تحریر

السجدة

آیات ۲۶ تا ۳۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

26-27

دعوت غور و فکر

ویڈیو

اَوَ لَمۡ یَہۡدِ لَہُمۡ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ یَمۡشُوۡنَ فِیۡ مَسٰکِنِہِمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ ؕ اَفَلَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۶﴾ اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَسُوۡقُ الۡمَآءَ اِلَی الۡاَرۡضِ الۡجُرُزِ فَنُخۡرِجُ بِہٖ زَرۡعًا تَاۡکُلُ مِنۡہُ اَنۡعَامُہُمۡ وَ اَنۡفُسُہُمۡ ؕ اَفَلَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿ؓ۲۷﴾

آیت 26

اَوَ لَمۡ یَہۡدِ لَہُمۡ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ یَمۡشُوۡنَ فِیۡ مَسٰکِنِہِمۡ ؕ

’’کیا اس بات نے انہیں ہدایت نہ دی کہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں‘ جن کے مساکن میں یہ گھومتے پھرتے ہیں۔‘‘

قریش کے قافلے اپنے سفرِ شام کے دوران میں قومِ ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرتے تھے اور یہاں یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ کے الفاظ میں دراصل اسی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی یہ لوگ ان بستیوں کی تباہی کی خود تصدیق کر چکے ہیں۔

حال ہی میں کچھ برطانوی محققین نے بحرِ مردار (Dead Sea) کے ساحل کے ساتھ پانی کے نیچے قوم لوط کی بستیوں کے آثار کی نشان دہی کر کے اس بارے میں تورات اور قرآن کے بیانات کی تصدیق کی ہے۔ ان بستیوں کے بارے میں میرا خیال یہی تھا کہ وہ سمندر کے اندر آ چکی ہیں اور متعلقہ سمندر کو شاید Dead Sea کا نام بھی اسی لیے دیا گیا ہے کہ اس کے نیچے ان شہروں کے باسیوں کی اجتماعی قبریں ہیں۔ مستقبل میں سائنس کی ترقی کے باعث قرآن میں دی گئی اس نوعیت کی بہت سی معلومات کے حوالے سے مزید انکشافات کی بھی امید ہے۔

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ ؕ اَفَلَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۶﴾

’’یقینا اس میں بڑی نشانیاںہیں۔ تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں ہیں!‘‘

آیت 27

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَسُوۡقُ الۡمَآءَ اِلَی الۡاَرۡضِ الۡجُرُزِ

’’کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم پانی کو ہانک کر لے جاتے ہیں بے آب و گیاہ زمین کی طرف‘‘

فَنُخۡرِجُ بِہٖ زَرۡعًا تَاۡکُلُ مِنۡہُ اَنۡعَامُہُمۡ وَ اَنۡفُسُہُمۡ ؕ اَفَلَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿ؓ۲۷﴾

’’پھر ہم اس سے کھیتی اُگاتے ہیں‘ جس میں سے کھاتے ہیں ان کے مویشی بھی اور یہ خود بھی۔ تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں!‘‘

28-30

طنزیہ سوال ویسا ہی جواب

ویڈیو

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡفَتۡحُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۸﴾ قُلۡ یَوۡمَ الۡفَتۡحِ لَا یَنۡفَعُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِیۡمَانُہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۲۹﴾ فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَ انۡتَظِرۡ اِنَّہُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾

آیت 28

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡفَتۡحُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۸﴾

’’اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کب ہو گا یہ فیصلہ اگر تم سچے ہو؟‘‘

مشرکین کا یہ سوال قیامت کے بارے میں بھی تھا اور عذاب سے متعلق بھی کہ اے مسلمانو! اگر تم لوگ اپنے دعوے میں سچے ہوتو پھر بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی یا جس عذاب کا تم ہمیں ڈراوا دیتے رہتے ہو وہ آخر کب آئے گا؟

آیت 29

قُلۡ یَوۡمَ الۡفَتۡحِ لَا یَنۡفَعُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِیۡمَانُہُمۡ

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہیے کہ فیصلے کے دن ان لوگوں کا ایمان لانا انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا جنہوں نے کفر کیا ہو گا‘‘

انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایمان لانے کا فائدہ انہیں تبھی ہو گا اگر وہ اپنی دنیوی زندگی کے دوران ایمان لائیں گے‘ جبکہ آخرت کے تمام حقائق پردۂ غیب میں چھپے ہوئے ہیں ‘لیکن جب یہ لوگ عالم آخرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تب ان کا ایمان لانا ان کے لیے مفید نہیں ہو گا۔

وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۲۹﴾

’’اور نہ ہی (اُس وقت) انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔‘‘

آج انہیں جو مہلت ملی ہے اس میں اگر وہ توبہ کر لیں تو یہ ان کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔ لیکن موت کے آثار ظاہر ہوتے ہی یہ مہلت ختم ہو جائے گی ۔

آیت 30

فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَ انۡتَظِرۡ اِنَّہُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾

’’تو (اے نبیﷺ!) آپ ان سے اعراض فرمائیں اور انتظار کریں‘یہ بھی انتظار ہی کر رہے ہیں۔‘‘

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایّاکم بالآیات والذِّکر الحکیمoo

یوٹیوب پر دیکھیے