تحریر

الإسراء

آیات ۱۰۱ تا ۱۰۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

101-103

فرعون کی ہٹ دھرمی اور بربادی

ویڈیو

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی تِسۡعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسۡـَٔلۡ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِذۡ جَآءَہُمۡ فَقَالَ لَہٗ فِرۡعَوۡنُ اِنِّیۡ لَاَظُنُّکَ یٰمُوۡسٰی مَسۡحُوۡرًا ﴿۱۰۱﴾ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ ہٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ بَصَآئِرَ ۚ وَ اِنِّیۡ لَاَظُنُّکَ یٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًا ﴿۱۰۲﴾ فَاَرَادَ اَنۡ یَّسۡتَفِزَّہُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ فَاَغۡرَقۡنٰہُ وَ مَنۡ مَّعَہٗ جَمِیۡعًا ﴿ۙ۱۰۳﴾

آیت 101

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی تِسۡعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ

’’اور ہم نے موسیٰؑ کو نو واضح نشانیاں عطا کی تھیں‘‘

ان میں سے دو نشانیاں تو وہ تھیں جو آپؑ کو ابتدا میں عطا ہوئی تھیں ‘یعنی عصا کا اژدھا بن جانا اور یدِ بیضا۔ ان کے علاوہ سات نشانیاں وہ تھیں جن کا ذکر سورۃ الاعراف کی آیات ۱۳۰اور ۱۳۳میں ہوا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف قسم کے عذاب تھے (قحط سالی ‘پھلوں اور فصلوں کا نقصان‘طوفان‘ٹڈی دل‘چچڑیاں‘مینڈک اور خون)جو مصر میں قومِ فرعون پر مختلف اوقات میں آتے رہے ۔ جب وہ لوگ عذاب کی تکالیف سے تنگ آتے تو اسے ٹالنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کرتے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وہ عذاب ٹل جاتا ۔

یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ سورت کے آغاز میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا ور اب آخر میں بھی آپؑ کا ذکر ہونے جا رہا ہے۔ یہ اسلو ب ہمیں قرآن حکیم کی ان سورتوں میں ملتا ہے جو ایک خطبے کے طور پر ایک ہی تنزیل میں نازل ہوئی ہیں۔ ایسی سورتوں کی ابتدائی اور آخری آیات خصوصی اہمیت اور فضیلت کی حامل ہوتی ہیں اور ان کے مضامین میں ایک خاص ربط پایا جاتا ہے۔ سورت کے آغاز میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ کے اُس دور کا ذکر کیا گیا ہے جب آپؑ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں آ چکے تھے اور وہاں سے آپؑ کو کوہِ طو ر پر بلا کر تورات عطا کی گئی تھی: {وَ جَعَلۡنٰہُ ہُدًی لِّبَـنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اَلَّا تَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِیۡ وَکِیۡلًا ؕ﴿۲﴾} ’’ اور ہم نے موسیٰؑ کو کتاب (تورات) دی اور ہم نے اُسے بنایا ہدایت بنی اسرائیل کے لیے ‘کہ تم مت بناؤ میرے سوا کسی کو کارساز‘‘۔ اب آخر میں بنی اسرائیل کے زمانۂ مصر کے حالات کے حوالے سے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا جا رہا ہے:

فَسۡـَٔلۡ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِذۡ جَآءَہُمۡ فَقَالَ لَہٗ فِرۡعَوۡنُ اِنِّیۡ لَاَظُنُّکَ یٰمُوۡسٰی مَسۡحُوۡرًا ﴿۱۰۱﴾

’’تو ذرا پوچھیں بنی اسرائیل سے (اس زمانے کا حال) جب کہ موسیٰ ؑان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ ؑ میں تو تمہیں ایک سحر زدہ آدمی سمجھتا ہوں۔‘‘

دیکھئے جو الفاظ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہے تھے عین وہی الفاظ حضورﷺ کے لیے آپؐ کے مخالفین کی طرف سے استعمال کیے گئے ہیں۔ اسی سورت میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ قریش مکہ آپﷺ کے بارے میں کہتے تھے: {اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴿۴۷﴾} ’’ تم نہیں پیروی کر رہے مگر ایک سحر زدہ شخص کی۔‘‘

آیت 102

قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ ہٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ بَصَآئِرَ ۚ

’’موسیٰؑ نے کہا: تجھے خوب معلوم ہے کہ نہیں نازل کیا ان (نشانیوں) کو مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے آنکھیں کھول دینے کے لیے۔‘‘

وَ اِنِّیۡ لَاَظُنُّکَ یٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًا ﴿۱۰۲﴾

’’اور اے فرعون! میں تو تمہیں ہلاکت زدہ سمجھتا ہوں۔‘‘

ایک تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مزاج جلالی تھا ‘دوسرے آپؑ بچپن سے اس فرعون کے ساتھ پلے بڑھے تھے‘ اس طرح اس کی حیثیت آپؑ کے چھوٹے بھائی کی سی تھی۔ چنانچہ آپؑ نے بڑے با رعب انداز میں بلا جھجک جواب دیا کہ تمہیں تو مجھ پرجادو کے اثر کاگمان ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ تو ربِ کائنات کی بصیرت افروز واضح نشانیوں کو جھٹلا کر اپنی ہلاکت اور بربادی کو یقینی بنا چکا ہے۔

آیت 103

فَاَرَادَ اَنۡ یَّسۡتَفِزَّہُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ

’’تو اُس نے ارادہ کیا کہ انہیں اکھاڑ پھینکے زمین سے‘‘

فرعون باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنی اسرائیل کی نسل کشی کررہا تھا ۔ وہ ان کے لڑکوں کو قتل کروا دیتا اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا تھا ۔ اور کسی بھی قوم کے مکمل استیصال کا اس سے زیادہ مؤثر طریقہ بھلا اور کیا ہو سکتا ہے!

فَاَغۡرَقۡنٰہُ وَ مَنۡ مَّعَہٗ جَمِیۡعًا ﴿ۙ۱۰۳﴾

’’لیکن ہم نے غرق کر دیا اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو۔‘‘

104

قربِ قیامت یہود ایک مقام پر جمع کردیے جائیں گے

ویڈیو

وَّ قُلۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ لِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اسۡکُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ جِئۡنَا بِکُمۡ لَفِیۡفًا ﴿ؕ۱۰۴﴾

آیت 104

وَّ قُلۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ لِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اسۡکُنُوا الۡاَرۡضَ

’’اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ تم لوگ زمین میں آباد ہو جاؤ‘‘

فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ جِئۡنَا بِکُمۡ لَفِیۡفًا ﴿ؕ۱۰۴﴾

’’پھر جب آئے گا پچھلے وعدے کا وقت تو ہم لے آئیں گے تم سب کو سمیٹ کر۔‘‘

اکثر وبیشتر مفسرین نے وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ سے آخرت یعنی قیامت مراد لی ہے۔ یعنی جب قیامت آئے گی تو تم لوگ جہاں کہیں بھی ہو گے سب کو اکٹھا کر کے ہم میدانِ حشر میں لے آئیں گے۔ لیکن میرے خیال میں ان الفاظ میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ جب آخرت کا وقت قریب آئے گا تو بنی اسرائیل کو ہر کہیں سے اکٹھا کر کے ایک جگہ جمع کر لیا جائے گا۔ یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کر کے بہت بڑے جرم کے مرتکب ہو چکے تھے۔ اس کے بعد نبی آخر الزماںﷺکی رسالت کو جھٹلا کر انہوں نے اپنے اس جرم کی مزید توثیق بھی کر دی ۔ چنانچہ اب اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قوم کی حیثیت اس قیدی کی سی ہے جس کو اس کے جرم کی سزا سنائی جا چکی ہو‘ مگر اس سزا کی تعمیل (execution) ابھی باقی ہو۔

اس سورت کے نزول کے وقت بنی اسرائیل کے دورِ انتشار (Diaspora) یعنی فلسطین سے بے دخل ہوئے ساڑھے پانچ سو سال ہو چکے تھے۔ پچھلی صدی تک بھی ان کی کیفیت یہ تھی کہ یہ لوگ پوری دنیا میں بکھرے ہوئے تھے۔ چونکہ کسی اجتماعی سزا یا عذاب کے لیے ان کا ایک جگہ اکٹھے ہونا ضروری تھا اس لیے قدرت کی طرف سے اسرائیل کی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا اور آیت زیر نظر کے الفاظ کے عین مطابق د نیا کے کونے کونے سے تمام یہودیوں کو اکٹھا کر کے یہاں آباد کیا گیا۔ اب اپنے زعم میں تو ان لوگوں نے عظیم تر اسرائیل (Greater Israel) کا منصوبہ اور نقشہ تیار کر رکھا ہے اور عین ممکن ہے ان کا یہ منصوبہ پورا بھی ہو جائے‘ مگر بالآخریہ عظیم تر اسرائیل ان کے لیے عظیم تر قبرستان ثابت ہو گا(واللہ اعلم!)آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور آپؑ ہی کے ہاتھوں اس قوم کی ہلاکت ہو گی ۔

اب آخری آیات میں پھر سے قرآن مجید کا ذکر بڑے عظیم الشان انداز میں آ رہا ہے:

یوٹیوب پر دیکھیے