تحریر

الكهف

آیات ۶۰ تا ۸۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

60-82

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضرؑ کا قصّہ

ویڈیو

وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِفَتٰىہُ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤی اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَیۡنِ اَوۡ اَمۡضِیَ حُقُبًا ﴿۶۰﴾ فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَیۡنِہِمَا نَسِیَا حُوۡتَہُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ سَرَبًا ﴿۶۱﴾ فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىہُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا ۫ لَقَدۡ لَقِیۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا ہٰذَا نَصَبًا ﴿۶۲﴾ قَالَ اَرَءَیۡتَ اِذۡ اَوَیۡنَاۤ اِلَی الصَّخۡرَۃِ فَاِنِّیۡ نَسِیۡتُ الۡحُوۡتَ ۫ وَ مَاۤ اَنۡسٰنِیۡہُ اِلَّا الشَّیۡطٰنُ اَنۡ اَذۡکُرَہٗ ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ ٭ۖ عَجَبًا ﴿۶۳﴾ قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبۡغِ ٭ۖ فَارۡتَدَّا عَلٰۤی اٰثَارِہِمَا قَصَصًا ﴿ۙ۶۴﴾ فَوَجَدَا عَبۡدًا مِّنۡ عِبَادِنَاۤ اٰتَیۡنٰہُ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَ عَلَّمۡنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴿۶۵﴾ قَالَ لَہٗ مُوۡسٰی ہَلۡ اَتَّبِعُکَ عَلٰۤی اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴿۶۶﴾ قَالَ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا ﴿۶۷﴾ وَ کَیۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰی مَا لَمۡ تُحِطۡ بِہٖ خُبۡرًا ﴿۶۸﴾ قَالَ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعۡصِیۡ لَکَ اَمۡرًا ﴿۶۹﴾ قَالَ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِیۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِیۡ عَنۡ شَیۡءٍ حَتّٰۤی اُحۡدِثَ لَکَ مِنۡہُ ذِکۡرًا ﴿٪۷۰﴾ فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیۡنَۃِ خَرَقَہَا ؕ قَالَ اَخَرَقۡتَہَا لِتُغۡرِقَ اَہۡلَہَا ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا اِمۡرًا ﴿۷۱﴾ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا ﴿۷۲﴾ قَالَ لَا تُؤَاخِذۡنِیۡ بِمَا نَسِیۡتُ وَ لَا تُرۡہِقۡنِیۡ مِنۡ اَمۡرِیۡ عُسۡرًا ﴿۷۳﴾ فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَہٗ ۙ قَالَ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَکِیَّۃًۢ بِغَیۡرِ نَفۡسٍ ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا نُّکۡرًا ﴿۷۴﴾ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکَ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا ﴿۷۵﴾ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُکَ عَنۡ شَیۡءٍۭ بَعۡدَہَا فَلَا تُصٰحِبۡنِیۡ ۚ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّیۡ عُذۡرًا ﴿۷۶﴾ فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَہۡلَ قَرۡیَۃِۣ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَہۡلَہَا فَاَبَوۡا اَنۡ یُّضَیِّفُوۡہُمَا فَوَجَدَا فِیۡہَا جِدَارًا یُّرِیۡدُ اَنۡ یَّنۡقَضَّ فَاَقَامَہٗ ؕ قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّخَذۡتَ عَلَیۡہِ اَجۡرًا ﴿۷۷﴾ قَالَ ہٰذَا فِرَاقُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنِکَ ۚ سَاُنَبِّئُکَ بِتَاۡوِیۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا ﴿۷۸﴾ اَمَّا السَّفِیۡنَۃُ فَکَانَتۡ لِمَسٰکِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ فِی الۡبَحۡرِ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِیۡبَہَا وَ کَانَ وَرَآءَہُمۡ مَّلِکٌ یَّاۡخُذُ کُلَّ سَفِیۡنَۃٍ غَصۡبًا ﴿۷۹﴾ وَ اَمَّا الۡغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤۡمِنَیۡنِ فَخَشِیۡنَاۤ اَنۡ یُّرۡہِقَہُمَا طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ﴿ۚ۸۰﴾ فَاَرَدۡنَاۤ اَنۡ یُّبۡدِلَہُمَا رَبُّہُمَا خَیۡرًا مِّنۡہُ زَکٰوۃً وَّ اَقۡرَبَ رُحۡمًا ﴿۸۱﴾ وَ اَمَّا الۡجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ وَ کَانَ تَحۡتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَ کَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنۡ یَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسۡتَخۡرِجَا کَنۡزَہُمَا ٭ۖ رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ۚ وَ مَا فَعَلۡتُہٗ عَنۡ اَمۡرِیۡ ؕ ذٰلِکَ تَاۡوِیۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا ﴿ؕ٪۸۲﴾

تمہید

ان دو رکوعوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ایک سفرکا ذکر ہے۔ اس واقعہ کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے اور قدیم اسرائیلی روایات میں بھی‘ جن میں سے بہت سی روایات قرآن کے بیان سے مطابقت بھی رکھتی ہیں۔ بہرحال ان روایات سے جو معلومات حاصل ہوتی ہیں ان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ آپؑ فلاں جگہ جائیں ‘ وہاں پر آپؑ کو ہمارا ایک صاحبِ علم بندہ ملے گا‘ آپؑ کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہ کر اس کے علم سے استفادہ کریں۔ ممکن ہے یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا ابتدائی زمانہ ہو اور اس طریقے سے آپؑ کی تربیت مقصود ہو‘ جس طرح بعض روایات سے ثابت ہے کہ حضورﷺ کی تربیت کے لیے ایک فرشتہ تین سال تک مسلسل آپؑ کے ساتھ رہا۔

اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے جس بندے کا ذکر کیا ہے ان کے بارے میں قطعی معلومات دستیاب نہیں۔ اس ضمن میں ایک رائے تو یہ ہے کہ وہ ایک فرشتہ تھے ‘جبکہ ایک دوسری رائے کے مطابق وہ انسان ہی تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بہت لمبی عمر دے رکھی ہے۔ یعنی جیسے جنوں میں سے ابلیس کو اللہ تعالیٰ نے طویل عمر عطا کررکھی ہے ایسے ہی اُس نے انسانوں میں سے اپنے ایک نیک اور برگزیدہ بندے کو بھی بہت طویل عمر سے نوازا ہے اور ان کا نام حضرت خضر ہے ۔(واللہ اعلم!)

روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کسی وقت یہ خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ نے شاید مجھے روئے زمین کے تمام انسانوں سے بڑ ھ کر علم عطا فرمایا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ پریہ واضح کرنے کے لیے کہ {وَ فَوۡقَ کُلِّ ذِیۡ عِلۡمٍ عَلِیۡمٌ ﴿۷۶﴾} آپؑ کو ہدایت فرمائی کہ آپ فلاں جگہ ہمارے ایک بندۂ خاص سے ملاقات کریں اور کچھ عرصہ اُس کے ساتھ رہ کر اُس سے علم و حکمت سیکھیں۔ اس حکم کی تعمیل میں آپؑ اپنے نوجوان ساتھی حضرت یوشع بن نون کو ساتھ لے کر سفر پر روانہ ہو گئے۔

آیت 60

وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِفَتٰىہُ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤی اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَیۡنِ اَوۡ اَمۡضِیَ حُقُبًا ﴿۶۰﴾

’’اور یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنے نوجوان (ساتھی) سے کہا کہ میں (چلنا) نہیں چھوڑوں گا‘ یہاں تک کہ دو دریائوں کے ملنے کے مقام پر پہنچ جائوں یا میں برسوں چلتا ہی رہوں گا۔‘‘

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ کو بتایا گیا تھا کہ وہ شخص مجمع البحرین (دو دریاؤں کے سنگم) پر ملے گا۔مجمع البحرین کے اس مقام کے بارے میں بھی مفسرین کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ بحیرۂ احمر (Red Sea) کے شمالی کونے سے نکلنے والی دو کھاڑیوں (خلیج سویز اور خلیج عقبہ) کے مقامِ اتصال کو مجمع البحرین کہا گیا ہے‘ جبکہ ایک دوسری رائے کے مطابق (اور یہ رائے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے) یہ مقام دریائے نیل پر واقع ہے۔ دریائے نیل دو دریاؤں یعنی النیل الازرق اور النیل الابیض سے مل کر بنا ہے۔ یہ دونوں دریا سوڈان کی طرف سے مصر میں داخل ہوتے ہیں۔ ایک دریا کے پانی کا رنگ نیلا ہے جبکہ دوسرے کا سفید ہے ( پاکستان میں بھی اٹک کے مقام پر دریائے سندھ کے صاف پانی اور دریائے کابل کے گدلے پانی کا ملاپ ایسا ہی منظر پیش کرتا ہے) ۔ چنانچہ اس رائے کے مطابق جس مقام پر یہ دونوں دریا مل کر ایک دریا (مصرکے دریائے نیل) کی شکل اختیار کرتے ہیں اس مقام کو مجمع البحرین کہا گیا ہے اور یہ مقام خرطوم کی سرحد کے آس پاس ہے۔

آیت 61

فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَیۡنِہِمَا

’’پھر جب وہ دونوں پہنچ گئے دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر‘‘

نَسِیَا حُوۡتَہُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ سَرَبًا ﴿۶۱﴾

’’تو وہ اپنی مچھلی کو بھول گئے اور اس (مچھلی) نے اپنا راستہ بنا لیا تھا دریا میں سرنگ کی طرح۔‘‘

یہ بھنی ہوئی مچھلی تھی جس کو وہ کھانے کی غرض سے اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔ اس مچھلی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی بنایا گیا تھا اور انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ جس مقام پر یہ مچھلی زندہ ہو کر دریا میں چلی جائے گی اسی جگہ مطلوبہ شخصیت سے ان کی ملاقات ہو گی۔ چنانچہ مجمع البحرین کے قریب پہنچ کر وہ مچھلی زندہ ہو کر ان کے توشہ دان سے باہر آئی اور اُس نے سرنگ سی بنا کر دریا میں اپنی راہ لی ۔ اس منظر کو حضرت یوشع بن نون نے دیکھا بھی مگر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کا تذکرہ کرنا بھول گئے۔

آیت 62

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىہُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا ۫ لَقَدۡ لَقِیۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا ہٰذَا نَصَبًا ﴿۶۲﴾

’’پھر جب وہ دونوں (وہاں سے) آگے نکل گئے تو موسیٰ ؑ نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اب ہمارا ناشتہ لے آؤ‘ اپنے اس سفر سے توہمیں بہت تکان ہو گئی ہے۔‘‘

یہاں مفسرین نے ایک بہت اہم نکتہ بیان کیا ہے کہ آپؑ کو تھکاوٹ اس وجہ سے محسوس ہوئی کہ آپؑ مطلوبہ مقام سے آگے نکل گئے تھے ۔ ورنہ اس مقام تک پہنچنے میں آپؑ کو کسی قسم کی تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوا تھا۔

آیت 63

قَالَ اَرَءَیۡتَ اِذۡ اَوَیۡنَاۤ اِلَی الصَّخۡرَۃِ فَاِنِّیۡ نَسِیۡتُ الۡحُوۡتَ ۫

’’اُس(نوجوان) نے کہا: دیکھئے ‘جب ہم ٹھہرے تھے چٹان کے پاس تو میں بھول گیا مچھلی کو (نگاہ میں رکھنا)‘‘

وَ مَاۤ اَنۡسٰنِیۡہُ اِلَّا الشَّیۡطٰنُ اَنۡ اَذۡکُرَہٗ ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ ٭ۖ عَجَبًا ﴿۶۳﴾

’’اور نہیں مجھے بھلائے رکھا مگر شیطان نے کہ میں (آپؑ سے) اس کا ذکر کروں‘اور اُس نے توبنالیا تھا اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح سے۔‘‘

یعنی اس جگہ وہ مچھلی زندہ ہو کر عجیب طریقے سے دریا میں چلی گئی تھی۔

آیت 64

قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبۡغِ ٭ۖ

’’موسیٰؑ نے کہا :یہی تو تھا جس کی ہمیں تلاش تھی!‘‘

یہی تو ہمیں نشانی بتائی گئی تھی کہ جس جگہ مچھلی زندہ ہو کر دریا میں چلی جائے گی اس جگہ پر اللہ کے اس بندے سے ہماری ملاقات ہو گی۔ چنانچہ چلو اب واپس اسی جگہ پر پہنچیں۔

فَارۡتَدَّا عَلٰۤی اٰثَارِہِمَا قَصَصًا ﴿ۙ۶۴﴾

’’پس وہ دونوں واپس لوٹے اپنے نقوشِ پا کو دیکھتے ہوئے۔‘‘

واپس اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے وہ عین اسی جگہ پر آ گئے جہاں چٹان کے پاس مچھلی زندہ ہوکر دریا میں کود گئی تھی۔

آیت 65

فَوَجَدَا عَبۡدًا مِّنۡ عِبَادِنَاۤ اٰتَیۡنٰہُ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَ عَلَّمۡنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴿۶۵﴾

’’توپایا انہوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو جسے ہم نے رحمت عطا کی تھی اپنی طرف سے اور اسے سکھایا تھا ایک علم خاص اپنے پاس سے۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس سے ‘اپنے خاص خزانۂ فیض سے اسے خصوصی علم عطا کر رکھا تھا۔’’ علم لدنی‘‘ کی اصطلاح یہیں سے اخذ کی گئی ہے۔ لَدُن کے معنی قریب یا نزدیک کے ہیں ۔ چنانچہ علم لدنی سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت سے کسی کو عطا کر دے۔ یعنی ایک علم تو وہ ہے جو انسان اپنے حواسِ خمسہ کے ذریعے سے باقاعدہ محنت و مشقت کے عمل سے گزر کر حاصل کرتا ہے ‘ جیسے مدارسِ عربیہ میں صرف و نحو‘ تفسیر و حدیث اور فقہ وغیرہ علوم حاصل کیے جاتے ہیں‘ یا سکول و کالج میں متداول عمرانی و سائنسی علوم سیکھے جاتے ہیں‘ لیکن علم کی ایک قسم وہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ براہِ راست کسی انسان کے دل میں ڈال دیتا ہے اور اُس کو اُس کی تحصیل کے لیے کوئی مشقت وغیرہ بھی نہیں اٹھانی پڑتی۔

آیت 66

قَالَ لَہٗ مُوۡسٰی ہَلۡ اَتَّبِعُکَ عَلٰۤی اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴿۶۶﴾

’’موسیٰؑ نے اُس سے کہا :کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں اس شرط پر کہ آپ مجھے سکھائیں اُس میں سے جو بھلائی آپ کو سکھائی گئی ہے ؟‘‘

مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس نے آپ کو خاص حکمت اور دانائی عطا کر رکھی ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں کچھ عرصہ آپ کے ساتھ رہوں اور آپ مجھے بھی اس علم خاص میں سے کچھ سکھا دیں۔

آیت 67

قَالَ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا ﴿۶۷﴾

’’اُس نے کہا : میرے ساتھ (رہ کر) آپؑ ہر گز صبر نہیں کر سکیں گے۔‘‘

آیت 68

وَ کَیۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰی مَا لَمۡ تُحِطۡ بِہٖ خُبۡرًا ﴿۶۸﴾

’’اور آپؑ کیسے صبر کریں گے اُس چیز پر جس کی آپ کو پوری پوری خبر نہیں!‘‘

میرے ساتھ رہ کر آپ کو میرے کام بڑے عجیب لگیں گے اور آپ صبر نہیں کر پائیں گے ‘کیونکہ اُن کاموں کی حقیقی غرض و غایت کے بارے میں آپ کو پوری طرح آگاہی حاصل نہیں ہو گی۔جو باتیں آپ کے دائرۂ علم سے باہر ہوں گی ان پر آپ کیسے صبر کر پائیں گے!

آیت 69

قَالَ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعۡصِیۡ لَکَ اَمۡرًا ﴿۶۹﴾

’’موسیٰؑ نے کہا :آپ مجھے ان شاء اللہ صابر پائیں گے‘اور میں خلاف ورزی نہیں کروں گا آپ کے کسی حکم کی۔‘‘

یہاں پرایک اہم نکتہ لائق توجہ ہے کہ جب صبر کرنے کی بات ہوئی تو اس کے ساتھ حضرت موسیٰؑ نے ان شاء اللہ کہا ‘لیکن نا فرمانی نہ کرنے کے وعدے کے ساتھ ’ان شاء اللہ ‘نہیں کہا ۔ چنانچہ بعد میں ہم دیکھیں گے کہ اسی وعدے کی خلاف ورزی آپؑ سے ہوئی جس کے ساتھ ان شاء اللہ نہیں کہا گیا تھا۔ اس حوالے سے اسی سورت کا وہ حکم بھی ذہن میں رکھیے جس میں حضورﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے: {وَ لَا تَقُوۡلَنَّ لِشَایۡءٍ اِنِّیۡ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا ﴿ۙ۲۳﴾اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ۫ وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیۡتَ وَ قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّہۡدِیَنِ رَبِّیۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ ہٰذَا رَشَدًا ﴿۲۴﴾} ’’اور کسی چیز کے بارے میں یہ کبھی نہ کہا کریں کہ میں کل یہ کرنے والا ہوں مگر یہ کہ اللہ چاہے‘‘ اور اپنے رب کو یاد کر لیاکیجیے جب آپ ؐبھول جائیں اور کہیے کہ ممکن ہے میرا رب میری راہنمائی کر دے اس سے زیادہ بھلائی کی راہ کی طرف۔‘‘

آیت 70

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِیۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِیۡ عَنۡ شَیۡءٍ حَتّٰۤی اُحۡدِثَ لَکَ مِنۡہُ ذِکۡرًا ﴿٪۷۰﴾

’’اُس نے کہا : اگر آپ میرے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو کسی چیز کے بارے میں مجھ سے خود نہ پوچھنایہاں تک کہ میں خود ہی آپ کو اس کے بارے میں بتا دوں۔‘‘

بس آپ میرے ساتھ ساتھ رہیں اور میں جو کچھ کروں یا میرے ساتھ جو کچھ ہو آپ خاموشی سے اس کا مشاہدہ کرتے رہیں ‘مگر کسی چیز کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کریں۔ میں جب مناسب سمجھوں گا اُن تمام چیزوں کی حقیقت اور تفصیل آپ کو بتا دوں گا جو آپ کے مشاہدے میں آئی ہوں گی۔

آیت 71

فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیۡنَۃِ خَرَقَہَا ؕ

’’پھر وہ دونوں چل پڑے ‘یہاں تک کہ جب وہ دونو ں سوار ہوئے ایک کشتی میں‘تو اُس نے اس (کشتی) میں شگاف ڈال دیا ۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کی سوال نہ کرنے والی شرط تسلیم کر لی اور یوں وہ دونوں سفر پر روانہ ہوگئے۔ جب وہ دریا پار کرنے کے لیے ایک کشتی میں سوار ہوئے تو انہوں (اُن کو صاحب موسیٰؑ کہیں یاحضرت خضر کہیں) نے بیٹھتے ہی کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب یہ دیکھا تو آپؑ کہاں خاموش رہنے والے تھے ‘فوراً ان کو ٹوک دیا۔

قَالَ اَخَرَقۡتَہَا لِتُغۡرِقَ اَہۡلَہَا ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا اِمۡرًا ﴿۷۱﴾

’’موسیٰؑ نے کہا :کیا آپ نے اسے پھاڑ ڈالا ہے تاکہ غرق کر دیں اس کے تمام سواروں کو؟یہ تو آپ نے بہت ہی غلط کام کیا ہے۔‘‘

آیت 72

قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا ﴿۷۲﴾

’’اس نے کہا: میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے؟‘‘

اس قصہ میں مذکور تین واقعات کے حوالے سے ایک اہم بات سمجھنے کی یہ ہے کہ اللہ کے جن احکام کے مطابق اس کائنات کا نظام چل رہا ہے‘ ان کی حیثیت تشریعی (شریعت سے متعلق)نہیں بلکہ تکوینی (کائنات کے انتظامی امور سے متعلق)ہے۔ ان احکام کی تنفیذ کے لیے فرشتے مقرر ہیں ۔ اس سلسلے میں شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ علیہ کی رائے یہ بھی ہے کہ اس مقصد کے لیے اولیاء اللہ کی ارواح کو بھی ملائکہ کے طبقہ اسفل میں شامل کر دیا جاتا ہے اور وہ بھی فرشتوں کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کے احکام کی تنفیذ میں حصہ لیتے ہیں۔ بہر حال ان تکوینی احکام کی تعمیل کے نتیجے میں جو واقعات رونما ہوتے ہیں ہم ان کے صرف ظاہری پہلوئوں کو ہی دیکھ سکتے ہیں۔ کسی واقعہ کے پیچھے اللہ کی مشیت کیا ہے؟ اس کا ادراک ہم نہیں کر سکتے۔ ضروری نہیں کہ کوئی واقعہ یا کوئی چیز بظاہر جیسے دکھائی دے اس کی حقیقت بھی ویسی ہی ہو۔ ممکن ہے ہم کسی چیز کو اپنے لیے برا سمجھ رہے ہوں مگر اس کے اندر ہمارے لیے خیر ہو اور جس چیز کو اچھا سمجھ رہے ہوں‘وہ حقیقت میں اچھی نہ ہو۔ سورۃ البقرۃ میں ہم یہ آیت پڑھ چکے ہیں: {وَ عَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ عَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ شَرٌّ لَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۲۱۶﴾} ’’ ہو سکتا ہے تم کسی چیز کو برا سمجھو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو‘اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘۔چنانچہ ایک بندۂ مؤمن کو تفویض الامر کا رویہ اپنانا چاہیے کہ اے اللہ! میرا معاملہ تیرے سپرد ہے ‘میرے لیے جو تو پسند کرے گا میں اسی پر راضی رہوں گا ‘کیونکہ تیرے ہاتھ میں خیر ہی خیر ہے: {بِیَدِکَ الۡخَیۡرُ ؕ} (آل عمران ۲۶)۔

آیت 73

قَالَ لَا تُؤَاخِذۡنِیۡ بِمَا نَسِیۡتُ وَ لَا تُرۡہِقۡنِیۡ مِنۡ اَمۡرِیۡ عُسۡرًا ﴿۷۳﴾

’’موسیٰؑ نے کہا : آپ میرا مؤاخذہ نہ کیجیے میرے بھول جانے پر اور نہ ہی میرے معاملے میں زیادہ سختی کیجیے۔‘‘

میں بھول گیا تھا کہ آپ سے میں نے سوال نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے‘ لہٰذا آپ میری اس بھول کی وجہ سے میرا مؤاخذہ نہ کریں اور درگزر سے کام لیں۔

آیت 74

فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَہٗ ۙ

’’پھر وہ دونوں چل پڑے ‘یہاں تک کہ ان کی ملاقات ہوئی ایک لڑکے سے تو اُس (خضر) نے اس کو قتل کر دیا‘‘

قَالَ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَکِیَّۃًۢ بِغَیۡرِ نَفۡسٍ ؕ

’’موسیٰؑ نے کہا :کیا آپ نے قتل کر دیا ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے (بدلے کے)؟‘‘

اُس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا ‘کسی کا خون نہیں بہایا تھا‘پھر بھی آپ نے اسے قتل کر دیا۔

لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا نُّکۡرًا ﴿۷۴﴾

’’یہ تو آپ نے بہت ہی نامعقول حرکت کی ہے۔‘‘

آیت 75

قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکَ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا ﴿۷۵﴾

’’اس (خضر) نے کہا: کیا میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے؟‘‘

آیت 76

قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُکَ عَنۡ شَیۡءٍۭ بَعۡدَہَا فَلَا تُصٰحِبۡنِیۡ ۚ

’’موسیٰؑ نے کہا : اگر میں آپ سے سوال کروں کسی چیز کے بارے میں اس کے بعد تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا۔‘‘

ایک دفعہ پھر آپ میری اس بھول کو نظر انداز کردیں ‘لیکن اگر تیسری مرتبہ ایسا ہوا تب بے شک آپ مجھے اپنے ساتھ رکھنے سے انکار کر دیں۔

قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّیۡ عُذۡرًا ﴿۷۶﴾

’’آپ پہنچ چکے ہیں میری طرف سے حدِ عذر کو۔‘‘

یعنی آپ کی طرف سے مجھ پر حجت قائم ہو چکی ہے۔ لہٰذا اس کے بعد آپ مجھے ساتھ نہ رکھنے کے بارے میں عذر کر سکتے ہیں۔

آیت 77

فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَہۡلَ قَرۡیَۃِۣ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَہۡلَہَا

’’ پھر وہ دونوں چل پڑے‘یہاں تک کہ جب پہنچے ایک بستی کے لوگوں کے پاس تو انہوں نے کھانا مانگا بستی والوں سے‘‘

کہ ہم مسافر ہیں ‘بھوکے ہیں‘ہمیں کھانا چاہیے۔

فَاَبَوۡا اَنۡ یُّضَیِّفُوۡہُمَا

’’تو انہوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے‘‘

اس بستی کے باشندے کچھ ایسے کٹھور دل تھے کہ پوری بستی میں سے کسی ایک شخص نے بھی انہیں کھانا کھلانے کی حامی نہ بھری۔

فَوَجَدَا فِیۡہَا جِدَارًا یُّرِیۡدُ اَنۡ یَّنۡقَضَّ فَاَقَامَہٗ ؕ

’’تو ان دونوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی تو اُس (خضر) نے اسے سیدھا کر دیا۔‘‘

قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّخَذۡتَ عَلَیۡہِ اَجۡرًا ﴿۷۷﴾

’’موسیٰؑ نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے۔‘‘

یہ ایسے نا ہنجارلوگ ہیں کہ انہوں نے ہمیں کھانا تک کھلانے سے انکار کر دیا تھااور آپ نے بغیر کسی معاوضے کے ان کی دیوار مرمت کر دی ہے۔ بہتر ہوتا اگر آپ اس کام کی کچھ اجرت طلب کرتے اور اس کے عوض ہم کھانا ہی کھا لیتے۔

آیت 78

قَالَ ہٰذَا فِرَاقُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنِکَ ۚ سَاُنَبِّئُکَ بِتَاۡوِیۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا ﴿۷۸﴾

’’اُس (خضر) نے کہا :بس اب یہ جدائی (کا وقت) ہے میرے اور آپ کے درمیان‘اب میں آپ کو بتائے دیتا ہوں اصل حقیقت ان چیزوں کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘

آیت 79

اَمَّا السَّفِیۡنَۃُ فَکَانَتۡ لِمَسٰکِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ فِی الۡبَحۡرِ

’’جہاں تک اُس کشتی کا معاملہ ہے تو وہ غریب لوگوں کی (ملکیت) تھی جو محنت کرتے تھے دریا میں‘‘

وہ بہت غریب اور نادار لوگ تھے‘صرف وہ کشتی ہی ان کے معاش کا سہارا تھی۔ اس کے ذریعے وہ لوگوں کو دریا کے آر پار لے جاتے اور اس مزدوری سے اپنا پیٹ پالتے تھے۔

فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِیۡبَہَا وَ کَانَ وَرَآءَہُمۡ مَّلِکٌ یَّاۡخُذُ کُلَّ سَفِیۡنَۃٍ غَصۡبًا ﴿۷۹﴾

’’تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں‘اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو پکڑ رہا تھا ہر کشتی کو زبردستی۔‘‘

بادشاہ ہر اُس کشتی کو اپنے قبضے میں لے لیتا تھا جو صحیح و سالم ہوتی تھی۔ ان نادار لوگوں کی کشتی بھی اگر بے عیب ہوتی تو بادشاہ ان سے زبردستی چھین لیتا۔ چنانچہ میں نے اس کا ایک تختہ توڑ کر اسے عیب دار کر دیا۔ اب جب بادشاہ اس عیب دار کشتی کو دیکھے گا تو اسے چھوڑ دے گا اور اس طرح ان کی روزی کا واحد سہارا ان سے نہیں چھنے گا۔ پوری کشتی چھن جانے کے مقابلے میں ایک تختے کا ٹوٹ جانا تو معمولی بات ہے۔ اس تختے کی وہ لوگ آسانی سے مرمت کر لیں گے اور یوں وہ کشتی ان کی روزی کا ذریعہ بنی رہے گی۔ لہٰذا وہ تختہ ان لوگوں کی بھلائی کے لیے توڑا گیا تھا نہ کہ کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے ۔

آیت 80

وَ اَمَّا الۡغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤۡمِنَیۡنِ فَخَشِیۡنَاۤ اَنۡ یُّرۡہِقَہُمَا طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ﴿ۚ۸۰﴾

’’رہاوہ لڑکا! تو اس کے والدین دونوں مؤمن تھے ‘تو ہمیں خدشہ ہوا کہ وہ سرکشی اور ناشکری سے ان پر تعدی کرے گا۔‘‘

حضرت خضر کو اپنے خاص علم کی بنا پر معلوم ہوا ہو گا کہ اس بچے کے genes اچھے نہیں ہیں اور بڑا ہو کراپنے والدین کے لیے سوہانِ روح ثابت ہو گا اور سرکشی اور ناشکری کی روش اختیار کر کے ان کو عاجز کر دے گا۔

آیت 81

فَاَرَدۡنَاۤ اَنۡ یُّبۡدِلَہُمَا رَبُّہُمَا خَیۡرًا مِّنۡہُ زَکٰوۃً وَّ اَقۡرَبَ رُحۡمًا ﴿۸۱﴾

’’پس ہم نے چاہا کہ ان دونوں کو بدلے میں دے ان کا رب اس سے بہتر (اولاد) پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں۔‘‘

بچے کے والدین چونکہ نیک اور صالح لوگ تھے اس لیے ان کے رب نے چاہا کہ اس بچے کی جگہ انہیں ایک ایسا فرزند عطا فرمائے جو پاکیزہ نفسی و پرہیزگاری میں اس سے بہتر اور مروّت و دردمندی میں اس سے بڑھ کر ہو۔ چنانچہ وقتی طور پر تو بچے کے فوت ہونے سے والدین پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو گا لیکن حقیقت میں یہ سب کچھ ان کی بہتری کے لیے ہی کیا گیا تھا ۔

آیت 82

وَ اَمَّا الۡجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ وَ کَانَ تَحۡتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَ کَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ

’’اور رہی وہ دیوار! تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی ‘اور اس کے نیچے خزانہ تھا ان دونوں کے لیے ‘اور ان کا باپ نیک آدمی تھا۔‘‘

باپ نے جب دیکھا ہو گا کہ میرا آخری وقت قریب آ لگا ہے اور میرے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں تو اس نے اپنی ساری پونجی اکٹھی کر کے دیوار کی بنیاد میں دفن کر دی ہو گی‘اس امید پر کہ جب وہ بڑے ہوں گے تو نکال لیں گے۔ لیکن اگر وہ دیوار وقت سے پہلے ہی گر جاتی تو اس بستی کے نا ہنجار لوگ جو کسی مسافر کو کھانا کھلانے کے بھی روادار نہیں‘ان یتیموں کا دفینہ لوٹ کر لے جاتے۔

فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنۡ یَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسۡتَخۡرِجَا کَنۡزَہُمَا ٭ۖ

’’لہٰذا آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور نکال لیں اپنا خزانہ‘‘

باپ چونکہ نیک آدمی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیوار کی مرمت کا اہتما م کر کے اس کے کمسن یتیم بچوں کی بھلائی کا سامان کیا گیا۔

رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ۚ وَ مَا فَعَلۡتُہٗ عَنۡ اَمۡرِیۡ ؕ

’’ (یہ سب امور) آپ کے رب کی رحمت سے (طے ہوئے)تھے‘اور میں نے اپنی رائے سے انہیں سر انجام نہیں دیا۔‘‘

یعنی یہ تمام امور اللہ کی رحمت کا مظہر تھے۔یہ اللہ ہی کے فیصلے تھے اور اسی کے حکم سے ان کی تنفیذ و تعمیل کی گئی۔ میں نے اپنی مرضی سے ان میں سے کچھ بھی نہیں کیا۔ ان امور کے سلسلے میں اللہ کے احکام کی تنفیذ کرنے والے اللہ کے وہ بندے حضرت خضر تھے‘کوئی اور ولی اللہ تھے یا کوئی فرشتہ تھے‘ اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اس سارے واقعہ میں اصل بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے ایسے تمام بندے کارکنانِ قضا و قدرکی فوج کے سپاہی ہیں اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے جن احکام کی تنفیذ کر رہے ہیں ان کا تعلق شریعت سے نہیں بلکہ تکوینی امور سے ہے۔دنیا میں جو واقعات و حادثات رونما ہوتے ہیں ہم صرف ان کے ظاہری پہلو کو دیکھ کر ہی ان پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں یا دل گرفتہ ہوتے ہیں۔ بہر حال ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ ہوتا ہے اس میں خیر اور بھلائی ہی ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے تمام معاملات میں ’’تفویض الامر‘‘ کا رویہ اپناتے ہوئے راضی برضائے ربّ رہنا چاہیے کہ : ؏ ’’ہرچہ ساقیٔ ما ریخت عین الطاف است!‘‘

ذٰلِکَ تَاۡوِیۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا ﴿ؕ٪۸۲﴾

’’یہ ہے اصل حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے