اَلنَّبِیُّ اَوۡلٰی بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ
’’یقینا نبیؐ کاحق مؤمنوں پر خود اُن کی جانوں سے بھی زیادہ ہے‘‘ تمام اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی جانوں سے زیادہ حضورﷺ کی جان کی فکر کریں اور آپؐ کو اپنے ماں باپ‘ اپنی اولاد اور اپنی جان سے بڑھ کر محبوب رکھیں۔نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان صحیحین میں ذرا سے لفظی فرق کے ساتھ نقل ہوا ہے:
حدیث ((لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہٖ وَوَلِدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ)) ۱
’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اُس کو اُس کے باپ‘ اُس کی اولاد اور سب انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘
وَ اَزۡوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمۡ ؕ
’’اور نبی ؐ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘
یہاں پر اس فقرے سے پہلے ’’وَھُوَ اَبٌ لَّھُمْ‘‘ کے الفاظ کو محذوف سمجھا جانا چاہیے ‘یعنی حضورﷺ مؤمنوں کے لیے بمنزلہ باپ کے ہیں۔ اس سلسلے میں آپؐ کا فرمان بھی ہے کہ: حدیث((اِنَّمَا اَنَا لَکُمْ بِمَنْزِلَۃِ الْوَالِدِ))۲ یعنی تم سب کے لیے میری حیثیت والد کی سی ہے ۔ قرآن مجید کے ان الفاظ کی رو سے نبی کریمﷺ کی بیویاں مسلمانوں کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح ان کی حقیقی مائیں قابل احترام ہیں۔ چنانچہ ازواجِ مطہراتؓ کے ناموں کے ساتھ ’’اُمّ المؤمنینؓ ‘‘کے الفاظ کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً اُمّ المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا‘ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ‘اُمّ المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا‘ اُمّ المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا!
وَ اُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلٰی بِبَعۡضٍ فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ
’’اوررحمی رشتے رکھنے والے‘ اللہ کی کتاب کے مطابق‘ مؤمنین و مہاجرین کی نسبت ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں‘‘
اِلَّاۤ اَنۡ تَفۡعَلُوۡۤا اِلٰۤی اَوۡلِیٰٓئِکُمۡ مَّعۡرُوۡفًا ؕ
’’سوائے اس کے کہ تم لوگ اپنے دوستوں کے ساتھ کوئی حسنِ سلوک کرنا چاہو۔‘‘
اس سے پہلے ’’اُولُوا الْاَرْحَامِ‘‘ کے بارے میں یہی الفاظ سورۃ الانفال کی آخری آیت میں بھی آچکے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اللہ کے قانون میں رحمی اور خونی رشتے دوسرے تمام رشتوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔ یہاں پر مؤمنین و مہاجرین کا ذکر کر کے مدینہ کے مقامی معاشرے میں ایک مخصوص صورتِ حال کی بھی وضاحت کر دی گئی کہ اگر چہ تمہارے مہاجرین اور انصار کے درمیان ’’مؤاخات‘‘ کے تحت بے مثال رشتے قائم ہو چکے ہیں اور تم لوگوں نے ان رشتوں کے حوالے سے ایثار کی نئی نئی مثالیں بھی قائم کر کے دکھائی ہیں‘ لیکن اللہ کے قانونِ وراثت میں ایسے رشتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ چنانچہ قانونِ وراثت میں نہ تو انصار و مہاجرین جیسے کسی بھائی چارے کا لحاظ ہو گا اور نہ ہی منہ بولے رشتوں کے لیے کوئی حصہ مخصوص کیا جا ئے گا۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنے تعلقات کی بنا پر کسی دینی بھائی‘عزیز یا دوست کو کوئی چیز تحفۃً دینا چاہے یا کسی کے حق میں کوئی چیزہبہ کرنا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔
کَانَ ذٰلِکَ فِی الۡکِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا ﴿۶﴾
’’یہ سب باتیں (پہلے سے) کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔‘‘
کتاب میں لکھے ہوئے سے مراد لوحِ محفوظ یا اس موضوع پر تورات کے احکام بھی ہو سکتے ہیں اور خود قرآنی احکام بھی‘ جو اس سے پہلے سورۃ النساء اور سورۃ الانفال میں نازل ہو چکے تھے۔
(۱) صحیح البخاری‘کتاب الایمان‘ باب حب الرسول من الایمان۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘باب وجوب محبۃ رسول اللہ ﷺ من اکثر من الاھل والولد والوالد۔
(۲) سنن ابی داوٗد‘ کتاب الطھارۃ‘ باب کراھیۃ استقبال القبلۃ عن قضاء الحاجۃ۔