لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ
’’اگر باز نہ آئے یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے‘‘
وَّ الۡمُرۡجِفُوۡنَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ
’’اور جو مدینہ میں سنسنی پھیلانے والے ہیں‘‘
منافقین کی عادت بن گئی تھی کہ وہ ماحول میں سنسنی پھیلانے کے لیے طرح طرح کی من گھڑت ہیجان انگیز افواہیں پھیلاتے رہتے تھے۔ ان افواہوں سے ان کا مقصد مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنا اور ان کی اخلاقی ساکھ کو گرانا ہوتا تھا۔ انہیں خبردار کرنے کے لیے فرمایا گیاکہ اگر یہ لوگ ان حرکات سے باز نہ آئے :
لَنُغۡرِیَنَّکَ بِہِمۡ
’’تو (اے نبیﷺ!) ہم آپ کو ان پر اُکسا دیں گے‘‘
ہم آپؐ کو ان کے خلاف بھر پور اور مؤثر اقدام کرنے کی اجازت دے دیں گے اور آپؐ کے ہاتھوں انہیں سزا دلوائیں گے۔
ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوۡنَکَ فِیۡہَاۤ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿ۖۛۚ۶۰﴾
’’پھر وہ آپؐ کے پڑوسی بن کر اس (شہر) میں نہیں رہ سکیں گے مگر بہت تھوڑا عرصہ۔‘‘