تحریر

الكهف

آیات ۹۹ تا ۱۰۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

99-101

یاجوج ماجوج کا خروج. . . . قربِ قیامت کی ایک نشانی

ویڈیو

وَ تَرَکۡنَا بَعۡضَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ یَّمُوۡجُ فِیۡ بَعۡضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰہُمۡ جَمۡعًا ﴿ۙ۹۹﴾ وَّ عَرَضۡنَا جَہَنَّمَ یَوۡمَئِذٍ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ عَرۡضَۨا ﴿ۙ۱۰۰﴾ الَّذِیۡنَ کَانَتۡ اَعۡیُنُہُمۡ فِیۡ غِطَـآءٍ عَنۡ ذِکۡرِیۡ وَ کَانُوۡا لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَمۡعًا ﴿٪۱۰۱﴾

آیت 99

وَ تَرَکۡنَا بَعۡضَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ یَّمُوۡجُ فِیۡ بَعۡضٍ

’’اور ہم چھوڑ دیں گے ان کو اس دن وہ ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہو جائیں گے‘‘

یہ قیامت سے پہلے رونما ہونے والے جنگی واقعات کی طرف اشارہ ہے ۔ قربِ قیامت کے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ یا جوج وماجوج کا ظہور بھی ہے۔ احادیث میں ان کے بارے میں ایسی خبریں ہیں کہ وہ دریاؤں اور سمندر وں کا پانی پی جائیں گے اور ہر چیز کو ہڑپ کر جائیں گے۔ عین ممکن ہے وہ آدم خور بھی ہوں اور ضرورت پڑنے پر انسانوں کو بھی کھا جائیں۔ جیسے آج ہم چینی قوم کو دیکھتے ہیں کہ وہ سانپ‘بچھو‘کتا‘بلی ‘ہر چیز کو ہڑپ کر جاتے ہیں۔ کثرتِ آبادی کے لحاظ سے بھی یاجوج وماجوج کی بیشتر علامات کا تطابق چینی قوم پر ہوتا نظر آتا ہے۔

یا جوج وماجوج کی یلغار کا نقشہ سورۃ الانبیاء میں اس طرح کھینچا گیا ہے : {وَ ہُمۡ مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ ﴿۹۶﴾} ’’اور وہ ہر پہاڑ کی ڈھلوان سے اترتے ہوئے نظر آئیں گے‘‘۔ ۱۹۶۲ء میں چین بھارت جنگ کے دوران اخباروں نے چینی افواج کے حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے بھی کچھ ایسی ہی تصویر کشی کی تھی:

"Waves after waves of Chinese soldiers were coming down the slopes." بہرحال جس طرح یاجوج وماجوج آج سے ڈھائی ہزار سال پہلے اپنے ملحقہ علاقوں کی مہذب آبادیوں کو تاخت و تاراج کرتے تھے‘ اسی طرح قیامت سے پہلے ایک دفعہ پھر وہ دنیا میں تباہی مچائیں گے اور ان کا ظہور اپنی نوعیت کا ایک بہت اہم واقعہ ہو گا۔

وَّ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰہُمۡ جَمۡعًا ﴿ۙ۹۹﴾

’’ اور صور میں پھونکا جائے گا ‘پس ہم ان سب کو جمع کر لیں گے۔‘‘

آیت 100

وَّ عَرَضۡنَا جَہَنَّمَ یَوۡمَئِذٍ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ عَرۡضَۨا ﴿ۙ۱۰۰﴾

’’اور اُس روز ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لے آئیں گے۔‘‘

کہ دیکھ لو اپنی آنکھوں سے‘ اسے ہم نے تمہارے انجام کے لیے تیار کر رکھا ہے۔

آیت 101

الَّذِیۡنَ کَانَتۡ اَعۡیُنُہُمۡ فِیۡ غِطَـآءٍ عَنۡ ذِکۡرِیۡ وَ کَانُوۡا لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَمۡعًا ﴿٪۱۰۱﴾

’’وہ لوگ جن کی نگاہیں پردے میں تھیں میرے ذکر سے ‘اور وہ سن بھی نہیں سکتے تھے۔‘‘

وہ لوگ جو اندھے اور بہرے ہو کر دنیا سمیٹنے میں لگے ہوئے تھے ‘حقیقی مسبب الاسباب کو بالکل فراموش کرچکے تھے ‘صرف دُنیوی اسباب وو سائل پر بھروسا کرتے تھے اور دنیا میں ان کی ساری تگ و دو مادی منفعت کے حصول کے لیے تھی۔ یہی مضمون اگلے (آخری) رکوع میں بہت تیکھے انداز میں آ رہا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے