تحریر

الكهف

آیات ۱۰۲ تا ۱۰۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

102

شرک کرنے والوں کا جھوٹا اعتماد

ویڈیو

اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا عِبَادِیۡ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ اَوۡلِیَآءَ ؕ اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا جَہَنَّمَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ نُزُلًا ﴿۱۰۲﴾

تمہید

اس آخری رکوع میں بہت واضح الفاظ میں بتا دیا گیا ہے کہ اللہ کی نظر میں کون لوگ حقیقی گمراہی اور کفر و دجل میں مبتلا ہیں۔ اگرچہ قربِ قیامت کے زمانے میں ایک شخص معین ’’دجالِ اکبر‘‘ کا فتنہ اور اس کا ظہور اپنی جگہ ایک حقیقت ہے (یہ اس کی تفصیل کا موقع نہیں)مگر عمومی طور پر دجالیت کا فتنہ یہی ہے کہ انسان حصولِ دنیا میں مشغول ہو کر اس حد تک غافل ہو جائے کہ اُسے نہ تو اپنے دارِ آخرت کی کوئی فکر رہے اور نہ ہی اپنے خالق و مالک کی مرضی و منشاکا کچھ ہوش رہے۔ وہ اس ’’عروسِ ہزار داماد‘‘ کی زلفِ گرہ گیر کا ایسا اسیر ہو کہ اس کی ظاہری دل فریبیوں اورچمک دمک ہی میں کھو کر رہ جائے۔

آیت 102

اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا عِبَادِیۡ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ اَوۡلِیَآءَ ؕ

’’کیا کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ میرے ہی بندوں کو میرے مقابلے میں اپنے حمایتی بنا لیں گے؟‘‘

یہ لوگ جن انبیاء و رسل ‘ملائکہ اور صلحاء کو میرے شریک ٹھہراتے ہیں اور اپنا کارساز سمجھتے ہیں وہ سب میرے بندے ہیں۔ کیا ان کا خیال ہے کہ میرے یہ بندے میرے مقابلے میں ان کی مدد اور حمایت کریں گے؟ خواہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں یا عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ‘ میرے یہ بندے میرے مقابلے میں ان کے حامی و مددگار اورحاجت روا ثابت ہوں گے؟

اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا جَہَنَّمَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ نُزُلًا ﴿۱۰۲﴾

’’یقینا ہم نے تیار کر رکھا ہے جہنم کو ایسے کافروں کی مہمانی کے لیے ۔‘‘

103-106

سب سے زیادہ خسارے میں کون جائے گا؟

ویڈیو

قُلۡ ہَلۡ نُنَبِّئُکُمۡ بِالۡاَخۡسَرِیۡنَ اَعۡمَالًا ﴿ؕ۱۰۳﴾ اَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعۡیُہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ ہُمۡ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ یُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا ﴿۱۰۴﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ وَ لِقَآئِہٖ فَحَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فَلَا نُقِیۡمُ لَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَزۡنًا ﴿۱۰۵﴾ ذٰلِکَ جَزَآؤُہُمۡ جَہَنَّمُ بِمَا کَفَرُوۡا وَ اتَّخَذُوۡۤا اٰیٰتِیۡ وَ رُسُلِیۡ ہُزُوًا ﴿۱۰۶﴾

آیت 103

قُلۡ ہَلۡ نُنَبِّئُکُمۡ بِالۡاَخۡسَرِیۡنَ اَعۡمَالًا ﴿ؕ۱۰۳﴾

’آپؐ کہیے :کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟‘‘

یہ ہے وہ مضمون جسے ابتدامیں اس سورت کا عمود قرار دیا گیا تھا ‘یعنی دنیا اور اس کی زیب و زینت !اس مضمون کے سائبان کا ایک کھونٹا سورت کے آغاز میں نصب ہے جبکہ دوسرا کھونٹا یہاں ان آیات کی صورت میں۔ابتدائی آیات میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ دنیاکی زیب و زینت اور رونقوں پر مشتمل یہ خوبصورت محفل سجائی ہی انسانوں کی آزمائش کے لیے گئی ہے۔ اس کے ذریعے سے انسانوں کے رویوں کی پرکھ پڑتال کرنا اور ان کی جدو جہد کی غرض و غایت کا تعین کرنا مقصود ہے: {اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَی الۡاَرۡضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبۡلُوَہُمۡ اَیُّہُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾} ۔اب یہاں آیت زیر نظر میں اُن لوگوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جو اپنے اعمال‘اپنی محنت و مشقت‘بھاگ دوڑ اور سعی وجہد میں سب سے زیادہ گھاٹا کھانے والے ہیں ۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس آزمائش میں ناکام ہو کر دنیا کی زیب و زینت ہی میں کھو گئے ہیں۔

جہاں تک محنت اور مشقت کا تعلق ہے وہ تو ہر شخص کرتا ہے۔ جیسے حضورﷺ نے فرمایا: حدیث((کُلُّ النَّاسِ یَغْدُوْ فَبَائِعٌ نَفْسَہٗ ‘ فَمُعْتِقُھَا اَوْ مُوْبِقُھَا))۱ ’’ہر انسان جب صبح کرتا ہے تو خود کو بیچنا شروع کرتا ہے‘ پھر یا تو وہ اسے آزاد کرا لیتا ہے یا (گناہوں سے) ہلاک کر دیتا ہے‘‘۔ چنانچہ ہر کوئی اپنے آپ کو بیچتا ہے۔ کوئی اپنی طاقت اور قوت بیچتا ہے‘کوئی اپنی ذہانت اور صلاحیت بیچتا ہے اور کوئی اپنا وقت اور ہنر بیچتا ہے۔ گویا یہ دنیا محنت ‘عمل اور کوشش کی دوڑ کا میدان ہے اورہر انسان اپنے مفاد کے لیے بقدرِ ہمت اس دوڑ میں شامل ہے۔ مگر بدقسمتی سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی پوری کوشش اور محنت کے باوجود گھاٹے میں رہتے ہیں۔ ان کے لیے خود کو بیچنے کے اس عمل میں کچھ بھی نفع نہیں بلکہ نقصان ہی نقصان ہے‘خسارا ہی خسارا ہے ۔تو اللہ کی نظر میں سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے یہ کون لوگ ہیں؟

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الطھارۃ‘ باب فضل الوضوئ۔ وسنن الترمذی‘ ابواب الدعوات۔

آیت 104

اَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعۡیُہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا

’’وہ لوگ جن کی سعی و جہد دنیا ہی کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی ‘‘

ایسے لوگ جنہیں آخرت مطلوب ہی نہیں ‘ان کی ساری تگ و دو اور سوچ بچار دنیا کمانے کے لیے ہے۔ آخرت کے لیے انہوں نے نہ تو کبھی کوئی منصوبہ بندی کی اور نہ ہی کوئی محنت۔ بس برائے نام اور موروثی مسلمانی کا بھرم رکھنے کے لیے کبھی کوئی نیک کام کر لیا ‘کبھی نماز بھی پڑھ لی اور کبھی روزہ بھی رکھ لیا۔ مگر اللہ کو اصل میں اُن سے مقصود و مطلوب کیا ہے ؟اس بارے میں انہوں نے کبھی سنجیدگی سے سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی ۔ ایسے لوگوں کو ان کی محنت کا صلہ حسب مشیتِ الٰہی دنیا ہی میں مل جاتا ہے‘ جبکہ آخرت میں ان کے لیے سوائے جہنم کے اور کچھ نہیں۔ اس مضمون کا ذروۂ سنام سورۂ بنی اسرائیل کی یہ آیات ہیں: {مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡعَاجِلَۃَ عَجَّلۡنَا لَہٗ فِیۡہَا مَا نَشَآءُ لِمَنۡ نُّرِیۡدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَہٗ جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلٰىہَا مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ﴿۱۸﴾وَ مَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَۃَ وَ سَعٰی لَہَا سَعۡیَہَا وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعۡیُہُمۡ مَّشۡکُوۡرًا ﴿۱۹﴾} ’’ جو کوئی طلب گار بنتا ہے جلدی والی (دنیا) کاتوہم اس کو جلدی دے دیتے ہیں اس میں جو کچھ ہم چاہتے ہیں‘جس کے لیے چاہتے ہیں‘ پھر ہم مقرر کر دیتے ہیں اس کے لیے جہنم‘وہ داخل ہو گا اس میں ملامت زدہ‘دھتکارا ہوا۔ اور جو کوئی آخرت کا طلبگارہو‘اور کوشش کرے اس کے لیے اس کی سی کوشش اور وہ مؤمن بھی ہو‘تو وہی لوگ ہوں گے جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی‘‘۔چنانچہ نجاتِ اخروی کا امیدوار بننے کے لیے ہر بندۂ مسلمان کو واضح طور پر اپنا راستہ متعین کرنا ہوگا کہ وہ طالب دنیا ہے یا طالب آخرت؟ جہاں تک دُنیا میں رہتے ہوئے ضروریاتِ زندگی کا تعلق ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیک و بد سب کی پوری ہو رہی ہیں: {کُلًّا نُّمِدُّ ہٰۤؤُلَآءِ وَ ہٰۤؤُلَآءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّکَ ؕ وَ مَا کَانَ عَطَـآءُ رَبِّکَ مَحۡظُوۡرًا ﴿۲۰﴾} (بنی اسرائیل) ’’ہم سب کو مدد پہنچائے جا رہے ہیں‘ان کو بھی اور ان کو بھی‘آپؐ کے رب کی عطا سے‘اور آپؐ کے رب کی عطا رُکی ہوئی نہیں ہے‘‘۔لہٰذا انسان کو اپنی ضروریات زندگی کے حصول کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ پر توکل رکھنا چاہیے۔ اُس نے انسان کو دنیا میں زندہ رکھنا ہے تو وہ اس کے کھانے پینے کا بندو بست بھی کرے گا: {وَّ یَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ ؕ } (الطلاق:۳) ’’وہ اس کو وہا ں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا‘‘۔چنانچہ ایک بندۂ مؤمن کو چاہیے کہ فکرِ دنیا سے بے نیاز ہو کر آخرت کو اپنا مطلوب و مقصود بنائے ‘اور ان لوگوں کے راستے پر نہ چلے جنہوں نے سرا سر گھاٹے کا سودا کیاہے ‘ جن کی ساری محنت اور تگ و دو دنیا کی زندگی ہی میں گم ہو کر رہ گئی ہے:

وَ ہُمۡ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ یُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا ﴿۱۰۴﴾

’’اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔‘‘

ایسے لوگ اپنے کاروبار کی ترقی‘جائیدادوں میں اضافے اور دیگر مادی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ ان کی محنتیں روز بروز نتیجہ خیز اور کوششیں بار آور ہو رہی ہیں۔

آیت 105

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ وَ لِقَآئِہٖ

’’یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیات اور اُس کی ملاقات کا‘‘

ایسے لوگ بے شک اقرار کرتے ہیں کہ وہ اللہ کواور قرآن کو مانتے ہیں ‘لیکن اگر حقیقتاً وہ آخرت کو بھلا کر دن رات دنیا سمیٹنے ہی میں مصروف ہیں تو اپنے عمل سے گویا وہ اللہ کی آیات اور آخرت میں اس سے ہونے والی ملاقات کا انکار کر رہے ہیں۔ اللہ کا فیصلہ تو یہ ہے: {وَ اِنَّ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ لَہِیَ الۡحَیَوَانُ ۘ} (العنکبوت:۶۴) ’’یقیناآخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے‘‘۔ لیکن طالبانِ دنیا کا عمل اللہ کی اس بات کی تصدیق کرنے کے بجائے اس کو جھٹلاتا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو اور اس کے سامنے روزِمحشر کی حاضری کو عملی طور پر جھٹلادیا ہے۔

فَحَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فَلَا نُقِیۡمُ لَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَزۡنًا ﴿۱۰۵﴾

’’تو برباد ہو گئے ان کے اعمال اور ہم قائم نہیں کریں گے ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن۔‘‘

قیامت کے دن ایسے لوگوں کے اعمال کا وزن نہیں کیا جائے گا ۔ اگر انہوں نے اپنے دل کی تسلی اور ضمیر کی خوشی کے لیے بھلائی کے کچھ کام کیے بھی ہوں گے تو ایسی نیکیاں جو ایمان اور یقین سے خالی ہوں گی ان کی اللہ کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ چنانچہ ان کی ایسی تمام نیکیاں ضائع کر دی جائیں گی اور میزان میں ان کا وزن کرنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ اس بھیانک انجام کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ دنیا کی آرائش و زیبائش میں گم ہو کر انسان کو نہ اللہ کا خیال رہتا ہے اور نہ آخرت کی فکر دامن گیر ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کی زیب و زینت کے حوالے سے یہ مضمون اس سورت میں بار باردہرایا گیا ہے (ملاحظہ ہو :آیت ۷‘۲۷ اور ۴۶)۔

آیت 106

ذٰلِکَ جَزَآؤُہُمۡ جَہَنَّمُ بِمَا کَفَرُوۡا وَ اتَّخَذُوۡۤا اٰیٰتِیۡ وَ رُسُلِیۡ ہُزُوًا ﴿۱۰۶﴾

’’ان کا بدلہ جہنم ہے بسبب اس کے کہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیات اور میرے رسولوںؑ کا مذاق اڑایا۔‘‘

اللہ کی آیات اور رسولوں کے فرمودات کے مطابق تو اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اور دُنیوی زندگی کی کچھ اہمیت نہیں ‘مگر ان طالبانِ دنیا نے سمجھ رکھا تھا کہ اصل کامیابی اسی دُنیوی زندگی کی ہی کامیابی ہے۔ چنانچہ اسی کامیابی کے حصول کے لیے انہوںنے محنت اور کوشش کی اور اسی زندگی کو سنوارنے کے لیے وہ خود کو ہلکان کرتے رہے۔ آخرت کو لائق اعتناء سمجھا اور نہ ہی اس کے لیے انہوں نے کوئی سنجیدہ تگ ودو کی۔ آخرت کا خیال کبھی آیا بھی تو یہ سوچ کر خود کو تسلی دے لی کہ ہم نے فلاں فلاں بھلائی کے کام بھی تو کیے ہیں اور پھرہم حضورﷺ کے امتی بھی تو ہیں۔ آپؐ ہماری شفاعت فرمائیں گے اور ہم کامیاب و کامران ہو کر جنت میں پہنچ جائیں گے۔ یہ عقیدہ یہودیوں کے عقیدے سے ملتا جلتا ہے ۔ وہ بھی دعویٰ کرتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹوں کی مانند ہیں‘اس کے لاڈلے اور چہیتے ہیں۔

ان آیات کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی توجہ طلب ہے کہ یہاں کفار سے مراد اصطلاحی کفار نہیں‘ بلکہ ایسے لوگ ہیں جو قانونی طور پر تو مسلمان ہی ہیں‘ مگر اللہ اور اُس کے رسول کے احکام کو پس پشت ڈال کر سرتاپا دنیا کے طالب بنے بیٹھے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مذکورہ مفہوم میں جو شخص بھی آخرت کے مقابلے میں دنیا کا طالب ہے وہی ان آیات کا مصداق ہے‘ بظاہر چاہے وہ مسلمان ہو ‘مسلمانوں کا لیڈر ہو‘ مذہبی پیشوا ہو یا کوئی بہت بڑا عالم ہو۔ اسی مضمون کو کسی بزرگ نے ’’جو دم غافل سو دم کافر‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ چنانچہ آخرت کی نجات کے سلسلے میں یہ بات طے کرنا انتہائی ضروری ہے کہ بنیادی طور پر انسان طالب دنیا ہے یا طالب آخرت!

آخری رکوع کی ان آیات کا سورت کی ابتدائی آیات کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے اور دجالی فتنے سے حفاظت کے لیے ان کی خصوصی اہمیت ہے ‘ چنانچہ حدیث میں ان کو فتنہ دجال سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔اس لیے بہتر ہے کہ ابتدائی دس آیات اور ان آخری آیات کو حفظ کر لیا جائے اورکثرت سے ان کی تلاوت کی جائے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو جمعہ کے روز پوری سورۃ الکہف کی تلاوت کو بھی معمول بنایا جائے۔

یوٹیوب پر دیکھیے