تحریر

الإسراء

آیات ۷۱ تا ۱۰۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

71-72

جان بوجھ کر سرکشی کرنے والا روزِ قیامت اندھا ہوگا

ویڈیو

یَوۡمَ نَدۡعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِہِمۡ ۚ فَمَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ فَاُولٰٓئِکَ یَقۡرَءُوۡنَ کِتٰبَہُمۡ وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۷۱﴾ وَ مَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی وَ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿۷۲﴾

آیت 71

یَوۡمَ نَدۡعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِہِمۡ ۚ

’’جس دن ہم بلائیں گے تمام انسانوں کو ان کے سرداروں کے ساتھ۔‘‘

پھر ذرا اُس دن کا خیال کرو جس دن تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کے لیے اس طرح بلایا جائے گا کہ ہر گروہ اپنے راہنما یا لیڈر کے ساتھ حاضر ہو گا۔ پچھلی آیات میں تمام مخلوق پر انسا ن کی فضیلت کا ذکر کیا گیاہے۔ چنانچہ جب انسان کو اس کائنات میں اس قدر اعلیٰ مقام اور مرتبے سے نوازا گیا ہے تو پھر اس کا محاسبہ بھی ہونا چاہیے: ؏

’’ جن کے رتبے ہیں سوا‘ ان کی سوا مشکل ہے!‘‘

فَمَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ فَاُولٰٓئِکَ یَقۡرَءُوۡنَ کِتٰبَہُمۡ وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۷۱﴾

’’تو جس کو دیا جائے گا اُس کا اعمال نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں تو ایسے لوگ پڑھیں گے اپنے اعمال نامہ کو (خوشی کے ساتھ) اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا دھاگے کے برابر بھی۔‘‘

آیت 72

وَ مَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی وَ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿۷۲﴾

’’اور جو کوئی اس دنیا میں اندھارہاوہ آخرت میں بھی اندھا ہو گا‘اور راہ سے بہت دور بھٹکا ہوا۔‘‘

جس شخص نے اس دنیا میں اپنی پوری زندگی حیوانوں کی طرح گزار دی‘ جس کا دیکھنا اور سننا حیوانوں کا سا دیکھنا اور سننا تھا‘جس نے نہ تو ا نفس و آفاق میں بکھری ہوئی اللہ تعالیٰ کی اَن گنت نشانیوں کو چشم بصیرت سے دیکھا نہ ان کے ذریعے سے اپنے خالق و مالک کو پہچانا‘ اُس نے اپنی زندگی گویا اندھے پن میں گزار دی۔ ایسے شخص کو قیامت کے دن ایسی حالت میں اٹھایا جائے گا کہ وہ اندھا ہو گا۔اسی اندھے پن سے بچنے کے لیے علامہ اقبال نے کیا خوب نصیحت کی ہے: ؏ ’’دیدن دگر آموز‘شنیدن دگر آموز!‘‘

73-75

کافروں کو دشمنی نبی ﷺ سے نہیں قرآن سے ہے

ویڈیو

وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَفۡتِنُوۡنَکَ عَنِ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ لِتَفۡتَرِیَ عَلَیۡنَا غَیۡرَہٗ ٭ۖ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوۡکَ خَلِیۡلًا ﴿۷۳﴾ وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰکَ لَقَدۡ کِدۡتَّ تَرۡکَنُ اِلَیۡہِمۡ شَیۡئًا قَلِیۡلًا ﴿٭ۙ۷۴﴾ اِذًا لَّاَذَقۡنٰکَ ضِعۡفَ الۡحَیٰوۃِ وَ ضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ عَلَیۡنَا نَصِیۡرًا ﴿۷۵﴾

آیت 73

وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَفۡتِنُوۡنَکَ عَنِ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ لِتَفۡتَرِیَ عَلَیۡنَا غَیۡرَہٗ ٭ۖ

’’اور (اے نبیﷺ!) یہ لوگ تواس بات پر تلے ہوئے تھے کہ آپ کو فتنے میں ڈال کر اُس چیز سے ہٹا دیں جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے تا کہ آپ اس کے علاوہ کوئی اور چیز گھڑ کر ہم سے منسوب کر دیں‘‘

یہ آیت اس بے پناہ دباؤ کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس کا سامنا رسول اللہﷺ کو قریش کی طرف سے مکہ میں تھا۔ ایک طرف تو قریش مکہ آپﷺ پر مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے کہ آپﷺ قرآن کے غیر لچک دار اَحکام میں کچھ نرمی پیدا کریں‘ اس کلام میں کچھ ترمیم کر لیں‘کچھ اپنی بات منوائیں اور کچھ ہماری مانیں۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورۂ یونس (آیت۱۵)میں بھی آ چکا ہے: {ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَیۡرِ ہٰذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡہُ ؕ} ’’ (اے محمدﷺ) آپ اس کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن پیش کریں یا پھر اس میں کچھ ردّوبدل کر لیں۔‘‘

دوسری طرف وہ مسلسل یہ مطالبہ بھی کیے جاتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو نشانی کے طور پر ہمیں کوئی معجزہ دکھائیں۔ ان کا یہ مطالبہ ان کے عوام تک میں بہت مقبول ہو چکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حضورﷺ کی اپنی خواہش بھی یہی تھی کہ انہیں کوئی معجزہ دکھا دیا جائے‘ مگر اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا کہ انہیں کوئی حسی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا۔اس سے پہلے سورۃ الانعام (آیت۳۵) میں ہم اللہ تعالیٰ کا دو ٹوک فیصلہ بایں الفاظ پڑھ آئے ہیں : {وَ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکَ اِعۡرَاضُہُمۡ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاۡتِیَہُمۡ بِاٰیَۃٍ ؕ} ’’ اور اگر آپؐ پر ان کی یہ بے اعتنائی گراں گزرتی ہے تو اگر آپؐ استطاعت رکھتے ہیں تو زمین میں کوئی سرنگ کھود یں یا آسمان میں کوئی سیڑھی لگائیں اور لے آئیں ان کے لیے کوئی معجزہ!‘‘ چنانچہ ان دونوں پہلوئوں سے حضورﷺ کو شدید دباؤ کا سامنا تھا‘اور اسی دباؤ کا اظہار اس آیت میں نظر آ رہا ہے ۔

وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوۡکَ خَلِیۡلًا ﴿۷۳﴾

’’اور اگر آپؐ ایسا کرتے تب تو یہ لوگ آپؐ کو اپناگاڑھا دوست بنا لیتے۔‘‘

تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ اس نوعیت کی مداہنت (compromise) کے عوض وہ لوگ آپؐ کو اپنا بادشاہ بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار تھے ۔

آیت 74

وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰکَ لَقَدۡ کِدۡتَّ تَرۡکَنُ اِلَیۡہِمۡ شَیۡئًا قَلِیۡلًا ﴿٭ۙ۷۴﴾

’’ اور اگرہم آپؐ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو عین ممکن تھا کہ آپؐ ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک ہی جاتے۔‘‘

یہ بہت نازک اور اہم مضمون ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں سورۂ یوسف ‘آیت ۲۴ میں اسی طرح فرمایا گیا تھا: {وَ لَقَدۡ ہَمَّتۡ بِہٖ ۚ وَ ہَمَّ بِہَا لَوۡ لَاۤ اَنۡ رَّاٰ بُرۡہَانَ رَبِّہٖ ؕ } یعنی عزیز مصر کی بیوی نے تو قصد کر ہی لیا تھا ‘اور یوسف ؑبھی قصد کر لیتے اگر وہ اللہ کی برہان نہ دیکھ لیتے۔ یعنی یہ امکان تھا کہ بر بنائے طبع بشری وہ بھی ارادہ کر بیٹھتے ‘مگر اللہ نے انہیں اس سے محفوظ رکھنے کا اہتمام فرمایا۔ حضورﷺ کے لیے بھی یہاں اسی طرح فرمایا کہ اگر ہم نے آپؐ کے پاؤں جما کر آپﷺ کے دل کو اچھی طرح سے مضبوط نہ کر دیا ہوتاتو قریب تھا کہ آپؐ کسی نہ کسی حد تک ان کی طرف مائل ہو جاتے۔بہر حال ان الفاظ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر اس دَور میں قریش مکہ کی طرف سے کس قدر شدید دباؤ تھا۔

آیت 75

اِذًا لَّاَذَقۡنٰکَ ضِعۡفَ الۡحَیٰوۃِ وَ ضِعۡفَ الۡمَمَاتِ

’’(اگر ایساہو جاتا ) تب ہم آپؐ کو دگنی سزا دیتے زندگی میں اور دگنی سزا دیتے موت پر‘‘

اَلرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلَ

وَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی

’’رب تو آخر رب ہے جتنا بھی تنزل فرما لے اور بندہ بہر حال بندہ ہی ہے جس قدر بھی ترقی پا لے!‘‘

ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ عَلَیۡنَا نَصِیۡرًا ﴿۷۵﴾

’’پھر نہ پاتے آپؐ اپنے لیے ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار۔‘‘

آیت کا مضمون بہت نازک ہے ۔ بہر حال میں نے الفاظ کے مطابق ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے‘ لیکن موقع محل اور سیاق و سباق کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اصل مفہوم کو دقت نظری سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ خطاب نبی اکرم ﷺ سے ہے مگر سختی کا رخ اُن لوگوں کی طرف ہے جنہوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے آپؐ کے مقابلے میں ایسے حالات پیدا کر رکھے تھے ۔ ان الفاظ میں ان لوگوں کو سنایا جا رہا ہے کہ بد بختو! تم جو چاہو کر لو ‘ہمارے نبی(ﷺ) تمہارے اس دباؤ میں آ کر تمہارے مطالبات ماننے والے نہیں ہیں۔

76-77

ہجرت کا مرحلہ آنے والا ہے

ویڈیو

وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَسۡتَفِزُّوۡنَکَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِیُخۡرِجُوۡکَ مِنۡہَا وَ اِذًا لَّا یَلۡبَثُوۡنَ خِلٰفَکَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۷۶﴾ سُنَّۃَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ مِنۡ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِیۡلًا ﴿٪۷۷﴾

آیت 76

وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَسۡتَفِزُّوۡنَکَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِیُخۡرِجُوۡکَ مِنۡہَا وَ اِذًا لَّا یَلۡبَثُوۡنَ خِلٰفَکَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۷۶﴾

’’اور یہ تلے ہوئے ہیں کہ آپؐ کے قدم اکھاڑ دیں اس زمین سے ‘تا کہ آپؐ کو یہاں سے نکال باہر کریں‘اور (اگر ایسا ہوا تو) تب وہ خود بھی نہیں ٹھہریں گے آپؐ کے بعد مگر تھوڑا عرصہ۔‘‘

یہ مکی دور کے آخری ایام کے اُن حالات کی جھلک ہے جب اس کش مکش کی شدت انتہا کو پہنچ چکی تھی اور حالات بے حد نازک رخ اختیار کر چکے تھے۔ یہا ں پر رسول اللہ ﷺ کو (معاذ اللہ ) مکہ سے نکالنے کے لیے قریش کی منصوبہ بندی کا صرف ذکر کیا گیا ہے ‘مگر اس کی نفی کرنے کے بجائے یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اگر ایسا ہوا تو آپؐ کے بعد وہ خود بھی یہاں پر زیادہ عرصہ نہیں رہ سکیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ قریش کے اکثر سردار تو ہجرت کے دوسرے برس ہی جنگِ بدر میں قتل ہو گئے جبکہ صرف آٹھ سال بعد مکہ شہر پر آپﷺ کا باقاعدہ تسلط بھی قائم ہو گیا۔

آیت 77

سُنَّۃَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ مِنۡ رُّسُلِنَا

’’یہی(ہمارا) طریقہ رہا اُن کے باب میں جنہیں ہم نے آپؐ سے پہلے بھیجا اپنے رسولوں میں سے‘‘

یعنی آپﷺ سے پہلے جتنے بھی رسول ؑآئے ان کے بارے میں ہمارا قاعدہ اور قانون یہی رہا ہے کہ رسولؑ کی ہجرت کے بعد متعلقہ قوم پر سے اللہ کی اَمان اٹھا لی جاتی ہے اوراس کے بعد وہ قوم بہت جلد عذاب کی گرفت میں آ جاتی ہے۔

وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِیۡلًا ﴿٪۷۷﴾

’’اور آپؐ ہمارے طریقے میںکوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔‘‘

78-79

پنج وقتہ نمازوں کا حکم

ویڈیو

اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ وَ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ کَانَ مَشۡہُوۡدًا ﴿۷۸﴾ وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا ﴿۷۹﴾

آیت 78

اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ وَ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ ؕ

’’نماز قائم رکھیے سورج کے ڈھلنے سے لے کر رات کے تاریک ہونے تک ‘اور قرآن کا پڑھا جانا فجر کے وقت۔‘‘

یہ حکم پنج گانہ نماز کے نظام کے بارے میں ہے ۔سورج کے ڈھلنے کے ساتھ ہی ظہر کی نماز کا وقت ہو جاتا ہے۔ پھر عصر‘مغرب اور عشاء کی نمازوں کا ایک سلسلہ ہے جو رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ پانچویں نماز یعنی فجر کویہاں پر ’’قرآن الفجر‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ‘کیونکہ اس میں طویل قرا ء ت کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ نماز پنجگانہ کے اوقات کے بارے میں یہ حکم عمومی نوعیت کا ہے‘ جبکہ ہر نماز کے وقت کی خصوصیت کے ساتھ نشاندہی بعد میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کی جس کی تفصیل کتب احادیث میں ملتی ہے۔

اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ کَانَ مَشۡہُوۡدًا ﴿۷۸﴾

’’یقینا فجر کے وقت قرآن کا پڑھا جانا مشہود ہے۔‘‘

گویا فجر کا وقت نماز اور قراء ت کے اعتبار سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ رات بھر جسمانی اور ذہنی آرام کے بعد فجر کے وقت انسان تازہ دم ہو تا ہے۔ اس وجہ سے نماز میں اس کی حضوریٔ قلب کی کیفیت بھی بہتر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ فجر کا وقت فرشتوں کی حاضری کے اعتبار سے بھی اہم ہے۔ دنیا کے معاملات کی نگرانی کرنے والے فرشتوں کی ڈیوٹیاں صبح اور عصر کے اوقات میں تبدیل ہوتی ہیں۔ چنانچہ ان دونوں نمازوں میں دونوں جماعتوں کے فرشتے موجود ہوتے ہیں۔ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر جانے والے فرشتے بھی اور آئندہ ڈیوٹی کا چارج لینے والے بھی۔ لہٰذا فرشتوں کی اس حاضری کی وجہ سے بھی نمازِ فجر خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔

آیت 79

وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ

’’اور رات کے ایک حصے میں آپؐ جاگیے اس (قرآن) کے ساتھ‘‘ یہاں لفظ ’’بِہٖ‘‘ میں وہی انداز ہے جس کی تکرار اس سے پہلے ہم سورۃ الانعام میں دیکھ چکے ہیں۔ (اَنْذِر بِہٖ‘ ذَکِّر بِہٖ) یعنی انذار‘تذکیر‘تبشیر‘تبلیغ سب قرآن کے ذریعے سے ہو۔ چنانچہ یہاں پر رسول اللہﷺ کو تہجد کا حکم دیاگیا تو فرمایا گیا کہ رات کا ایک حصہ آپؐ قرآن کے ساتھ جاگیے۔ تہجد کی نماز آپؐ قرآن کے ساتھ پڑھیں۔ گویا تہجد کا مقصد اور اس کی اصل روح یہی ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھا جائے۔ چھوٹی چھوٹی سورتوں کے ساتھ رکعتوں کی مخصوص تعداد پوری کرلینے سے یہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔

نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا ﴿۷۹﴾

’’یہ اضافی چیز ہے آپؐ کے لیے‘ امید ہے کہ آپؐ کا رب آپؐ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا۔‘‘

’’مقامِ محمود‘‘بہت ہی اعلیٰ اور اَرفع مقام ہے جس پر آنحضورﷺ کو میدانِ حشر میں اور جنت میں فائز کیا جائے گا۔ ہم اس مقام کی عظمت اور کیفیت کا اندازہ اپنے تصور سے نہیں کر سکتے۔

80-81

ہجرت غلبہ دین کا آغاز ہے

ویڈیو

وَ قُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِیۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّ اجۡعَلۡ لِّیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا ﴿۸۰﴾ وَ قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ زَہَقَ الۡبَاطِلُ ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا ﴿۸۱﴾

آیت 80

وَ قُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِیۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ

’’اور دعاکیجیے کہ اے میرے رب مجھے داخل کر عزت کا داخل کرنا اور مجھے نکال عزت کا نکالنا‘‘

یہ ہجرت کی دعا ہے ۔جب ہجرت کا اِذن آیا تو ساتھ ہی یہ دعا بھی تعلیم فرما دی گئی کہ اے اللہ! تو مجھے جہاں بھی داخل فرمائے یعنی یثرب (مدینہ) میں‘ عزت و تکریم کے ساتھ داخل فرما‘وہاں پر میرا داخلہ سچا داخلہ ہو‘ اور یہاں مکہ سے مجھے نکالنا ہے تو باعزت طریقے سے نکال۔ یاد کیجیے کہ سورۂ یونس کی آیت ۹۳ میں بنی اسرائیل کو اچھا ٹھکانہ عطا کیے جانے کا ذکر بھی ’’مُبَوَّاَ صِدْقٍ‘‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔

وَّ اجۡعَلۡ لِّیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا ﴿۸۰﴾

’’اور مجھے خاص اپنے پاس سے مددگار قوت عطا فرما۔‘‘

یعنی مدینہ میں جس نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے اس میں اپنے دین کے غلبے کے اسباب پیدا فرما‘ اور مجھے وہ طاقت‘قوت اور اقتدار عطا فرما جس سے دین کی عملی تنفیذکا کام آسان ہو جائے۔ اس دعا میں رسول اللہﷺکو بالکل وہی کچھ مانگنے کی تلقین کی جا رہی ہے جو عنقریب آپؐ کو ملنے والا تھا۔ چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ مدینہ میں آپؐ کا استقبال ایک بادشاہ کی طرح ہوا۔ اوس اور خزرج کے قبائل نے آپؐ کو اپنا حاکم تسلیم کر لیا۔ یہودیوں کے تینوں قبائل ایک معاہدے کے ذریعے آپﷺ کی مرضی کے تابع ہو گئے اور یوں آپﷺ مدینہ میں داخل ہوتے ہی وہاں کے بے تاج بادشاہ بن گئے۔

آیت 81

وَ قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ زَہَقَ الۡبَاطِلُ ؕ

’’اور آپؐ کہہ دیجیے کہ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا۔‘‘

بظاہر تو ابھی اس انقلاب کے آثار نمودار نہیں ہوئے تھے ‘ ابھی آٹھ سال بعد جا کر کہیں مکہ فتح ہونے والا تھا‘ لیکن عالم امر میں چونکہ اس کا فیصلہ ہو چکا تھا لہٰذا ابھی سے آپﷺ کی زبان مبارک سے حق کی آمد اور باطل کے فرار کا اعلان کرایا جا رہا ہے ۔

اِنَّ الۡبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا ﴿۸۱﴾

’’یقینا باطل ہے ہی بھاگ جانے والا ۔‘‘

باطل کو ثبات نہیں ۔ جب بھی اس کا حق کے ساتھ معرکہ ہو گا تو حق کے مقابلے میں باطل ہمیشہ پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

82

عروج و زوال قرآن سے وابستہ ہے

ویڈیو

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الۡقُرۡاٰنِ مَا ہُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۙ وَ لَا یَزِیۡدُ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا خَسَارًا ﴿۸۲﴾

آیت 82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الۡقُرۡاٰنِ مَا ہُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۙ

’’اور ہم قرآن سے وہ کچھ نازل کرتے ہیں جو شفا اور رحمت ہے اہل ایمان کے حق میں۔‘‘

یہاں پر پھر قرآن کا لفظ ملاحظہ ہو۔ نوٹ کیجیے کہ خود قرآن کا ذکر اس سورت میں جتنی مرتبہ آیا ہے کسی اور سورت میں نہیں آیا۔ اس آیت میں قرآن کے احکام کو اہل ایمان کے لیے شفا اور رحمت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہی مضمون سورۂ یونس میں اس طرح بیان ہوا ہے: {یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾} ’’اے لوگو! آ گئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں ( کے امراض) کی شفا اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت‘‘۔یعنی قرآن ایک مؤمن کے سینے کو تمام آلائشوں اور بیماریوں (مثلاًکفر‘شرک‘تکبر‘حسد‘حب مال‘حب جاہ‘حبِ اولاد وغیرہ)سے صاف اور پاک کر دیتا ہے۔

وَ لَا یَزِیۡدُ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا خَسَارًا ﴿۸۲﴾

’’لیکن یہ ظالموں کو نہیں بڑھاتا مگر خسارے ہی میں۔‘‘

جیسا کہ سورۃ البقرۃ میں فرمایا گیا ہے: {یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًا ۙ وَّ یَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِہٖۤ اِلَّا الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾} ۔

83-84

دنیا کے حالات کا تاثر مت لو

ویڈیو

وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ کَانَ یَــُٔوۡسًا ﴿۸۳﴾ قُلۡ کُلٌّ یَّعۡمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ؕ فَرَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ہُوَ اَہۡدٰی سَبِیۡلًا ﴿٪۸۴﴾

آیت 83

وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ

’’اور جب ہم انسان کو نعمتوں سے نوازتے ہیں تو وہ اعراض کرتا ہے اور (ہم سے) کنی کترانے لگتا ہے ۔‘‘

وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ کَانَ یَــُٔوۡسًا ﴿۸۳﴾

’’اور جب اس پر کوئی تکلیف آ پڑتی ہے تو مایوس ہو کر رہ جاتا ہے۔‘‘

آیت 84

قُلۡ کُلٌّ یَّعۡمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ؕ

’’آپؐ کہہ دیجئے کہ ہر شخص کام کرتا ہے اپنے شاکلہ کے مطابق۔‘‘

’’شاکلہ‘‘ سے مراد ہر انسان کی شخصیت کا مخصوص سانچہ ہے‘جیسے آپ کو کسی دھات سے کوئی شے بنانی ہے تو پہلے اس کا ایک سانچہ (pattern) بناتے ہیں اور اس دھات کو پگھلا کر اس میں ڈال دیتے ہیں تو وہ دھات وہی مخصوص شکل اختیار کر لیتی ہے۔ انسانی شخصیت کے مخصوص سانچے کی تشکیل میں انسان کے موروثی genes اور اس کا خارجی ماحول بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔گویا موروثی عوامل اور ماحولیاتی عوامل کے حاصل ضرب سے انسان کی شخصیت کا جو ہیولیٰ بنتا ہے وہی اس کا شاکلہ ہے ۔ کسی شخص نے نیکی اور برائی کے لیے جو بھی محنت اور کوشش کرنی ہے وہ اپنے اس شاکلہ کے اندر رہ کر ہی کرنی ہے۔ گویا کسی انسان کا شاکلہ اس کے دائرہ عمل کی حدود کا تعین کرتا ہے ۔ وہ نہ تو ان حدود سے تجاوز کر سکتا ہے اور نہ ہی ان سے بڑھ کر عمل کرنے کا وہ مکلف ہے۔ جیسے انگریزی میں کہا جاتا ہے: One cannot grow out of his skin یعنی کسی نے موٹا ہونے کی جتنی بھی کوشش کرنی ہے اپنی کھال کے اندر رہ کر ہی کرنی ہے۔ وہ اپنی کھال سے باہر بہر حال نہیں نکل سکتا۔ چنانچہ ہر شخص اپنے شاکلہ کے مطابق عمل کرتا ہے اور اللہ کو خوب علم ہے کہ اس نے کس کو کس طرح کا شاکلہ دے رکھا ہے۔ اور وہ ہر شخص سے اس کے شاکلہ کی مناسبت سے ہی حساب لے گا۔ (اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو بیان القرآن ‘جلد اول ‘سورۃ البقرۃ ‘تشریح آیت۲۸۶۔)

فَرَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ہُوَ اَہۡدٰی سَبِیۡلًا ﴿٪۸۴﴾

’’پس آپ کا رب خوب جانتا ہے اُسے جو زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔‘‘

اس مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے رسول اللہﷺ نے فرمایا: حدیث((اَلنَّاسُ مَعَادِنُ))۱ کہ انسان معدنیات کی طرح ہیں۔ معدنیات میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی خصوصیات (properties) ہوتی ہیں۔ سونے کی ore چاندی کی ore سے بالکل مختلف خصوصیات کی حامل ہے ۔ اسی طرح ہر انسان کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کی خصوصیات سے خوب واقف ہے۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب احادیث الانبیاء و کتاب المناقب۔ وصحیح مسلم‘ کتاب البر والصلۃ والآداب‘ باب الارواح جنود مجندۃ۔

85

روح کی حقیقت اللہ ہی جانتا ہے

ویڈیو

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ وَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۸۵﴾

آیت 85

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ

’’اور (اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں روح کے بارے میں۔‘‘

قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ وَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۸۵﴾

’’آپؐ فرما دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تمہیں نہیں دیا گیا علم مگر تھوڑا سا۔‘‘

روح کے بارے میں یہ سوال ان تین سوالات میں سے تھا جو ایک مرتبہ مدینہ کے یہودیوں نے قریش مکہ کے ذریعے رسول اللہ ﷺ سے پوچھ بھیجے تھے۔ ان میں سے ایک سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا اور دوسرا ذوالقرنین کے بارے میں۔ ان دونوں سوالات کے تفصیلی جوابات سورۃ الکہف میں دیے گیے ہیں‘ مگر روح کے متعلق سوال کا انتہائی مختصر جواب اس سورت میں دیا گیا ہے ۔

اس بارے میں یہاں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے اور عالم امر چونکہ عالم غیب ہے اس لیے اس کے بارے میں تم لوگ کچھ نہیں جان سکتے۔ انسان کے علم کا ذریعہ اس کے حواس ہیں اور اپنے ان حواس کے ذریعے وہ صرف عالم خلق کی چیزوں کے بارے میں جان سکتا ہے‘عالم غیب(عالم امر) تک اس کا علم رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ چنانچہ عالم غیب کی باتوں کو اسے ویسے ہی ماننا ہو گا جیسے قرآن اور رسولؐ کے ذریعے سے بتائی گئی ہوں ۔ اسی کا نام ایمان بالغیب ہے ‘جس کا ذکر قرآن مجید کے آغاز میں ہی کر دیا گیا ہے: {الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾} (البقرۃ) ۔ قبل ازیں سورۃ الاعراف کی آیت۵۴ اور سورۃ النحل کی آیت۴۰کی تشریح کے ضمن میں عالمِ خلقِ اور عالم امر کے بارے میں تفصیلی بحث کی جاچکی ہے ۔ وہاں یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ فرشتوں ‘انسانی ارواح اور وحی کا تعلق عالم امر سے ہے۔

86-87

نبی اکرم ﷺ پر اللہ کا سب سے بڑا فضل ٠ ٠ ٠ نزولِ قرآن

ویڈیو

وَ لَئِنۡ شِئۡنَا لَنَذۡہَبَنَّ بِالَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیۡنَا وَکِیۡلًا ﴿ۙ۸۶﴾ اِلَّا رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ اِنَّ فَضۡلَہٗ کَانَ عَلَیۡکَ کَبِیۡرًا ﴿۸۷﴾

آیت 86

وَ لَئِنۡ شِئۡنَا لَنَذۡہَبَنَّ بِالَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیۡنَا وَکِیۡلًا ﴿ۙ۸۶﴾

’’اور (اے نبیﷺ!) اگر ہم چاہیں تو لے جائیں اس (قرآن) کو جو ہم نے وحی کیا ہے آپ کی طرف‘ پھر آپ نہ پائیں گے اپنے لیے اس پر ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار۔‘‘

آیت 87

اِلَّا رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ اِنَّ فَضۡلَہٗ کَانَ عَلَیۡکَ کَبِیۡرًا ﴿۸۷﴾

’’مگر یہ تو رحمت ہے آپؐ کے رب کی طرف سے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اُس کا فضل آپؐ پر بہت بڑا ہے۔‘‘

یہ قرآن کا خاص اسلوب ہے جس کے مطابق بظاہر خطاب تو حضورﷺ سے ہے مگر اصل میں لوگوں کو یہ باورکرانا مقصودہے کہ آپؐ کا اصل مقام و مرتبہ کیا ہے۔ اسی مقصد کے لیے آپﷺ سے بار بار اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ کا اعلان کرایا گیا کہ اے لوگو! میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں‘مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔ یہاں اسی بات کی تاکید کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ یہ ہماری عطا اور مہربانی ہے کہ ہم نے بذریعہ وحی آپؐ پر یہ عظیم الشان کلام نازل کیا ہے ۔ اگر چہ اس کا ہر گز ہر گز کوئی امکان نہیں تھا ‘مگر محض ایک اصولی بات سمجھانے کے لیے فرمایا گیا کہ جس طرح ہم نے یہ کلام نازل کیا ہے اسی طرح ہم اسے واپس بھی لے سکتے ہیں‘اسے سلب بھی کر سکتے ہیں۔ یہ کلام نہ تو آپﷺ کا خود ساختہ ہے اور نہ ہی آپﷺ اسے اپنے پاس رکھنے پر قادر ہیں۔ یہ تو سرا سر اللہ کی مہربانی اور اُس کی رحمت کا مظہر ہے اور وہی اسے آپﷺ کے سینے میں جمع کر کے محفوظ فرمارہا ہے۔

88-89

قرآن جیسا کلام کوئی نہیں پیش کرسکتا

ویڈیو

قُلۡ لَّئِنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا یَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِہٖ وَ لَوۡ کَانَ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ ظَہِیۡرًا ﴿۸۸﴾ وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ۫ فَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۸۹﴾

آیت 88

قُلۡ لَّئِنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا یَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِہٖ وَ لَوۡ کَانَ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ ظَہِیۡرًا ﴿۸۸﴾

’’آپؐ کہہ دیجیے کہ اگر جمع ہو جائیں تمام انسان اور تمام جن اس بات پر کہ وہ اس قرآن کی مانند لے آئیں تو وہ نہیں لا سکیں گے اس کی مانند‘ اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔‘‘

اس موضوع پر قرآن کااپنے مخاطبین سے یہ سب سے پہلا مطالبہ ہے جس میں ان سے پورے قرآن کا جواب دینے کو کہا گیا ہے۔

آیت 89

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ۫

’’اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی ہیں لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں‘‘

فَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۸۹﴾

’’لیکن اکثر لوگ انکار (اور کفرانِ نعمت) ہی پر اڑے ہوئے ہیں۔‘‘

90-93

فرمائشی معجزات کی فہرست

ویڈیو

وَ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ یَنۡۢبُوۡعًا ﴿ۙ۹۰﴾ اَوۡ تَکُوۡنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡہٰرَ خِلٰلَہَا تَفۡجِیۡرًا ﴿ۙ۹۱﴾ اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمۡتَ عَلَیۡنَا کِسَفًا اَوۡ تَاۡتِیَ بِاللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیۡلًا ﴿ۙ۹۲﴾ اَوۡ یَکُوۡنَ لَکَ بَیۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ اَوۡ تَرۡقٰی فِی السَّمَآءِ ؕ وَ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیۡنَا کِتٰبًا نَّقۡرَؤُہٗ ؕ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴿٪۹۳﴾

آیت 90

وَ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ

’’اور انہوں نے کہا کہ ہم ہر گز آپؐ کی بات نہیں مانیں گے‘‘

حَتّٰی تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ یَنۡۢبُوۡعًا ﴿ۙ۹۰﴾

’’یہاں تک کہ آپؐ جاری کردیں ہمارے لیے زمین سے ایک چشمہ۔‘‘

مشرکین مکہ کی طرف سے اس طرح کے مطالبات بار بار کیے جاتے تھے کہ جب تک آپﷺ ہمیں کوئی معجزہ نہیں دکھائیں گے ہم آپؐ کو رسول نہیں مانیں گے۔

آیت 91

اَوۡ تَکُوۡنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡہٰرَ خِلٰلَہَا تَفۡجِیۡرًا ﴿ۙ۹۱﴾

’’یا آپؐ کے لیے بن جائے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ‘پھر آپ جاری کردیں اس کے اندر نہریں۔‘‘

آیت 92

اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمۡتَ عَلَیۡنَا کِسَفًا

’’یا آپؐ گرا دیں آسمان ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے جیسا کہ آپؐ دعویٰ کرتے ہیں‘‘

یعنی آپﷺ ہمیں قیامت کے حوالے سے خبریں سنا سنا کر جو ڈراتے رہتے ہیں کہ اُس وقت آسمان پھٹ جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے‘تو آپﷺ آسمان کا کوئی ٹکڑا ابھی ہم پر گرا کر دکھا دیں۔

اَوۡ تَاۡتِیَ بِاللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیۡلًا ﴿ۙ۹۲﴾

’’یا آپ لے آئیں اللہ کو اور فرشتوں کو (ہمارے) سامنے۔‘‘

آیت 93

اَوۡ یَکُوۡنَ لَکَ بَیۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ اَوۡ تَرۡقٰی فِی السَّمَآءِ ؕ

’’یا آپؐ کے لیے سونے کا ایک محل(تعمیر ) ہو جائے‘یا آپؐ آسمان میں چڑھ جائیں‘‘

وَ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیۡنَا کِتٰبًا نَّقۡرَؤُہٗ ؕ

’’اور ہم آپؐ کے (آسمان میں) چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے یہاں تک کہ آپؐ اتار لائیں ایک کتاب جسے ہم خود پڑھیں۔‘‘

ان لوگوں کے ان تمام مطالبات کے جواب میں صرف ایک بات فرمائی گئی:

قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴿٪۹۳﴾

’’آپؐ کہہ دیجیے کہ میرا رب پاک ہے‘ میں نہیں ہوںمگر ایک بشر رسول۔‘‘

یعنی میں بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں۔ میں بھی اسی طرح پیدا ہوا ہوں جس طرح تم سب لوگ پیدا ہوئے ہو۔ میں تمہاری ہی طرح کھاتا پیتا ہوں‘دنیا کے کام کاج کرتا ہوں ‘بازاروںمیں چلتا پھرتا ہوں اور میں نے ہر سطح پر کاروبار بھی کیا ہے۔ میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اور میری سیرت اوراخلاق و کردار روزِروشن کی طرح تمہارے سامنے ہے۔مجھ میں اور تم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے ‘اور اللہ کا وہ پیغام جو بذریعہ وحی مجھ تک پہنچتا ہے وہ میں تم لوگوں تک پہنچانے پر مامور ہوں۔

اگرچہ سیرت و کردار اور مرتبہ رسالت و نبوت کے اعتبار سے عام انسانوں سے نبی اکرمﷺکی کوئی مناسبت نہیں‘مگر عام بشری تقاضوں کے حوالے سے انہیں یہ جواب دیا گیا کہ میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔

94-96

تمام رسول انسان ہی تھے

ویڈیو

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَہُمُ الۡہُدٰۤی اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴿۹۴﴾ قُلۡ لَّوۡ کَانَ فِی الۡاَرۡضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَئِنِّیۡنَ لَنَزَّلۡنَا عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوۡلًا ﴿۹۵﴾ قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿۹۶﴾

آیت 94

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَہُمُ الۡہُدٰۤی اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴿۹۴﴾

’’اور نہیں روکا لوگوں کو ایمان لانے سے جب کہ ان کے پاس ہدایت آ گئی‘مگر اس بات نے کہ انہوں نے کہا: کیا اللہ نے بھیجا ہے ایک بشر کو رسول بنا کر!‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ اس کام کے لیے ان کی طرف کوئی فرشتہ بھیجا جاتا تو بھی کوئی بات تھی۔ اب وہ اپنی ہی طرح کے ایک انسان کو آخر کیونکر اللہ کا رسول مان لیں؟ ان کے اس اعتراض کے جواب میں جو دلیل دی جا رہی ہے وہ بہت اہم ہے:

آیت 95

قُلۡ لَّوۡ کَانَ فِی الۡاَرۡضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَئِنِّیۡنَ لَنَزَّلۡنَا عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوۡلًا ﴿۹۵﴾

’’آپؐ فرما ئیں کہ اگر زمین میں فرشتے (آباد ہوتے اور وہ) اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم ضرور ان پر آسمان سے کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔‘‘

رسول کا کام ہے اللہ کے پیغام کو انسانوں تک پہنچانا‘اس کی ایک ایک بات کو سمجھانا اور پھر اللہ کے احکام کے مطابق عمل کر کے اپنی زندگی کو ان کے سامنے بطور نمونہ پیش کرنا۔ اب ظاہر ہے انسانوں کے لیے نمونہ تو ایک انسان ہی ہو سکتا ہے ‘فرشتہ تو ان کے لیے نمونہ نہیں بن سکتا۔ چنانچہ اگر ان کے پاس ایک فرشتہ رسول بن کر آ جاتا تو یہی لوگ کہتے کہ یہ تو فرشتہ ہے‘ اس کی کوئی خواہش ہے نہ ضرورت‘نہ رشتہ ہے نہ ناتا‘نہ جذبات ہیں نہ احساسات‘ہماری اس سے کیا نسبت؟ ہماری تو گھر گرہستی ہے‘اہل و عیال ہیں‘مجبوریاں ہیں‘ضرورتیں ہیں‘طرح طرح کے جنجال ہیں‘ہم اس کی سیرت اور اس کے کردار کی پیروی کیسے کر سکتے ہیں؟ البتہ اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے اور ان کی طرف رسول بھیجنا ہوتا تو ضرور کسی فرشتے ہی کو اس کام پر مامور کیا جاتا‘ مگر اب معاملہ چونکہ انسانوں کا ہے لہٰذا ان پر حجت قائم کرنے کے لیے لازماً کسی انسان ہی کو بطور رسول بھیجا جانا چاہیے تھا‘سو ایسا ہی ہوا۔

آیت 96

قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ

’’آپؐ کہہ دیجیے کہ اللہ کافی ہے گواہ میرے اور تمہارے درمیان۔‘‘

ردّوقدح بہت ہو چکی۔ اب میں یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں‘جو میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے ۔ اب وہی فیصلہ کرے گا۔

اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿۹۶﴾

’’یقینا وہ اپنے بندوں سے باخبر اور ان پر نظر رکھنے والا ہے۔‘‘

97-100

گمراہوں کا المناک انجام

ویڈیو

وَ مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَہُوَ الۡمُہۡتَدِ ۚ وَ مَنۡ یُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَہُمۡ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ وَ نَحۡشُرُہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوۡہِہِمۡ عُمۡیًا وَّ بُکۡمًا وَّ صُمًّا ؕ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ کُلَّمَا خَبَتۡ زِدۡنٰہُمۡ سَعِیۡرًا ﴿۹۷﴾ ذٰلِکَ جَزَآؤُہُمۡ بِاَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوۡۤاءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًاءَ اِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ خَلۡقًا جَدِیۡدًا ﴿۹۸﴾ اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ قَادِرٌ عَلٰۤی اَنۡ یَّخۡلُقَ مِثۡلَہُمۡ وَ جَعَلَ لَہُمۡ اَجَلًا لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ فَاَبَی الظّٰلِمُوۡنَ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۹۹﴾ قُلۡ لَّوۡ اَنۡتُمۡ تَمۡلِکُوۡنَ خَزَآئِنَ رَحۡمَۃِ رَبِّیۡۤ اِذًا لَّاَمۡسَکۡتُمۡ خَشۡیَۃَ الۡاِنۡفَاقِ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ قَتُوۡرًا ﴿٪۱۰۰﴾

آیت 97

وَ مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَہُوَ الۡمُہۡتَدِ ۚ

’’اور جسے اللہ ہدایت دیتا ہے بس وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے‘‘

وَ مَنۡ یُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَہُمۡ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ

’’اور جسے وہ گمراہ کر دے تو ہر گز نہیں پائیں گے آپ ایسے لوگوں کے لیے کوئی مدد گار اُس کے سوا۔‘‘

وَ نَحۡشُرُہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوۡہِہِمۡ عُمۡیًا وَّ بُکۡمًا وَّ صُمًّا ؕ

’’اور ہم انہیں جمع کریں گے قیامت کے دن ان کے مونہوں کے بل(چلاتے ہوئے) ‘اندھے ‘گونگے اور بہرے ۔‘‘

مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ کُلَّمَا خَبَتۡ زِدۡنٰہُمۡ سَعِیۡرًا ﴿۹۷﴾

’’ان کا ٹھکانا جہنم ہے ۔جب بھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے ان کے لیے مزید بھڑکا دیا کریں گے۔‘‘

آیت 98

ذٰلِکَ جَزَآؤُہُمۡ بِاَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا

’’یہ سزا ہے ان کی اس بنا پر کہ انہوں نے ہماری آیات کے ساتھ کفر کیا‘‘

وَ قَالُوۡۤاءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًاءَ اِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ خَلۡقًا جَدِیۡدًا ﴿۹۸﴾

’’اور انہوں نے کہا کہ کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں اور چورا چورا‘تو کیا ہم دوبارہ اٹھا لیے جائیں گے ایک نئی مخلوق کی صورت میں؟‘‘

آیت 99

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ قَادِرٌ عَلٰۤی اَنۡ یَّخۡلُقَ مِثۡلَہُمۡ

’’کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ اس پر قادر ہے کہ ان جیسے پھر پیداکر دے‘‘

جب تمہیں اُس نے ایک دفعہ پیدا کیا ہے تو اب تمہاری طرح کے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیونکر مشکل ہو گا؟

وَ جَعَلَ لَہُمۡ اَجَلًا لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ فَاَبَی الظّٰلِمُوۡنَ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۹۹﴾

’’اور اُس نے مقرر کیا ہے ان کے لیے ایک وقت معین جس میں کوئی شک نہیں‘مگر ان ظالموں نے انکار ہی کیا سوائے کفر (اور کفرانِ نعمت) کے۔‘‘

انہوں نے اللہ کے ہر حکم اور اس کی ہر آیت سے کفر اور انکار کی روش اپنائے رکھی۔

آیت 100

قُلۡ لَّوۡ اَنۡتُمۡ تَمۡلِکُوۡنَ خَزَآئِنَ رَحۡمَۃِ رَبِّیۡۤ

’’آپؐ کہیے کہ اگر تمہیں اختیار ہوتا میرے رب کی رحمت کے خزانوں پر‘‘

اِذًا لَّاَمۡسَکۡتُمۡ خَشۡیَۃَ الۡاِنۡفَاقِ ؕ

’’تب بھی تم ضرور روک رکھتے (انہیں) خرچ ہو جانے کے ڈر سے۔‘‘

اگر اللہ کی رحمت کے بے حساب خزانے تمہارے اختیار میں ہوتے تو تم لوگ اپنے فطری بخل کے سبب اُن کے دروازے بھی بند کر دیتے کہ کہیں خرچ ہو کر ختم نہ ہو جائیں۔

وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ قَتُوۡرًا ﴿٪۱۰۰﴾

’’اور انسان بہت ہی تنگ دل ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے