وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ فَاَعۡرَضَ عَنۡہَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتۡ یَدٰہُ ؕ
’’اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جسے نصیحت کی گئی ہو اُس کے رب کی آیات کے ذریعے ‘تواس نے اعراض کیا اُن سے اور وہ بھول گیاکہ کیا آگے بھیجا ہے اس کے دونوں ہاتھوں نے۔‘‘
بجائے ایمان لانے کے اور اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کرنے کے اس نے اللہ کی آیات سے روگردانی کی روش اپنائے رکھی۔ اس ضد اورہٹ دھرمی میں وہ اپنے اعمال کے اس جھاڑ جھنکاڑ کو بھی بھول گیا جو اُس نے اپنی آخرت کے لیے تیار کر رکھا تھا۔
اِنَّا جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا ؕ
’’یقینا ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ اس (قرآن) کو سمجھ نہ پائیں اور ان کے کانوں میں بوجھ (ڈال دیا ہے)۔‘‘
یہ مضمون سورۂ بنی اسرائیل میں اس طرح آ چکا ہے: {وَ اِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾} ’’اور جب آپؐ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے لوگوں کے درمیان پردہ حائل کر دیتے ہیں۔‘‘
وَ اِنۡ تَدۡعُہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی فَلَنۡ یَّہۡتَدُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴿۵۷﴾
’’ اور اگرچہ آپؐ بلائیں انہیں ہدایت کی طرف تب بھی وہ کبھی ہدایت نہیں پائیں گے۔‘‘
کیونکہ حق واضح ہو جانے بعد ان کی مسلسل ہٹ دھرمی کے سبب ان کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں اور اس طرح وہ اللہ کے قانونِ ہدایت و ضلالت کی آخری دفعہ کی زد میں آ چکے ہیں جس کے تحت جان بوجھ کر حق سے اعراض کرنے والے کو ہمیشہ کے لیے ہدایت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
وَ رَبُّکَ الۡغَفُوۡرُ ذُو الرَّحۡمَۃِ ؕ لَوۡ یُؤَاخِذُہُمۡ بِمَا کَسَبُوۡا لَعَجَّلَ لَہُمُ الۡعَذَابَ ؕ
’’اور آپؐ کا رب بہت بخشنے والا ‘بہت رحمت والا ہے۔اگر وہ مواخذہ کرتا ان کا بسبب ان کے اعمال کے تو بہت جلدی بھیج دیتا ان پر عذاب ۔‘‘
یہ مضمون سورۃ النحل ‘آیت ۶۱اور سورۂ فاطر ‘آیت ۴۵ میں بھی بڑی وضاحت سے بیان ہواہے کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلم اور برے اعمال کے سبب ان کا مؤاخذہ کرتا تو روئے زمین پر کوئی متنفس زندہ نہ بچتا۔
بَلۡ لَّہُمۡ مَّوۡعِدٌ لَّنۡ یَّجِدُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖ مَوۡئِلًا ﴿۵۸﴾
’’بلکہ ان کے لیے وعدے کا ایک وقت معین ہے اوروہ ہر گز نہیں پائیں گے اس کے سوا بچنے کی کوئی جگہ۔‘‘
جب کسی کے وعدے کی مقررہ گھڑی (اجل) آ پہنچے گی تو اسے کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی اور اس کے لیے اس سے سرک کر اِدھر اُدھر ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی: {فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۶۱﴾} (النحل) ’’پھر جب آ جاتا ہے اُن کا وقت معین تو نہ وہ پیچھے رہ سکتے ہیں ایک لمحہ اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘‘
وَ تِلۡکَ الۡقُرٰۤی اَہۡلَکۡنٰہُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا
’’اور یہ ہیں وہ بستیاں جن (کے باسیوں) کو ہم نے ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم اختیار کیا‘‘
اَحقاف میں آباد قومِ عاد کے افراد ہوں یا علاقۂ حجر کے باشندے‘اصحاب الایکہ ہوں یا عامورہ اور سدوم کے باسی ‘سب اسی قانونِ الٰہی کے مطابق ہلاکت سے دو چار ہوئے۔
وَ جَعَلۡنَا لِمَہۡلِکِہِمۡ مَّوۡعِدًا ﴿٪۵۹﴾
’’اور ہم نے مقرر کر دیا تھا ان کی ہلاکت کے لیے وعدے کا ایک وقت۔‘‘
وعدے کے اس طے شدہ وقت سے پہلے کسی قوم یا بستی پر کبھی کوئی عذاب نہیں آیا۔