تحریر

الإسراء

آیات ۶۱ تا ۶۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

61-65

ابلیس کی انسان سے دوشمنی

ویڈیو

وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ قَالَ ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِیۡنًا ﴿ۚ۶۱﴾ قَالَ اَرَءَیۡتَکَ ہٰذَا الَّذِیۡ کَرَّمۡتَ عَلَیَّ ۫ لَئِنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَاَحۡتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۶۲﴾ قَالَ اذۡہَبۡ فَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ فَاِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآؤُکُمۡ جَزَآءً مَّوۡفُوۡرًا ﴿۶۳﴾ وَ اسۡتَفۡزِزۡ مَنِ اسۡتَطَعۡتَ مِنۡہُمۡ بِصَوۡتِکَ وَ اَجۡلِبۡ عَلَیۡہِمۡ بِخَیۡلِکَ وَ رَجِلِکَ وَ شَارِکۡہُمۡ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ وَ عِدۡہُمۡ ؕ وَ مَا یَعِدُہُمُ الشَّیۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۶۴﴾ اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیۡلًا ﴿۶۵﴾

آیت 61

وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ

’’اور یاد کرو جب ہم نے کہا تھا فرشتوں سے کہ سجدہ کرو آدمؑ کو تو ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہیں کیا)۔‘‘

قَالَ ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِیۡنًا ﴿ۚ۶۱﴾

’’اُس نے کہا کہ کیا میں اُسے سجدہ کروں جسے تو نے پیدا کیا ہے مٹی سے؟‘‘

حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا یہ قصہ یہاں چوتھی مرتبہ بیان ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے سورۃ البقرۃ رکوع ۴‘ سورۃ الاعراف رکوع ۲ اور سورۃ الحجر رکوع ۳ میں اس قصے کا ذکر ہو چکا ہے۔

آیت 62

قَالَ اَرَءَیۡتَکَ ہٰذَا الَّذِیۡ کَرَّمۡتَ عَلَیَّ ۫ لَئِنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَاَحۡتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۶۲﴾

’’اُس نے (مزید) کہا کہ ذرا دیکھ تو اُس کو جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے ‘اگر تو مجھے مہلت دے دے قیامت کے دن تک‘تو میں اس کی پوری نسل کو قابو میں کر کے چھوڑوں گا ‘سوائے بہت تھوڑے سے لوگوں کے۔‘‘

آیت 63

قَالَ اذۡہَبۡ فَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ فَاِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآؤُکُمۡ جَزَآءً مَّوۡفُوۡرًا ﴿۶۳﴾

’’اللہ نے فرمایا: جاؤ (دفع ہو جاؤ!) ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں گے تو یقینا تم سب کی سزا جہنم ہو گی ‘وافر سزا۔‘‘

آیت 64

وَ اسۡتَفۡزِزۡ مَنِ اسۡتَطَعۡتَ مِنۡہُمۡ بِصَوۡتِکَ

’’اور تو پھسلالے جس پر تیرا بس چلتا ہے ان میں سے اپنی آواز سے‘‘

عربی میں بکری کے ایسے نوزائیدہ بچے کو فزّ کہتے ہیں جو ابھی ٹھیک سے چلنے کے قابل نہ ہو اور کھڑا ہونے کی کوشش میں اس کی ٹانگیں لڑ کھڑاتی ہوں ۔ اس مناسبت سے یہ لفظ محاورۃً اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جس کی ٹانگیں کسی معاملے میں لڑ کھڑا جائیں ‘قدم ڈگمگا جائیں اور ہمت جواب دے دے۔

وَ اَجۡلِبۡ عَلَیۡہِمۡ بِخَیۡلِکَ وَ رَجِلِکَ وَ شَارِکۡہُمۡ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ وَ عِدۡہُمۡ ؕ

’’اور چڑھا لااُن پر اپنے سواروں اور پیادوں کو اور شریک بن جا اُن کا مالوں میں اور اولاد میں‘اور ان سے (جو چاہے) وعدے کر! ‘‘

وَ مَا یَعِدُہُمُ الشَّیۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۶۴﴾

’’اور نہیں وعدہ کرتا اُن سے شیطان مگر دھوکے کا۔‘‘

آیت 65

اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ ؕ

’’یقینا میرے بندوں پرتجھے کوئی اختیار نہیں ہو گا۔‘‘

تم انسانوں کو بہکانے اور پھسلانے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہو کر لو‘ان کے دلوں میں وسوسے ڈالو ‘ان سے جھوٹے سچے وعدے کرواور انہیں سبز باغ دکھاؤ۔ یہ تمام حربے تو تم استعمال کر سکتے ہو‘لیکن تمہیں یہ اختیار ہر گز نہیں ہو گا کہ تم میرے کسی بندے کو اس کی مرضی کے خلاف گمراہی کے راستے پر لے جاؤ۔

وَ کَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیۡلًا ﴿۶۵﴾

’’اور کافی ہے تیرا رب بطور کار ساز۔‘‘

وہ بندے جو شیطان سے بچنا چاہیں گے اللہ ان کی مدد کرے گا ‘اور جس کسی کا مدد گار اور کارساز اللہ ہو اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی‘وہی اس کے لیے کافی ہوتا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے