تحریر

الكهف

آیات ۱۰۷ تا ۱۰۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

107-108

جنت کی نعمتوں سے جی نہیں بھرے گا

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتۡ لَہُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا ﴿ۙ۱۰۷﴾ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا لَا یَبۡغُوۡنَ عَنۡہَا حِوَلًا ﴿۱۰۸﴾

آیت 107

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتۡ لَہُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا ﴿ۙ۱۰۷﴾

’’(اس کے برعکس) وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغات ہوں گے۔‘‘

جن لوگوں نے ایمان کے تقاضے بھر پور طور پر پورے کیے اور وہ نیک اعمال کرتے رہے ان کے لیے ٹھنڈی چھائوں والے باغات ہو ں گے۔ آج ہم تصور بھی نہیں کر سکتے کہ وہ باغات کیسے ہوں گے اور کہاں ہوں گے۔ اس کائنات کی وسعت بے حد وحساب ہے اور جنت کی وسعت بھی ہمارے احاطۂ خیال میں نہیں سما سکتی۔

اس کائنات میں اَن گنت کہکشائیں ہیں اور نہ معلوم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے کہاں کہاں جنتیں بنا رکھی ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ نچلے درجے والا جنتی اوپر والے جنتی کو ایسے دیکھے گا جیسے آج ہم زمین سے ستاروں کو دیکھتے ہیں۔ بہرحال معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت کی ابتدائی مہمان نوازی (نُزُل) یہیں اسی زمین پر ہوگی۔ یعنی ’’قصۂ زمین برسر زمین‘‘ ہی طے کیا جائے گا۔

آیت 108

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا لَا یَبۡغُوۡنَ عَنۡہَا حِوَلًا ﴿۱۰۸﴾

’’وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے‘وہاں سے و ہ جگہ بدلنا نہیں چاہیں گے۔‘‘

یعنی جنت ایسی جگہ نہیں ہے کہ جہاں رہتے رہتے کسی کا جی اُکتا جائے۔ دنیا میں انسان ہر وقت تغیر و تبدیلی کا خواہاں ہے۔ تبدیلی کی اسی خواہش کے تحت بری سے بر ی جگہ پر بھی کچھ دیر کے لیے انسان کا دل بہل جاتا ہے جبکہ اچھی سے اچھی جگہ پر بھی مستقل طور پر رہنا پڑے تو بہت جلد اسے اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہم کشمیر اور سوئزرلینڈ کو ’’فردوس بر روئے زمیں‘‘ گمان کرتے ہیں ‘ لیکن وہاں کے رہنے والے وہاں کی زمینی و آسمانی آفات سے تنگ ہیں۔ اہل جنت مستقل طور پر ایک ہی جگہ رہنے کے باعث اکتائیں گے نہیں اور وہاں سے جگہ بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے۔

اب اس سورت کی آخری دو آیات آ رہی ہیں جو گویا توحید کے دو بہت بڑے خزانے ہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے