وَ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ
’’اور انہوں نے کہا کہ ہم ہر گز آپؐ کی بات نہیں مانیں گے‘‘
حَتّٰی تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ یَنۡۢبُوۡعًا ﴿ۙ۹۰﴾
’’یہاں تک کہ آپؐ جاری کردیں ہمارے لیے زمین سے ایک چشمہ۔‘‘
مشرکین مکہ کی طرف سے اس طرح کے مطالبات بار بار کیے جاتے تھے کہ جب تک آپﷺ ہمیں کوئی معجزہ نہیں دکھائیں گے ہم آپؐ کو رسول نہیں مانیں گے۔
اَوۡ تَکُوۡنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡہٰرَ خِلٰلَہَا تَفۡجِیۡرًا ﴿ۙ۹۱﴾
’’یا آپؐ کے لیے بن جائے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ‘پھر آپ جاری کردیں اس کے اندر نہریں۔‘‘
اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمۡتَ عَلَیۡنَا کِسَفًا
’’یا آپؐ گرا دیں آسمان ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے جیسا کہ آپؐ دعویٰ کرتے ہیں‘‘
یعنی آپﷺ ہمیں قیامت کے حوالے سے خبریں سنا سنا کر جو ڈراتے رہتے ہیں کہ اُس وقت آسمان پھٹ جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے‘تو آپﷺ آسمان کا کوئی ٹکڑا ابھی ہم پر گرا کر دکھا دیں۔
اَوۡ تَاۡتِیَ بِاللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیۡلًا ﴿ۙ۹۲﴾
’’یا آپ لے آئیں اللہ کو اور فرشتوں کو (ہمارے) سامنے۔‘‘
اَوۡ یَکُوۡنَ لَکَ بَیۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ اَوۡ تَرۡقٰی فِی السَّمَآءِ ؕ
’’یا آپؐ کے لیے سونے کا ایک محل(تعمیر ) ہو جائے‘یا آپؐ آسمان میں چڑھ جائیں‘‘
وَ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیۡنَا کِتٰبًا نَّقۡرَؤُہٗ ؕ
’’اور ہم آپؐ کے (آسمان میں) چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے یہاں تک کہ آپؐ اتار لائیں ایک کتاب جسے ہم خود پڑھیں۔‘‘
ان لوگوں کے ان تمام مطالبات کے جواب میں صرف ایک بات فرمائی گئی:
قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴿٪۹۳﴾
’’آپؐ کہہ دیجیے کہ میرا رب پاک ہے‘ میں نہیں ہوںمگر ایک بشر رسول۔‘‘
یعنی میں بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں۔ میں بھی اسی طرح پیدا ہوا ہوں جس طرح تم سب لوگ پیدا ہوئے ہو۔ میں تمہاری ہی طرح کھاتا پیتا ہوں‘دنیا کے کام کاج کرتا ہوں ‘بازاروںمیں چلتا پھرتا ہوں اور میں نے ہر سطح پر کاروبار بھی کیا ہے۔ میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اور میری سیرت اوراخلاق و کردار روزِروشن کی طرح تمہارے سامنے ہے۔مجھ میں اور تم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے ‘اور اللہ کا وہ پیغام جو بذریعہ وحی مجھ تک پہنچتا ہے وہ میں تم لوگوں تک پہنچانے پر مامور ہوں۔
اگرچہ سیرت و کردار اور مرتبہ رسالت و نبوت کے اعتبار سے عام انسانوں سے نبی اکرمﷺکی کوئی مناسبت نہیں‘مگر عام بشری تقاضوں کے حوالے سے انہیں یہ جواب دیا گیا کہ میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔