تحریر

الكهف

آیات ۵۴ تا ۵۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

54-56

انسانوں کی اکثریت ہٹ دھرم اور جھگڑالو ہے

ویڈیو

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِلنَّاسِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ اَکۡثَرَ شَیۡءٍ جَدَلًا ﴿۵۴﴾ وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَہُمُ الۡہُدٰی وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ سُنَّۃُ الۡاَوَّلِیۡنَ اَوۡ یَاۡتِیَہُمُ الۡعَذَابُ قُبُلًا ﴿۵۵﴾ وَ مَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِالۡبَاطِلِ لِیُدۡحِضُوۡا بِہِ الۡحَقَّ وَ اتَّخَذُوۡۤا اٰیٰتِیۡ وَ مَاۤ اُنۡذِرُوۡا ہُزُوًا ﴿۵۶﴾

آیت 54

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِلنَّاسِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ؕ

’’اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کر دی ہیں اس قرآن میں لوگوں (کی ہدایت) کے لیے ہر قسم کی مثالیں۔‘‘

الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ آیت سورۂ بنی اسرائیل میں بھی (آیت ۸۹) موجودہے ۔

وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ اَکۡثَرَ شَیۡءٍ جَدَلًا ﴿۵۴﴾

’’لیکن انسان تمام مخلوق سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔‘‘

سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ۸۹ کے پہلے حصے کے الفاظ جوں کے توں وہی ہیں جو اس آیت کے پہلے حصے کے ہیں ‘ صرف لفظوں کی ترتیب میں معمولی سا فرق ہے۔ البتہ دونوں آیات کے آخری حصوں کے الفاظ مختلف ہیں۔ سورۂ بنی اسرائیل کی مذکورہ آیت کا آخری حصہ یوں ہے: {فَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۸۹﴾} ’’مگر اکثر لوگ کفرانِ نعمت پر ہی اَڑے رہتے ہیں۔‘‘

آیت 55

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَہُمُ الۡہُدٰی وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّہُمۡ

’’اور نہیں روکا لوگوں کو (کسی چیز نے) جب ان کے پاس ہدایت آ گئی کہ وہ ایمان لائیں اور اپنے رب سے مغفرت مانگیں‘‘

اس آیت کی مشابہت سورۂ بنی اسرائیل کی آیت۹۴ کے ساتھ ہے۔ دونوں آیات کے پہلے حصوں کے الفاظ ہو بہو ایک جیسے ہیں۔

اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ سُنَّۃُ الۡاَوَّلِیۡنَ

’’مگر یہ کہ اُن سے پہلوں کا طریق برتا جائے‘‘

یہ لوگ جو ہدایت آ جانے کے بعد بھی ایمان نہیں لا رہے اور اللہ کے حضور استغفار نہیں کر رہے ہیں تو اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ان کے لیے بھی پہلی قوموں کا سا انجام لکھا جا چکا ہے۔

اَوۡ یَاۡتِیَہُمُ الۡعَذَابُ قُبُلًا ﴿۵۵﴾

’’یا عذاب اُن کے سامنے آ موجود ہو۔‘‘

آیت 56

وَ مَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۚ

’’اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشخبری دینے والے اور خبردار کرنے والے (بنا کر)‘‘

یہ مضمون جو یہاں سب رسولوں کے متعلق جمع کے صیغے میں آیا ہے‘سورۂ بنی اسرائیل میں حضورﷺ کے لیے صیغۂ واحد میں یوں آیا ہے: {وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿۵۶﴾} ’’ اور(اے محمدﷺ!) ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر مبشر اور نذیر بنا کر۔‘‘

وَ یُجَادِلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِالۡبَاطِلِ لِیُدۡحِضُوۡا بِہِ الۡحَقَّ

’’اور یہ کافر لوگ جھگڑتے ہیں جھوٹ کی طرف سے تا کہ بچلا دیں اس کے ساتھ حق کو‘‘

یہ لوگ باطل کے ساتھ کھڑے ہو کر حق کو شکست دینے کے لیے مناظرے اور کٹ حجتیاں کر رہے ہیں۔

وَ اتَّخَذُوۡۤا اٰیٰتِیۡ وَ مَاۤ اُنۡذِرُوۡا ہُزُوًا ﴿۵۶﴾

’’اور انہوں نے میری آیات کو اور (اس چیز کو) جس کے ساتھ انہیں خبردار کیا گیا تھا مذاق بنا لیا ہے۔‘‘

57-59

سب سے بڑا ظالم کون ہے؟

ویڈیو

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ فَاَعۡرَضَ عَنۡہَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتۡ یَدٰہُ ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا ؕ وَ اِنۡ تَدۡعُہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی فَلَنۡ یَّہۡتَدُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴿۵۷﴾ وَ رَبُّکَ الۡغَفُوۡرُ ذُو الرَّحۡمَۃِ ؕ لَوۡ یُؤَاخِذُہُمۡ بِمَا کَسَبُوۡا لَعَجَّلَ لَہُمُ الۡعَذَابَ ؕ بَلۡ لَّہُمۡ مَّوۡعِدٌ لَّنۡ یَّجِدُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖ مَوۡئِلًا ﴿۵۸﴾ وَ تِلۡکَ الۡقُرٰۤی اَہۡلَکۡنٰہُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا وَ جَعَلۡنَا لِمَہۡلِکِہِمۡ مَّوۡعِدًا ﴿٪۵۹﴾

آیت 57

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ فَاَعۡرَضَ عَنۡہَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتۡ یَدٰہُ ؕ

’’اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جسے نصیحت کی گئی ہو اُس کے رب کی آیات کے ذریعے ‘تواس نے اعراض کیا اُن سے اور وہ بھول گیاکہ کیا آگے بھیجا ہے اس کے دونوں ہاتھوں نے۔‘‘

بجائے ایمان لانے کے اور اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کرنے کے اس نے اللہ کی آیات سے روگردانی کی روش اپنائے رکھی۔ اس ضد اورہٹ دھرمی میں وہ اپنے اعمال کے اس جھاڑ جھنکاڑ کو بھی بھول گیا جو اُس نے اپنی آخرت کے لیے تیار کر رکھا تھا۔

اِنَّا جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا ؕ

’’یقینا ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ اس (قرآن) کو سمجھ نہ پائیں اور ان کے کانوں میں بوجھ (ڈال دیا ہے)۔‘‘

یہ مضمون سورۂ بنی اسرائیل میں اس طرح آ چکا ہے: {وَ اِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾} ’’اور جب آپؐ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے لوگوں کے درمیان پردہ حائل کر دیتے ہیں۔‘‘

وَ اِنۡ تَدۡعُہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی فَلَنۡ یَّہۡتَدُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴿۵۷﴾

’’ اور اگرچہ آپؐ بلائیں انہیں ہدایت کی طرف تب بھی وہ کبھی ہدایت نہیں پائیں گے۔‘‘

کیونکہ حق واضح ہو جانے بعد ان کی مسلسل ہٹ دھرمی کے سبب ان کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں اور اس طرح وہ اللہ کے قانونِ ہدایت و ضلالت کی آخری دفعہ کی زد میں آ چکے ہیں جس کے تحت جان بوجھ کر حق سے اعراض کرنے والے کو ہمیشہ کے لیے ہدایت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

آیت 58

وَ رَبُّکَ الۡغَفُوۡرُ ذُو الرَّحۡمَۃِ ؕ لَوۡ یُؤَاخِذُہُمۡ بِمَا کَسَبُوۡا لَعَجَّلَ لَہُمُ الۡعَذَابَ ؕ

’’اور آپؐ کا رب بہت بخشنے والا ‘بہت رحمت والا ہے۔اگر وہ مواخذہ کرتا ان کا بسبب ان کے اعمال کے تو بہت جلدی بھیج دیتا ان پر عذاب ۔‘‘

یہ مضمون سورۃ النحل ‘آیت ۶۱اور سورۂ فاطر ‘آیت ۴۵ میں بھی بڑی وضاحت سے بیان ہواہے کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلم اور برے اعمال کے سبب ان کا مؤاخذہ کرتا تو روئے زمین پر کوئی متنفس زندہ نہ بچتا۔

بَلۡ لَّہُمۡ مَّوۡعِدٌ لَّنۡ یَّجِدُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖ مَوۡئِلًا ﴿۵۸﴾

’’بلکہ ان کے لیے وعدے کا ایک وقت معین ہے اوروہ ہر گز نہیں پائیں گے اس کے سوا بچنے کی کوئی جگہ۔‘‘

جب کسی کے وعدے کی مقررہ گھڑی (اجل) آ پہنچے گی تو اسے کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی اور اس کے لیے اس سے سرک کر اِدھر اُدھر ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی: {فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۶۱﴾} (النحل) ’’پھر جب آ جاتا ہے اُن کا وقت معین تو نہ وہ پیچھے رہ سکتے ہیں ایک لمحہ اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘‘

آیت 59

وَ تِلۡکَ الۡقُرٰۤی اَہۡلَکۡنٰہُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا

’’اور یہ ہیں وہ بستیاں جن (کے باسیوں) کو ہم نے ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم اختیار کیا‘‘

اَحقاف میں آباد قومِ عاد کے افراد ہوں یا علاقۂ حجر کے باشندے‘اصحاب الایکہ ہوں یا عامورہ اور سدوم کے باسی ‘سب اسی قانونِ الٰہی کے مطابق ہلاکت سے دو چار ہوئے۔

وَ جَعَلۡنَا لِمَہۡلِکِہِمۡ مَّوۡعِدًا ﴿٪۵۹﴾

’’اور ہم نے مقرر کر دیا تھا ان کی ہلاکت کے لیے وعدے کا ایک وقت۔‘‘

وعدے کے اس طے شدہ وقت سے پہلے کسی قوم یا بستی پر کبھی کوئی عذاب نہیں آیا۔

یوٹیوب پر دیکھیے