تحریر

الأحزاب

آیات ۶۰ تا ۶۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

60-62

گستاخانِ رسول کی سزا موت ہے

ویڈیو

لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَّ الۡمُرۡجِفُوۡنَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ لَنُغۡرِیَنَّکَ بِہِمۡ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوۡنَکَ فِیۡہَاۤ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿ۖۛۚ۶۰﴾ مَّلۡعُوۡنِیۡنَ ۚۛ اَیۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَ قُتِّلُوۡا تَقۡتِیۡلًا ﴿۶۱﴾ سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ﴿۶۲﴾

آیت 60

لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ

’’اگر باز نہ آئے یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے‘‘

وَّ الۡمُرۡجِفُوۡنَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ

’’اور جو مدینہ میں سنسنی پھیلانے والے ہیں‘‘

منافقین کی عادت بن گئی تھی کہ وہ ماحول میں سنسنی پھیلانے کے لیے طرح طرح کی من گھڑت ہیجان انگیز افواہیں پھیلاتے رہتے تھے۔ ان افواہوں سے ان کا مقصد مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنا اور ان کی اخلاقی ساکھ کو گرانا ہوتا تھا۔ انہیں خبردار کرنے کے لیے فرمایا گیاکہ اگر یہ لوگ ان حرکات سے باز نہ آئے :

لَنُغۡرِیَنَّکَ بِہِمۡ

’’تو (اے نبیﷺ!) ہم آپ کو ان پر اُکسا دیں گے‘‘

ہم آپؐ کو ان کے خلاف بھر پور اور مؤثر اقدام کرنے کی اجازت دے دیں گے اور آپؐ کے ہاتھوں انہیں سزا دلوائیں گے۔

ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوۡنَکَ فِیۡہَاۤ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿ۖۛۚ۶۰﴾

’’پھر وہ آپؐ کے پڑوسی بن کر اس (شہر) میں نہیں رہ سکیں گے مگر بہت تھوڑا عرصہ۔‘‘

آیت 61

مَّلۡعُوۡنِیۡنَ ۚۛ اَیۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَ قُتِّلُوۡا تَقۡتِیۡلًا ﴿۶۱﴾

’’یہ پھٹکارے ہوئے لوگ ہیں‘جہاں بھی پائے جائیں گے پکڑ لیے جائیں گے اور بری طرح قتل کر دیے جائیں گے۔‘‘

یہ الفاظ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی شدید بیزاری اور ناراضی کا مظہر ہیں مگر حضورﷺ کی سیرت سے منافقین کے خلاف ایسا کوئی اقدام ثابت نہیں ہے۔ اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کو ایسا کوئی حکم باقاعدہ طور پر نہیں دیا گیا تھا۔

آیت 62

سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ۚ

’’ اللہ کی یہی سنت رہی ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘

وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ﴿۶۲﴾

’’اور تم ہر گز نہیں پائو گے اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی۔‘‘

63-65

صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی

ویڈیو

یَسۡـَٔلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَکُوۡنُ قَرِیۡبًا ﴿۶۳﴾ اِنَّ اللّٰہَ لَعَنَ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ سَعِیۡرًا ﴿ۙ۶۴﴾ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ۚ لَا یَجِدُوۡنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿ۚ۶۵﴾

آیت 63

یَسۡـَٔلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ ؕ

’’(اے نبیﷺ!) لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔‘‘

قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ

’’ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘

وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَکُوۡنُ قَرِیۡبًا ﴿۶۳﴾

’’اور تمہیں کیا معلوم ‘ شاید کہ قیامت قریب ہی آچکی ہو۔‘‘

آیت 64

اِنَّ اللّٰہَ لَعَنَ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ سَعِیۡرًا ﴿ۙ۶۴﴾

’’بے شک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔‘‘

آیت 65

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ۚ

’’وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔‘‘

لَا یَجِدُوۡنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿ۚ۶۵﴾

’’نہیں پائیں گے وہ کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار۔‘‘

66-68

دنیا دار قائدین کی پیروی کا برا انجام

ویڈیو

یَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡہُہُمۡ فِی النَّارِ یَقُوۡلُوۡنَ یٰلَیۡتَنَاۤ اَطَعۡنَا اللّٰہَ وَ اَطَعۡنَا الرَّسُوۡلَا ﴿۶۶﴾ وَ قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِیۡلَا ﴿۶۷﴾ رَبَّنَاۤ اٰتِہِمۡ ضِعۡفَیۡنِ مِنَ الۡعَذَابِ وَ الۡعَنۡہُمۡ لَعۡنًا کَبِیۡرًا ﴿٪۶۸﴾

آیت 66

یَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡہُہُمۡ فِی النَّارِ

’’جس دن ان کے چہرے آگ میں اُلٹ پلٹ کیے جائیں گے‘‘

یَقُوۡلُوۡنَ یٰلَیۡتَنَاۤ اَطَعۡنَا اللّٰہَ وَ اَطَعۡنَا الرَّسُوۡلَا ﴿۶۶﴾

’’(اس وقت) وہ کہیں گے: ہائے کاش !ہم نے اطاعت کی ہوتی اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی رسولؐ کی!‘‘

آیت 67

وَ قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِیۡلَا ﴿۶۷﴾

’’اور کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔‘‘

آیت 68

رَبَّنَاۤ اٰتِہِمۡ ضِعۡفَیۡنِ مِنَ الۡعَذَابِ وَ الۡعَنۡہُمۡ لَعۡنًا کَبِیۡرًا ﴿٪۶۸﴾

’’اے ہمارے پروردگار! تو ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر لعنت فرما‘بہت ہی بڑی لعنت۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے