’’اور اس (قرآن) کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور یہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے۔‘‘
یہاں ’’حق‘‘ کا لفظ خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور اس لفظ کی معنوی تاثیر کو واضح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے دونوں دفعہ خاص طور پر زور دے کر اور واضح کر کے پڑھا جائے۔ اس آیت کا انداز بالکل وہی ہے جو سورۃ الطارق کی ان آیات میں پایا جاتا ہے: {اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ ﴿ۙ۱۳﴾وَّ مَا ہُوَ بِالۡہَزۡلِ ﴿ؕ۱۴﴾} ’’یقینا یہ (قرآن) قولِ فیصل ہے اور یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے‘‘۔اس مفہوم کی وضاحت ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث نبویؐ میں ملتی ہے : حدیث((اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ))۱’’یقینا اللہ اس کتاب کی بدولت کئی قوموں کو اٹھائے گااور کئی دوسری قوموں کو گرائے گا‘‘۔ چنانچہ قرآن کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عروج بخشا اور جب ہم اس کے تارک ہوئے تو اسی جرم کی پاداش میں ہمیں زمین پر پٹخ دیا گیا:
’’اور (اے نبیﷺ!) نہیں بھیجا ہم نے آپؐ کو مگر بشارت دینے والا اور خبر دار کرنے والا۔‘‘
(۱)صحیح مسلم‘ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا‘ باب فضل من یقوم بالقرآن ویعلمہ … وسنن ابن ماجہ‘ المقدمۃ‘ باب فضل من تعلم القرآن وعلمہ۔ وسنن الدارمی ‘ کتاب فضائل القرآن ‘ باب ان اللّٰہ یرفع بھٰذا القرآن اقواما ویضع آخرین۔
’’اور قرآن کو ہم نے ٹکڑے ٹکڑے (کرکے نازل) کیا ہے‘تا کہ آپؐ اسے لوگوں کو ٹھہرٹھہر کر سنائیں۔‘‘
وَّ نَزَّلۡنٰہُ تَنۡزِیۡلًا ﴿۱۰۶﴾
’’اور ہم نے اس کو اُتارا ہے تھوڑا تھوڑا کر کے!‘‘
قرآن کے مختلف احکام حالات کے عین مطابق مختلف مواقع پر نازل کیے جاتے رہے تا کہ جن آیات یا احکام کی جس وقت ضرورت ہو وہی لوگوں کو پڑھ کر سنائے جائیں۔ جیسے جیسے رسول اللہﷺ کی تحریک اور دعوت آگے بڑھتی گئی ویسے ویسے قرآن کے احکام کے ذریعے اس کے لیے فکری رہنمائی مہیا کی جاتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ پورا قرآن یکبارگی نازل نہیں کیاگیا۔
آیت 107
قُلۡ اٰمِنُوۡا بِہٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا ؕ
’’آپؐ کہہ دیجئے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ!‘‘
’’اور وہ کہتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا رب‘یقینا ہمارے رب کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا۔‘‘
جب قرآن کہہ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ علمائے یہود میں لازماً کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اس طرح کے خیالات کے حامل ہوں گے۔ ہجرت سے قبل رسول اللہﷺ کی نبوت کے بارے میں اطلاعات تو یہود مدینہ کو ملتی رہتی تھیں ۔ اس کے ساتھ ہی قرآن کی کچھ آیات بھی ان تک ضرور پہنچ چکی ہوں گی۔ اس پس منظر میں ہوسکتا ہے کہ ان کے بعض اہل علم نہ صرف قرآن کو پہچان کر اللہ کے حضور سجدوں میں گرے ہوں بلکہ اُن کی زبانوں پر بے اختیار یہ الفاظ بھی آ گئے ہوں کہ اللہ نے جو آخری نبی بھیجنے کا وعدہ کر رکھا تھا وہ تو آخر پورا ہونا ہی تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جو بائبل کی کتاب استثناء کے اٹھارہویں باب کی آیت۱۸اور۱۹میں ان الفاظ میں آج بھی موجود ہے کہ اے موسیٰؑ میں ان کے بھائیوں (بنی اسرائیل کے بھائی یعنی بنو اسماعیل) میں تیری مانند ایک نبی اٹھاؤں گا اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا اور وہ لوگوں سے وہی کچھ کہے گا جو میں اسے بتاؤں گا۔
’’اور وہ گر پڑتے ہیں اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے اور یہ (قرآن )اضافہ کرتا ہے ان کے خشوع میں۔‘‘
اب وہ دو آخری آیات آ رہی ہیں جن کے متعلق آغاز میں بتایا گیا تھا کہ وہ معرفتِ خداوندی اور توحیدِ ربانی کے عظیم خزانے ہیں۔ اس کے بعد سورۃ الکہف کے آخر میں بھی دو آیات آئیں گی جو ان آیات کی طرح بہت عظیم ہیں۔