تحریر

السجدة

آیات ۱۰ تا ۱۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

10-11

طنزیہ اعتراض . . . غضبناک جواب

ویڈیو

وَ قَالُوۡۤا ءَ اِذَا ضَلَلۡنَا فِی الۡاَرۡضِ ءَ اِنَّا لَفِیۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ۬ؕ بَلۡ ہُمۡ بِلِقَآیِٔ رَبِّہِمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۰﴾ قُلۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الۡمَوۡتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمۡ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿٪۱۱﴾

آیت 10

وَ قَالُوۡۤا ءَ اِذَا ضَلَلۡنَا فِی الۡاَرۡضِ ءَ اِنَّا لَفِیۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ۬ؕ

’’اور یہ کہتے ہیں: کیا جب ہم زمین میں تحلیل ہو جائیں گے ‘ تو کیا پھر ہم ایک نئی خلقت میں ڈھالے جائیں گے؟‘‘

اس اعتراض کے حوالے سے پرانے زمانے کے کفار کا اندازِ گفتگو تو سیدھا سادہ تھا کہ جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں گے تو ہمیں کیسے دوبارہ جلا اٹھایا جائے گا؟ لیکن آج کا ’’روشن خیال‘‘ نوجوان اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا کر یوں پیش کرتا ہے کہ جب ہمارے جسموں کے ایٹمز (atoms) بھی منتشر ہو جائیں گے‘ جب ہم مٹی میں مل کر کھاد بن جائیں گے‘ کھاد سے ہمارے ذرّات پودوں میں منتقل ہوجائیں گے‘ ان پودوں کو جانور کھائیں گے اور پھر ان جانوروں سے نہ معلوم کس کس شکل میں ہمارے جسموں کے تحلیل شدہ atoms کہاں کہاں پہنچیں گے توایسی صورت میں انسانی اجسام کے گم گشتہ اجزاء کیونکر اکٹھے کیے جا سکیں گے؟ ایسی دور کی کوڑی لانے سے پہلے ایسے احمقوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ جس اللہ نے پہلی مرتبہ زمینی اجزاء سے ان لوگوں کو ان کے وجودوں کے ساتھ پیدا کیا ہے ‘ کیا وہ انہیں دوبارہ پیدا نہیں کر سکے گا؟

بَلۡ ہُمۡ بِلِقَآیِٔ رَبِّہِمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۰﴾

’’بلکہ (حقیقت میں) یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔‘‘

دراصل یہ لوگ اپنے کرتوتوں کے سبب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے تصور سے گریزاں ہیں ۔اس بنا پر وہ قیامت کے دن کی اس ملاقات ہی کو جھٹلانا چاہتے ہیں ‘لیکن اس کے لیے بہانہ یہ بنا رہے ہیں کہ زمین میں گل سڑ جانے کے بعد انسانوں کا دوبارہ زندہ ہو جانا عقلی طور پر ممکن نظر نہیں آتا۔اس کے برعکس اگر کوئی شخص صاحب ایمان ہے اور وہ اپنے دل میں اللہ کے لیے خلوص اور محبت کے جذبات رکھتا ہے تو اسے لازماًیہ امید ہو گی کہ اللہ اس کے ساتھ رحمت اور شفقت کا معاملہ فرمائے گا۔ ایسے شخص کو ’’دل را بدل راہیست‘‘ (دل کو دل سے راہ ہوتی ہے) کے مصداق اللہ تعالیٰ سے ملنے کاا شتیاق بھی ہو گا۔

آیت 11

قُلۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الۡمَوۡتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمۡ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿٪۱۱﴾

’’(اے نبی ﷺ! آپ کہہ دیجیے کہ تمہیں قبض کر لے گا موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کر دیا گیا ہے‘ پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹا دیے جاؤ گے۔‘‘

12-14

مجرموں کا روز قیامت برا انجام

ویڈیو

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذِ الۡمُجۡرِمُوۡنَ نَاکِسُوۡا رُءُوۡسِہِمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَ سَمِعۡنَا فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ ﴿۱۲﴾ وَ لَوۡ شِئۡنَا لَاٰتَیۡنَا کُلَّ نَفۡسٍ ہُدٰىہَا وَ لٰکِنۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ مِنِّیۡ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۳﴾ فَذُوۡقُوۡا بِمَا نَسِیۡتُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا ۚ اِنَّا نَسِیۡنٰکُمۡ وَ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾

آیت 12

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذِ الۡمُجۡرِمُوۡنَ نَاکِسُوۡا رُءُوۡسِہِمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ

’’اور کاش تم وہ منظر دیکھ سکو جب یہ مجرم کھڑے ہوں گے سر جھکائے ہوئے اپنے پروردگار کے سامنے۔‘‘

رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَ سَمِعۡنَا

’’(اور کہہ رہے ہوں گے:) اے ہمارے پروردگار! اب ہم نے خوب دیکھ لیا اور سن لیا‘‘

اب ہم نے روزِمحشر کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ اب حقیقت ہم پر منکشف ہو گئی ہے۔

فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ ﴿۱۲﴾

’’تو(ایک بار) ہمیں واپس لوٹا دے‘ ہم نیک عمل کریں گے‘ اب ہمیں یقین آ گیا ہے۔‘‘

نوٹ کیجیے یہاں پر کفار کے حوالے سے ’’ایمان‘‘ کا نہیں بلکہ ’’یقین‘‘ کا ذکر ہوا ہے جو ایمان سے آگے کا درجہ ہے۔ ان کے دلوں میں یقین کی یہ کیفیت آنکھوں سے دیکھنے اور کانوں سے سننے کے بعد پیدا ہو گی۔

آیت 13

وَ لَوۡ شِئۡنَا لَاٰتَیۡنَا کُلَّ نَفۡسٍ ہُدٰىہَا

’’اور اگر ہم چاہتے تو ہر جان کو اُ س کی ہدایت دے دیتے‘‘

اگر ہمیں اسی طرح آخرت کے پردے اٹھا کر اور عالم غیب کا مشاہدہ کروا کر لوگوں کو ہدایت دینا مقصود ہوتا تو ہم یہ کام دنیا میں ہی کر دیتے اور اس طرح تمام انسانوں کو راہِ ہدایت پر لے آتے۔ بہر حال ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب انہیں سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر یقین آ جائے گا تو اُس وقت انہیں اس ایمان اور یقین کا کچھ فائدہ نہیں ہو گا‘ کیونکہ اُس وقت ان کی امتحانی مہلت ختم ہو چکی ہو گی۔

وَ لٰکِنۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ مِنِّیۡ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۳﴾

’’لیکن میری طرف سے یہ فیصلہ صادر ہو چکا ہے کہ میں جہنم کوِ جنوں اور آدمیوں ‘سب سے بھر کررہوں گا۔‘‘

جنوں اور انسانوں میں سے جو بھی ہمارے باغی ہیں وہ سب ضرور جہنم کا ایندھن بنیں گے۔

آیت 14

فَذُوۡقُوۡا بِمَا نَسِیۡتُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا ۚ

’’تو اب چکھو مزہ(آگ کا) اس لیے کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا۔‘‘

اِنَّا نَسِیۡنٰکُمۡ وَ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾

’’اب ہم نے بھی تمہیں نظر انداز کر دیا ہے‘ پس تم چکھو ہمیشگی کا عذاب اپنے ان کرتوتوں کے سبب جو تم کرتے رہے ہو۔‘‘

نظر انداز کرنے کی اس کیفیت کا یبان سورۃ المؤمنون میں اس طرح ہوا ہے: {قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِیۡہَا وَ لَا تُکَلِّمُوۡنِ ﴿۱۰۸﴾} ’’اللہ فرمائے گا: اب تم ذلیل وخوار ہو کر اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے