قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ
’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے کہ میں تو بس تمہاری ہی طرح کا ایک انسان ہوں‘ مجھ پر وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبودہے۔‘‘
فَمَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ﴿٪۱۱۰﴾
’’پس جو کوئی بھی اُمید رکھتا ہواپنے رب سے ملاقات کی تواسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے ربّ کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔‘‘
یعنی عبادت خالص اللہ کی ہو۔ یہ توحید عملی ہے۔ اس بارے میں سورۂ بنی اسرائیل آیت ۲۳میں یوں فرمایا گیاہے: {وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ } ’’اور فیصلہ کر دیا ہے آپؐ کے رب نے کہ تم لوگ نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اُس کے ‘‘۔ سورۃ الکہف کی اس آخری آیت اور سورۂ بنی اسرائیل کی آخری آیت کا بھی آپس میں معنوی ربط و تعلق ہے۔ موازنہ کے لیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ملاحظہ کیجیے : {وَ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرۡہُ تَکۡبِیۡرًا ﴿٪۱۱۱﴾} ’’اور کہہ دیجیے کہ کل حمد اور کل شکر اللہ کے لیے ہے جس نے نہیں بنائی کوئی اولاد‘اور نہیں ہے اس کا کوئی شریک بادشاہی میں‘اور نہ ہی اس کا کوئی دوست ہے کمزوری کی وجہ سے اوراُس کی تکبیر کرو جیسے کہ تکبیر کرنے کا حق ہے‘‘۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا بلند مقام اور اُس کی شان بیان کر کے شرک کی نفی کی گئی ہے ۔ در اصل ا للہ کے ساتھ شرک کی دو صورتیں ہیں۔ یا تو اللہ کو مرتبہ الوہیت سے نیچے اتار کر مخلوقات کے ساتھ کھڑا کر دیا جاتا ہے یا پھر مخلوقات کی صف میں سے کسی کو اٹھا کر اللہ کے برابر بٹھا دیا جاتا ہے۔ چنانچہ سورئہ بنی اسرائیل کی آخری آیت میں اللہ کی کبریائی کا اعلان کرنے کا حکم دے کر شرک کی پہلی صورت کا ابطال کیاگیا ہے جبکہ سورۃ الکہف کی آخری آیت میں شرک کی دوسری صورت یعنی مخلوقات میں سے کسی کو اللہ کے برابر کرنے کی نفی کی گئی ہے۔
دیکھا جائے تو اللہ کی مخلوق میں سے اس کے شریک بنانے کی روایت ہر زمانے میں رہی ہے۔ عیسائیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا درجہ دے دیااور اہل عرب نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ ہمارے ہاں بھی بعض لوگوں نے حضورﷺ کو (نعوذ باللہ)خدا بنا دیا: ؎
وہی جو مستویٔ عرش تھا خدا ہو کر
اُتر پڑا وہ مدینے میں مصطفیؐ ہو کر!
اورکسی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا کی ذات سے ملا دیا:
ہر چند علیؓ کی ذات نہیں ہے خدا کی ذات
لیکن نہیں ہے ذاتِ خدا سے جدا علیؓ
اور مرزا غالب ؔتو اس سلسلے میں یہاں تک کہہ گئے:
غالبؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست
مشغولِ حق ہوں بندگیٔ بو تراب ؓمیں
یعنی جب میں ابو تراب (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کی بندگی کرتا ہوں تو درحقیقت اللہ ہی کی بندگی کر رہا ہوتا ہوں۔ اسی طرح آغا خانیوں کے ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ’’دشم اوتار‘‘ قرار دیا گیا۔ ہندوئوں کے ہاں نو(۹) اوتار تسلیم کیے جاتے تھے‘ انہوں نے حضر ت علیؓ کو ’’دسواںاوتار‘‘مان لیا۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک!!
بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیمoo