بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

السجدة

آیات ۱ تا ۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ السجدۃ تین رکوعوں پر مشتمل ایک مختصر سورت ہے۔ ابتدائی دور کی مکی سورتوں کی طرح اس کا ردھم (rhythem) بہت تیز ہے اور یہ نبی اکرمﷺ کی محبوب سورتوں میں سے ہے۔ مستند روایات میں حضورﷺ کا یہ معمول نقل ہوا ہے کہ آپؐ اکثر جمعہ کے دن نمازِ فجر کی پہلی رکعت میں سورۃ السجدۃ اور دوسری رکعت میں سورۃ الدھر کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ اس سے ہمیں یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ جن سورتوں کے ساتھ حضورﷺ کو خاص تعلق خاطر تھا ان سورتوں کی تلاوت آپؐ نمازوں میں کثرت سے فرمایا کرتے تھے۔ آپﷺ کبھی کبھی جمعہ کے دن فجر کی پہلی رکعت میں سورۃ الجمعہ اور دوسری رکعت میں سورۃ المنافقون کی تلاوت بھی فرمایا کرتے تھے۔

1-3

عظمت قرآن

ویڈیو

الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾ تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ؕ﴿۲﴾ اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ۚ بَلۡ ہُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰہُمۡ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ لَعَلَّہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۳﴾

آیت 1

الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾

’’ الف‘ لام ‘میم۔‘‘

آیت 2

تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ؕ﴿۲﴾

’’اس کتاب کا اُتاراجانا‘ اس میں کوئی شک نہیں ‘تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔‘‘

آیت 3

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ۚ

’’کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (محمدﷺ) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟‘‘

بَلۡ ہُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰہُمۡ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ لَعَلَّہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۳﴾

’’(نہیں!) بلکہ یہ حق ہے آپؐ کے رب کی طرف سے‘ تا کہ آپؐ خبردار کر یں اُس قوم کو جس کے پاس آپؐ سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا‘ شاید کہ وہ ہدایت پائیں۔‘‘

اہل مکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے لیے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے لے کر حضورﷺ تک طویل عرصے کے دوران کوئی نبی یا رسول نہیں آیا۔اس آیت میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔

4-9

عظمت باری تعالیٰ

ویڈیو

اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ؕ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیۡعٍ ؕ اَفَلَا تَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴﴾ یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الۡاَرۡضِ ثُمَّ یَعۡرُجُ اِلَیۡہِ فِیۡ یَوۡمٍ کَانَ مِقۡدَارُہٗۤ اَلۡفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۵﴾ ذٰلِکَ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ۙ﴿۶﴾ الَّذِیۡۤ اَحۡسَنَ کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ وَ بَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِیۡنٍ ۚ﴿۷﴾ ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَہٗ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ ۚ﴿۸﴾ ثُمَّ سَوّٰىہُ وَ نَفَخَ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِہٖ وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۹﴾

آیت 4

اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ؕ

’’اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے چھ دنوں میں‘ پھر وہ متمکن ہوا عرش (تختِ حکومت) پر۔‘‘

مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیۡعٍ ؕ

’’ نہیں ہے تمہارے لیے اُس کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘

یہاں پر لفظ دُوْنَ ’’مقابلے ‘‘کے معنی دے رہا ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تمہیں پکڑ کر سزا دینا چاہے تو تمہارا کوئی حمایتی یا سفارشی اُس کے اس فیصلے کے آڑے نہیں آ سکتا۔

اَفَلَا تَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴﴾

’’تو کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے!‘‘

آیت 5

یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الۡاَرۡضِ

’’وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف‘‘

کائنات کے انتظامی امور کی منصوبہ بندی اللہ تعالیٰ کے ہاں ہزار سال کے حساب سے کی جاتی ہے‘جیسا کہ اگلے جملے میں واضح کیا جا رہا ہے کہ اللہ کا ایک دن ہمارے ہزار سال کے عرصے کے برابر ہے۔ اس منصوبہ بندی کے اندر ’’لیلۃ القدر ‘‘ گویا انسانی کیلنڈر کے حساب سے متعلقہ سال کے بجٹ سیشن کا درجہ رکھتی ہے۔ اس سالانہ بجٹ میں فیصلے کیے جاتے ہیں کہ متعلقہ سال کے اندر دنیا میں انسانوں کے لیے کون کون سے امور کس کس طرح نمٹائے جائیں گے۔ انہی فیصلوں کی تعمیل و تنفیذکے لیے آسمانوں سے فرشتوں کا نزول ہوتا ہے جس کا ذکر سورۃ القدر میں آیا ہے۔

ثُمَّ یَعۡرُجُ اِلَیۡہِ

’’پھر وہ (امر)چڑھتا ہے اُس کی طرف‘‘

پھر فرشتے ان احکام کی تعمیل سے متعلق اپنی اپنی رپورٹس اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں۔

فِیۡ یَوۡمٍ کَانَ مِقۡدَارُہٗۤ اَلۡفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۵﴾

’’(یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے) ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس ہے۔‘‘

یہ مضمون اپنی اہمیت کے پیش نظر قرآن حکیم میں دو دفعہ آیا ہے۔ چنانچہ سورۃ الحج میں کفار کی طرف سے عذاب کی جلدی مچانے کے جوا ب میں یوں وضاحت فرمائی گئی: { وَ اِنَّ یَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَاَلۡفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۴۷﴾} ’’اور یقینا ایک دن آپؐ کے رب کے نزدیک ایک ہزار برس کی طرح ہے جیسے تم لوگ گنتی کرتے ہو‘‘۔ جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ کی ’’تدبیر امر ‘‘کے سلسلے میں ایک بنیادی اصول کے طور پر بتایا گیا ہے کہ اللہ کے ہاں جو فیصلے ہوتے ہیں ان کی منصوبہ بندی ایک ہزار سال کے عرصے کے مطابق کی جاتی ہے۔

آیت 6

ذٰلِکَ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ۙ﴿۶﴾

’’وہ جاننے والا ہے ہر چھپی اور ظاہری چیز کا‘ وہ بہت زبردست ہے‘ نہایت رحم فرمانے والا۔‘‘

آیت 7

الَّذِیۡۤ اَحۡسَنَ کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ

’’جس نے جو شے بھی بنائی بہت خوبصورت انداز میں بنائی‘‘

اس نے جو چیز بھی بنائی ہے بہت عمدہ بنائی ہے۔اس کی تخلیق میں کہیں کوئی نقص یا کوتاہی نہیں ہے۔

وَ بَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِیۡنٍ ۚ﴿۷﴾

’’اور اُس نے آغاز کیا انسان کی تخلیق کا گارے سے۔‘‘

اس سے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق بھی مراد ہے‘ جس کے مختلف مراحل کا ذکر قرآن حکیم میں متعدد بار ہوا ہے اورہر انسان کی تخلیق بھی‘ کیونکہ انسان کی تخلیق جس مادے سے ہوتی ہے وہ بنیادی طور پر زمینی اجزا سے حاصل شدہ غذا سے ہی بنتا ہے۔ اس بارے میں تفصیلی گفتگو سورۃ المؤمنون کی آیت ۱۲ کے ضمن میں ہو چکی ہے۔

آیت 8

ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَہٗ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ ۚ﴿۸﴾

’’پھر اُس کی نسل چلائی ایک بے قدر پانی کے خلاصے سے۔‘‘

یعنی پہلے مرحلے میں مٹی سے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی‘ جبکہ دوسرے مرحلے میں نوعِ انسانی کے تناسل (reproduction) کا عمل اس طریقے سے ممکن بنایا۔

آیت 9

ثُمَّ سَوّٰىہُ

’’پھر اس کی نوک پلک درست کی‘‘

یہاں ثُمَّ کا لفظ اس تخلیقی مرحلے کی نشاندہی کر رہا ہے جس کا آغاز ماں کے پیٹ میںاستقرارِ حمل سے ہوتاہے اور پھر رفتہ رفتہ بچے کے اعضاء ترتیب پاتے ہیں۔ نسل انسانی کا ہر بچہ اس مرحلے سے گزرتا ہے ۔

وَ نَفَخَ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِہٖ

’’اور پھونکا اس میں اپنی روح میں سے‘‘

پھر ایک مرحلے پر اس ’’حیوانی جسم ‘‘میں روح پھونک کر اسے ’’انسان‘‘ بنادیا جاتا ہے۔ ماں کے پیٹ میں ایک بچہ جن مراحل سے گزرتا ہے اس کی تفصیل اس متفق علیہ حدیث میں بیان ہوئی ہے جس کا مطالعہ ہم سورۃ المؤمنون کی آیات ۱۲ تا ۱۴ کے ذیل میں کر چکے ہیں۔ (ملاحظہ ہو اسی جلد کا صفحہ ۱۷۰)

وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ؕ

’’اور اُس نے بنائے تمہارے لیے کان‘ آنکھیں اور دل۔‘‘

اَفْئِدَۃَ جمع ہے اور اس کا واحد فُـؤاد ہے۔ عام طور پر فُـؤاد کا ترجمہ ’’دل ‘‘ ہی کیا جاتا ہے مگر حقیقت میں اس سے انسانی عقل و شعور مرا دہے جس کا تشخص حیوانی عقل اور شعور سے قطعاًمختلف ہے۔(لفظ فُـؤاد کی مزید تشریح کے لیے سورئہ بنی اسرائیل‘آیت ۳۶ کی تشریح ملاحظہ ہو۔)

قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۹﴾

’’بہت ہی کم ہے جو شکر تم لوگ کرتے ہو۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے