تحریر

السجدة

آیات ۱۵ تا ۲۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

15-17

مومنوں کا طرز عمل اور حسین انجام

ویڈیو

اِنَّمَا یُؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِہَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ ہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿ٛ۱۵﴾ تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا ۫ وَّ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿۱۶﴾ فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۷﴾

آیت 15

اِنَّمَا یُؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِہَا

’’ہماری آیات پر ایمان رکھنے والے تو وہی لوگ ہیں کہ جب ان کے ذریعے انہیں نصیحت کی جاتی ہے‘‘

خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ ہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿ٛ۱۵﴾

’’تو وہ سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘

آیت 16

تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ

’’(راتوں کو) ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ‘‘

سورۃ الفرقان میں اللہ کے نیک بندوں کے اس خاص معمول کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے: {وَ الَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا ﴿۶۴﴾} ’’اور وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے‘‘۔ یعنی ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو ساری ساری رات غفلت کی نیند سوتے رہتے ہیں اور دوسری طرف اللہ کے یہ بندے ہیں جو راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں‘ کبھی اس کے حضور قیام کر کے اور کبھی سجدے میں گر کر۔

یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا ۫

’’وہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں خوف اور امید کی کیفیت میں‘‘

ایک طرف تو وہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کے بارے میں پر امید ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف اپنی کوتاہیوں پر پکڑے جانے کا خوف بھی انہیں لاحق رہتا ہے۔

وَّ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿۱۶﴾

’’اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے (ہماری رضا جوئی کے لیے ) خرچ کرتے ہیں۔‘‘

آیت 17

فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ ۚ

’’تو کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔‘‘

آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر عمومی طور پر قرآن میں ملتا ہے اور جن کے بارے میں ہم کسی حد تک اندازہ بھی کر سکتے ہیں ان میں سے اکثر کا تعلق اہل جنت کی ابتدائی مہمانی (نُزُل) سے ہے‘ جبکہ جنت کی اصل نعمتوں کا نہ تو کسی کو علم ہے اور نہ ہی ان کا تصور انسانی فہم و ادراک میں آ سکتا ہے۔ اس آیت کی وضاحت حدیث میں بھی بیان ہوئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

حدیث((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَ عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ، فَاقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ)) ۱

’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے (جنت میں) وہ کچھ تیار کر رکھاہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا‘ نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا گمان ہی گزرا۔ (پھر آپﷺ نے فرمایا:) اگر تم چاہو تویہ آیت پڑھ لو : ’’پس کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ ان(اہل جنت) کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کررکھاگیاہے۔‘‘

جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۷﴾

’’اُن کے اعمال کے بدلے کے طور پر۔‘‘

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب بدء الخلق‘ باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا‘ باب۔ یہ حدیث بخاری و مسلم اور صحاح ستہ کی دیگر کتب کے متعدد ابواب میں بیان ہوئی ہے۔

18-20

مومن اور فاسق برابر نہیں ہو سکتے

ویڈیو

اَفَمَنۡ کَانَ مُؤۡمِنًا کَمَنۡ کَانَ فَاسِقًا ؕؔ لَا یَسۡتَوٗنَ ﴿۱۸﴾ ؃اَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ جَنّٰتُ الۡمَاۡوٰی ۫ نُزُلًۢا بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۹﴾ وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰىہُمُ النَّارُ ؕ کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَاۤ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا وَ قِیۡلَ لَہُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۲۰﴾

آیت 18

اَفَمَنۡ کَانَ مُؤۡمِنًا کَمَنۡ کَانَ فَاسِقًا ؕؔ لَا یَسۡتَوٗنَ ﴿۱۸﴾؃

’’تو بھلا جو کوئی مؤمن ہے کیا وہ اُس کی مانند ہو جائے گا جو فاسق ہے!وہ (دونوں) ہرگز برابر نہیں ہو سکتے۔‘‘

آیت 19

اَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ جَنّٰتُ الۡمَاۡوٰی ۫

’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے تو ان کے لیے باغات ہیں ٹھکانے کے طور پر۔‘‘

نُزُلًۢا بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۹﴾

’’ابتدائی مہمان نوازی کے طور پر ‘ ان کے اعمال کے بدلے میں۔‘‘

لغوی اعتبار سے ’’نُزُل‘‘ کا تعلق نازل ہونے یا اترنے سے ہے۔ جوکوئی مہمان آپ کے دروازے پر آیا اور اپنی سواری سے اترا وہ ’’نَزِیل‘‘ ہے اور آپ نے موسم اور رواج کے مطابق فوری طور پر جو کچھ اس کو پیش کیا وہ نُزُل (ابتدائی مہمان نوازی)ہے ۔ جبکہ باقاعدہ مہمان نوازی کے لیے لفظ ’’ضیافت‘‘ استعمال ہوتا ہے جو نُزُل کے بعد کا مرحلہ ہے۔ ضیافت کا لفظ ’’ضیف‘‘ (مہمان) سے بنا ہے۔یعنی جب آپ اپنے مہمان کے لیے باقاعدہ قیام کا بندوبست کریں گے اوراس کے آرام و طعام کا اہتمام کریں گے‘ تب وہ ’’ضیف‘‘ کے درجے میں آئے گا ۔اس مرحلے میں آپ اس کی مہمان نوازی کے لیے جو خاطر مدارات کریں گے وہ ’’ضیافت‘‘ کہلائے گی۔ چنانچہ آخرت کے حوالے سے جن باغوں اور نعمتوں کا ذکر قرآن میں عمومی طور پر آیا ہے ان کا درجہ دراصل اہل جنت کے لیے نُزُل(ابتدائی مہمان نوازی) کا ہے‘ جبکہ ان کی اصل ضیافت اس کے بعد ہو گی۔ اس ضیافت کے دوران جو نعمتیں اور آسائشیں اہل جنت کو مہیا کی جائیں گی ان کے متعلق کوئی کچھ نہیں جانتا۔جیسا کہ ابھی حدیث بیان ہوئی ہے۔

آیت 20

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰىہُمُ النَّارُ ؕ

’’اور جن لوگوں نے نافرمانی کی اُن کا ٹھکانہ آگ ہے۔‘‘

کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَاۤ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا

’’جب بھی وہ اس میں سے نکلنا چاہیں گے تو انہیں اسی میں لوٹا دیا جائے گا ‘‘

وَ قِیۡلَ لَہُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۲۰﴾

’’اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب مزہ اس آگ کے عذاب کا جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘

21-22

بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب آتے ہیں

ویڈیو

وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰی دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَکۡبَرِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۱﴾ وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعۡرَضَ عَنۡہَا ؕ اِنَّا مِنَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾

آیت 21

وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰی دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَکۡبَرِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۱﴾

’’اور ہم لازماً چکھائیں گے انہیں مزہ چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے‘ شاید کہ یہ لوگ پلٹ آئیں۔‘‘

اس آیت کی سورۃ الروم کی آیت ۴۱ کے ساتھ خاص مناسبت ہے: {ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۴۱﴾} ’’بحر و بر میں فساد رونما ہوچکا ہے لوگوں کے اعمال کے سبب ‘تا کہ اللہ انہیں مزہ چکھائے ان کے بعض اعمال کا‘تا کہ وہ لوٹ آئیں۔‘‘

دونوں آیات کے مضمون کا تعلق دراصل اللہ تعالیٰ کے اس انتہائی اہم قانون سے ہے جس کے تحت دنیا میں لوگوں کے کرتوتوں کے سبب ان پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد انہیں خبردار کرنا ہو تا ہے کہ شاید اس طرح وہ خوابِ غفلت سے جاگ کر توبہ کی روش اپنا لیں اور بڑے عذاب سے بچ جائیں۔ اس قانونِ الٰہی کا ذکر قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے ۔ مثلاًسورۃ الانعام میں اس سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا: {وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَتَضَرَّعُوۡنَ ﴿۴۲﴾} ’’اور ہم نے بھیجا (دوسری)امتوں کی طرف بھی آپؐ سے قبل (رسولوں کو) ‘پھر ہم نے پکڑا انہیں سختیوں اور تکلیفوں سے ‘ شاید کہ وہ عاجزی کریں‘‘۔ اسی طرح سورۃ الاعراف میں اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ اس قانون کی یوں وضاحت کی گئی : {وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذۡنَاۤ اَہۡلَہَا بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَضَّرَّعُوۡنَ ﴿۹۴﴾} ’’اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بھی بستی میں کسی بھی نبی کو مگر یہ کہ ہم نے پکڑا اس کے بسنے والو ں کو سختیوں سے اور تکلیفوں سے تاکہ وہ گڑ گڑائیں ( اور ان میں عاجزی پیدا ہو جائے )۔‘‘

آیت 22

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعۡرَضَ عَنۡہَا ؕ

’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اُس کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی گئی مگر پھر بھی اس نے اعراض کیا۔‘‘

اگر کوئی شخص کسی عام نصیحت کی پروا نہ کرے اور کسی شخصی فلسفہ ومنطق کو ٹھکرا دے تو اور بات ہے ‘چہ جائیکہ کوئی بدنصیب اللہ کی آیات پر مبنی تذکیر و نصیحت کو نظر انداز کر دے۔

اِنَّا مِنَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾

’’یقینا ہم ایسے مجرموں سے انتقام لے کر رہیں گے۔‘‘

23-25

امامت کا اعزاز کسے حاصل ہوتا ہے؟

ویڈیو

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ فَلَا تَکُنۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآئِہٖ وَ جَعَلۡنٰہُ ہُدًی لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ۚ۲۳﴾ وَ جَعَلۡنَا مِنۡہُمۡ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا ۟ؕ وَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿۲۴﴾ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ یَفۡصِلُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۲۵﴾

آیت 23

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ

’’اور ہم نے موسیٰؑ کو بھی کتاب عطا کی تھی‘‘

فَلَا تَکُنۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآئِہٖ

’’تو آپ کسی شک میں نہ رہیے اُس کی ملاقات سے‘‘

یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو یہاں سلسلہ کلام کے درمیان میں آیا ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہاں حضورﷺ کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شب معراج کے موقع پر ہونے والی ملاقات کی طرف اشارہ ہے۔ اس حوالے سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اے نبیﷺ! شب معراج میں آپ نے موسیٰ علیہ السلام سے جو ملاقات کی تھی اس کے بارے میں آپؐ کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے‘ وہ یقینا موسیٰؑ ہی تھے جو آپ کو وہاں ملے تھے۔ لیکن آیت کا زیادہ قرین قیاس مفہوم جو سیاق و سباق کے ساتھ بھی مناسبت رکھتا ہے وہ یہی ہے کہ اے نبی ﷺ !ہم نے موسیٰؑ کو تورات عطا کی تھی اور اس کتاب کا موسیٰؑ کو ملنا ہماری ہی طر ف سے تھا۔ اسی طرح آپؐ کو اس کتاب یعنی قرآن کا ملنا بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اس بارے میں آپؐ کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ یہ انداز بیان سمجھنے کے لیے قرآن کا وہی اسلوب ذہن میں رکھئے جس کا ذکر قبل ازیں بار بار ہو چکا ہے کہ اکثر ایسے احکام جو حضورﷺ کو صیغۂ واحد میں مخاطب کرکے دیے جاتے ہیں وہ دراصل امت کے لیے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس لحاظ سے آیت زیر مطالعہ میں گویا ہم سب مخاطب ہیں اور اس کا مفہوم دراصل یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم لوگوں کو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے پہلے موسیٰؑ کو جو کتاب (تورات) ملی تھی وہ بھی انہیں اللہ ہی نے دی تھی اور محمد(ﷺ) کو اس کتاب (قرآن) کا ملنا بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔

وَ جَعَلۡنٰہُ ہُدًی لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ۚ۲۳﴾

’’اور اس (تورات) کو ہم نے بنا دیا تھا راہنمائی بنی اسرائیل کے لیے ۔‘‘

آیت 24

وَ جَعَلۡنَا مِنۡہُمۡ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا ۟ؕ

’’اور ہم نے ان میں سے ایسے امام اُٹھائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے‘ جب کہ انہوں نے صبر کی روش اختیار کی۔‘‘

یعنی بنی اسرائیل کے ائمہ اور پیشواؤں کو تورات کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانے کے لیے صبر کی روش پر کاربند رہنا پڑتا تھا۔ اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ کتاب اللہ کی تعلیمات کو سیکھنے اور پھر لوگوں تک پہنچانے کے لیے وقت درکار ہے جو انسانی سطح پر بذاتِ خود ایک بہت بڑی قربانی ہے ۔ دولت اور عیش و عشرت کے حصول کی حرص ہر انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اگر کوئی شخص اپنا بیشتر وقت دنیا اور اس کی آسائشوں کے حصول کے لیے صرف کر دے گا تو اُس کے شب وروز میں دعوت و تبلیغ اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کے لیے وقت کہاں سے آئے گا؟ چنانچہ اگر کسی کو اللہ کے راستے میں نکلنے کے لیے کمربستہ ہونا ہے تو صبر و استقامت کا دامن تھام کر اسے لازمی طور پر دنیا کی بہت سی آسائشوں کو خیرباد کہنا ہو گا۔ اس کے علاوہ اس راستے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حوالے سے بھی صبر درکار ہے۔ کتاب اللہ کی تعلیم و تبلیغ کے حوالے سے یہ دونوں فرائض گویا بنیاد کا درجہ رکھتے ہیں۔ لیکن جب بھی کوئی شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا علمبردار بن کر نکلے گا تو لوگ اس کی مخالفت کریں گے‘ اس راہ میں اسے گالیاں بھی سننا پڑیں گی‘ جسمانی و ذہنی اذیتوں کا سامنا بھی کرنا ہو گا اور مال و جان کے نقصانات بھی برداشت کرنا پڑیں گے۔ بہر حال اس راستے پر جس پہلو سے بھی کوئی جدوجہد کرے گا‘اسے قدم قدم پر ایسے سنگ ہائے میل سے سابقہ پڑے گا جو صبر و استقامت اور ایثار و قناعت کے رنگا رنگ مطالبات سے عبارت ہوں گے۔

آج قرآن کی تبلیغ و ترویج کے میدان میں یہ آیت ہمارے لیے نشانِ منزل بن سکتی ہے۔ جس انداز میں یہاں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ’’ائمہ‘‘ کی تعریف فرمائی ہے اس کے لطیف احساس سے ہمارے دلوں میں ترغیب و تشویق کے جذبات کی نئی نئی کونپلیں پھوٹنی چاہئیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بنی اسرائیل کے ان ’’ائمہ‘‘ کے کردار اور خوش نصیبی سے متعلق اپنے دلوں میں رشک پیدا کریں اور پھر اللہ سے توفیق مانگیں کہ وہ ہمیں بھی اس کام کے لیے چن لے۔ لیکن ہمیں اس حقیقت کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ یہ ’’رتبہ بلند‘‘ محض دعائوں اور تمناؤں کے سہارے نہیں ملا کرتا۔ اس کے لیے ہمیں صبر و استقامت اور ایثار و قناعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر عملی کوشش کرنا ہو گی۔ اپنی بہت سی خواہشات کو قربان کرنا ہو گا‘ اپنے معیارِ زندگی (living standard) کو کم سے کم سطح پر رکھنا ہو گا اور یوں اپنے تبلیغی بھائیوں کے بقول ’’تفریغ الاوقات‘‘ (دینی جدوجہد کے لیے وقت نکالنا) کو ممکن بنانا ہو گا۔

اس سلسلے میں ہم میں سے ہر ایک کو سنجیدہ غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ایک دفعہ اپنا بیشتر وقت پیسہ کمانے اور معیارِ زندگی بلند کرنے کی کوششوں میں صرف کر نے کی روش کو اپنا لیا تو یوں سمجھیں کہ ہم نے خود کو ایک کبھی نہ ختم ہونے والے چکر میں ڈال لیا۔ یعنی خود کو ایک نام نہاد معیارِ زندگی کے ’’سراب‘‘ کو پا لینے اور پھر اس کو برقرار رکھنے کی خواہشات کا اسیر بنا لیا۔ اگر خدانخواستہ ہم نے اپنی زندگی اسی ’’دنیاداری‘‘ میں گزار دی تواس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ایک خاص ’’معیار زندگی‘‘ کو اپنے معبود کا درجہ دے کر گویا ساری عمر اسی کی پوجا میں گزار دی ہے۔اس کے برعکس اگر ہم اللہ کی توفیق سے قرآن کا دامن مضبوطی سے تھام لیں‘ اپنی زندگی کے لیے راہنمائی صرف اور صرف قرآن سے حاصل کرنے کا تہیہ کر لیں تو اللہ کے راستے پر چلنے کے لیے ہمارے سامنے ان شا ء اللہ اسباب کے نت نئے دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔ یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو مسجودِملائک بنایا ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا نقطۂ عروج (climax) ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ جب یہ عزمِ صمیم کا زادِ سفر لے کر کسی راہ پر چل پڑتا ہے تو مشکلات اس سے کنی کترا نے لگتی ہیں اور منزلیں خود آگے بڑھ کر اس کے قدم چومتی ہیں۔

وَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿۲۴﴾

’’اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔‘‘

بنی اسرائیل کے ائمہ جو کتاب کی تعلیم و تبلیغ میں مصروف تھے وہ صبر کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی آیات پر پختہ یقین بھی رکھتے تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھنا‘ اُس کے وعدوں کو من و عن سچ ماننا اور اس پر توکل کرنا راہِ حق کی جدوجہد کی لازمی شرائط ہیں۔

آیت 25

اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ یَفۡصِلُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۲۵﴾

’’یقینا آپؐ کا رب فیصلہ کرے گا ان کے مابین قیامت کے دن اُن چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کرتے تھے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے