تحریر

الإسراء

آیات ۶۶ تا ۷۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

66-69

اللہ کے احسانات٠٠٠ انسانوں کی ناشکری

ویڈیو

رَبُّکُمُ الَّذِیۡ یُزۡجِیۡ لَکُمُ الۡفُلۡکَ فِی الۡبَحۡرِ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا ﴿۶۶﴾ وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الۡبَحۡرِ ضَلَّ مَنۡ تَدۡعُوۡنَ اِلَّاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىکُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اَعۡرَضۡتُمۡ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ کَفُوۡرًا ﴿۶۷﴾ اَفَاَمِنۡتُمۡ اَنۡ یَّخۡسِفَ بِکُمۡ جَانِبَ الۡبَرِّ اَوۡ یُرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَکُمۡ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۶۸﴾ اَمۡ اَمِنۡتُمۡ اَنۡ یُّعِیۡدَکُمۡ فِیۡہِ تَارَۃً اُخۡرٰی فَیُرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیۡحِ فَیُغۡرِقَکُمۡ بِمَا کَفَرۡتُمۡ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَکُمۡ عَلَیۡنَا بِہٖ تَبِیۡعًا ﴿۶۹﴾

آیت 66

رَبُّکُمُ الَّذِیۡ یُزۡجِیۡ لَکُمُ الۡفُلۡکَ فِی الۡبَحۡرِ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ

’’تمہارا ربّ وہ ہے جو چلاتا ہے تمہارے لیے کشتیوں کو سمندر میں تا کہ تم اُس کا فضل تلاش کرسکو۔‘‘

اِنَّہٗ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا ﴿۶۶﴾

’’یقینا وہ تم پر بہت ہی رحیم ہے۔‘‘

آیت 67

وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الۡبَحۡرِ

’’اورجب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے سمندر میں‘‘

جب کشتی طوفان میں گھر جاتی ہے اور موت سامنے نظر آنے لگتی ہے تو:

ضَلَّ مَنۡ تَدۡعُوۡنَ اِلَّاۤ اِیَّاہُ ۚ

’’گم ہو جاتے ہیں وہ سب جنہیں تم پکارتے ہو‘سوائے اُس (ایک اللہ) کے۔‘‘

اس وقت تمہیں اپنے ان معبودوں میں سے کوئی بھی یاد نہیں رہتاجنہیں تم عام حالات میں اپنا مددگار سمجھتے ہو۔ اس آڑے وقت میں تم صرف اللہ ہی کو مدد کے لیے پکارتے ہو۔ یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آ چکا ہے۔

فَلَمَّا نَجّٰىکُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اَعۡرَضۡتُمۡ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ کَفُوۡرًا ﴿۶۷﴾

’’پھر جب وہ تمہیں بچا لاتا ہے خشکی کی طرف تو تم منہ موڑ لیتے ہو ۔اور انسان بڑا ہی نا شکراہے۔‘‘

آیت 68

اَفَاَمِنۡتُمۡ اَنۡ یَّخۡسِفَ بِکُمۡ جَانِبَ الۡبَرِّ

’’تو کیا تم اس بات سے بے خوف ہو گئے ہو کہ وہ دھنسا دے تمہیں کہیں خشکی میں ہی؟‘‘

جب تم جان بچا کر سمند رسے خشکی پر آتے ہوتو پھر اللہ کی نا شکری کرتے ہوئے اس سے منہ موڑ لیتے ۔کیا تمہیں اس بات سے خوف نہیں آتا کہ اگراللہ چاہے تو تمہیں خشک زمین ہی کے اندر دھنسا دے؟ کیا خشکی پر لوگوں کو موت نہیں آتی؟ ؎

آسودۂ ساحل تو ہے مگر شاید یہ تجھے معلوم نہیں

ساحل سے بھی موجیں اٹھتی ہیں‘ خاموش بھی طوفاں ہوتے ہیں!

اَوۡ یُرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَکُمۡ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۶۸﴾

’’یا وہ تم پر بھیج دے کنکر برسانے والی تیز ہوا‘ پھر تم نہ پاؤ اپنے لیے کوئی بچانے والا !‘‘

تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ چاہے تو سنگریزوں والی خوفناک آندھی سے بھی تمہیں ہلاک کر سکتا ہے۔

آیت 69

اَمۡ اَمِنۡتُمۡ اَنۡ یُّعِیۡدَکُمۡ فِیۡہِ تَارَۃً اُخۡرٰی فَیُرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیۡحِ

’’یا تم بے خوف ہو گئے ہو اس سے کہ وہ پھیر لے جائے تمہیں اسی (سمندر) میں دوسری مرتبہ‘پھر بھیج دے تم پر ہوا کا زور دار جھکڑ‘‘

فَیُغۡرِقَکُمۡ بِمَا کَفَرۡتُمۡ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَکُمۡ عَلَیۡنَا بِہٖ تَبِیۡعًا ﴿۶۹﴾

’’سوتمہیں غرق کر دے تمہارے کفر کی پاداش میں‘پھر تم نہ پائو اپنے لیے ہمارے خلاف اس کی وجہ سے کوئی تعاقب کرنے والا!‘‘

پھر ایسا نہیں کہ کوئی ہم سے باز پرس کر سکے کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ ایسا معاملہ کیوں کیا؟

70

اللہ نی انسان کہ اشرف المخلوقات بنایا ہے

ویڈیو

وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا ﴿٪۷۰﴾

آیت 70

وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ

’’اور ہم نے بڑی عزت بخشی ہے اولادِ آدم ؑ کو‘‘

یہ آیت بہت واضح انداز میں اس حقیقت کا اظہار کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی معراج (climax) انسان ہے۔ اس فلسفے کی وضاحت سورۃ النحل کی آیت۴۰کی تشریح کے ضمن میں ہو چکی ہے۔ وہاں میں نے بہت تفصیل سے کائنات اور انسان کی تخلیق کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیاہے ۔ اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا نقطہ آغاز اللہ تعالیٰ کا امر کن ہے۔ حرفِ کن سے خنک نور کا ظہور ہوا‘اس نور سے ملائکہ اور انسانی ارواح کی تخلیق ہوئی‘پھر Big Bang کے نتیجے میں حرارت کا گولا وجود میں آیا‘جس کے متحرک ذرات سے کہکشائیں‘ ستارے اور سیارے بنے۔ اسی دور میں اس حرارت سے جنات کی تخلیق ہوئی۔دوسرے بے شمار ستاروں اور سیاروں کی طرح ہماری زمین بھی ابتدا میں بہت گرم تھی ۔ یہ آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوئی۔ پھر اس پر ہزاروں برس مسلسل بارش برستی رہی‘جس سے زمین پر ہر طرف پانی پھیل گیا۔ اس کے بعد زمین پر نباتاتی اور حیوانی حیات کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد پھر تمام مخلوق کے بادشاہ ’’انسان‘‘ کی تخلیق عمل میں آئی۔ اس پورے فلسفے کو مرزا بیدل نے اپنے اس شعر میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے: ؎

ہر دو عالم خاک شد تا بست نقش آدمی

اے بہارِ نیستی از قدرِ خود ہشیار باش!

اس خوبصورت شعر کا مفہوم و مطلب بھی سورۃ النحل کی مذکورہ آیت کی تشریح کے تحت بیان کیا گیا ہے۔

وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ

’’اور ہم اٹھائے پھرتے ہیں انہیں خشکی اور سمندر میں‘‘

یہاں ’’ہم ‘‘سے اللہ تعالیٰ کا نظامِ قدرت مراد ہے ‘جس کے تحت بحر و بر میں انسانوں کی مختلف نوعیت کی سرگرمیاں ممکن بنا دی گئیں ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے یہ معاون اور دوستانہ ماحول انسان کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے ہے۔

وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا ﴿٪۷۰﴾

’’اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا اور انہیں فضیلت دی اپنی بہت سی مخلوق پر‘بہت بڑی فضیلت۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے