تحریر

لقمان

آیات ۲۰ تا ۳۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

20-24

اللہ کے احسانات اور بندوں کے 2 طرزِ عمل

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ اَسۡبَغَ عَلَیۡکُمۡ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّ بَاطِنَۃً ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ لَا ہُدًی وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیۡرٍ ﴿۲۰﴾ وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا بَلۡ نَتَّبِعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَ لَوۡ کَانَ الشَّیۡطٰنُ یَدۡعُوۡہُمۡ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۲۱﴾ وَ مَنۡ یُّسۡلِمۡ وَجۡہَہٗۤ اِلَی اللّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ ﴿۲۲﴾ وَ مَنۡ کَفَرَ فَلَا یَحۡزُنۡکَ کُفۡرُہٗ ؕ اِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ فَنُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۲۳﴾ نُمَتِّعُہُمۡ قَلِیۡلًا ثُمَّ نَضۡطَرُّہُمۡ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۲۴﴾

آیت 20

اَلَمۡ تَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ

’’کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے‘‘

تم لوگ غور کرو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے آ سمان و زمین کی ساری مخلوق کو تمہاری خدمت کرنے اور تمہیں سہولیات بہم پہنچانے پر مامور کر دیا ہے۔مثلاً سورج کو دیکھو جو تمہارے لیے تمازت اور روشنی مہیا کرتا ہے۔ اسی سے ہواؤں اور بارشوں کا نظام ترتیب پاتا ہے اور زمین پر فصلوں اور پھلوں کی پرورش ممکن ہوتی ہے۔ زمین کو دیکھو جسے اللہ تعالیٰ نے ایک بچھونے کی طرح بچھا کر تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے اور یوں تمہاری تمام ضرورتیں پوری کرنے کا اہتمام کیا ہے۔

وَ اَسۡبَغَ عَلَیۡکُمۡ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّ بَاطِنَۃً ؕ

’’اور اُس نے اپنی ظاہری و باطنی نعمتیں تم پر مکمل کر دی ہیں۔‘‘

اللہ کی ان نعمتوں سے ہم دن رات مستفیض ہو رہے ہیں۔ ان میں سے کئی نعمتیں تو ایسی ہیں جنہیں ہم دیکھتے بھی ہیں اور محسوس بھی کرتے ہیں مگر اس کی بے شمار نعمتوں کے بارے میں ہمیں کبھی احساس بھی نہیں ہوا۔ مثلاً ہمارے وجود کے اندر اللہ کی قدرت سے کیسے کیسے نظام خود بخود مصروفِ عمل ہیں‘ لیکن عام طور پر ہمیں ان کے بارے میں احساس نہیںہوتا۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ لَا ہُدًی وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیۡرٍ ﴿۲۰﴾

’’اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی علم ہو‘ یا کوئی ہدایت ہو‘ یا کوئی روشن کتاب ہو۔‘‘

اس سے پہلے یہ مضمون سورۃ الحج کی آیت ۳ میں بھی بالکل انہی الفاظ میں آ چکا ہے۔ ایسے لوگ اللہ کی ذات‘ اُس کی آیات اور اُس کے احکام کے بارے میں طرح طرح کے سوالات اٹھاتے ہیں‘ منفی انداز میں بحث وتمحیص کرتے ہیں ‘لیکن اس کے بارے میں ان کے پاس نہ تو کوئی علمی دلیل ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی الہامی ثبوت۔

آیت 21

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا بَلۡ نَتَّبِعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ

’’اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اس (ہدایت) کی جو اللہ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں :بلکہ ہم تو اُس (طریقے ) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو پایا ہے۔‘‘

یہ سوچ آج بھی زندہ ہے۔ آج بھی ہر معاشرے میں کلچر کے احیاء ‘ لوک ورثے کی حفاظت اور قومی روایات کے پروان چڑھانے کے نام پر کروڑوں روپے کے وسائل ضائع کر دیے جاتے ہیں۔

اَوَ لَوۡ کَانَ الشَّیۡطٰنُ یَدۡعُوۡہُمۡ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۲۱﴾

’’خواہ انہیں شیطان بلا رہا ہو جہنم کے عذاب کی طرف!‘‘

اپنے آباء و اَجداد کے غلط طریقوں سے چمٹے رہنے کی یہ سوچ دراصل شیطانی گمراہی کے سبب ہے ۔ چنانچہ ایسی باتیں کر کے گویا وہ لوگ شیطان کی دعوت پر لبیک کہہ رہے ہیں اور شیطان کی دعوت تو گویا جہنم کے عذاب کی دعوت ہے۔

آیت 22

وَ مَنۡ یُّسۡلِمۡ وَجۡہَہٗۤ اِلَی اللّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ

’’اور جس شخص نے اپنا چہرہ اللہ کے سامنے جھکا دیا اور وہ احسان کی روش اختیار کرنے والا بھی ہو‘‘

فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ؕ

’’تو اُس نے تھام لیا مضبوط حلقے کو۔‘‘

اَلْـعُرْوَۃُ الْوُثْقٰی (مضبوط کنڈا یا حلقہ )سے مراد اللہ کا تعلق اور اس کا سہارا ہے۔ اس مضبوط سہارے کو تھامنے کا ذکر اس سے پہلے سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۵۶ میں اس طرح آیاہے: {فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ٭ لَا انۡفِصَامَ لَہَا ؕ} ’’اور جو کوئی انکار کرے طاغوت کا اور ایمان لائے اللہ پر اُس نے تو ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔‘‘

وَ اِلَی اللّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ ﴿۲۲﴾

’’اور تمام معاملات کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

آیت 23

وَ مَنۡ کَفَرَ فَلَا یَحۡزُنۡکَ کُفۡرُہٗ ؕ

’’اور (اے نبیﷺ!) جو کوئی کفر کرے تو اُس کا کفر آپ کو رنجیدہ نہ کرنے پائے ۔‘‘

اِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ فَنُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ

’’ہماری ہی طرف ان سب کو لوٹنا ہے ‘ پھر ہم انہیں آگاہ کر دیں گے ان کاموں کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۲۳﴾

’’ یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے اسے بھی جو سینوں میں چھپا ہوا ہے۔‘‘

آیت 24

نُمَتِّعُہُمۡ قَلِیۡلًا ثُمَّ نَضۡطَرُّہُمۡ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۲۴﴾

’’ہم انہیں تھوڑی دیر کے لیے مال و متاع دے رہے ہیں‘ پھر ہم انہیں کھینچ کر لائیں گے ایک بہت گاڑھے عذاب کی طرف۔‘‘

ہم نے انہیں دُنیوی زندگی کی صورت میں تھوڑی سی مہلت دی ہے‘جس میں وہ دنیا کے سازوسامان کو کام میں لاتے ہوئے مزے لوٹ لیں۔ پھر ہم انہیں پکڑ کر بہت سخت عذاب کی طرف دھکیل دیں گے۔

25-30

عظمت باری تعالی

ویڈیو

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۵﴾ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۶﴾ وَ لَوۡ اَنَّ مَا فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَۃٍ اَقۡلَامٌ وَّ الۡبَحۡرُ یَمُدُّہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ سَبۡعَۃُ اَبۡحُرٍ مَّا نَفِدَتۡ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۷﴾ مَا خَلۡقُکُمۡ وَ لَا بَعۡثُکُمۡ اِلَّا کَنَفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۲۸﴾ اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ۫ کُلٌّ یَّجۡرِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۲۹﴾ ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ الۡبَاطِلُ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿٪۳۰﴾

آیت 25

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ

’’اور (اے نبیﷺ!) اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے!‘‘

قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۵﴾

’’آپؐ کہیے کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ‘لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔‘‘

آیت 26

لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’ اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘

لفظ اللہ کے ساتھ یہاں ’’لامِ تملیک‘‘ آیا ہے۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی ملکیت ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۶﴾

’’یقینا اللہ ہی غنی ہے‘ بہت خوبیوں والا۔‘‘

وہ بے نیاز ہے‘ اسے کوئی احتیاج نہیں‘ وہ خود اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔

آیت 27

وَ لَوۡ اَنَّ مَا فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَۃٍ اَقۡلَامٌ

’’اور اگر زمین میں جتنے بھی درخت ہیں وہ سب قلم بن جائیں‘‘

قرآن مجید کے اس اسلوب کی طرف پہلے بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ اہم مضامین کم از کم دو مرتبہ ضرور دہرائے جاتے ہیں۔چنانچہ یہی مضمون سورۃ الکہف میں اس طرح بیان ہوا ہے: {قُلۡ لَّوۡ کَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ وَ لَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِہٖ مَدَدًا ﴿۱۰۹﴾} ’’(اے نبیﷺ!) آپ کہیے کہ اگر سمندر سیاہی بن جائے میرے رب کی باتوں (کے لکھنے) کے لیے تو یقینا سمندر ختم ہو جائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں اگرچہ ہم اسی کی طرح اور (سمندر) بھی مدد کے لیے لے آئیں‘‘۔ سورۃ الکہف کی اس آیت میں لکھنے کے حوالے سے صرف سیاہی کا ذکر ہے جبکہ یہاں پر سیاہی کے ساتھ قلم کا ذکر بھی ہوا ہے۔

وَّ الۡبَحۡرُ یَمُدُّہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ سَبۡعَۃُ اَبۡحُرٍ

’’اور سمندر (سیاہی بن جائے) اس کے بعداس کو مزید سات سمندر سیاہی مہیا کریں‘‘

یہاں پر الْبَحْر کے بعد مِدَاد (سیاہی) کا لفظ محذوف ہے۔ بہر حال مفہوم واضح ہے کہ اگر زمین پر موجود سب کے سب درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر سیاہی بن جائے اور پھر مزید سات سمندروں کا پانی بھی سیاہی بن کر اس میں شامل ہو جائے تب بھی :

مَّا نَفِدَتۡ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۷﴾

’’اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ یقینا اللہ زبردست ہے ‘کمال حکمت والا۔‘‘

قبل ازیں کئی بار ذکر ہو چکا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کے کلمہ ’’کُن‘‘کا ظہور ہے ۔ اس لحاظ سے اللہ کی تمام مخلوقات گویا ’’کلمات اللہ‘‘ ہیں جن کا شمار ممکن ہی نہیں۔ پرانے زمانے کے مقابلے میں آج کا انسان اس کائنات کی وسعت کے بارے میں بہتر طورپرجانتا ہے۔ آج کے سائنسدان اربوں نوری سالوں کی وسعت تک کائنات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں مگر اس سب کچھ کے باوجود بھی وہ کائنات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کی وسعت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ چنانچہ جس کائنات کی وسعت کا اندازہ لگانا کسی کے بس کی بات نہیں‘ اس میں موجود مخلوق یعنی اللہ کے کلمات و صفات کو احاطۂ تحریر میں لانا کسی کے لیے کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔

آیت 28

مَا خَلۡقُکُمۡ وَ لَا بَعۡثُکُمۡ اِلَّا کَنَفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ ؕ

’’تم سب کا پیدا کرنا اور دوبارہ اٹھانا (اللہ کے لیے )ایسا ہی ہے جیسے ایک جان کا (پیدا کر دینا اور دوبارہ زندہ کر دینا)۔‘‘

پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی وسعت و عظمت کا تذکرہ تھا۔ اب اس وسیع و عریض کائنات کے انتظام و انصرام اوررنگا رنگ مخلوق کے معاملات کی نگرانی کا ذکر ہے کہ ان تمام امور کی نگہداشت اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ جیسے آیت الکرسی (سورۃ البقرۃ) میں ارشاد ہوا : {وَ لَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ ﴿۲۵۵﴾} ’’اور اُس پر گراں نہیں گزرتی ان دونوں (زمین و آسمان) کی حفاظت‘ اور وہ بلند و بالا ہے‘ بڑی عظمت والا۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۲۸﴾

’’یقینا اللہ سب کچھ سننے والا‘ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے۔‘‘

آیت 29

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ

’’کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ رات کو پرو لاتا ہے دن میں اور دن کو پرو لاتا ہے رات میں‘‘

اس مفہوم کے اعتبار سے اس کی مثال تسبیح کے دانوں کی سی ہے ‘یعنی قدرتِ الٰہی سے دن اور رات کی ترتیب ایک ڈوری میں پروئے گئے سیاہ اور سفید رنگ کے دانوں کی سی ہے کہ ایک سیاہ اور ایک سفید دانہ باری باری چلے آ رہے ہیں۔ ان الفاظ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں۔ یعنی دن جب گھٹتا ہے تو رات اس کے کچھ حصے پر قابض ہو جاتی ہے گویا وہ اس میں داخل ہو جاتی ہے۔ اور اسی طرح جب رات گھٹتی ہے تو اس کے کچھ حصے پر دن قبضہ (encroachment) کر لیتا ہے۔

وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ۫ کُلٌّ یَّجۡرِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۲۹﴾

’’اور اُس نے مسخر کر دیا ہے سورج اور چاند کو۔ یہ سب کے سب چل رہے ہیں ایک وقت معین تک کے لیے‘ اور یہ کہ اللہ باخبر ہے اُس سے جو تم کر رہے ہو۔‘‘

آیت 30

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ الۡبَاطِلُ ۙ

’’یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ یہ لوگ جس کسی کو بھی اس کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے‘‘

لغوی اعتبار سے ہر وہ چیز ’’باطل‘‘ہے جو اگرچہ نظر تو آ رہی ہو مگر اس کا وجود حقیقی نہ ہو۔ جیسے ’’سراب‘‘ کہ دور سے دیکھنے پر پانی نظر آتا ہے مگر اصل میں وہ پانی نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے سوا جس کسی کو بھی کوئی معبود سمجھ کر پکارتا ہے وہ محض دھوکہ اور سراب ہے ۔

وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿٪۳۰﴾

’’اور یقینا اللہ ہی سب سے بلند و بالا اور عظمت والا ہے۔‘‘

31-33

مضامینِ عبرت و مذمت

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ الۡفُلۡکَ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِنِعۡمَتِ اللّٰہِ لِیُرِیَکُمۡ مِّنۡ اٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿۳۱﴾ وَ اِذَا غَشِیَہُمۡ مَّوۡجٌ کَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۚ فَلَمَّا نَجّٰہُمۡ اِلَی الۡبَرِّ فَمِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا کُلُّ خَتَّارٍ کَفُوۡرٍ ﴿۳۲﴾ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ وَ اخۡشَوۡا یَوۡمًا لَّا یَجۡزِیۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِہٖ ۫ وَ لَا مَوۡلُوۡدٌ ہُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِہٖ شَیۡئًا ؕ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ وَ لَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۳۳﴾

آیت 31

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ الۡفُلۡکَ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِنِعۡمَتِ اللّٰہِ لِیُرِیَکُمۡ مِّنۡ اٰیٰتِہٖ ؕ

’’کیا تم دیکھتے نہیں کہ کشتیاں چلتی ہیں سمندر میں اللہ کی نعمتوں کو لے کر تا کہ وہ دکھائے تمہیں اپنی نشانیوں میں سے۔‘‘

یعنی یہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ دریائوں اور سمندروں میں کشتیاں اور بڑے بڑے جہاز ہزاروں ٹن وزنی سازو سامان اٹھائے رواں دواں ہیں۔

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿۳۱﴾

’’یقینا اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہے۔‘‘

صَبَّار‘ فَعَّال کے وزن پر اور شَکُوْر‘ فَعُوْل کے وزن پر مبالغے کے صیغے ہیں‘ یعنی بہت زیادہ صبر کرنے والا اور بہت زیادہ شکر کرنے والا۔

آیت 32

وَ اِذَا غَشِیَہُمۡ مَّوۡجٌ کَالظُّلَلِ

’’اور جب کبھی (سمندر میں) موج انہیں ڈھانپ لیتی ہے سائبانوں کی طرح‘‘

بحری سفر کے دوران جب کبھی یہ لوگ طوفان میں پھنس جاتے ہیں اور سائبانوں کی طرح پھیلی ہوئی موجیں انہیں اپنی طرف ایسے بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جیسے کہ وہ ان کے اوپر سے گزر جائیں گی۔

دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۚ

’’تو وہ پکارنے لگتے ہیں اللہ کو‘ اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘

فَلَمَّا نَجّٰہُمۡ اِلَی الۡبَرِّ فَمِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ؕ

’’پھر جب وہ انہیں نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے تو ان میں کچھ ہی ہیں جو میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔‘‘

یعنی ان میں سے اکثر و بیشتر توحید خالص سے برگشتہ ہو کر پھر شرک کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔

وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا کُلُّ خَتَّارٍ کَفُوۡرٍ ﴿۳۲﴾

’’اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو قول کے جھوٹے اور نا شکرے ہیں۔‘‘

آیت 33

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ وَ اخۡشَوۡا یَوۡمًا لَّا یَجۡزِیۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِہٖ ۫

’’اے لوگو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو اور ڈرو اُس دن سے جس دن کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام نہیں آئے گا‘‘

وَ لَا مَوۡلُوۡدٌ ہُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِہٖ شَیۡئًا ؕ

’’اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا۔‘‘

باپ اور بیٹے کے حوالے سے قریب ترین رشتے کا ذکر کر کے گویا اس سے نچلے درجوں کے تمام رشتوں اور تعلقات کے بارے میں واضح کر دیا گیا کہ اس دن کوئی کسی کے کام نہیں آ سکے گا۔ جیسا کہ سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا : {وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا لَّا تَجۡزِیۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَیۡئًا وَّ لَا یُقۡبَلُ مِنۡہَا شَفَاعَۃٌ وَّ لَا یُؤۡخَذُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۸﴾} ’’ اور ڈرو اُس دن سے جس دن کام نہ آ سکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی اور نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ ہی کسی سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ ہی انہیں کوئی مدد مل سکے گی۔‘‘

اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ

’’یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘تو (دیکھو!) تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے دُنیا کی زندگی۔‘‘

ایسا نہ ہو کہ تم دنیا کی زندگی کی زیب و زینت پرریجھ کر اصل زندگی کو بھول جاؤ۔

وَ لَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۳۳﴾

’’اور( دیکھنا !)تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اللہ کے حوالے سے وہ بڑا دھوکے باز۔‘‘

اللہ کے بارے میں انسان کو دھوکے میں ڈالنے کے لیے شیطان طرح طرح کے حربے آزماتا ہے۔ بعض اوقات وہ انسان کو ہمدردانہ انداز میں باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ اللہ بڑا غفار ہے‘ اس کی رحمت اور مغفرت بہت وسیع ہے ‘تم خواہ مخواہ گھبرا رہے ہو‘ کا ہے کو توبہ کا سوچتے ہو؟ اگر آج تمہیں موقع ملا ہے تو جی بھر کرعیش کرلو‘ پھر یہ وقت ہاتھ نہیں آئے گا۔ رہا بخشش کا مسئلہ تو اس کی فکر نہ کرو‘ اللہ بڑے بڑے گنہگاروں کو بھی بخش دے گا۔

34

پانچ باتوں کا علم اللہ کو ہے

ویڈیو

اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ ۚ وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡاَرۡحَامِ ؕ وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَکۡسِبُ غَدًا ؕ وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌۢ بِاَیِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿٪۳۴﴾

آیت 34

اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ

’’یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس ہے قیامت کا علم۔‘‘

اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ گھڑی کب آئے گی۔ عام طور پر ہم ’’قیامت‘‘ اور ’’السّاعۃ‘‘ کے الفاظ کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرتے ہیں اور انہیں باہم مترادف الفاظ سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ ان دونوں میں سے ہر لفظ کا اپنا الگ مفہوم ہے۔ ’’السَّاعۃ‘‘ کے معنی مخصوص گھڑی کے ہیں اور قرآنی اصطلاح کے مطابق ’’السَّاعۃ‘‘ وہ معین گھڑی ہے جب پوری زمین زلزلے سے جھنجھوڑڈالی جائے گی‘ اجرامِ سماویہ ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اُڑتے پھریں گے۔ مثلاً سورۃ القارعہ میں ’’السَّاعۃ‘‘ کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا ہے: {اَلۡقَارِعَۃُ ۙ﴿۱﴾مَا الۡقَارِعَۃُ ۚ﴿۲﴾وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡقَارِعَۃُ ؕ﴿۳﴾یَوۡمَ یَکُوۡنُ النَّاسُ کَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ۙ﴿۴﴾وَ تَکُوۡنُ الۡجِبَالُ کَالۡعِہۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ ؕ﴿۵﴾} ’’وہ کھڑ کھڑانے والی! کیا ہے وہ کھڑکھڑانے والی؟ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ کھڑکھڑانے والی! جب لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے۔ اور پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی روئی۔‘‘

اسی طرح لفظ ’’قیامت‘‘ کا جائزہ لیں تو اس کے لغوی معنی قیام کرنے اور کھڑے ہونے کے ہیں اور اس سے وہ وقت یا وہ دن مرا دہے جب تمام لوگ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے۔

وَ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ ۚ

’’اور وہی بارش برساتا ہے ۔ ‘‘

وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡاَرۡحَامِ ؕ

’’اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہے۔‘‘

وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَکۡسِبُ غَدًا ؕ

’’اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل وہ کیا کمائی کرے گی۔‘‘

وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌۢ بِاَیِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ؕ

’’اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں اُس کی موت واقع ہو گی۔‘‘

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک آدمی ساری عمر ایک جگہ مقیم رہا‘ مگر کبھی اچانک وہ کسی دوسرے ملک گیا اور وہاں اس کی موت واقع ہو گئی‘ جبکہ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اُسے موت اس دیارِ غیر میں آئے گی۔

اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿٪۳۴﴾

’’یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا‘ ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘

اس آیت کے حوالے سے کچھ لوگ خواہ مخواہ اشکال پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے اس کا مفہوم اچھی طرح سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں پہلا نکتہ یہ نوٹ کر لیں کہ جن پانچ چیزوں کا ذکر اس آیت میں ہو اہے ان میں سے پہلی اور آخری دو یعنی کل تین چیزیں ایسی ہیں جن کے ذکر میں ’’حصر‘‘ کا اسلوب ہے‘ یعنی ان میں دو ٹوک نفی (categorical denial) موجود ہے کہ ان چیزوں کا علم صرف اللہ کو ہے‘ اُس کے سوا کوئی دوسرا اُن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ یہ تین چیزیں ہیں: (۱) عِلمُ السَّاعۃ‘ (۲)اس چیز کا علم کہ کل کوئی کیا کرے گا ‘ اور(۳)کسی کو اپنی موت کی جگہ کا علم ہونا۔جبکہ باقی دو چیزوں (دوسری اور تیسری) کے ذکر میں ’’حصر‘‘ کا اسلوب نہیں ہے۔ یعنی ان کا ذکر کرتے ہوئے کسی دوسرے کے علم کی نفی نہیں کی گئی ۔ بلکہ بارش کے حوالے سے تو یہاں اللہ کی قدرت کا ذکر ہوا ہے‘ نہ کہ اُس کے علم کا ‘کہ اللہ بارش برساتا ہے ۔ اس سلسلے کے دوسرے فرمان (وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ) میں بھی اللہ کے علم کا ذکر ہے کہ وہ جانتا ہے جو کچھ رحموں کے اندر ہے‘ اور یہاں بھی ’’حصر‘‘ کا اسلوب نہیں ہے۔ یعنی کسی دوسرے کے علم کی یہاں بھی نفی نہیں کی گئی۔ چنانچہ قرآن کے ان الفاظ میں نہ تو کوئی اشکال ہے اور نہ ہی کسی اعتراض کی کوئی گنجائش موجود ہے۔ البتہ بعض لوگ اس حدیث پر اعتراض کرتے ہیں جواس آیت کی وضاحت میں وارد ہوئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی متفق علیہ ’’حدیث جبریل‘‘ میں مذکور ہے کہ نووارد شخص (جو دراصل حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے)نے رسول اللہﷺ سے ایمان‘ اسلام اور احسان کے بارے میں سوالات کرنے کے بعد دریافت کیا : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَتَی السَّاعَۃُ؟ ’’اے اللہ کے رسولﷺ! قیامت کب آئے گی؟‘‘ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: حدیث((مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْھَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ!))’’جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا!‘‘--- اس کے بعد رسول اللہﷺ نے قیامت کی چند علامات بیان فرمائیں اور پھر ارشاد فرمایا: حدیث((فِیْ خَمْسٍ لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلَّا اللّٰہُ))’’پانچ چیزوں کے بارے میں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا‘‘۔ پھر آپﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ ۚ وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡاَرۡحَامِ ؕ وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَکۡسِبُ غَدًا ؕ وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌۢ بِاَیِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿٪۳۴﴾ } ۱

اس حدیث کے حوالے سے عام طور یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آج کل ماں کے پیٹ کے اندر بچے کی جنس کے بارے میں معلوم کیا جا سکتا ہے‘ لہٰذا یہ دعویٰ درست نہیں کہ اس کے بارے میں اللہ کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا۔ لیکن غور کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ یہ اعتراض بھی درست نہیں ۔ کیونکہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے؟ اب تک انسان اس کے صرف ایک پہلو یعنی بچے کی جنس (لڑکا یا لڑکی) کے بارے میں ہی معلوم کر سکا ہے‘ جبکہ اس کے بہت سے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جا ن سکتا۔ مثلاً ماں کے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا کہ وہ بچہ کن صلاحیتوں کا مالک ہو گا؟ ذہین و فطین ہو گا یا کند ذہن‘ نیکو کار ہو گا یا بدکار ۔ اسی طرح بارش کے بارے میں محکمہ موسمیات کی پیشین گوئیوں کی حقیقت ظن و تخمین سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ چنانچہ اس توجیہہ کی موجودگی میں حدیث کے الفاظ پر بھی اعتراض کی گنجائش نہیں رہتی ۔

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایّاکم بالآیات والذِّکر الحکیمoo

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب سؤال جبریل النبیﷺ عن الایمان والاسلام والاحسان وعلم الساعۃ… وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان الایمان والاسلام والاحسان۔

یوٹیوب پر دیکھیے