’’یقینا ہم نے بنا دیا ہے جو کچھ زمین پر ہے اسے اس کا بناؤ سنگھار‘‘
یہاں یہ نکتہ ذہن نشین کر لیجئے کہ لفظ ’’زینت‘‘ اور دُنیوی آرائش و زیبائش کا موضوع اس سورت کے مضامین کا عمود ہے۔ یعنی دنیا کی رونق ‘چمک دمک اور زیب وزینت میں انسان اس قدر کھو جاتا ہے کہ آخرت کا اسے بالکل خیال ہی نہیں رہتا۔دنیا کی یہ رنگینیاں امریکہ اور یورپ میں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ انہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور انسان اس سب کچھ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم امریکی اور یورپی اقوام کی علمی ترقی سے متاثر اور ان کے مادی اسباب و وسائل سے مرعوب ہیں۔اپنی اسی مرعوبیت کے باعث ہم ان کی لادینی تہذیب و ثقافت کے بھی دلدادہ ہیں اور ان کے طرزِ معاشرت کو اپنانے کے بھی درپے ہیں۔
لِنَبۡلُوَہُمۡ اَیُّہُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾
’’تا کہ انہیں ہم آزمائیں کہ ان میں کون بہتر ہے عمل میں۔‘‘
دُنیا کے یہ ظاہری ٹھاٹھ باٹھ دراصل انسان کی آزمائش کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ ایک طرف دنیا کی یہ سب دلچسپیاں اور رنگینیاں ہیں اور دوسری طرف اللہ اور اس کے احکام ہیں۔ انسان کے سامنے یہ دونوں راستے کھلے چھوڑ کر دراصل یہ دیکھنا مقصود ہے کہ وہ ان میں سے کس کا انتخاب کرتا ہے۔ دنیا کی رنگینیوں میں کھوجاتاہے یا اپنے خالق و مالک کو پہچانتے ہوئے اس کے احکام کی تعمیل کو اپنی زندگی کا اصل مقصود سمجھتا ہے۔اس سلسلے میں کسی شاعر کا یہ شعر اگرچہ شانِ باری تعالیٰ کے لائق تو نہیں مگر اس مضمون کی وضاحت کے لیے بہت خوب ہے: ؎
رُخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
اِدھر آتا ہے دیکھیں یا اُدھر پروانہ جاتا ہے!
اب جس پروانے (انسان) کو اس شمع کی ظاہری روشنی اور چمک اپنی طرف کھینچ لے گئی تو وہ {فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّبِیۡنًا ﴿ؕ۱۱۹﴾} (النسائ) کے مصداق تباہ وبرباد ہو گیا اور جو اس کی ظاہری اور وقتی چکا چوند کو نظر انداز کر کے حسن ازلی اور اللہ کے جلال و کمال کی طرف متوجہ ہو گیا وہ حقیقی کامیابی اور دائمی نعمتوں کا مستحق ٹھہرا۔
’’اور یقینا ہم بنا کر رکھ دیں گے جو کچھ اس (زمین) پر ہے اسے ایک چٹیل میدان۔‘‘
قیامت برپا ہونے کے بعد اس زمین کی تمام آرائش و زیبائش ختم کر کے اسے ایک صاف ہموار میدان میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ نہ پہاڑ اور سمندر باقی رہیں گے اور نہ یہ حسین ود لکش عمارات ۔اس وقت زمین کی سطح ایک ایسے کھیت کا منظر پیش کر رہی ہو گی جس کی فصل کٹ چکی ہو اور اس میں صرف بچا کھچا سوکھا چورا اِدھر اُدھر بکھراپڑا ہو۔
’’کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور رقیم (تختی)والے اصحاب ہماری بہت عجیب نشانیوں میں سے تھے؟‘‘
اب اصحابِ کہف کے متعلق اس سوال کے جواب کا آغاز ہو رہا ہے جو یہود مدینہ نے قریش مکہ کے ذریعے حضورﷺ سے پوچھا تھا ۔ کہف کے معنی غار کے ہیں اور رقیم سے مراد وہ تختی ہے جس پر اصحاب کہف کے حالات لکھ کر اسے غار کے دہانے پر لگادیا گیا تھا۔ اس نسبت سے انہیں اصحاب کہف بھی کہا جاتا ہے اور اصحاب الرقیم بھی۔ مراد یہ ہے کہ تم لوگ شاید اصحاب کہف کے واقعہ کو ایک بہت غیر معمولی واقعہ اور ہماری ایک بڑی عجیب نشانی سمجھتے ہو ‘مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری تخلیق اور صناعی میں تو اس سے بھی بڑے بڑے عجائبات موجود ہیں۔
اس قصے کے بارے میں اب تک جو ٹھوس حقائق ہمارے سامنے آئے ہیں اُن کا خلاصہ یہ ہے : حضرت مسیح علیہ السلام کی فلسطین میں بعثت کے وقت بظاہر یہاں ایک یہودی بادشاہ کی حکمرانی تھی مگر اس بادشاہ کی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہ تھی اور عملی طور پر یہ پورا علاقہ رومن ایمپائر ہی کا حصہ تھا۔ رومی حکمران مذہباً بت پرست تھے جبکہ فلسطین کے مقامی باشندے اہل کتاب (یہودی) تھے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع سماوی کا واقعہ ۳۰ اور ۳۳ عیسوی کے لگ بھگ پیش آیا۔ اس کے بعد یہودیوں کی ایک بغاوت کے جواب میں رومی جنرل ٹائیٹس نے ۷۰عیسوی میں یروشلم پر حملہ کر کے اس شہر کو بالکل تباہ و برباد کر دیا‘ ہیکل سلیمانی مسمار کر دیا گیا‘ یہودیوں کا قتل عام ہوا اور جو یہودی قتل ہونے سے بچ گئے انہیں ملک بدر کر دیا گیا۔ مقامی عیسائیوں کو اگرچہ علاقے سے بے دخل تونہ کیا گیا مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکار اور موحد ہونے کی وجہ سے انہیں رومیوں کی طرف سے اکثر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا رہا ۔ اسی حوالے سے رومی بادشاہ دقیانوس (Decius) کے دربار میں چند راسخ العقیدہ موحد نوجوانوں کی پیشی ہوئی۔ بادشاہ کی طرف سے ان نوجوانوں پر واضح کیا گیا کہ وہ اپنے عقائد کو چھوڑ کر بت پرستی اختیار کر لیں ورنہ انہیں سولی پر چڑھا دیا جائے گا۔ بادشاہ کی طرف سے انہیں اس فیصلے کے لیے مناسب مہلت دی گئی۔ اسی مہلت کے دوران انہوں نے شہر سے نکل کر کسی غار میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔ جب یہ لوگ غار میں پناہ گزیں ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان پر ایسی نیند طاری کر دی کہ وہ تقریباً تین سو سال تک سوتے رہے۔ (سورۃ البقرۃ آیت ۲۵۹میں بھی اسی نوعیت کے ایک واقعہ کا ذکر ہے کہ حضرت عزیر علیہ السلام کو ان کی موت کے سو سال بعد زندہ کر دیا گیا) اوران کی نیند کے دوران ان کی کروٹیں بدلنے کا بھی باقاعدہ اہتمام رہا۔جس غار میں اصحابِ کہف سو رہے تھے وہ ایسی جگہ پر واقع تھی جہاں لوگوں کا آنا جانا بالکل نہیں تھا ۔ اس غار کا دہانہ شمال کی جانب تھا جس کی وجہ سے اس کے اندر روشنی منعکس ہو کر تو آتی تھی‘ لیکن براہِ راست روشنی یا دھوپ نہیں آتی تھی۔ اس طرح کے غاروں کا ایک سلسلہ افسس شہر (موجودہ ترکی) کے علاقے میں پایا جاتا ہے جبکہ ہندوستان (ایجنٹا) میں بھی ایسے غار موجود ہیں۔
بعدازاں قسطنطین (Constantine) نامی فرمانروانے عیسائیت قبول کر لی اور اس کی وجہ سے پوری رومن ایمپائر بھی عیسائی ہو گئی۔ پھر ۴۰۰عیسوی کے لگ بھگ Theodosius کے عہد حکومت میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو جگایا۔ جاگنے کے بعد انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو چاندی کا ایک سکہ دے کر کھانا لینے کے لیے شہر بھیجا اور ساتھ ہدایت کی کہ وہ محتاط رہے‘ایسا نہ ہو ان کے غار میں چھپنے کی خبر بادشاہ تک پہنچ جائے۔ (وہ اپنی نیند کو معمول کی نیند سمجھ رہے تھے اور ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ تین سو سال تک سوئے رہے تھے۔) بہرحال کھانالانے کے لیے جانے والا ان کا ساتھی اپنی تین سو سال پرانی وضع قطع اور کرنسی کی وجہ سے پکڑا گیااور یوں ان کے بارے میں تمام معلومات لوگوں تک پہنچ گئیں۔ جب لوگوں کو حقیقت حال کا علم ہوا تو ہم مذہب ہونے کی وجہ سے عیسائی آبادی کی طرف سے ان کی بہت عزت افزائی کی گئی۔ اس کے بعد وہ لوگ غار میں پھر سے سو گئے یا اللہ تعالیٰ نے ان پر موت طاری کر دی۔ ان لوگوں کی طبعی موت کے بعد غار کے دہانے کو بند کر دیا گیا اور ایک تختی پر ان لوگوں کا احوال لکھ کر اسے اس جگہ پر نصب کر دیا گیا۔ اصحابِ کہف کا یہ قصہ گبن کی کتاب The Decline and fall of Roman Empire میں بھی Seven Sleepers کے عنوان سے موجود ہے۔ اس قصے کا ذکر چونکہ رومن لٹریچر میں تھا اور یہودی اِن تمام تفصیلات سے آگاہ تھے‘اس لیے انہوں نے یہ سوال حضورﷺ سے امتحاناً پوچھ بھیجا تھا۔
’’جبکہ ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور انہوں نے کہا : اے ہمار ے ربّ! تو ہمیں عطا فرمااپنے پاس سے رحمت اور آسان فرما دے ہمارے لیے ہمارے معاملات میں عافیت کا راستہ۔‘‘
اپنے خاص خزانہ فضل سے ہمارے لیے رحمت کا بندوبست فرما دے۔
’’تو انہوں نے کہا کہ ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا ربّ ہے ‘ہم ہر گز نہیں پکاریں گے اُس کے سوا کسی اور کو معبود ‘ (اگر ایسا ہوا) تب تو ہم بہت غلط بات کہیں گے۔‘‘
جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے دربار میں ڈٹ کر حق بات کہی تھی ویسے ہی ان نوجوانوں نے بھی علی الاعلان کہا کہ ہم ربّ کائنات کو چھوڑ کر کسی دیوی یا دیوتا کو اپنا ربّ ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
’’تو اُس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا!‘‘
شاہی دربار میں اس تند و تیز مکالمے کے بعد جب انہیں چند دن کی مہلت کے ساتھ اپنا دین چھوڑنے یا موت کا سامنا کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا گیا تو وہ آپس میں یوں مشورہ کرنے لگے:
’’اوراب جبکہ تم نے خود کو اُن لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں‘ ان سے علیحدہ کر لیا ہے تو اب کسی غار میں پناہ لے لو‘تمہارا رب پھیلا دے گا تمہارے لیے اپنی رحمت اور تمہارے معاملے میں تمہارے لیے سہولت کا سامان پیدا فرمادے گا۔‘‘
’’اور تم سور ج کو دیکھتے کہ جب وہ طلوع ہوتا تو اُن کی غار سے داہنی طرف ہٹ جاتا ‘‘
وَ اِذَا غَرَبَتۡ تَّقۡرِضُہُمۡ ذَاتَ الشِّمَالِ
’’اور جب وہ غروب ہوتا تو بائیں جانب ان سے کنی کترا جاتا ‘‘
یعنی اس غار کا منہ شمال کی طرف تھا جس کی وجہ سے سورج کی براہِ راست روشنی یا دھوپ اس میں دن کے کسی وقت بھی نہیں پڑتی تھی۔ ہمارے ہاں بھی دھوپ اور سائے کا یہی اصول کارفرماہے۔ سورج کسی بھی موسم میں شمال کی طرف نہیں جاتا۔ اسی اصول کے تحت کارخانوں وغیرہ کی بڑی بڑی عمارات میں یہاں north light shells کا اہتمام کیا جاتا ہے تا کہ ایسے shells سے روشنی تو بلڈنگ میں آئے مگر دھوپ براہِ راست نہ آئے۔
وَ ہُمۡ فِیۡ فَجۡوَۃٍ مِّنۡہُ ؕ
’’اور وہ اس کی کھلی جگہ میں (لیٹے ہوئے) تھے۔‘‘
یعنی غار اندر سے کافی کشادہ تھی اور اصحاب کہف اس کے اندر کھلی جگہ میں سوئے ہوئے تھے۔
’’اور (اگر تم انہیں دیکھتے تو) تم سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سو رہے تھے ‘اور ہم ان کی کروٹیں بھی بدلتے رہے دائیں اور بائیں‘‘
گویا اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ان کی دیکھ بھال کے لیے نرسنگ ڈیوٹی پر مامور کر رکھا تھا ‘جو وقفے وقفے سے ان کی کروٹیں بدلتے رہے تا کہ سالہا سال تک ایک ہی پہلو پر لیٹے رہنے سے وہ bed sores جیسی کسی تکلیف سے محفوظ رہیں۔
وَ کَلۡبُہُمۡ بَاسِطٌ ذِرَاعَیۡہِ بِالۡوَصِیۡدِ ؕ
’’اور اُن کا کتا اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے (بیٹھا)تھا دہلیز پر‘‘
اس دوران ان کا کتا اپنی اگلی دونوں ٹانگیں سامنے پھیلا کر کتوں کے بیٹھنے کے مخصوص انداز میں غار کے دہانے پر بیٹھا رہا۔
’’اگر تم ان پرجھانکتے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور تم پر ان کی طرف سے ہیبت طاری ہو جاتی۔‘‘
ایک ویرانے میں اندھیری غار اور اُس کے سامنے اپنے بازو پھیلائے بیٹھا ہوا ایک خوفناک کتا! یہ ایک ایسا منظر تھا جسے جو بھی دیکھتا ڈر کے مارے وہاں سے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھتا۔
’’کچھ بولے کہ ہم رہے ہیں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔کچھ (دوسرے) بولے کہ تمہارا رب خوب جانتا ہے تم کتنا عرصہ رہے ہو!‘‘
جب کچھ ساتھیوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ انہوں نے ایک دن یا اس سے کچھ کم وقت نیند میں گزارا ہے تو ان کے جواب پر کچھ دوسرے ساتھی بول پڑے کہ اس بحث کو چھوڑ دو‘اللہ کو سب پتا ہے کہ تم لوگ یہاں کتنا عرصہ تک سوئے رہے ہو۔
’’تو وہ دیکھے کہ شہر کے کس حصے سے زیادہ پاکیزہ کھانا ملتا ہے اور وہ وہاں سے تمہارے لیے کچھ کھانا لے آئے ۔‘‘
ظاہر ہے کہ اپنے اعتقاد اور نظریے کے مطابق انہیں پاکیزہ کھانا ہی چاہیے تھا۔
وَ لۡـیَؔتَلَطَّفۡ
’’اور وہ نرمی کا معاملہ کرے‘‘
یعنی جو ساتھی کھانا لینے کے لیے جائے وہ لوگوں سے بات چیت اور لین دین کرتے ہوئے خصوصی طور پر اپنا رویہ نرم رکھے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ کسی سے جھگڑ پڑے اور اس طرح ہم سب کے لیے کوئی مسئلہ کھڑ ا ہو جائے۔
یہاں پر نوٹ کر لیجیے کہ قرآن کے حروف کی گنتی کے اعتبار سے لفظ وَلْیَتَلَطَّفْ کی ’’ت‘‘ پر قرآن کا نصف اوّل پورا ہو گیا ہے اور اس کے بعد لفظ ’’ل‘‘ سے نصف ثانی شروع ہو رہا ہے۔
’’کیونکہ اگرانہوں نے تم پر قابو پا لیاتو وہ تمہیں سنگسار کر دیں گے یا تمہیں واپس لے جائیں گے اپنے دین میں‘اور تب تو تم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکو گے۔‘‘
اگر انہوں نے تمہیں مجبور کر دیا کہ تم پھر سے ان کا دین قبول کر لو تو ایسی صورت میں تم ہمیشہ کے لیے ہدایت سے دور ہو جاؤ گے۔
آیت 21
وَ کَذٰلِکَ اَعۡثَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ
’’اور اس طرح ہم نے مطلع کر دیا (لوگوں کو) ان پر‘‘
چنانچہ اصحاب کہف کا ایک ساتھی جب کھانا لینے کے لیے شہر گیا تو اپنے لباس‘حلیے اور کرنسی وغیرہ کے باعث فوری طور پر اسے پہچان لیا گیا کہ وہ موجودہ زمانے کا انسان نہیں ہے۔ پھر جب اس سے تفتیش کی گئی تو سارا راز کھل گیا۔ اس وقت اگرچہ اس واقعہ کو تین سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا مگر اس کے باوجود یہ بات ابھی تک لوگوں کے علم میں تھی کہ فلاں بادشاہ کے ڈر سے اس شہر سے سات آدمی کہیں روپوش ہو گئے تھے اور پوری مملکت میں تلاش بسیار کے باوجود کہیں ان کا سراغ نہ مل سکا تھا۔ اسی طرح یہ بات بھی لوگوں کے علم میں تھی کہ اس پورے واقعے کو ایک تختی پر لکھ کر ریکارڈ کے طور پر شاہی خزانے میں محفوظ کر لیا گیا تھا۔ لہٰذا اصحاب کہف کے ساتھی سے ملنے والی معلومات کی تصدیق کے لیے جب مذکورہ تختی ریکارڈ سے نکلوائی گئی تو اس پر اس واقعہ کی تمام تفصیلات لکھی ہوئی مل گئیں اور یوں یہ واقعہ پوری وضاحت کے ساتھ لوگوں کے سامنے آ گیا۔
’’تا کہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کے بارے میں ہر گز کوئی شک نہیں۔‘‘
یہ واقعہ گویا بعث بعد الموت کے بارے میں ایک واضح دلیل تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تین سو سال تک ان لوگوں کو سلائے رکھا اور پھر اٹھا کھڑا کیا تو اُس کے لیے مردوں کا دوبارہ زندہ کرنا کیونکر ممکن نہیں ہو گا؟
اِذۡ یَتَنَازَعُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ اَمۡرَہُمۡ
’’جب وہ لوگ آپس میں جھگڑ رہے تھے ان کے معاملے میں‘‘
اس کے بعد اصحابِ کہف تو اپنی غار میں پہلے کی طرح سو گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر حقیقی موت وارد کر دی‘ لیکن لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف پیدا ہو گیا کہ ان کے بارے میں حتمی طور پر کیا معاملہ کیا جائے۔
’’اب یہ لوگ کہیں گے کہ و ہ تین تھے‘اُن کا چوتھا اُن کا کتاتھا‘ اور کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ پانچ تھے‘ اُن کا چھٹاان کا کتا تھا‘یہ سب تیر تکے چلا رہے ہیں اندھیرے میں‘اور کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ سات تھے اور ان کا آٹھواں اُن کا کتا تھا۔‘‘
’’آپ کہیے: میرا رب بہتر جانتا ہے ان کی تعداد کو‘نہیں جانتے ان (کے معاملے)کو مگر بہت تھوڑے لوگ۔‘‘
قرآن مجید میں ان کی تعداد کے بارے میں صراحت تو نہیں کی گئی مگر اکثر مفسرین کے مطابق بین السطور میں آخری رائے کے درست ہونے کے شواہد موجود ہیں۔اس میں ایک نکتہ تو یہ ہے کہ پہلے فقرے {ثَلٰثَۃٌ رَّابِعُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ ۚ } اور دوسرے فقرے {خَمۡسَۃٌ سَادِسُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ } کے درمیان میں ’’و‘‘ نہیں ہے ‘جبکہ تیسرے فقرے میں {سَبۡعَۃٌ وَّ ثَامِنُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ ؕ } کے درمیان میں ’’و‘‘موجود ہے ۔ چنانچہ پہلے دونوں کلمات کے مقابلے میں تیسرے کلمہ کے بیان میں ’’و‘‘ کی وجہ سے زیادہ زور ہے ۔
اس ضمن میں دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جب وہ لوگ جاگے تھے تو اُن میں سے ایک نے سوال کیا تھا: { کَمۡ لَبِثۡتُمۡ ؕ } کہ تم یہاں کتنی دیر سوئے رہے ہو؟ اس سوال کا جواب قرآن حکیم میں بایں الفاظ نقل ہوا ہے : {قَالُوۡا لَبِثۡنَا یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ } انہوں نے کہا کہ ہم ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم عرصہ تک سوئے رہے ہیں۔ یہاں پر قَالُوْا چونکہ جمع کا صیغہ ہے اس لیے یہ جواب دینے والے کم از کم تین لوگ تھے ‘ جبکہ اس سوال کے جواب میں ان کے جن ساتھیوں نے دوسری رائے دی تھی وہ بھی کم از کم تین ہی تھے‘ کیونکہ ان کے لیے بھی قَالُوْا جمع کا صیغہ ہی استعمال ہوا ہے : {قَالُوۡا رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ ؕ} ۔اس طرح ان کی تعداد سات ہی درست معلوم ہوتی ہے ۔ یعنی ایک پوچھنے والا‘تین لوگ ایک رائے دینے والے اور ان کے جواب میں تین لوگ دوسری رائے کا اظہار کرنے والے۔
اس کے علاوہ قدیم رومن لٹریچر میں بھی جہاں ان کا ذکر ملتا ہے وہاں ان کی تعداد سات ہی بتائی گئی ہے۔ قبل ازیں گبن کی کتاب کا حوالہ بھی دیا جا چکا ہے جس میں Seven Sleepers کا ذکر ہے۔ لیکن یہاں جس بات کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس معاملے میں بحث کرنے اور جھگڑنے کی ضرورت ہی نہیں ہے :
’’تو (اے نبیﷺ!) آپ ان کے بارے میں جھگڑا مت کریں سوائے سرسری بحث کے‘اور نہ ہی آپ پوچھئے ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے۔‘‘
یعنی جو بات دعوتِ دین اور اقامت دین کے حوالے سے اہم نہ ہو اس میں بے مقصد چھان بین کرنا اور بحث و نزاع میں پڑنا‘گویا وقت ضائع کرنے اور اپنی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
’’اور کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کریں کہ میں یہ کام کل ضرور کر دوں گا۔‘‘
اس آیت میں ایک بہت اہم واقعہ کا حوالہ ہے۔ جب اہل مکہ نے رسول اللہﷺ سے سوالات کیے تو آپؐ نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کو ان سوالات کے جوابات کل دے دوں گا۔ اس موقع پر آپﷺ نے سہواً ’ ’ان شاء اللّٰہ ‘‘ نہیں فرمایا۔ اس کے بعد کئی روز تک وحی نہ آئی۔ یہ صورت حال آپؐ کے لیے انتہائی پریشان کن تھی۔ مخالفین خوشی میں تالیاں پیٹ رہے ہوں گے ‘ آپؐ کو ناکامی کے طعنے دے رہے ہوں گے اور آپؐ کو یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑ رہا ہو گا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو کیسی کیسی سخت آزمائشوں سے دوچار کرتا ہے: ؏
’’جن کے رتبے ہیں سوا اُن کی سوا مشکل ہے!‘‘
عام لوگ اپنی روز مرہ کی گفتگو میں کیسی کیسی لا یعنی باتیں کرتے رہتے ہیں لیکن اللہ کے ہاں ان کی پکڑ نہیں ہوتی‘اس لیے کہ وہ اللہ کے ہاں اہم نہیں ہوتے ‘ مگر یہاں ایک انتہائی مقرب ہستی سے سہواً ایک کلمہ ادا ہونے سے رہ گیا تو باوجود اس کے کہ معاملہ بے حد حساس تھا ‘وحی روک لی گئی۔ بالآخرکئی روز کے بعد جب اللہ کو منظور ہوا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام سوالا ت کے جوابات بھی لے کر آئے اور ساتھ یہ ہدایت بھی کہ کبھی کسی چیز کے بارے میں یوں نہ کہیں کہ میں کل یہ کروں گا:
آیت 24
اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ۫
’’مگر یہ کہ اللہ چاہے!‘‘
یعنی مستقبل کے بارے میں جب بھی کوئی بات کریں تو ’’ان شاء اللّٰہ ‘‘ ضرور کہیں کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں یوں کروں گا۔اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر یہ خصوصی فضل ہے کہ انہیں اپنی معاشرتی زندگی میں روز مرہ کے معمولات کے لیے ایسے کلمات سکھائے گئے جن میں توحید کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ آپ نے کوئی خوبصورت چیز دیکھی جس سے آپ کا دل خوش ہوا‘آپ نے کہا : سبحان اللّٰہ! گویا آپ نے اقرار کیا کہ یہ اس چیز کا کمال نہیں اور نہ ہی یہ چیز بذاتِ خود لائق تعریف ہے بلکہ تعریف تو اللہ کی ہے جس نے یہ خوبصورت چیز بنائی۔ آپ کی کوئی تکلیف دور ہوئی تو منہ سے نکلا : الحَمد للّٰہ! یعنی جو بھی مشکل آسان ہوئی اللہ کی مدد‘اُس کی مہربانی اور اُس کے حکم سے ہوئی‘ لہٰذا شکر بھی اُسی کا ادا کیا جائے گا۔ آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے ‘اہل و عیال کو خوش و خرم پایا‘آپ نے کہا : مَاشَاء اللّٰہ ! کہ اس میں میرا یا کسی اور کا کوئی کمال نہیں ‘یہ سب اللہ کی مرضی اور مشیت سے ہے۔ اسی طرح مستقبل میں کسی کام کے کرنے کے بارے میں اظہار کیا تو ساتھ اِن شاء اللّٰہ کہا ۔ یعنی میرا ارادہ تو یوں ہے مگر صرف میرے ارادے سے کیا ہوتا ہے ‘حقیقت میں یہ کام تبھی ہو گا اور میں اسے تبھی کر پاؤں گا جب اللہ کو منظور ہو گا‘کیونکہ اللہ کی مشیت اور مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ گویا ان کلمات کے ذریعے قدم قدم پر اور بات بات میں ہمیں توحید کا سبق یاد دلایا جاتا ہے۔اللہ کے علم‘اُس کے حکم‘اُس کے اختیارو اقتدار‘اُس کی قدرت ‘اُس کی مشیت کے مطلق اور فائق ہونے کے اقرار کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کلمات (اَلْحَمْدُ لِلّٰہ‘اِنْ شَاءاللّٰہ‘مَاشَاء اللّٰہ) اس سورت میں موجود ہیں۔
وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیۡتَ
’’اور اپنے رب کو یاد کر لیاکیجئے جب آپ بھول جائیں‘‘
اگر کسی وقت بھول جائیں تو یاد آنے پر دوبارہ اللہ کی طرف اپنا دھیان لگا لیجئے۔
’’اور کہیے :ہو سکتا ہے کہ میرا رب میری راہنمائی کر دے اس سے بہتر بھلائی کی طرف۔‘‘
یعنی کسی بھی کام کے لیے کوشش کرتے ہوئے انسان کو ’’تفویض الامر الی اللہ ‘‘کی کیفیت میں رہنا چاہیے کہ اگر اللہ کو منظور ہوا تو میں اس کوشش میں کامیاب ہو جاؤں گا ‘ورنہ ہو سکتا ہے میرا رب میرے لیے اس سے بھی بہتر کسی کام کے لیے اسباب پیدا فرما دے۔ گویا انسان اپنے تمام معاملات ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سپرد کیے رکھے:
’’ اور وہ رہے اپنی غار میں تین سو برس اور اس کے اوپر نو برس۔‘‘
یعنی غار میں ان کے سونے کی مدت شمسی کیلنڈر میں تین سو سال جبکہ قمری کیلنڈر کے مطابق تین سو نو سال بنتی ہے۔
آیت 26
قُلِ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثُوۡا ۚ
’’آپؐ کہیے کہ اللہ بہتر جانتا ہے اس میں جتنا (عرصہ )وہ رہے‘‘
یعنی اس بحث میں بھی پڑنے کی ضرورت نہیں کہ وہ غار میں کتنا عرصہ سوئے رہے۔ اس کا جواب بھی آپؐ ان کو یہی دیں کہ اس مدت کے بارے میں بھی اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
’’اُس کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں‘اور وہ شریک نہیں کرتا اپنے حکم میں کسی کوبھی۔‘‘
اُس کے سوا ان کا کوئی ساتھی‘ کارساز‘ مددگار‘ حمایتی اور پشت پناہ نہیں ہے۔ لفظ ’’ولی‘‘ ان سب معانی کا احاطہ کرتا ہے۔
وہ اپنے اختیار اور اپنی حاکمیت کے حق میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتا۔یہ توحید حاکمیت ہے۔ اس بارے میں سورۂ یوسف (آیت ۴۰و۶۷) میں اس طرح ارشاد ہوا: {اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ} ’’اختیارِ مطلق تو صرف اللہ ہی کاہے‘‘۔ جبکہ سورۂ بنی اسرائیل کی آخری آیت میں یوں فرمایا گیا: {وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ } ’’اور اُس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہت میں۔‘‘
’’اور (اے نبیﷺ!) آپ تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے آپ کے رب کی کتاب میں سے۔‘‘
یعنی اس وقت آپؐ بہت مشکل صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں ۔ اس کیفیت میں آپؐ کو صبر و استقامت کی سخت ضرورت ہے : {وَ اصۡبِرۡ وَ مَا صَبۡرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ } ( النحل:۱۲۷) ’’اور (اے نبیﷺ!) آپ صبر کیجیے اور آپ کا صبر تو اللہ کے سہارے پر ہی ہے ‘‘۔ یہ سہارا آپؐ کو اللہ کے ساتھ اپنا قلبی تعلق اور ذہنی رشتہ استوار کرنے سے میسر ہو گا اور یہ تعلق مضبوط کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ قرآن مجید کی تلاوت ہے۔ تمسک بالقرآن کا یہ مضمون سورۃ العنکبوت میں(اکیسویں پارے کے آغاز میں )دوبارہ آئے گا۔ حق و باطل کی کشمکش میں جب بھی کوئی مشکل وقت آیا تو رسول اللہﷺ کو خصوصی طور پر تمسک بالقرآن کی ہدایت کی گئی‘ اور آپؐ کی وساطت سے تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیاکہ وہ قرآن کی تلاوت کو اپنا معمول بنائیں‘ قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت اس کے ساتھ صرف کریں۔ اسی طرح وہ مشکلات و شدائد کو برداشت کرنے اور اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔
’’اُس کی باتوں کو بدلنے والا کوئی نہیں ہے ‘اور آپؐ نہیں پائیں گے اُس کے سوا کوئی جائے پناہ۔‘‘
یقینا یہ راستہ بہت کٹھن ہے اور اس راستہ کے مسافروں نے سختیوں کو بہر حال برداشت کرنا ہے ۔ یہ اللہ کا قانون ہے جو کسی کے لیے تبدیل نہیں کیا جا تا۔ اس مہم میں واحد سہارا اللہ کی مدد اور نصرت ہے۔ چنانچہ اگر آپؐ کو کہیں پناہ ملے گی تو اللہ ہی کے دامن میں ملے گی‘اُس در کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ علامہ اقبالؔ نے اسی مضمون کی ترجمانی اپنے اس شعر میں کی ہے: ؎
نہ کہیں جہاں میں اَماں ملی‘جو اَماں ملی تو کہاں ملی
’’اور اپنے آپ کو روکے رکھیے اُن لوگوں کے ساتھ جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح وشام‘‘
یہ بلال حبشی‘عبد اللہ بن اُمّ مکتوم‘ عمار بن یاسر اور خبابj جیسے لوگ اگرچہ مفلس اور نادار ہیں مگر اللہ کی نظر میں بہت اہم ہیں۔ آپؐ ان لوگوں کی رفاقت کو غنیمت سمجھئے اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کیجیے۔
’’وہ اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور آپؐ کی نگاہیں ان سے ہٹنے نہ پائیں ‘(جس سے لوگوں کو یہ گمان ہونے لگے کہ) آپؐ دُنیوی زندگی کی آرائش و زیبائش چاہتے ہیں!‘‘
ان غلاموں اور بے آسرا لوگوں سے آپؐ کی توجہ ہٹ کر کہیں مکہ کے سرداروں اور امراء کی طرف نہ ہونے پائے‘ جس سے لوگوں کو یہ گمان ہو کہ آپؐ بھی دنیا کی زیب و زینت ہی کواہمیت دیتے ہیں۔ لہٰذا ولید بن مغیرہ بظاہر کتنا ہی با اثر اور صاحب ثروت سہی‘آپؐ عبد اللہؓ بن اُمّ مکتوم کو نظر انداز کر کے اُسے ہرگز اہمیت نہ دیں۔ ترجمہ کے اعتبار سے یہ آیت مشکل آیات میں سے ہے۔ یہاں الفاظ کے عین مطابق ترجمہ ممکن نہیں۔ حضورﷺ کی یہ شان ہر گز نہ تھی کہ آپﷺ کی نظریں غرباء سے ہٹ کر امراء کی طرف اٹھتیں۔چنانچہ ان الفاظ سے یہی مفہوم سمجھ میں آتا ہے کہ دراصل آپؐ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ آپؐ دعوت و تبلیغ کی غرض سے بھی ان امراء کی طرف اس انداز میں التفات نہ فرمائیں جس سے کسی کو مغالطہ ہو کہ آپﷺ کی نگاہ میں دُنیوی مال و اسباب کی بھی کچھ وقعت اور اہمیت ہے۔سورۃ الحجر میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے: {لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡہِمۡ وَ اخۡفِضۡ جَنَاحَکَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾} ’’آپؐ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اس مال و متاع کی طرف جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دے رکھا ہے اور آپؐ ان (امراء)کے بارے میں فکرمند نہ ہوں اور اہل ایمان کے لیے اپنے بازو جھکا کر رکھیں!‘‘
کسی بھی داعی حق کے لیے یہ معاملہ بہت نازک ہوتا ہے۔ معاشرے کے اونچے طبقے کے لوگوں کا بہر حال اپنا ایک حلقہ اثر ہوتا ہے۔ ان میں سے اگر کوئی اہل حق کی صف میں شامل ہوتا ہے تو وہ اکیلا بہت سے افراد کے برابر شمار ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے کئی دوسرے لوگ خود بخود کھنچے آتے ہیں اور پہلے سے موجود لوگوں کے لیے بھی ایسے شخص کی شمولیت تقویت اور اطمینان کا باعث ہوتی ہے۔ جیسے حضورﷺ نے اللہ تعالیٰ سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ عمر ؓبن الخطاب یا عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے کسی ایک کو ضرور میری جھولی میں ڈال دے! ان دونوں میں سے کوئی ایک ایمان لے آئے۔ ظاہر ہے کہ ان جیسی بااثر شخصیات میں سے کسی کا ایمان لانااسلام کے لیے باعثِ تقویت ہو گا اور اس کی رفاقت سے ان کمزور مسلمانوں کو سہارا ملے گاجن پر قافیہ حیات تنگ ہوا جارہا ہے۔ اور پھر واقعتا ایسا ہوا بھی کہ حضرت عمر اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہما کے ایمان لانے کے بعد مکہ میں کمزور مسلمانوں پر قریش کے ظلم و تعدی میں کافی حد تک کمی آ گئی۔
بہر حال اس سلسلے میں معروضی حقائق کسی بھی داعی کو اس طرف راغب کرتے ہیں کہ معاشرے کے متمول طبقوں اور اربابِ اختیار و اقتدار تک پیغام حق ترجیحی بنیادوں پر پہنچایا جائے اور انہیں اپنی تحریک میں شامل کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ مگر دوسری طرف اس حکمت عملی سے تحریک کے نادار اور عام ارکان کو یہ تاثر ملنے کا اندیشہ ہوتاہے کہ انہیں کم حیثیت سمجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اس طرح اُن کی حوصلہ شکنی ہونے کا امکان پیدا ہوتاہے۔ اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب کوئی داعیٔ حق اثر و رسوخ کے حامل افرادکی طرف ترجیحی انداز میں متوجہ ہو گا تو عوام میں اُس کی ذات اور اُس کی تحریک کے بارے میں یہ تاثر ابھرنے کا اندیشہ ہو گا کہ یہ لوگ بھی امراء اور اربابِ اختیار سے مرعوب ہیں اور ان کے ہاں بھی دُنیوی ٹھاٹھ باٹھ ہی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ چنانچہ دولت مند اور اثر و رسوخ کے حامل افراد تک دین کی دعوت کو پھیلانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں مذکورہ بالا دو عوامل کے منفی اثرات سے بچنا بھی نہایت ضروری ہے۔ چنانچہ حضورﷺ کو اس آیت میں حکم دیا جا رہا ہے کہ آپؐ اس سلسلے میں احتیاط کریں ‘کہیں لوگ یہ تاثر نہ لے لیں کہ محمد(ﷺ ) کے ہاں بھی دولت مند لوگوں ہی کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔
’’اور مت کہنا مانیے ایسے شخص کا جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جواپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہے اور اس کا معاملہ حدسے متجاوز ہو چکا ہے۔‘‘
یہ بات متعدد بار بیان ہو چکی ہے کہ کفارِ مکہ رسول اللہﷺکے ساتھ مداہنت پر مصر تھے اور وہ آپؐ کے ساتھ کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر مذاکرات کرنا چاہتے تھے ۔ اس سلسلے میں سردارانِ قریش کی طرف سے آپؐ پر شدید دباؤ تھا۔ اس پس منظر میں یہاں پھر متنبہ کیا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کے دلوں کو ہم نے اپنی یاد سے غافل اور محروم کر دیا ہے آپؐ ایسے لوگوں کی باتوں کی طرف دھیان بھی مت دیجیے!
’’اور آپؐ کہہ دیجیے کہ یہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے‘تو اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔‘‘
کفارِ مکہ کی طرف سے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوششوں کے جواب میں یہاں حضورﷺ کی زبانِ مبارک سے واضح اور دو ٹوک انداز میں اعلان کرایا جا رہا ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے جو حق میرے پاس آیا ہے وہ میں نے تم لوگوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ اب تمہارے سامنے دو ہی راستے ہیں‘اسے من و عن قبول کر لو یا اسے رد کر دو۔ لیکن یاد رکھو اس میں کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر تم سے کوئی سودے بازی ممکن نہیں ۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورۃ الدھر میں اس طرح بیان ہوا ہے: {اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾} یعنی ہم نے انسان کے لیے ہدایت کا راستہ واضح کر دیا ہے اور اس کو اختیار دے دیا ہے کہ اب چاہے وہ شکر گزار بنے اور چاہے نا شکرا۔
’’ اور اگر وہ پانی کے لیے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو (کھولتے ہوئے) تیل کی تلچھٹ جیساہو گا‘جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘
بِئۡسَ الشَّرَابُ ؕ وَ سَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا ﴿۲۹﴾
’’ بہت ہی بری چیز ہو گی پینے کی ‘اور وہ (جہنم) بہت ہی بری جگہ ہے آرام کی !‘‘
’’مُہْل‘‘ کا ترجمہ تیل کی تلچھٹ کے علاوہ لاوا بھی کیا گیا ہے اور پگھلا ہوا تانبا بھی۔ سورۂ ابراہیم ؑکی آیت ۱۶ میں جہنمیوں کو پلائے جانے والے پانی کو ’’مَآئٍ صَدِیْدٍ‘‘ کہا گیا ہے جس کے معنی زخموں سے رسنے والی پیپ کے ہیں۔ بہرحال یہ سیال مادہ جو انہیں پانی کے طور پر دیا جائے گا اس قدر گرم ہو گا کہ ان کے چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔اب آئندہ آیات میں فوری تقابل کے لیے اہل جنت کا ذکر آ رہا ہے۔
اس رکوع میں دو اشخاص کے باہمی مکالمے کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور بہت سی دوسری دُنیوی نعمتوں سے نوازرکھا تھا۔ وہ شخص اپنی خوشحالی میں اس قدر مگن ہوا کہ اس کی نگاہ اللہ سے ہٹ کر مادی وسائل پر ہی جم کر رہ گئی اور انہی اسباب و وسائل کو وہ اپنے توکل اور بھروسے کا مرکز بنا بیٹھا۔ اس کے ساتھ ایک دوسرا شخص تھا جو دُنیوی لحاظ سے خوشحال تو نہیں تھا مگر اُسے اللہ کی معرفت حاصل تھی۔ اُس نے اُس دولت مند شخص کو نصیحت کی کہ اللہ نے تمہیں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے مگر تم اُسے بالکل ہی بھولے ہوئے ہو۔ تمہیں چاہیے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ دولت مند شخص نے گھمنڈ میں آ کر اس کی نصیحت کا بہت تلخ جواب دیا اور کہا کہ مجھے تو یہ ساری نعمتیں اس لیے ملی ہیں کہ میں اللہ کا چہیتا ہوں جبکہ میرے مقابلے میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔ اللہ کے اس بندے نے اسے پھر سمجھایا کہ دیکھو اپنے دُنیوی مال و اسباب پر مت اِتراؤ ‘ کیونکہ اللہ اگر چاہے تو تمہارے یہ سارے ٹھاٹھ باٹھ پل بھر میں ختم کر کے رکھ دے۔ وہ چاہے تو تمہاری ساری دولت اور مال و اسباب کو ضائع کر سکتا ہے۔ اس نے جواباً کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں نے اپنے مال و اسباب کی حفاظت کاخوب بندوبست کر رکھاہے۔ الغرض ان تمام نصیحتوں کا اُس شخص پر کچھ بھی اثرنہ ہوا۔ دُنیوی اَسباب کے نشے نے اس کو اس قدر اندھا کر رکھاتھا کہ اسے حقیقی مسبب الاسباب کی قدرت کا کچھ اندازہ ہی نہ رہا۔ بالآخر اُس کے اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا سب کچھ برباد کر کے رکھ دیا اور وہ اپنے رویے پر کف افسوس ملتا رہ گیا۔ اپنی بربادی کے بعد جب اس شخص کی آنکھیں کھلیں تو تب بہت دیرہو چکی تھی۔
یہاں اس دولت مند شخص کا وہ فقرہ خاص طور پر قابل غور ہے جو اپنی بربادی کے بعد پچھتاتے ہوئے اس کی زبان سے نکلا تھا کہ ’’کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ شرک نہ کیا ہوتا!‘‘ دیکھا جائے تو اس سارے واقعے میں کسی ظاہری شرک کا ارتکاب نظرنہیں آتا۔ کسی دیوی یا دیوتا کی پوجا پاٹ کا بھی کوئی حوالہ یہاں نہیں آیا‘اللہ کے سواکسی دوسرے معبود کا بھی ذکر نہیں ہوا‘تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا اقدام تھا جس پر وہ شخص پچھتایا کہ کاش میں نے اپنے رب سے شرک نہ کیا ہوتا! اس پہلو سے اگر اس سارے واقعے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ نکتہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہاں جس شرک کا ذکر ہوا ہے وہ ’’مادہ پرستی ‘‘کا شرک ہے۔ اس شخص نے اپنے مادی اسباب ووسائل کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ لیا تھا۔ جو بھروسا اور توکل اُسے حقیقی مسبب الاسباب پر کرنا چاہیے تھا وہ بھروسا اور توکل اُس نے اپنے مادی وسائل پر کر لیا تھا اور اس طرح ان مادی وسائل کو معبود کا درجہ دے دیا تھا۔ یہی رویہ اور یہی سوچ مادہ پرستی ہے اور یہی موجودہ دور کا سب سے بڑا شرک ہے۔
موجودہ دور ستارہ پرستی اور بت پرستی کا دور نہیں ۔ آج کا انسان ستاروں کی اصل حقیقت جان لینے اور چاند پر قدم رکھ لینے کے بعد ان کی پوجا کیونکر کرے گا؟ چنانچہ آج کے دور میں اللہ کو چھوڑ کر انسان نے جو معبود بنائے ہیں ان میں مادہ پرستی اور وطن پرستی سب سے اہم ہیں۔ آج دولت کو معبود کا درجہ دے دیا گیا ہے اور مادی وسائل اور ذرائع کو مسبب الاسباب سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ موجودہ دور کا بہت خطرناک شرک ہے اور اس سے محفوظ رہنے کے لیے اسے بہت باریک بینی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
آیت 32
وَ اضۡرِبۡ لَہُمۡ مَّثَلًا رَّجُلَیۡنِ
’’(اے نبیﷺ!) آپ بیان کیجیے ان کے لیے دو اَشخاص کی مثال‘‘
’’اُن میں سے ایک کو ہم نے دیے تھے دو باغ انگوروں کے اور اُن دونوں کا گھیر دیا تھا ہم نے کھجوروں کے درختوں کے ساتھ‘‘
انگوروں کی بیلو ں کے گردا گرد کھجوروں کے درختوں کی باڑ تھی تا کہ نازک بیلیں آندھی ‘طوفان وغیرہ سے محفوظ رہیں۔
وَّ جَعَلۡنَا بَیۡنَہُمَا زَرۡعًا ﴿ؕ۳۲﴾
’’اور ہم نے ان دونوں (باغوں)کے درمیان کھیتی کا انتظام بھی کررکھا تھا۔‘‘
بنیادی طور پر وہ انگوروں کے باغات تھے۔ ان کے اطراف میں کھجوروں کے درخت تھے ‘ جن کی دوہری افادیت تھی ۔ ان درختوں سے کھجوریں بھی حاصل ہوتی تھیں اور وہ حفاظتی باڑ کا کام بھی دیتے تھے۔ درمیان میں کچھ زمین کاشت کاری کے لیے بھی تھی‘ جس سے اناج وغیرہ حاصل ہوتا تھا۔ گویا ہر لحاظ سے مثالی باغات تھے۔
’’دونوں باغات اپنا پھل خوب دیتے اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کرتے تھے‘‘
وہ دونوں باغات ہر سال موسم کے مطابق خوب پھلتے تھے اور ان کی پیدوار میں کبھی کوئی کمی نہیں آتی تھی۔ ان باغوں کا مالک شخص سالہا سال سے ان کی پیداوار سے مسلسل فائدہ اٹھاتے اٹھاتے انہیں دائمی سمجھ بیٹھا اور وہ بالکل ہی بھول گیا کہ یہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور اجازت ہی سے ممکن ہے۔
وَّ فَجَّرۡنَا خِلٰلَہُمَا نَہَرًا ﴿ۙ۳۳﴾
’’اور ہم نے جاری کر دی تھی ان کے درمیان ایک نہر۔‘‘
ان دونوں باغوں کے بیچوں بیچ ایک نہر بہتی تھی۔ گویا ان کی آب پاشی کا نظام بھی مثالی تھا۔
آیت 34
وَّ کَانَ لَہٗ ثَمَرٌ ۚ
’’اور اُس کے لیے پھل بھی تھا۔‘‘
اس کا ایک مفہوم تو یہی ہے کہ جب ان دونوں کا آپس میں مکالمہ ہو رہا تھا اُس وقت وہ دونوں باغات پھلوں سے خوب لدے ہوئے تھے ‘جبکہ دوسرا مفہوم جو میرے نزدیک راجح ہے ‘یہ ہے کہ اُس شخص کو اللہ نے اولاد بھی خوب دے رکھی تھی۔ اس لیے کہ انسان کے لیے اس کی اولاد کی وہی حیثیت ہے جو کسی درخت کے لیے اس کے پھل کی ہوتی ہے۔
’’تو کہا اُس نے اپنے ساتھی سے ---اور وہ آپس میں گفتگو کر رہے تھے --- کہ میں تم سے بہت زیادہ ہوں مال میں اور بہت بڑھاہوا ہوں نفری میں۔‘‘
یہاں جس فخر سے اُس شخص نے اپنی نفری کا ذکر کیا ہے اس کے اس انداز سے تو {وَّ کَانَ لَہٗ ثَمَرٌ ۚ } کا یہی ترجمہ بہتر محسوس ہوتاہے کہ اُس شخص کو اولاد خصوصاً بیٹوں سے بھی نوازا گیا تھا۔
آیت 35
وَ دَخَلَ جَنَّتَہٗ وَ ہُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ
’’اور وہ داخل ہوا اپنے باغ میں اس حال میں کہ وہ اپنی جان پر ظلم کر رہا تھا۔‘‘
’’اُس نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ یہ (باغ) کبھی بھی برباد ہوسکتا ہے۔‘‘
یعنی میرا یہ باغ ہر لحاظ سے مثالی ہے۔ اسے میں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہر قسم کے خطرات سے محفوظ بنا رکھا ہے۔ انگوروں کی نازک بیلوں کے گردا گرد کھجوروں کے بلند و بالا درخت سنتریوں کی طرح کھڑے ہر قسم کے طوفان اور بادِ صرصر کے تھپیڑوں سے اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ آب پاشی کے لیے نہر کا وافر پانی ہر وقت موجود ہے ۔لہٰذا میں نہیں سمجھتا کہ اسے کبھی کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
آیت 36
وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً ۙ
’’اور میں یہ گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہونے والی ہے‘‘
یہ قیامت وغیرہ کی باتیں سب ڈھکوسلے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایسا کوئی واقعہ حقیقت میں رونما ہونے والا ہے۔
’’اور اگر مجھے لوٹا ہی دیا گیا اپنے رب کی طرف تو میں لازماً پاؤں گا اس سے بھی بہتر پلٹنے کی جگہ۔‘‘
قیامت و آخرت کا اول تو میں قائل ہی نہیں‘ لیکن قیامت اگر ہوئی بھی تو میں بہرحال وہاں اس سے بھی بہتر زندگی پائوں گا۔
ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شخص اللہ کا منکر نہیں تھا مگر دُنیوی مال و دولت اور مادی اسباب وذرائع پر بھروسا کر کے شرک کا ارتکاب کر رہا تھا۔ یہ شخص یہاں پر جو فلسفہ بیان کر رہا ہے وہ اکثر مادّہ پرست لوگوں کے ہاں بہت مقبول ہے ۔ یعنی اگر مجھے دنیا میں اللہ تعالیٰ نے خوشحالی و فارغ البالی سے نواز رکھا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ مجھ سے خوش ہے ۔ اسی لیے اس نے مجھے خصوصی صلاحیتیں عطا کی ہیں جن کی وجہ سے میں نے یہ اسباب و وسائل اکٹھے کیے ہیں ۔ چنانچہ وہ آخرت میں بھی ضرور اپنی نعمتوں سے مجھے نوازے گا۔ اورجو لوگ یہاں دنیا میں جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں وہ آخرت میں بھی اسی طرح بے یارو مددگار ہوں گے۔
آیت 37
قَالَ لَہٗ صَاحِبُہٗ وَ ہُوَ یُحَاوِرُہٗۤ
’’اس کے ساتھی نے اس سے کہا اور وہ اس سے گفتگو کر رہا تھا‘‘
’’کیا تو نے کفر کیا اُس ہستی کا جس نے پیدا کیا تجھے مٹی سے‘پھر گندے پانی کی بوند سے‘پھر تجھے صحیح سلامت انسان بنا دیا؟‘‘
یہاں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ وہ شخص بظاہر اللہ کا منکر نہیں تھا مگر پھر بھی اسے اللہ سے کفر کا مرتکب بتایا گیا ہے۔ وہ اس لیے کہ اس سے پہلے وہ آخرت کا انکار کر چکا تھا اور آخرت کا انکار دراصل اللہ کا انکار ہے۔ گویا جوشخص آخرت کا منکر ہو اس کا ایمان باللہ کا دعویٰ بھی قابل قبول نہیں۔
’’اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے یوں کیوں نہ کہا: ماشاء اللہ! (یعنی یہ سب اللہ کے فضل و کرم سے ہے۔) اللہ کے بدون کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔‘‘
تجھے جب باغ میں ہر طرف خوش کن مناظر دیکھنے کو ملے اور پورا باغ پھلوں سے لدا ہوا نظر آیا تو تیری زبان سے ’’ما شاء اللہ ‘‘کیوں نہ نکلا اور تو نے یہ کیوں نہ کہا کہ یہ میرا کمال نہیں بلکہ اللہ کی د ین ہے جو اصل طاقت اور اختیار کا مالک ہے‘ اُس کی اجازت اور مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ یہ ’’ماشاء اللہ ‘‘وہ کلمہ ہے جس میں توحید کوٹ کوٹ کر بھری ہے‘ کہ جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے‘کسی اور کے چاہنے سے یا اسباب ووسائل کے ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔
’’اور وہ بھیج دے اس (تیرے باغ) پر کوئی آفت آسمان سے تو وہ صاف چٹیل میدان ہو کر رہ جائے۔‘‘
یہ بھی ممکن ہے کہ تمہارے اس کفر و تکبر کے باعث اللہ تعالیٰ تمہارے باغوں پر کوئی ایسی آفت نازل کر دے کہ اس قطعہ زمین پر کسی درخت یا کسی بیل وغیرہ کا نام و نشان تک نہ رہے۔
’’یا اس کا پانی گہرائی میں اتر جائے‘ پھرتم اس (پانی) کو کسی طرح حاصل نہ کر سکو۔‘‘
اللہ تمہارے باغ پر کوئی آسمانی آفت نہ بھی بھیجے تو یوں بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے حکم سے اس کا زیر زمین پانی غیر معمولی گہرائی میں چلا جائے۔ اس کے نتیجے میں تمہارا بنایا ہوا نظام آب پاشی ختم ہوکر رہ جائے اور اس طرح پانی کے بغیر یہ باغ خود بخود ہی اجڑ جائے۔ یعنی حقیقی مسبب الاسباب تو اللہ ہی ہے۔ اسی نے مختلف اسباب مہیا کر رکھے ہیں جس سے یہ کاروبارِ دنیا چل رہا ہے۔ وہ جب چاہے کسی سبب کو سلب کر لے یا اس کی ہیئت کو بدل دے اور اس کی وجہ سے یہ سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے۔یہ معاملہ تو گویا شیش محل کی طرح کا ہے کہ ایک ہی پتھر اس کو چکنا چور کر کے رکھ دے گا۔
آیت 42
وَ اُحِیۡطَ بِثَمَرِہٖ
’’ اور اُس کا سارا ثمر سمیٹ لیا گیا‘‘
اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نعمتیں دی گئی تھیں وہ سب اس سے سلب کر لی گئیں۔ باغ بھی اجڑ گیا اور اولاد بھی چھن گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دوسرا شخص اللہ کا خاص مقرب بندہ تھا۔ مال دار شخص نے اسے اس کی ناداری کا طعنہ دیا تھا : {اَنَا اَکۡثَرُ مِنۡکَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا ﴿۳۴﴾} کہ مال و دولت میں بھی مجھے تم پر فوقیت حاصل ہے اور نفری میں بھی میں تم سے بڑھ کرہوں۔ اس طعنے سے اللہ کے اس نیک بندے کا دل دکھا ہو گا‘جس کی سزا اسے فوری طور پر ملی اور اللہ نے اس سے سب کچھ چھین لیا۔ اس سلسلے میں ایک حدیث قدسی ہے: حدیث((مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیاًّ فَقَدْ آذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ))۱’’جو شخص میرے کسی ولی کے ساتھ دشمنی کر ے تو میری طرف سے اُس کے خلاف اعلانِ جنگ ہے‘‘۔کسی شاعر نے اس مضمون کو اس طرح ادا کیا ہے:
؎
تا دلِ صاحب دلے نالد بہ درد ہیچ قومے را خدا رسوا نہ کرد!
یعنی کسی صاحب دل ولی اللہ کے دل کو جب ٹھیس لگتی ہے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پوری قوم گرفت میں آ جاتی ہے۔
’’تو وہ ہاتھ ملتا رہ گیا اس پر جو کچھ اس نے اس میں خرچ کیا تھا‘‘
یقینا ان باغوں کی منصوبہ بندی کرنے‘پودے لگانے اور ان کی نشوونما کرنے میں اس نے زرِ کثیر خرچ کیا تھا‘مسلسل محنت کی تھی اور اپنا قیمتی وقت اس میں کھپایا تھا۔ اس کا یہ تمام سرمایہ آن کی آن میں نیست و نابود ہو گیا اور وہ اس کی بربادی پر کفِ افسوس ملنے کے علاوہ کچھ نہ کر سکا۔
وَ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا
’’اور وہ (باغ) گرا پڑا تھا اپنی چھتریوں پر‘‘
انگوروں کی بیلیں جن چھتریوں پر چڑھائی گئی تھیں وہ سب کی سب اوندھی پڑی تھیں۔
’’اور وہ کہہ رہا تھا :ہائے میری شامت‘ کاش میں نے اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا۔‘‘
اس مال دار شخص کے مکالمے سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اُس شخص نے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے اختیار کو بھلا کر ظاہری اسباب اور مادی وسائل پر توکل کر لیا تھا ‘ اور یہی وہ شرک تھا جس کا خود اس نے یہاں اعتراف کیا ہے۔ آج کی مادہ پرستانہ ذہنیت کا مکمل نقشہ اس رکوع میں پیش کر دیا گیا ہے۔یہ شرک کی جدید قسم ہے جس کو پہچاننے اور جس سے محتاط رہنے کی آج ہمیں اشد ضرورت ہے۔ (اس حوالے سے میری کتاب ’’حقیقت و اقسامِ شرک‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا‘ جس میں شرک اور اس کی اقسام کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔)
’’اور نہ ہوئی اُس کے لیے کوئی جماعت جواللہ کے مقابلے میں اُس کی مدد کو آتی اور نہ وہ خود ہی انتقام لینے والا بن سکا۔‘‘
اللہ کے مقابلے میں بھلاکون اس کی مدد کر سکتا تھا اور اس صورت حال میں وہ کس سے انتقام لے سکتا تھا؟
آیت 44
ہُنَالِکَ الۡوَلَایَۃُ لِلّٰہِ الۡحَقِّ ؕ
’’یہاں تو تمام اختیار اللہ ہی کا ہے جو الحق ہے۔‘‘
ولایت کے معنی یہاں حکومت اور اقتدار کے ہیں۔ ’’والی‘‘ کسی ملک یا علاقے کے مالک یا حکمران کو کہتے ہیں اور اسی سے یہ لفظ وَلایت (واؤ کی زبر کے ساتھ) بناہے۔ اس لحاظ سے آیت کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ کل کا کل اقتدار و اختیار اللہ کے لیے ہے جو ’’الحق‘‘ ہے۔اسی مادہ سے لفظ ’’ولی ‘‘بھی ہے جس کے معنی دوست اور پشت پناہ کے ہیں۔ اسی مادّے سے وِلایت (واؤ کی زیر کے ساتھ) بناہے اور یہ دوستی اور محبت کے معنی دیتا ہے۔ درج ذیل آیات میں اسی ولایت کا ذکر ہے: {اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ۬ؕ } (البقرۃ:۲۵۷) اور {اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ۶۲﴾} ( یونس )۔
ہُوَ خَیۡرٌ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ عُقۡبًا ﴿٪۴۴﴾
’’وہی بہتر ہے انعام دینے میں اور وہی بہتر ہے عاقبت کے اعتبار سے۔‘‘
انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے۔
سبزے کے اُگنے ‘اس کے نشوونما پانے اور پھر خشک ہو کر خس و خاشاک کی شکل اختیار کرلینے کے عمل کو انسانی زندگی کی مشابہت کی بنا پر یہاں بیان کیا گیا ہے۔ بارش کے برستے ہی زمین سے طرح طرح کے نباتات نکل آتے ہیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے زمین سر سبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ جب یہ سبزہ اپنے جوبن پر ہوتا ہے تو بڑا خوش کن منظر پیش کرتا ہے۔ مگر پھر جلد ہی اس پر زردی چھانے لگتی ہے اور چند ہی دنوں میں لہلہاتا ہوا سبزہ خس و خاشاک کا ڈھیر بن جاتا ہے اور زمین پھر سے چٹیل میدان کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ سبزے یا کسی فصل کے اُگنے ‘بڑھنے اور خشک ہونے کا یہ دورانیہ چند ہفتوں پر محیط ہو یا چند مہینوں پر‘اس کی اصل حقیقت اور کیفیت بس یہی ہے۔
اس مثال کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو بالکل یہی کیفیت انسانی زندگی کی بھی ہے۔جس طرح نباتاتی زندگی کا آغاز آسمان سے بارش کے برسنے سے ہوتا ہے اسی طرح روح کے نزول سے انسانی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ انسانی روح کا تعلق عالم امر سے ہے: {قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ} ( بنی اسرائیل:۸۵)۔ شکم مادر میں جسد خاکی کے اندر روح پھونکی گئی ‘بچہ پیدا ہوا‘خوشیاں منائی گئیں‘جوان اور طاقت ور ہوا ‘تمام صلاحیتوں کو عروج ملا‘پھر ادھیڑ عمر کو پہنچا ‘جسم اور اس کی صلاحیتیں روز بروز زوال پذیر ہونے لگیں‘بالوں میں سفیدی آ گئی‘چہرے پر جھریاں پڑ گئیں‘موت وارد ہوئی‘قبر میں اتارا گیا اور مٹی میں مل کر مٹی ہو گیا۔ اس cycle کا دورانیہ مختلف افراد کے ساتھ مختلف سہی مگر انسانی زندگی کے آغاز و انجام کی حقیقت بس یہی کچھ ہے۔ چنانچہ انسان کو یہ بات کسی وقت نہیں بھولنی چاہیے کہ دنیا کاعرصۂ حیات ایک وقفۂ امتحان ہے جسے ہر انسان اپنے اپنے انداز میں گزار رہا ہے۔
اس سورت میں دُنیوی زندگی کی زیب و زینت کا ذکر یہاں تیسری مرتبہ آیا ہے۔ اس سے پہلے ہم آیت۷ میں پڑھ آئے ہیں کہ روئے زمین کی آرائش و زیبائش اور تمام رونقیں انسانوں کے امتحان کے لیے بنائی گئی ہیں: {اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَی الۡاَرۡضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبۡلُوَہُمۡ اَیُّہُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾} ۔ پھر آیت ۲۸ میں رسول اللہﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا: {تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ} کہ اے نبی(ﷺ) کہیں ان لوگوں کو یہ گمان نہ ہو کہ آپؐ کا مطلوب و مقصود بھی دُنیوی زندگی کی آرائش و زیبائش ہی ہے (معاذ اللہ!)۔ گویا یہ موضوع اس سورت کے مضامین کا عمود ہے۔ لہٰذایہ حقیقت ہر وقت ہمارے ذہن میں مستحضر رہنی چاہیے کہ یہ زندگی اور دُنیوی مال و متاع سب عارضی ہیں۔ یہاں کے رشتے ناطے اور تمام تعلقات بھی اسی چار روزہ زندگی تک محدود ہیں۔ انسان کی آنکھ بند ہوتے ہی تما م رشتے اور تعلقات منقطع ہو جائیں گے اور اللہ کی عدالت میں ہر انسان کو تن تنہا پیش ہونا ہو گا : {وَ کُلُّہُمۡ اٰتِیۡہِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فَرۡدًا ﴿۹۵﴾} ( مریم) وہاں نہ باپ اولاد کی مدد کرے گا‘نہ بیٹا والدین کو سہارا دے گا‘اور نہ بیوی شوہر کا ساتھ دے گی۔ اس دن کے محاسبے کا سامنا ہر شخص کو اکیلے ہی کرنا ہو گا۔
’’اور باقی رہنے والی نیکیاں بہت بہتر ہیں تیرے رب کے نزدیک ‘ثواب کے لحاظ سے بھی اور امید کے اعتبار سے بھی۔‘‘
اس مختصر زندگی کی کمائی میں اگر کسی چیز کو بقا حاصل ہے تو وہ نیک اعمال ہیں۔ آخرت میں صرف وہی کام آئیں گے۔ چنانچہ دُنیوی مال و اسباب سے امیدیں نہ لگائو‘اولاد سے توقعات مت وابستہ کرو۔ یہ سب عارضی چیزیں ہیں جو تمہاری موت کے ساتھ ہی تمہارے لیے بے وقعت ہو جائیں گی۔ آخرت کا سہارا چاہیے تو نیک اعمال کا توشہ جمع کرو اور اسی پونجی سے اپنی امیدیں وابستہ کرو۔
’’اور جس دن ہم چلائیں گے پہاڑوں کو اور تم دیکھو گے زمین کو صاف چٹیل‘‘
اب قیامت کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے کہ اُس دن پہاڑ اپنی جگہ چھوڑدیں گے‘زمین کے تمام نشیب و فراز ختم ہوجائیں گے اور پورا کرۂ ارض ایک صاف چٹیل میدان کی شکل اختیار کرلے گا۔
’’اور وہ پیش کیے جائیں گے آپ کے رب کے سامنے صفیں باندھے ہوئے۔(تب انہیں کہا جائے گا) آ گئے ہو نا ہمارے پاس‘ جیسے ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا!‘‘
یہاں ’’پہلی مرتبہ ‘‘پیدا کرنے سے مراد عالم ارواح میں انسانی ارواح کی تخلیق ہے‘ جبکہ اس زمین پر جسم اور روح کے ملاپ سے کی جانے والی انسانی تخلیق دراصل تخلیق ثانی ہے ۔ فرض کریں اس دنیا کی عمر پندرہ ہزار برس ہے‘ تو ان پندرہ ہزار برسوں میں وہ تمام انسان اس دنیا میں آ چکے ہیں جن کی ارواح اللہ تعالیٰ نے پیدا کی تھیں۔ ان تمام انسانوں کو قیامت کے دن پھر سے اکٹھا کر لیا جائے گا۔ چنانچہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تمام انسان جیسے عالم ارواح میں بیک وقت ایک جگہ اکٹھے تھے ‘اسی طرح قیامت کے دن بھی میدانِ حشر میں سب کے سب بیک وقت موجود ہوں گے۔
’’بلکہ تم نے تو سمجھ رکھا تھا کہ ہم تمہارے لیے وعدے کا کوئی وقت مقرر ہی نہیں کریں گے۔‘‘
یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو قرآن کے الفاظ میں {الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا} (وہ لوگ جنہیں ہماری ملاقات کی امید نہیں)کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایسے لوگ جب اللہ کے حضور پیش ہوں گے تو انہیں ان کا وعدۂ الست {اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ} ( الاعراف:۱۷۲) بھی یاد دلایا جائے گا‘ کہ تم لوگوں نے مجھے اپنا رب تسلیم کیا تھا‘ پھر تم دنیا کی زندگی میں اس حقیقت کو بالکل ہی بھول گئے کہ تم نے واپس ہمارے پاس بھی آنا ہے۔تمہیں گمان تک نہیں تھا کہ ہم تمہارے لیے اپنے سامنے پیشی کا کوئی وقت مقرر کریں گے۔
آیت 49
وَ وُضِعَ الۡکِتٰبُ
’’اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ‘‘
یہ پوری نوع انسانی کے ایک ایک فرد کی زندگی کے ایک ایک لمحے اور ایک ایک عمل کی تفصیل پر مشتمل ریکارڈ ہو گا۔ گویا یہ ایک بہت بڑا کمپیوٹر سسٹم ہے جو کسی جگہ پرنصب کیا گیا ہے اور وہاں سے لا کر میدان حشر میں رکھ دیا جائے گا۔ آج سے سو برس پہلے تو ایسی تفصیلات کو تسلیم کرنے کے لیے صرف ایمان بالغیب کا ہی سہارا لینا پڑتا تھا مگر آج کے دور میں اس سب کچھ پر یقین کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ آج ہم انسان کے بنائے ہوئے کمپیوٹر کے کمالات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اپنے معمولاتِ زندگی میں ان سے استفادہ کر رہے ہیں۔ آج جب ہم ایک بٹن جتنی جسامت کی chip میں مفصل معلومات پر مشتمل ریکارڈ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو ہمیں اللہ تعالیٰ کی وضع کردہ ڈیٹا بیس (الکتاب)کے بارے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ اس میں کس طرح ایک ایک فرد کی ایک ایک حرکت کی ریکارڈنگ محفوظ ہو گی اور پلک جھپکنے کی دیر بھی نہیں لگے گی کہ اس کا پرنٹ متعلقہ فرد کے ہاتھ میں تھما دیا جائے گا۔
’’اور یاد کرو جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ سجدہ کرو آدمؑ کو‘تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا)۔‘‘
یہاں سورۂ بنی اسرائیل اور سورۃ الکہف کی مشابہت کے سلسلے میں یہ اہم بات نوٹ کیجئے کہ سورۃ الکہف کے ساتویں رکوع کی پہلی آیت کے الفاظ بعینہٖ وہی ہیں جو سورۂ بنی اسرائیل کے ساتویں رکوع کی پہلی آیت کے ہیں۔ حضرت آدمؑ اور ابلیس کا یہ قصہ قرآن میں سات مقامات پر بیان ہوا ہے۔ باقی چھ مقامات پر تو اس کا ذکر نہیں مگر یہاں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ ابلیسِ جنات میں سے تھا:
’’وہ جنات میں سے تھا ‘چنانچہ اُس نے نافرمانی کی اپنے رب کے حکم کی۔‘‘
یہاں پر ’’فَ‘‘ علت کو ظاہر کر رہا ہے کہ چونکہ وہ جنات میں سے تھا اس لیے نافرمانی کا مرتکب ہوا۔ ورنہ فرشتے کبھی اپنے رب کے حکم سے سرتابی نہیں کرتے: {لَّا یَعۡصُوۡنَ اللّٰہَ مَاۤ اَمَرَہُمۡ وَ یَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶﴾} ( التحریم) ’’وہ (فرشتے )اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے وہ جو بھی حکم انہیں دے اور وہ وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔‘‘
’’تو کیا تم بناتے ہو اُسے اور اُس کی اولاد کو دوست میرے سوا‘ درآنحالیکہ وہ تمہارے دشمن ہیں؟‘‘
اے اولادِ آدم ؑ!ذرا سوچو‘ تم مجھے چھوڑکر اس ابلیس کو اپنا ولی اور کارسازبناتے ہو جس نے یوں میری نافرمانی کی تھی۔ تمہارا خالق اور مالک میں ہوں‘میں نے تمہیں اشرف المخلوقات کے مرتبے پر فائز کیا‘میں نے فرشتوں کو تمہارے سامنے سرنگوں کیا‘تمہیں خلافت ارضی سے نوازا‘ اور تم ہو کہ میرے مقابلے میں ابلیس اور اس کی صلبی و معنوی اولاد سے دوستیاں گانٹھتے پھرتے ہو‘ جبکہ فی الواقع وہ تمہارے دشمن ہیں۔
بِئۡسَ لِلظّٰلِمِیۡنَ بَدَلًا ﴿۵۰﴾
’’کیا ہی برا بدل ہے ان ظالموں کے لیے !‘‘
اللہ کو چھوڑ کر اپنے دشمن شیطان اور اس کے چیلوں کی رفاقت اختیار کر کے ان ظالموں نے اپنے لیے کس قدر برا بدل اختیار کر رکھا ہے۔
’’اورمیں بہکانے والوں کو اپنا مدد گار بنانے والا نہ تھا۔‘‘
یہ جو تم شیطان اور اس کے گروہ کو میرے برابر لا رہے ہو اور مجھے چھوڑ کر انہیں اپنا دوست بنا رہے ہو تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ زمین و آسمان کی تخلیق اور خود اپنی تخلیق کے موقع کے گواہ نہیں ہیں۔
’’تو وہ انہیں پکاریں گے مگر وہ انہیں کوئی جواب نہیں دیں گے ا ور ہم ان کے درمیان ہلاکت (کی گھاٹی) حائل کردیں گے۔‘‘
یہ شریک ٹھہرائی جانے والی شخصیات چاہے انبیاء ہوں‘اولیاء اللہ ہوں یا فرشتے ‘روزِ قیامت ان کے اور انہیں شریک ماننے والوں کے درمیان ہلاکت خیز خلیج حائل کر دی جائے گی تا کہ انہیں معلوم ہو جائے کہ وہ ان کی مدد کو نہیں آ سکتے۔