وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی تِسۡعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ
’’اور ہم نے موسیٰؑ کو نو واضح نشانیاں عطا کی تھیں‘‘
ان میں سے دو نشانیاں تو وہ تھیں جو آپؑ کو ابتدا میں عطا ہوئی تھیں ‘یعنی عصا کا اژدھا بن جانا اور یدِ بیضا۔ ان کے علاوہ سات نشانیاں وہ تھیں جن کا ذکر سورۃ الاعراف کی آیات ۱۳۰اور ۱۳۳میں ہوا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف قسم کے عذاب تھے (قحط سالی ‘پھلوں اور فصلوں کا نقصان‘طوفان‘ٹڈی دل‘چچڑیاں‘مینڈک اور خون)جو مصر میں قومِ فرعون پر مختلف اوقات میں آتے رہے ۔ جب وہ لوگ عذاب کی تکالیف سے تنگ آتے تو اسے ٹالنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کرتے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وہ عذاب ٹل جاتا ۔
یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ سورت کے آغاز میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا ور اب آخر میں بھی آپؑ کا ذکر ہونے جا رہا ہے۔ یہ اسلو ب ہمیں قرآن حکیم کی ان سورتوں میں ملتا ہے جو ایک خطبے کے طور پر ایک ہی تنزیل میں نازل ہوئی ہیں۔ ایسی سورتوں کی ابتدائی اور آخری آیات خصوصی اہمیت اور فضیلت کی حامل ہوتی ہیں اور ان کے مضامین میں ایک خاص ربط پایا جاتا ہے۔ سورت کے آغاز میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ کے اُس دور کا ذکر کیا گیا ہے جب آپؑ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں آ چکے تھے اور وہاں سے آپؑ کو کوہِ طو ر پر بلا کر تورات عطا کی گئی تھی: {وَ جَعَلۡنٰہُ ہُدًی لِّبَـنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اَلَّا تَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِیۡ وَکِیۡلًا ؕ﴿۲﴾} ’’ اور ہم نے موسیٰؑ کو کتاب (تورات) دی اور ہم نے اُسے بنایا ہدایت بنی اسرائیل کے لیے ‘کہ تم مت بناؤ میرے سوا کسی کو کارساز‘‘۔ اب آخر میں بنی اسرائیل کے زمانۂ مصر کے حالات کے حوالے سے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا جا رہا ہے:
فَسۡـَٔلۡ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِذۡ جَآءَہُمۡ فَقَالَ لَہٗ فِرۡعَوۡنُ اِنِّیۡ لَاَظُنُّکَ یٰمُوۡسٰی مَسۡحُوۡرًا ﴿۱۰۱﴾
’’تو ذرا پوچھیں بنی اسرائیل سے (اس زمانے کا حال) جب کہ موسیٰ ؑان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ ؑ میں تو تمہیں ایک سحر زدہ آدمی سمجھتا ہوں۔‘‘
دیکھئے جو الفاظ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہے تھے عین وہی الفاظ حضورﷺ کے لیے آپؐ کے مخالفین کی طرف سے استعمال کیے گئے ہیں۔ اسی سورت میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ قریش مکہ آپﷺ کے بارے میں کہتے تھے: {اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴿۴۷﴾} ’’ تم نہیں پیروی کر رہے مگر ایک سحر زدہ شخص کی۔‘‘