمام کیا جائے تو وہ یقینا نورٌ علیٰ نور والی کیفیت ہو گی۔ لیکن اگر ہم اپنی ساری توانائیاں صرف چھوٹی چھوٹی سنتوں کے اہتمام میں ہی صرف کرتے رہیں‘برش کے بجائے مسواک کا استعمال کرکے سو شہیدوں کے برابر ثواب کی امید بھی رکھیں اور اتباعِ سنت کے اشتہار کے طور پر ہر وقت مسواک اپنی جیب میں بھی لیے پھریں ‘لیکن اپنی زندگیوں کا عمومی رخ متعین کرنے میں ’’میکرو سنت‘‘ کا بالکل بھی لحاظ نہ کریں تو ہمیں خود فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہمارا یہ طرزِ عمل اُسوۂ رسولﷺ سے کس قدر مطابقت اور مناسبت رکھتا ہے!
’’(یہ اُسوہ ہے) ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ سے ملاقات اور آخرت کی امید رکھتا ہو‘‘
وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا ﴿ؕ۲۱﴾
’’اور کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتا ہو۔ ‘‘
یعنی حضورﷺ کا اسوہ صرف اس شخص کے لیے ہے جو ان تین شرائط کو پورا کرے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا متمنی ہو‘یعنی اللہ سے محبت کرتا ہو۔ دوسری شرط یہ کہ وہ شخص یومِ آخرت کی بھی امید رکھتا ہو‘یعنی بعث بعد الموت پر اس کا یقین ہو۔ اور تیسری شرط یہ کہ وہ اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرتا ہو۔ گویا ہر وقت اللہ کو یاد رکھتا ہو۔
رسول اللہﷺکے اُسوہ کے حوالے سے ان شرائط کے فلسفے کو سورۃ البقرۃکی آیت ۲ اور آیت ۱۸۵ کی روشنی میں سمجھئے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۸۵میں قرآن کو ہُدًی لِّلنَّاسِ (تمام نوعِ انسانی کے لیے ہدایت) قرار دیا گیا ہے۔ لیکن آیت ۲ میں اس ہدایت سے استفادہ کو ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ کی شرط سے مشروط کر دیا گیا ہے کہ قرآن سے صرف وہی لوگ ہدایت حاصل کر سکتے ہیں جو تقویٰ کی روش پر کاربند ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں آیت زیرمطالعہ کا مفہوم یہ ہے کہ حضورﷺ کا اُسوہ تو اپنی جگہ کامل و اکمل اور منبعِ رشد و ہدایت ہے لیکن اس سے استفادہ صرف وہی لوگ کر سکیں گے جو اِن تین شرائط پر پورا اترتے ہوں۔
حضورﷺ کے اُسوہ کے ذکر کے بعد آگے آپؐ کے صحابہؓ کے کردار کا ذکر کیاجا رہا ہے۔ یہ گویا وہی ترتیب ہے جو سورۃ الفتح کی آخری آیت میں آئی ہے: {مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ …} ’’محمدؐ اللہ کے رسولؐ ہیں ‘اور وہ لوگ جو آپؐ کے ساتھ ہیں…‘‘ یعنی پہلے حضورﷺ کا ذکر اور پھر اس کے بعد آپؐ کے صحابہ کرام jکا۔
’’تو انہوں نے کہا کہ یہی تو ہے جس کا ہم سے وعدہ کیا تھا اللہ اور اُس کے رسولؐ نے ‘اور بالکل سچ فرمایا تھا اللہ اور اُس کے رسولؐ نے۔‘‘
ان کے دلوں نے فوراً ہی گواہی دے دی کہ یہ وہی صورت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بہت پہلے ہمیں ان الفاظ میں متنبہ کر دیا تھا: {وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ } (البقرۃ:۱۵۵) ’’اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے‘اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے۔‘‘ بلکہ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے تو ہمیں یہاں تک خبردار کر دیا تھا: {لَتُبۡلَوُنَّ فِیۡۤ اَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ لَتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ مِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ؕ} (آل عمران:۱۸۶)’’ (مسلمانو یاد رکھو!) تمہیں لازماً آزمایا جائے گا تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی ‘اور تمہیں لازماً سننا پڑیں گی بڑی تکلیف دہ باتیں‘ان لوگوں سے بھی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور مشرکین سے بھی۔‘‘
یہاں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ محاصرے کی جس صورتِ حال پر منافقین نے {مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲﴾} کے الفاظ میں تبصرہ کیا تھا اسی صورت حال پرمؤمنین کا تبصرہ اس کے بالکل برعکس تھا ۔ یعنی ایک ہی صورتِ حال میں دونوں فریقوں کا رد عمل مختلف بلکہ متضاد تھا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی انسان کے عمل اور اس کے رویے کا انحصار اس کے دل کی کیفیت پر ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کو سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۶ میں قرآن کریم کے حوالے سے یوں واضح کیا گیا ہے: {یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًا ۙ وَّ یَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا ؕ } یعنی اللہ تعالیٰ اس قرآن کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت عطا کرتا ہے۔
’’اوراس (واقعہ) نے ان میں کسی بھی شے کا اضافہ نہیں کیا مگر ایمان اور فرمانبرداری کا۔‘‘
یعنی یہ آزمائش مسلمانوں کے ایمان اور جذبۂ تسلیم و رضا میں مزید اضافہ کر گئی۔ محاصرے کے پورے عرصے کے دوران میں ہر قسم کی مصیبت اور پریشانی کے سامنے وہ ؏ ’’سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے‘‘ کے نعرۂ مستانہ کی عملی تصویر بنے رہے۔ گویا مؤمن تو ہر حال میں خوش اور مطمئن رہتا ہے۔ اللہ کے راستے میں اس کی کوششیں دنیا میں ہی بار آور ہوں یا اس جدوجہد میں اس کی جان چلی جائے‘وہ دونوں صورتوں میں سرخرو ٹھہرتا ہے۔ سورۃ التوبہ کی آیت ۵۲ میں ان دونوں صورتوں کو اَلْحُسْنَـیَیْن (دو بھلائیاں) قرار دیا گیا ہے: {قُلۡ ہَلۡ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡدَی الۡحُسۡنَیَیۡنِ ؕ} ’’(اے مسلمانو! ان منافقین سے) کہو کہ تم ہمارے بارے میں کس شے کا انتظار کر سکتے ہو؟ سوائے دو بھلائیوں میں سے ایک کے!‘‘ یعنی تبوک کی اس مہم کے دوران میں جو صورت بھی ہمارے درپیش ہو ہمارے لیے اس میں بھلائی ہی بھلائی ہے۔ اگر فتح یاب ہو کر لوٹے تو دنیا کی کامیابیاں پائیں گے اور اگر شہید ہو گئے تو جنت کی ابدی نعمتوں سے نوازے جائیں گے۔(سورۃ التوبہ۹ ہجری میں سورۃ الاحزاب کے چار سال بعد نازل ہوئی۔)
یہ راستہ دراصل عشق کا راستہ ہے اور اس راستے کے مسافروں کی نظر ظاہری مفاد کے بجائے اپنے محبوب کی رضا پر ہوتی ہے۔ حالات موافق و سازگار ہوں یا مخدوش و نا مساعد‘وہ اس کی پروا کیے بغیر اپنے محبوب کی خوشنودی کے لیے سر گرمِ عمل رہتے ہیں۔ بقول غالب: ؎
’’ اہلِ ایمان میں وہ جواں مرد لوگ بھی ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا وہ عہد جوانہوں نے اللہ سے کیا تھا۔‘‘
انہوں نے کہاتھا کہ ہمارے مال اور ہماری جانیں اللہ کی راہ میں قربانی کے لیے حاضر ہیں اور انہوں نے اپنا یہ دعویٰ عملی طور پر سچ کر دکھایا ۔
فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ
’’پس ان میں سے کچھ تو اپنی نذر پوری کر چکے ‘‘
یہ اشارہ ہے ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف جو ان آیات کے نزول (۵ ہجری) سے پہلے جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔مثلاً غزوۂ بدر میں چودہ (۱۴)‘جبکہ غزوہ اُحد میں ستر(۷۰) صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہوئے تھے۔
وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ ۫ۖ
’’اور ان میں سے کچھ انتظار کر رہے ہیں۔‘‘
باقی منتظر ہیں کہ کب ان کی باری آئے‘ انہیں جان قربان کرنے کا موقع میسر آئے اور وہ اللہ کے حضور سرخرو ہوں: ؎
وبالِ دوش ہے سر جسمِ نا تواں پہ مگر
لگا رکھا ہے ترے خنجر و سناں کے لیے !
وَ مَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِیۡلًا ﴿ۙ۲۳﴾
’’اور انہوں نے ہر گز کوئی تبدیلی نہیں کی۔‘‘
اللہ سے جو عہد انہوں نے پہلے دن سے کر رکھا ہے آج بھی وہ اس پر قائم ہیں اور اس میں انہوں نےِ سرمو فرق نہیں آنے دیا۔
آیت 24
لِّیَجۡزِیَ اللّٰہُ الصّٰدِقِیۡنَ بِصِدۡقِہِمۡ
’’تا کہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا پورا پورا بدلہ دے‘‘
’’اور منافقین کو چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے ۔‘‘
یعنی اللہ چاہے تو ان کو توبہ کا موقع دے دے۔
اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿ۚ۲۴﴾
’’یقینا اللہ بہت بخشنے والا ‘نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
اس آیت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اُس وقت (۵ ہجری) تک منافقین کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا تھا۔ لیکن جب یہ مہلت ختم ہو گئی تو ان کے متعلق یہ فیصلہ سنا دیا گیا: {اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ فِی الدَّرۡکِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ لَہُمۡ نَصِیۡرًا ﴿ۙ۱۴۵﴾} ( النساء) ’’ یقینا منافقین آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے‘ اور تم نہ پائو گے ان کے لیے کوئی مدد گار۔‘‘بلکہ غزوۂ تبوک کی مہم کے دوران ان کے کردار اور رویے کے سبب سورۃ التوبہ میں ان کے بارے میں آخری فیصلہ بایں الفاظ فرما دیا گیا: {اِسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ سَبۡعِیۡنَ مَرَّۃً فَلَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۸۰﴾} ’’(اے نبیﷺ!) آپ ان کے لیے استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں (ان کے حق میں برابر ہے)‘اگر آپ ستر مرتبہ بھی ان کے لیے استغفار کریں گے تب بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں فرمائے گا۔یہ اس لیے کہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ؐکے ساتھ کفر کر چکے ہیں ‘اور اللہ ایسے فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
’’اور لوٹا دیا اللہ نے کافروں کو ان کے غصے کے ساتھ ہی‘‘
کفارو مشرکین بہت بڑا لشکر اکٹھا کر کے فتح کے زعم میں مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے‘لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ناکام و نامراد پسپا کر دیا۔ نہ تو جنگ کی نوبت آئی اور نہ ہی وہ اپنا ہدف حاصل کرسکے۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف غصے کی جو آگ بھڑک رہی تھی اسے بھی ٹھنڈا کرنے کا انہیں موقع نہ ملا اور اپنے غیظ و غضب سمیت ہی انہیں بے نیلِ مرام واپس جانا پڑا۔
لَمۡ یَنَالُوۡا خَیۡرًا ؕ
’’وہ کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔‘‘
اس مہم میں انہیں ناکامی و حسرت کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہو سکا۔ نہ تو وہ کسی قسم کا کوئی کارنامہ سرانجام دے سکے اور نہ ہی کوئی مفاد حاصل کر سکے۔
وَ کَفَی اللّٰہُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ الۡقِتَالَ ؕ
’’اور اللہ کافی رہا اہلِ ایمان کی طرف سے قتال کے لیے ۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے کھلی جنگ کی نوبت ہی نہ آنے دی اور اپنی تدابیر اور اپنے لشکروں کے ذریعے سے ہی کفار کو شکست دے دی۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک کڑے امتحان سے تو گزارا مگر انہیں کوئی گزند نہ پہنچنے دی۔
وَ کَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیۡزًا ﴿ۚ۲۵﴾
’’اور یقینا اللہ بڑی طاقت والا‘سب پر غالب ہے۔‘‘
اب آئندہ آیات میں غزوۂ بنی قریظہ کا ذکر ہے۔ یہ غزوہ گویا غزوئہ احزاب کا ضمیمہ ہے۔ روایات میں آتاہے کہ جب کفار کے لشکر چلے گئے اور نبی اکرمﷺ خندق سے پلٹ کر گھر تشریف لائے اور اپنی زرہ اور ہتھیار اتارے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپؐ نے ہتھیار اتار دیے ہیں‘ جبکہ ہم نے تو ابھی نہیں اتارے!اس لیے کہ ابھی بنی قریظہ کو ان کی بد عہدی کی سزا دینا باقی ہے۔یہ ظہر کا وقت تھا۔ حضورﷺ نے فوراً اعلان فرما یا کہ ’’جو کوئی سمع و طاعت پر قائم ہو وہ عصر کی نماز اُس وقت تک نہ پڑھے جب تک دیارِ بنی قریظہ پر نہ پہنچ جائے!‘‘ ساتھ ہی آپؐ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک دستے کے ساتھ مقدمۃ الجیش کے طور پر بنوقریظہ کی طرف روانہ فرما دیا۔ کچھ ہی دیر کے بعد حضورﷺ کی قیادت میں پورا اسلامی لشکر وہاں پہنچ گیا اور ان کی بستی کا محاصرہ کر لیا۔ یہ اپنے مضبوط قلعوں اور گڑھیوں میں محصور ہو گئے۔ دو تین ہفتوں کے محاصرے کے بعد بالآخر یہودیوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈال دیے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں جو فیصلہ کریں گے وہ انہیں قبول ہو گا۔ حضرت سعدؓ بن معاذ قبیلہ اوس کے رئیس تھے اور قبیلہ اوس کے ساتھ ماضی میں بنی قریظہ کے حلیفانہ تعلقات رہ چکے تھے۔ اس لیے بنی قریظہ کو امید تھی کہ وہ ان کے حق میں نرم فیصلہ کریں گے اور انہیں بھی اسی طرح مدینہ سے نکل جانے دیں گے جس طرح قبل ازیں بنو قینقاع اور بنونضیر کو نکل جانے دیا گیاتھا۔ لیکن حضرت سعدؓ دیکھ چکے تھے کہ پہلے جن دو یہودی قبیلوں کو مدینہ سے نکل جانے کا موقع دیا گیا تھا وہ کس طرح سارے گرد و پیش کے قبائل کو بھڑکا کر مدینہ پر بارہ ہزار کا لشکر چڑھا لائے تھے۔ اور یہ معاملہ بھی حضرت سعدؓ کے سامنے تھا کہ بنوقریظہ نے عین بیرونی حملے کے موقع پر بدعہدی کر کے مسلمانوں کی تباہی کا سامان کیا تھا۔ چنانچہ حضرت سعدؓ نے تورات کے احکام کے عین مطابق فیصلہ سنایا اور تورات میں بد عہدی کی جو سزا تھی وہی سزا ان کے لیے تجویز کی۔ اس فیصلے کے مطابق بنی قریظہ کے ان تمام مردوں کو قتل کر دیا گیاجو جنگ کے قابل تھے۔ عورتوں‘بچوں اور بوڑھوں کو غلام بنا لیا گیااور ان کے اموال و املاک پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس طرح مدینہ سے اس آخری یہودی قبیلے کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ اس سے پہلے دو یہودی قبائل (بنو قینقاع اور بنو نضیر )کو بد عہدی ہی کی سزا کے طور پر مدینہ سے جلا وطن کیا جا چکا تھا۔ بہر حال ان تینوں قبائل میں سے بنی قریظہ کو بد ترین سزا کا سامنا کرنا پڑا۔جب مسلمان بنو قریظہ کی گڑھیوں میں داخل ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان غداروں نے جنگ احزاب میں حصہ لینے کے لیے بہت بڑی تعداد میں تلواریں‘ نیزے‘ ڈھالیں اور زرہیں تیار رکھی تھیں۔