تحریر

الكهف

آیات ۸۳ تا ۹۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

83-84

ذوالقرنین کا تعارف

ویڈیو

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنۡ ذِی الۡقَرۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ سَاَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ مِّنۡہُ ذِکۡرًا ﴿ؕ۸۳﴾ اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الۡاَرۡضِ وَ اٰتَیۡنٰہُ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ سَبَبًا ﴿ۙ۸۴﴾

تمہید

اس رکوع میں ذوالقرنین کے بارے میں یہودِ مدینہ کے سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز تک اکثر مفسرین ذوالقرنین سے نا واقف تھے ۔ چنانچہ تیرہ سو سال تک عام طور پر سکندر اعظم ہی کو ذوالقرنین سمجھا جاتا رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن میں ذوالقرنین کی فتوحات کا ذکر جس انداز میں ہوا ہے یہ انداز سکندر اعظم کی فتوحات سے ملتا جلتا ہے‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ذوالقرنین کی سیرت کا وہ نقشہ جو قرآن نے پیش کیا ہے اس کی سکندر اعظم کی سیرت کے ساتھ سرے سے کوئی مناسبت ہی نہیں۔

بہر حال جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ذوالقرنین قدیم ایران کے بادشاہ کیخورس یا سائرس کا لقب تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ایران کے علاقے میں دو الگ الگ خود مختار مملکتیں قائم تھیں۔ ایک کا نام پارس تھا جس سے ’’فارس‘‘ کا لفظ بنا ہے اور دوسرے کا نام ’’مادا‘‘ تھا۔کیخورس یا سائرس نے ان دونوں مملکتوں کو ملا کر ایک ملک بنا دیا اور یوں سلطنت ایران کے سنہرے دور کا آغاز ہوا۔ دو مملکتوں کے فرمانروا ہونے کی علامت کے طور پر اس نے اپنے تاج میں دو سینگ لگا رکھے تھے اور اس طرح اس کا لقب ذوالقرنین (دو سینگوں والا) پڑ گیا۔

آیت 83

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنۡ ذِی الۡقَرۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ سَاَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ مِّنۡہُ ذِکۡرًا ﴿ؕ۸۳﴾

’’اور یہ لوگ آپؐ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپؐ کہیے کہ ابھی میں آپ لوگوں کو اس کا حال بتاتا ہوں۔‘‘

ذوالقرنین کے بارے میں جدید تحقیق کو اہل علم کے حلقے میں متعارف کرانے کا سہرا مولانا ابو الکلام آزاد ؒ کے سر ہے۔ انہوں نے اپنی تفسیر ’’ترجمان القرآن‘‘ میں اس موضوع پر بہت تفصیل سے بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ قدیم ایران کا بادشاہ کیخورس یا سائرس ہی ذوالقرنین تھا۔ مولانا ابو الکلام آزادؒ کی تحقیق کی بنیاد ان معلومات پر ہے جو شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے دور میں ایک کھدائی کے دوران دستیاب ہوئی تھیں۔ اس کھدائی کے دوران اس عظیم فاتح بادشاہ کا ایک مجسمہ بھی دریافت ہوا تھا اور مقبرہ بھی ۔ اس کھدائی سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر رضا شاہ پہلوی نے اُس کی ڈھائی ہزار سالہ برسی منانے کا خصوصی اہتمام کیا تھا۔ دریافت شدہ مجسمے کے سر پر جو تاج تھا اس میں دو سینگ بھی موجود تھے جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ایران کا یہی بادشاہ (کیخورس یاسائرس) تھا جو تاریخ میں ذوالقرنین کے لقب سے مشہور ہے۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہودیوں نے خصوصی طور پر یہ سوال کیوں پوچھا تھا اور ذوالقرنین کی شخصیت میں ان کی اس دلچسپی کا سبب کیا تھا؟ اس سوال کا جواب ہمیں بنی اسرائیل کی تاریخ سے ملتا ہے۔ جب ۸۷ قبل مسیح کے لگ بھک عراق کے بادشاہ بخت نصر نے فلسطین پر حملہ کر کے یروشلم کو تباہ کیا تو اس شہر کی اکثریت کو تہ تیغ کر دیا گیا اور زندہ بچ جانے والوں کو وہ اپنی فوج کے ساتھ بابل (Babilonia) لے گیا ‘جہاں یہ لوگ ڈیڑھ سو سال تک اسیری کی حالت میں رہے۔

جب ایران کے بادشاہ کیخورس یا سائرس (آئندہ سطور میں انہیں ’’ذوالقرنین ‘‘ہی لکھاجائے گا)نے ایران کو متحد کرنے کے بعد اپنی فتوحات کا دائرہ وسیع کیا تو سب سے پہلے عراق کو فتح کیا۔ مشرق وسطیٰ کے موجودہ نقشے کو ذہن میں رکھا جائے تو فلسطین ‘اسرائیل ‘شرق اردن‘مغربی کنارہ اور لبنان کے ممالک پر مشتمل پورے علاقے کو اُس زمانے میں شامِ عرب یا شام اور اس سے مشرق میں واقع علاقے کو عراقِ عرب یا عراق کہا جاتا تھا‘ جبکہ عراق کے مزید مشرق میں ایران واقع تھا۔ عراق پر قبضہ کرنے کے بعد ذوالقرنین نے بابل میں اسیر یہودیوں کو آزاد کر دیا اور انہیں اجازت دے دی کہ وہ اپنے ملک واپس جا کر اپنا تباہ شدہ شہر یروشلم دوبارہ آباد کر لیں۔ چنانچہ حضرت عزیر علیہ السلام کی قیادت میں یہودیوں کا قافلہ بابل سے واپس یروشلم آیا۔ انہوں نے اپنے اس شہر کو پھر سے آباد کیا اور ہیکل سلیمانی کو بھی از سر نو تعمیر کیا۔ اس پس منظر میں یہودی ذوالقرنین کو اپنا محسن سمجھتے ہیں اور اسی سبب سے ان کے بارے میں انہوں نے حضورﷺ سے یہ سوال پوچھا تھا۔

ذوالقرنین کی فتوحات کے سلسلے میں تین مہمات کا ذکر تاریخ میں بھی ملتا ہے۔ ان مہمات میں ایران سے مغرب میں بحیرۂ روم (Mediterranian) تک پورے علاقے کی تسخیر‘مشرق میں بلوچستان اور مکران تک لشکرکشی اور شمال میں بحیرۂ خَزَر (Caspian Sea) اور بحیرۂ اسود (Black Sea) کے درمیانی پہاڑی علاقے کی فتوحات شامل ہیں۔ ذوالقرنین کا یہ سلسلہ فتوحات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کی فتوحات کے سلسلے سے مشابہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی جزیرہ نمائے عرب سے مختلف سمتوں میں تین لشکروں نے پیش قدمی کی تھی‘ ایک لشکر شام اور پھر مصر گیا تھا‘ دوسرے لشکر نے عراق کے بعد ایران کو فتح کیا تھا‘ جبکہ تیسرا لشکر شمال میں کوہ قاف (Caucasus) تک جا پہنچا تھا۔

قدیم روایات میں ذوالقرنین کے بارے میں کچھ ایسی معلومات بھی ملتی ہیں کہ ابتدائی عمر میں وہ ایک چھوٹی سی مملکت کے شہزادے تھے۔ ان کے اپنے ملک میں کچھ ایسے حالات ہوئے کہ کچھ لوگ ان کی جان کے درپے ہو گئے۔ وہ کسی نہ کسی طرح وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور کچھ عرصہ صحرا میں روپوش رہے۔ اسی عرصے کے دوران ان تک کسی نبی کی تعلیمات پہنچیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ زرتشت ہی اللہ کے نبی ہوں اور انہی کی تعلیمات سے انہوں نے استفادہ کیا ہو۔ بہر حال قرآن نے ذوالقرنین کا جوکردار پیش کیا ہے وہ ایک نیک اور صالح بندۂ مومن کا کردار ہے اور اس کردار کی خصوصیات تاریخی اعتبار سے اس زمانے کے کسی اور فاتح حکمران پرمنطبق نہیں ہوتیں۔

آیت 84

اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الۡاَرۡضِ وَ اٰتَیۡنٰہُ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ سَبَبًا ﴿ۙ۸۴﴾

’’ ہم نے اسے زمین میں تمکن عطا کیا تھا اور اُسے ہر طرح کے اسباب وو سائل مہیا کیے تھے۔‘‘

85-91

ذوالقرنین کی دو مہمات کا ذکر

ویڈیو

فَاَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿۸۵﴾ حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ مَغۡرِبَ الشَّمۡسِ وَجَدَہَا تَغۡرُبُ فِیۡ عَیۡنٍ حَمِئَۃٍ وَّ وَجَدَ عِنۡدَہَا قَوۡمًا ۬ؕ قُلۡنَا یٰذَا الۡقَرۡنَیۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ تَتَّخِذَ فِیۡہِمۡ حُسۡنًا ﴿۸۶﴾ قَالَ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُہٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰی رَبِّہٖ فَیُعَذِّبُہٗ عَذَابًا نُّکۡرًا ﴿۸۷﴾ وَ اَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَآءَۨ الۡحُسۡنٰی ۚ وَ سَنَقُوۡلُ لَہٗ مِنۡ اَمۡرِنَا یُسۡرًا ﴿ؕ۸۸﴾ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿۸۹﴾ حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ مَطۡلِعَ الشَّمۡسِ وَجَدَہَا تَطۡلُعُ عَلٰی قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہَا سِتۡرًا ﴿ۙ۹۰﴾ کَذٰلِکَ ؕ وَ قَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَیۡہِ خُبۡرًا ﴿۹۱﴾

آیت 85

فَاَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿۸۵﴾

’’تو اُس نے ایک (مہم کا) سروسامان کیا۔‘‘

آیت 86

حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ مَغۡرِبَ الشَّمۡسِ

’’یہاں تک کہ جب وہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچا‘‘

یہ ذوالقرنین کی مغربی علاقوں پر لشکر کشی کا ذکر ہے جب وہ پیش قدمی کرتے ہوئے بحیرۂ روم (Mediterranian Sea) کے ساحل تک جا پہنچے ۔ چونکہ اُس زمانے میں ان لوگوں کو پوری دنیا کا نقشہ معلوم نہیں تھا اس لیے وہ یہی سمجھ رہے ہوں گے کہ ہم اس سمت میں دنیا یا زمین کی آخری سر حدوں تک پہنچ گئے ہیں اور اس سے آگے بس سمندر ہی سمندر ہے ۔ وہاںساحل پر کھڑے ہو کر انہیں سورج بظاہر سمندر میں غروب ہوتا ہوا نظر آیا اور اس طرح وہ اس جگہ کو مَغْرِبَ الشَّمْسِ (سورج کے غروب ہونے کی جگہ) سمجھے۔

وَجَدَہَا تَغۡرُبُ فِیۡ عَیۡنٍ حَمِئَۃٍ

’’اُس نے اسے غروب ہوتے ہوئے پایا ایک گدلے چشمے میں‘‘

اس سے Aegean Sea مراد ہے جس کا پانی بہت گدلا ہے۔

وَّ وَجَدَ عِنۡدَہَا قَوۡمًا ۬ؕ

’’اور اُس نے پایا وہاں ایک قوم کو۔‘‘

یعنی اس علاقے کو جب انہوں نے فتح کر لیا تو وہاں بسنے والی قوم ان کی رعایا بن گئی۔

قُلۡنَا یٰذَا الۡقَرۡنَیۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ تَتَّخِذَ فِیۡہِمۡ حُسۡنًا ﴿۸۶﴾

’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! تم چاہو تو انہیں سزا دو اور چاہو تو ان (کے بارے) میں حسن سلوک کا معاملہ کرو۔‘‘

یعنی آپ نے اس علاقے کو بزورِ بازو فتح کیا ہے‘ اب یہاں کے باشندے آپ کے رحم و کرم پر ہیں‘ آپ کو ان پر مکمل اختیار ہے۔ آپ چاہیں تو ان پر سختی کریں اور آپ چاہیں تو ان کے درمیان حسن سلوک کی روایت قائم کریں۔ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے براہِ راست ذوالقرنین کو مخاطب کرکے فرمائی‘لیکن ضروری نہیں کہ حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہو۔ اگر تو وہ نبی تھے (واللہ اعلم) تو یہ ممکن بھی ہے ‘ ورنہ اس سے مراد القاء یا الہام بھی ہو سکتا ہے ۔ جیسے سورۃ النحل (آیت۶۸) میں شہد کی مکھی کی طرف وحی کیے جانے کا ذکرہے۔

آیت 87

قَالَ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُہٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰی رَبِّہٖ فَیُعَذِّبُہٗ عَذَابًا نُّکۡرًا ﴿۸۷﴾

’’اُس نے کہا: جس نے ظلم کیا ہم اسے سزا دیں گے‘پھر وہ لوٹایا جائے گا اپنے رب کی طرف اور وہ اسے بہت سخت عذاب دے گا۔‘‘

یہاں ظلم سے مراد کفر اور شرک بھی ہو سکتا ہے۔

آیت 88

وَ اَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَآءَۨ الۡحُسۡنٰی ۚ وَ سَنَقُوۡلُ لَہٗ مِنۡ اَمۡرِنَا یُسۡرًا ﴿ؕ۸۸﴾

’’اور جو کوئی ایمان لایا اور اُس نے نیک اعمال کیے تو اُس کے لیے ہے اچھی جزا‘اور اُس سے ہم بات کریں گے اپنے معاملے میں نرمی سے۔‘‘

یعنی اس مفتوحہ علاقہ میں اپنی رعایا کے اہل ایمان نیک لوگوں سے ہم تمام معاملات میںنرمی سے کام لیں گے اور خراج وغیرہ کی وصولی کے سلسلے میں ان پر سختی نہیں کریں گے۔

آیت 89

ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿۸۹﴾

’’پھر اُس نے ایک (اور مہم کا) سروسامان کیا۔‘‘

مغربی مہم سے فارغ ہونے کے بعد ذوالقرنین نے مشرقی علاقوں کی طرف پیش قدمی کامنصوبہ بنایا۔

آیت 90

حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ مَطۡلِعَ الشَّمۡسِ

’’یہاں تک کہ وہ سورج کے طلوع ہونے کی جگہ پر پہنچ گیا‘‘

اس مہم کے سلسلے میں تاریخی طور پر مکران کے علاقے تک ذوالقرنین کی پیش قدمی ثابت ہے۔ (واللہ اعلم!) ممکن ہے ساحل مکران پر کھڑے ہو کر بھی انہوں نے محسوس کیا ہو کہ وہ اس سمت میں بھی زمین کی آخری حد تک پہنچ گئے ہیں۔

وَجَدَہَا تَطۡلُعُ عَلٰی قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہَا سِتۡرًا ﴿ۙ۹۰﴾

’’اُس نے اس کو طلوع ہوتے پایا ایک ایسی قوم پر جس کے لیے ہم نے اس (سورج) کے مقابل کوئی اوٹ نہیں رکھی تھی۔‘‘

اس زمانے میں یہ علاقہ Gedrosia کہلاتا تھا۔ یہاں ایسے وحشی قبائل آباد تھے جوزمین پر صرف دیواریں کھڑی کر کے اپنے گھر بناتے تھے اور اس زمانے تک ان کے تمدن میں گھروں پر چھتیں ڈالنے کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔

آیت 91

کَذٰلِکَ ؕ

’’(پھر) ایسا ہی ہوا۔‘‘

پھر یہاں بھی ویسا ہی معاملہ ہوا جیسا کہ پہلی مہم کے سلسلے میں ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مکمل فتح عطا فرمائی اور علاقے میں آباد قبائل کے معاملات میں نرمی یا سختی کرنے کا پورا اختیار دیا ۔ یہاں بھی ذوالقرنین نے ظالم اور شریر لوگوں کے ساتھ سختی جبکہ نیک اور شریف لوگوں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

وَ قَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَیۡہِ خُبۡرًا ﴿۹۱﴾

’’اور ہم پوری طرح باخبر تھے اُس کے احوال سے۔‘‘

جو کچھ ذوالقرنین کے پاس تھا اور جن حالات سے اس کو سابقہ پیش آیا ہم اس سے پوری طرح باخبر تھے۔

92-98

ذوالقرنین کی تیسری مہم کا ذکر

ویڈیو

ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿۹۲﴾ حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ بَیۡنَ السَّدَّیۡنِ وَجَدَ مِنۡ دُوۡنِہِمَا قَوۡمًا ۙ لَّا یَکَادُوۡنَ یَفۡقَہُوۡنَ قَوۡلًا ﴿۹۳﴾ قَالُوۡا یٰذَاالۡقَرۡنَیۡنِ اِنَّ یَاۡجُوۡجَ وَ مَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَہَلۡ نَجۡعَلُ لَکَ خَرۡجًا عَلٰۤی اَنۡ تَجۡعَلَ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَہُمۡ سَدًّا ﴿۹۴﴾ قَالَ مَا مَکَّنِّیۡ فِیۡہِ رَبِّیۡ خَیۡرٌ فَاَعِیۡنُوۡنِیۡ بِقُوَّۃٍ اَجۡعَلۡ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ رَدۡمًا ﴿ۙ۹۵﴾ اٰتُوۡنِیۡ زُبَرَ الۡحَدِیۡدِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا سَاوٰی بَیۡنَ الصَّدَفَیۡنِ قَالَ انۡفُخُوۡا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَعَلَہٗ نَارًا ۙ قَالَ اٰتُوۡنِیۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَیۡہِ قِطۡرًا ﴿ؕ۹۶﴾ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ یَّظۡہَرُوۡہُ وَ مَا اسۡتَطَاعُوۡا لَہٗ نَقۡبًا ﴿۹۷﴾ قَالَ ہٰذَا رَحۡمَۃٌ مِّنۡ رَّبِّیۡ ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّیۡ جَعَلَہٗ دَکَّآءَ ۚ وَ کَانَ وَعۡدُ رَبِّیۡ حَقًّا ﴿ؕ۹۸﴾

آیت 92

ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿۹۲﴾

’’پھر اُس نے ایک (اور مہم کا) سروسامان کیا۔‘‘

آیت 93

حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ بَیۡنَ السَّدَّیۡنِ

’’یہاں تک کہ جب وہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا‘‘

’’سد‘‘ دیوار کو کہتے ہیں۔ دو دیواروں سے مراد یہاں دو پہاڑی سلسلے ہیں۔ داہنی طرف مشرق میں بحیرۂ کیسپین تھا اور دوسری طرف بحیرۂ اسود۔ان دونوں سمندروں کے ساحلوں کے ساتھ ساتھ دو پہاڑی سلسلے متوازی چلتے ہیں ۔اور ان پہاڑی سلسلوں کی درمیانی گزر گاہ سے شمالی علاقوں کے وحشی قبائل (یاجوج ماجوج) اس علاقے پر حملہ آور ہوتے تھے۔

وَجَدَ مِنۡ دُوۡنِہِمَا قَوۡمًا ۙ لَّا یَکَادُوۡنَ یَفۡقَہُوۡنَ قَوۡلًا ﴿۹۳﴾

’’اُس نے پایا اُن دونوں سے ورے ایک قوم (کے افراد)کو جو کوئی بات سمجھ نہیں سکتے تھے۔‘‘

گویا یہ بھی ایک غیر متمدن قوم تھی۔ اس قوم کے افراد ذوالقرنین اور ان کے ساتھیوں کی زبان سے قطعاً ناآشنا تھے اور حملہ آور لشکر کے لوگ بھی اس مفتوحہ قوم کی زبان نہیں سمجھ سکتے تھے۔ مگر پھر بھی انہوں نے کسی نہ کسی طرح سے ذوالقرنین کے سامنے اپنا مدعا بیان کر ہی دیا:

آیت 94

قَالُوۡا یٰذَاالۡقَرۡنَیۡنِ اِنَّ یَاۡجُوۡجَ وَ مَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ

’’انہوں نے کہا :اے ذوالقرنین! یا جوج اور ماجوج زمین میں بہت فساد مچانے والے لوگ ہیں ‘‘

فَہَلۡ نَجۡعَلُ لَکَ خَرۡجًا عَلٰۤی اَنۡ تَجۡعَلَ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَہُمۡ سَدًّا ﴿۹۴﴾

’’تو کیا ہم آپ کو کچھ خراج ادا کریں کہ اس کے عوض آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں؟‘‘

یعنی آپ ان پہاڑوں کے درمیان واقع اس واحد قدرتی گزر گاہ کو بند کر دیں تا کہ یا جوج وما جوج ہم پر حملہ آور نہ ہو سکیں۔ یہ وہی تصور یا اصول تھا جس کے تحت آج کل دریائوں پرڈیم تعمیر کیے جاتے ہیں۔ یعنی دو متوازی پہاڑی سلسلوں کے درمیان اگر دریا کی گزرگاہ ہے توکسی کو مناسب مقام پر مضبوط دیوار بنا کر پانی کا راستہ روک دیا جائے تا کہ دریا ایک بہت بڑی جھیل کی شکل اختیار کر لے۔

یہ یا جوج ماجوج کون ہیں؟ ان کے بارے میں جاننے کے لیے نسل انسانی کی قدیم تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے ۔ قدیم روایات کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کے بعد نسل انسانی آپؑ کے تین بیٹوں سام‘حام اور یافث سے چلی تھی ۔ان میں سے سامی نسل تو بہت معروف ہے۔ قومِ عاد‘قوم ثمود اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سب سامی نسل میں سے تھے۔حضرت یافث کی اولاد کے لوگ وسطی ایشیا کے پہاڑی سلسلے کو عبور کر کے شمال کی طرف چلے گئے۔ وہاں سے ان کی نسل بڑھتے بڑھتے شمالی ایشیا اور یورپ کے علاقوں میں پھیل گئی۔ چنانچہ مشرق میں چین اور ہند چینی کی yellow races ‘مغرب میں روس اور سکنڈے نیوین ممالک کی اقوام‘ مغربی یورپ کے Anglo Saxons‘ مشرقی یورپ میں خصوصی طور پر شمالی علاقوں اور صحرائے گوبی کے علاقوں کی تمام آبادی حضرت یافث کی نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ تورات میں حضرت یافث کے بہت سے بیٹوں کے نام ملتے ہیں۔ ان میں Mosc, Tobal, Gog & Magog وغیرہ قابل ذکر ہیں (ممکن ہے روس کا شہر ماسکو‘حضرت یافث کے بیٹے ماسک نے آباد کیا ہو)۔اسی طرح Baltic Sea اور Baltic States کانام غالباً Tobal کے نام پر ہے۔ بہر حال یورپ کی اینگلو سیکسن اقوام اور تمام Nordic Races یاجوج ماجوج ہی کی نسل سے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ غیر متمدن اور وحشی لوگ تھے جن کا پیشہ لوٹ مار اور قتل و غارت گری تھا۔ وہ اپنے ملحقہ علاقوں پر حملہ آور ہوتے‘قتل و غارت کا بازار گرم کرتے اور لوٹ مار کر کے واپس چلے جاتے ۔ ان کی اس غارت گری کی جھلک موجودہ دنیا نے بھی دیکھی جب Anglo Saxons نے ایک سیلاب کی طرح یورپ سے نکل کر دیکھتے ہی دیکھتے پورے ایشیا اور افریقہ کونوآبادیاتی نظام کے شکنجے میں جکڑ لیا۔ بعد ازاںمختلف عوامل کی بنا پر انہیں ان علاقوں سے بظاہر پسپا تو ہونا پڑا مگر حقیقت میں دنیا کے بہت سے ممالک پر بالواسطہ اب بھی ان کا قبضہ ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ادارے ان کی اسی بالواسطہ حکمرانی کو مضبوط کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔

قربِ قیامت میں ان قوموں کی ایک اور یلغار ہونے والی ہے۔ اس کی تفصیلات احادیث اور روایات میں اس طرح آئی ہیں کہ قیامت سے قبل دنیا ایک بہت ہولناک جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گی۔ اس جنگ کو احادیث میں ’’الملحمۃ العظمٰی‘‘ جبکہ بائبل میں Armageddon کا نام دیا گیا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کا علاقہ اس جنگ کا مرکزی میدان بنے گا۔ اس جنگ میں ایک طرف عیسائی دنیا اور تمام یورپی اقوام ہوں گی اور دوسری طرف مسلمان ہوں گے۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایک عظیم لیڈر امام مہدی کی صورت میں عطا کرے گا۔ امام مہدی عرب میں پیدا ہوں گے اور وہ مجدد ہوں گے۔ پھر کسی مرحلے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا۔ خراسان کے علاقے سے مسلمان افواج ان کی مدد کو جائیں گی۔ پھر اس جنگ کا خاتمہ اس طرح ہو گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کر دیں گے‘ یہودیوں کا خاتمہ ہو جائے گا اورتمام عیسائی مسلمان ہو جائیں گے۔یوں اسلام کو عروج ملے گااور دنیا میں اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی۔ (اللہ تعالیٰ مسلمانانِ پاکستان کو توفیق دے کہ اس سے پہلے وہ یہاں نظام خلافت قائم کر لیں اور ہمسایہ علاقہ خراسان سے جو فوجیں امام مہدی کی مدد کے لیے روانہ ہوں ان میں ہمارے لوگ بھی شامل ہوں۔)

جب ہولناک جنگ اپنے انجام کو پہنچ جائے گی تو اس کے بعد یاجوج ماجوج کی بہت بڑی یلغار ہو گی۔ میرے خیال میں یہ لوگ چین اور ہند چینی وغیرہ علاقوں کی طرف سے حملہ آور ہوں گے۔ یہ لوگ Armageddon میں حصہ نہیں لیں گے بلکہ اس کے بعد اس علاقے پر یلغار کر کے تباہی مچائیں گے۔ سورۃ الانبیاء کی آیات ۹۴‘۹۷ اور۹۸ میں اُن کی اس یلغار کا ذکر قرب قیامت کے واقعات کے حوالے سے کیا گیا ہے۔

آیت 95

قَالَ مَا مَکَّنِّیۡ فِیۡہِ رَبِّیۡ خَیۡرٌ

’’اُس نے کہا :جو کچھ مجھے دے رکھا ہے اس میں میرے رب نے وہ بہت بہتر ہے‘‘

کہ مجھے تمہارے خراج وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس سے بہتر مال تو میرے رب نے مجھے پہلے ہی عطا کر رکھا ہے۔ بہر حال تمہارے اس مسئلے کو میں حل کیے دیتا ہوں۔ اس جملے سے ذوالقرنین کے کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔

فَاَعِیۡنُوۡنِیۡ بِقُوَّۃٍ اَجۡعَلۡ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ رَدۡمًا ﴿ۙ۹۵﴾

’’البتہ تم لوگ میری مدد کرو قوت (محنت) کے ذریعے سے‘میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا۔‘‘

دیوار بنانے کے لیے جو مادی اسباب وو سائل درکار ہیں وہ میں مہیا کر لوںگا۔ آپ لوگ اس سلسلے میں محنت و مشقت اور افرادی قوت (man power) کے ذریعے میرا ہاتھ بٹاؤ۔

آیت 96

اٰتُوۡنِیۡ زُبَرَ الۡحَدِیۡدِ ؕ

’’لاؤ میرے پاس تختے لوہے کے ۔‘‘

حَتّٰۤی اِذَا سَاوٰی بَیۡنَ الصَّدَفَیۡنِ

’’یہاں تک کہ جب اُس نے برابر کر دیا دونوں اونچائیوں کے درمیان (کی جگہ) کو‘‘

جب لوہے کے تختوں کو جوڑ کر انہوں نے دونوں پہاڑوں کے درمیانی درّے میں دیوار کھڑی کر دی تو:

قَالَ انۡفُخُوۡا ؕ

’’اُس نے کہا : اب آگ دہکاؤ!‘‘

اس نے بڑے پیمانے پر آگ جلا کر ان تختوں کو گرم کرنے کا حکم دیا۔

حَتّٰۤی اِذَا جَعَلَہٗ نَارًا ۙ

’’یہاں تک کہ جب بنا دیا اس نے اس کو آگ (کی مانند)‘‘

جب لوہے کے وہ تختے گرم ہو کر سرخ ہو گئے تو:

قَالَ اٰتُوۡنِیۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَیۡہِ قِطۡرًا ﴿ؕ۹۶﴾

’’اُس نے کہا : لائو میرے پاس میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘

اور یوں ذوالقرنین نے لوہے کے تختوں اور پگھلے ہوئے تانبے کے ذریعے سے ایک انتہائی مضبوط دیوار بنا دی۔ اس دیوار کے آثار بحیرئہ کیسپین کے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ دار یال اور دربند کے درمیان اب بھی موجود ہیں۔ یہ دیوار پچاس میل لمبی‘انتیس فٹ اونچی اور دس فٹ چوڑی تھی۔ آج سے سینکڑوں سال پہلے لوہے اور تانبے کی اتنی بڑی (مصر کے اسوان ڈیم سے بھی بڑی جسے اَسَدّ الاعلٰی کہا جاتا ہے) دیوار تعمیر کرنا یقینا ایک بہت بڑا کارنامہ تھا۔

آیت 97

فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ یَّظۡہَرُوۡہُ وَ مَا اسۡتَطَاعُوۡا لَہٗ نَقۡبًا ﴿۹۷﴾

’’اب نہ تو وہ (یاجوج ماجوج) اس کے اوپر چڑ ھ سکیں گے‘اور نہ ہی اس میں نقب لگا سکیں گے۔‘‘

آیت 98

قَالَ ہٰذَا رَحۡمَۃٌ مِّنۡ رَّبِّیۡ ۚ

’’اس نے کہا کہ یہ رحمت ہے میر ے رب کی‘‘

اتنا بڑا کارنامہ سر انجام دینے کے بعد بھی ذوالقرنین کوئی کلمہ فخر زبان پر نہیں لائے ‘بلکہ یہی کہا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں‘یہ سب اللہ کی مہربانی سے ہی ممکن ہوا ہے۔

فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّیۡ جَعَلَہٗ دَکَّآءَ ۚ

’’اور جب آ جائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اس کو ریزہ ریزہ۔‘‘

چنانچہ امتدادِ زمانہ کے سبب یہ دیوار اب ختم ہو چکی ہے‘صرف اس کے آثار موجود ہیں‘جن سے اس کے مقام اور سائز وغیرہ کا پتا چلتا ہے۔

وَ کَانَ وَعۡدُ رَبِّیۡ حَقًّا ﴿ؕ۹۸﴾

’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے