تحریر

الإسراء

آیات ۴۱ تا ۶۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

41-44

اللہ کی بلند شان

ویڈیو

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِیَذَّکَّرُوۡا ؕ وَ مَا یَزِیۡدُہُمۡ اِلَّا نُفُوۡرًا ﴿۴۱﴾ قُلۡ لَّوۡ کَانَ مَعَہٗۤ اٰلِـہَۃٌ کَمَا یَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰی ذِی الۡعَرۡشِ سَبِیۡلًا ﴿۴۲﴾ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا کَبِیۡرًا ﴿۴۳﴾ تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَنۡ فِیۡہِنَّ ؕ وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ وَ لٰکِنۡ لَّا تَفۡقَہُوۡنَ تَسۡبِیۡحَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیۡمًا غَفُوۡرًا ﴿۴۴﴾

آیت 41

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِیَذَّکَّرُوۡا ؕ

’’اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے اس قرآن میں (اپنی آیات کو) تا کہ یہ سبق حاصل کریں۔‘‘

ان کی نصیحت کے لیے ہم نے قرآن میں اسلوب بدل بدل کر حق کو واضح کیا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کے بارے میں ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں قرآن کا لفظ اور ذکر بار بار آیا ہے۔ گویا اس سورت کے مضامین کا تانا بانا قرآن سے متعلق ہے۔ اس سے پہلے آیت۹میں فرمایا گیا: {اِنَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ یَہۡدِیۡ لِلَّتِیۡ ہِیَ اَقۡوَمُ} ۔آیت زیر نظرمیں بھی قرآن کا ذکر ہے اور یہ ذکر اس اندازمیں آئندہ آیات میں بھی بار بار آئے گا۔

وَ مَا یَزِیۡدُہُمۡ اِلَّا نُفُوۡرًا ﴿۴۱﴾

’’مگر یہ نہیں بڑھاتا انہیں مگر نفرت ہی میں۔‘‘

یہ ان لوگوں کی بد بختی ہے کہ قرآن میں گوناگوں اسلوبوں میں حق واضح ہو جانے کے باوجود ان کی بیزاری اور نفرت ہی میں اضافہ ہورہا ہے اور وہ حق سے اور زیادہ دور بھاگے جا رہے ہیں۔

آیت 42

قُلۡ لَّوۡ کَانَ مَعَہٗۤ اٰلِـہَۃٌ کَمَا یَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰی ذِی الۡعَرۡشِ سَبِیۡلًا ﴿۴۲﴾

’’آپؐ کہیے کہ اگر اُس کے ساتھ کچھ دوسرے معبود بھی ہوتے ‘جیسا کہ یہ کہتے ہیں ‘تب تووہ ضرورتلاش کرتے صاحبِ عرش کی طرف کوئی راستہ۔‘‘

اگر واقعی اللہ کے ساتھ ساتھ دوسرے معبودوں کا بھی کوئی وجود ہوتا تو وہ ضرور سرکشی اور بغاوت کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں آنے کی کوشش کرتے۔ جس طرح چھوٹے چھوٹے راجوں کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح کوشش کر کے مہاراجہ کی کرسی تک پہنچ جائیں‘اور اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ بغاوت تک کا خطرہ مول لے لیتے ہیں‘ اسی طرح اگر اللہ کے بھی شریک ہوتے تو وہ بھی اللہ کے مقابلے میں ضرور مہم جوئی کرتے اور اگر ایسا ہوتا تو اس کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔

آیت 43

سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا کَبِیۡرًا ﴿۴۳﴾

’’وہ پاک ہے اور بہت ہی بلند و برتر ہے ان باتوں سے جو یہ کہہ رہے ہیں۔‘‘

آیت 44

تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَنۡ فِیۡہِنَّ ؕ

’’اُسی کی تسبیح میں لگے ہوئے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور (وہ تمام مخلوق بھی ) جو ان میں ہے۔‘‘

اس کائنات کی ایک ایک چیز‘ چاہے جاندار ہو یا بظاہر بے جان ‘وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ تسبیح کی ایک صورت تو یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اپنے وجود سے گویا اپنے خالق کی خلاقی اور اپنے صانع کی صناعی کا اعلان کررہی ہے۔ جیسے ایک تصویر اپنے مصور کے معیارِ فن کا اظہار کرتی ہے‘ لیکن تمام مخلوقات کا ایک طرز تسبیح قولی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو زبان عطا کر رکھی ہے اور و ہ اپنی زبان خاص سے اللہ کی تسبیح میں مصروف ہے۔

وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ وَ لٰکِنۡ لَّا تَفۡقَہُوۡنَ تَسۡبِیۡحَہُمۡ ؕ

’’اور کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ تسبیح کرتی ہے اُس کی حمد کے ساتھ ‘لیکن تم نہیں سمجھ سکتے ان کی تسبیح کو۔‘‘

اِنَّہٗ کَانَ حَلِیۡمًا غَفُوۡرًا ﴿۴۴﴾

’’یقینا وہ بہت تحمل والا‘بہت بخشنے والا ہے۔‘‘

ہر چیز کا یہی اندازِ تسبیح ہے جس کا ادراک انسان نہیں کر سکتے۔ سور ۂ حٰم السجدہ کی آیت ۲۱ میں اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کا ذکر ہے کہ اُس نے ہر چیز کو قوتِ ناطقہ عطا کی ہے۔ روز محشر جب انسانوں کے اپنے اعضاء ان کے خلاف شہادت دیں گے تو وہ حیران ہو کر اپنی کھالوں سے پوچھیں گے کہ یہ سب کیا ہے؟ {قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡطَقَ کُلَّ شَیۡءٍ} ’’ان کے چمڑے جواب میں کہیں گے کہ ہمیں اُس اللہ نے قوتِ گویائی عطا کی ہے جس نے ہر چیز کو بولنا سکھایا ہے۔ ‘‘

45-48

سردارانِ قریش کی محرومی

ویڈیو

وَ اِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾ وَّ جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا ؕ وَ اِذَا ذَکَرۡتَ رَبَّکَ فِی الۡقُرۡاٰنِ وَحۡدَہٗ وَلَّوۡا عَلٰۤی اَدۡبَارِہِمۡ نُفُوۡرًا ﴿۴۶﴾ نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَسۡتَمِعُوۡنَ بِہٖۤ اِذۡ یَسۡتَمِعُوۡنَ اِلَیۡکَ وَ اِذۡ ہُمۡ نَجۡوٰۤی اِذۡ یَقُوۡلُ الظّٰلِمُوۡنَ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴿۴۷﴾ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ ضَرَبُوۡا لَکَ الۡاَمۡثَالَ فَضَلُّوۡا فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَبِیۡلًا ﴿۴۸﴾

آیت 45

وَ اِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾

’’اور جب آپؐ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپؐ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے‘ ایک مخفی پردہ حائل کر دیتے ہیں۔‘‘

اس آیت میں ایک دفعہ پھر قرآن کا ذکر آیا ہے ۔ یہاں ایک غیر مرئی پردے کا ذکر ہے جو منکرین آخرت اور ہدایت کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ ایسے لوگوں کے ہرعمل کا معیار و مقصود صرف اور صرف دنیا کی زندگی ہے۔ وہ نہ تو آخرت کی زندگی کے قائل ہیں اور نہ ہی وہاں کے اجر و ثواب کے بارے میں سنجیدہ۔ دنیا میں وہ ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ کے نظریے پر زندگی بسر کر رہے ہیںاورقرآن کویا ہدایت کی کسی بھی بات کو توجہ سے نہیں سنتے۔ ایسے لوگوں کو ان کے اسی رویے کی بنا پر ہدایت سے مستقلاً محروم کر دیا جاتا ہے۔ اورچونکہ یہ اللہ کا قانون ہے اس لیے آیت زیر نظر میں اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب کیا ہے کہ جب آپﷺ انہیں قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو ان کے غیر سنجیدہ رویے کی بنا پر ہم آپﷺ کے اور ان کے درمیان ایک غیر مرئی پردہ حائل کر دیتے ہیں۔

آیت 46

وَّ جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا ؕ

’’اور ان کے دلوں پر بھی ہم پردے ڈال دیتے ہیں کہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں‘اور ان کے کانوں میں ثقل (پیدا کر دیتے ہیں)۔‘‘

وَ اِذَا ذَکَرۡتَ رَبَّکَ فِی الۡقُرۡاٰنِ وَحۡدَہٗ وَلَّوۡا عَلٰۤی اَدۡبَارِہِمۡ نُفُوۡرًا ﴿۴۶﴾

’’اور جب آپؐ قرآن میں تنہا اپنے رب ہی کا ذکر کرتے ہیں تو یہ اپنی پیٹھیں موڑ کر چل دیتے ہیں نفرت کے ساتھ۔‘‘

یہ لوگ اپنے تعصب کی وجہ سے اکیلے اللہ کا ذکر بطور معبود برداشت ہی نہیں کر سکتے ۔وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ ساتھ اُن کے معبودوں کا بھی کبھی کبھار ذکر ہوا کرے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ اکیلے اللہ کا ذکر سننے کو تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ بدک کر نفرت کے ساتھ پیٹھ موڑ کر چلے جاتے ہیں۔

آیت 47

نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَسۡتَمِعُوۡنَ بِہٖۤ اِذۡ یَسۡتَمِعُوۡنَ اِلَیۡکَ

’’ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے وہ توجہ سے سنتے ہیں اس (قرآن) کو جب وہ کان لگائے بیٹھے ہوتے ہیں آپؐ کی طرف‘‘

قریشِ مکہ کی اس چال کا ذکر پہلے بھی ہو چکا ہے۔ اُن کے بعض بڑے سردار اپنے عوام کو دھوکا دینے کے لیے رسول اللہﷺ کی مجلس میں آتے اور بظاہر بڑے انہماک سے سب کچھ سنتے ۔پھر واپس جا کر کہتے کہ لو جی ہم تو بڑے خلوص اور اشتیاق کے ساتھ گئے تھے محمد(ﷺ) کی محفل میں کہ وہ جو کلام پیش کرتے ہیں اس کو سنیں اور سمجھیں ‘مگر افسوس کہ ہمیں تو وہاں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ اس طرح وہ کوشش کرتے کہ ان کے عوام بھی ان کے ہم نوا بن جائیں اور ان میں بھی یہ سوچ عام ہو جائے کہ یہ بڑے بڑے سردار آخر سمجھدار ہیں‘بات کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘محمد(ﷺ) کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے مخلص بھی ہیں اور اسی اخلاص میں وہ خصوصی طور پر آپ (ﷺ) کی مجلس میں بھی جاتے ہیں۔ اگر اس نئے کلام میں کوئی خاص بات ہوتی تو وہ ضرور ان کی سمجھ میں آ جاتی۔ اب جب یہ لوگ وہاں جا کر اور اس کلام کو سن کر کہہ رہے ہیں کہ اس میں کچھ بھی خاص بات نہیں ہے تویقینا یہ لوگ سچ ہی کہہ رہے ہیں۔

وَ اِذۡ ہُمۡ نَجۡوٰۤی اِذۡ یَقُوۡلُ الظّٰلِمُوۡنَ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴿۴۷﴾

’’اور جب وہ علیحدگی میں سرگوشیاں کرتے ہیں‘جب یہ ظالم (ایک دوسرے سے) کہہ رہے ہوتے ہیں کہ تم نہیں پیروی کر رہے ہو مگر ایک سحر زدہ شخص کی۔‘‘

ان میں سے کسی کے دل پر جب قرآن کی کوئی آیت اثر کرتی ہے اور وہ اس کا اظہار اپنے ساتھیوں کے ساتھ کرتا ہے کہ ہاں بھئی محمد(ﷺ) نے آ ج جو فلاں بات کی ہے اس میں بہت وزن ہے‘اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تو ایسی صورت میں وہ فوراً اس کا توڑ کرنے کے لیے اپنے اس ساتھی کو سمجھانا شروع کر دیتے ہیں کہ جی چھوڑو! تم کہاں ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے چل پڑے۔ اُن (ﷺ) کی باتوں پر کوئی سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔

آیت 48

اُنۡظُرۡ کَیۡفَ ضَرَبُوۡا لَکَ الۡاَمۡثَالَ

’’دیکھئے کیسے بیان کرتے ہیں یہ لوگ آپؐ کے لیے مثالیں‘‘

کبھی وہ آپؐ کو سحر زدہ آدمی کہتے ہیں‘کبھی کاہن اور کبھی شاعر! دیکھیں کیسی کیسی بیہودہ باتیں کرتے ہیں اور اس میں بھی کسی ایک رائے پر اتفاق نہیں کر سکتے۔

فَضَلُّوۡا فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَبِیۡلًا ﴿۴۸﴾

’’چنانچہ وہ بھٹک گئے ہیں اور اب راہ یاب نہیں ہو سکیں گے۔‘‘

49-52

آخرت کے حوالے سے تین طنزیہ سوالات

ویڈیو

وَ قَالُوۡۤاءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًاءَ اِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ خَلۡقًا جَدِیۡدًا ﴿۴۹﴾ قُلۡ کُوۡنُوۡا حِجَارَۃً اَوۡ حَدِیۡدًا ﴿ۙ۵۰﴾ اَوۡ خَلۡقًا مِّمَّا یَکۡبُرُ فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ ۚ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ مَنۡ یُّعِیۡدُنَا ؕ قُلِ الَّذِیۡ فَطَرَکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ۚ فَسَیُنۡغِضُوۡنَ اِلَیۡکَ رُءُوۡسَہُمۡ وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہُوَ ؕ قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ قَرِیۡبًا ﴿۵۱﴾ یَوۡمَ یَدۡعُوۡکُمۡ فَتَسۡتَجِیۡبُوۡنَ بِحَمۡدِہٖ وَ تَظُنُّوۡنَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿٪۵۲﴾

آیت 49

وَ قَالُوۡۤاءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًاءَ اِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ خَلۡقًا جَدِیۡدًا ﴿۴۹﴾

’’اور وہ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم ہو جائیں گے ہڈیاں اور چورا چورا‘تو کیا ہم اٹھائے جائیں گے ایک نئی تخلیق میں؟‘‘

یہ لوگ آپؐ سے بڑی حیرت سے سوال کرتے ہیں کہ آپ(ﷺ) جو انسانوں کی دوبارہ زندگی کی بات کرتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے؟ جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو جائیں گی اور گوشت گل سڑ جائے گا‘تو اس کے بعد ہمیں پھر سے نئی زندگی کیسے مل سکتی ہے؟ گویا ان کی سوچ کے مطابق ایسا ہونا بالکل محال اور نا ممکن ہے۔

آیت 50

قُلۡ کُوۡنُوۡا حِجَارَۃً اَوۡ حَدِیۡدًا ﴿ۙ۵۰﴾

’’(ان سے ) کہیے کہ خواہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔‘‘

آیت 51

اَوۡ خَلۡقًا مِّمَّا یَکۡبُرُ فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ ۚ

’’یا ایسی مخلوق (بن جاؤ) جو تمہارے دلوں میں ان سے بھی سخت ہو۔‘‘

اے نبیﷺ! ان سے کہیے کہ آپ تو ہڈیوں کی بات کرتے ہو اور اپنے جسموں کے ریزہ ریزہ ہو کر ختم ہوجانے کا تصور لیے بیٹھے ہو۔ تم اگر پتھر اور لوہا بھی بن جاؤ یا اپنی سوچ کے مطابق اس سے بھی بڑھ کر کسی عجیب مخلوق کا روپ دھار لو ‘تب بھی تمہیں ازسرنواٹھا لیا جائے گا۔

فَسَیَقُوۡلُوۡنَ مَنۡ یُّعِیۡدُنَا ؕ

’’پھر کہیں گے کہ کون ہمیں دوبارہ لوٹائے گا؟‘‘

قُلِ الَّذِیۡ فَطَرَکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ۚ

’’آپؐ کہیے کہ وہی جس نے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کیا تھا۔‘‘

فَسَیُنۡغِضُوۡنَ اِلَیۡکَ رُءُوۡسَہُمۡ وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہُوَ ؕ

’’پھر وہ آپؐ کے سامنے اپنے سروں کو مٹکائیں گے اور کہیں گے کہ یہ کب ہو گا؟‘‘

لا جواب ہو کر اپنے سروں کو مٹکاتے ہوئے بولیں گے کہ چلو مان لیا کہ یہ سب کچھ ممکن ہے ‘مگر یہ تو بتائیے کہ ایسا ہو گاکب؟

قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ قَرِیۡبًا ﴿۵۱﴾

’’آپؐ کہیے کہ ہو سکتا ہے (اس کا وقت) قریب ہی ہو۔‘‘

عجب نہیں کہ تمہاری شامت کی وہ گھڑی آیا ہی چاہتی ہو‘زیادہ دور نہ ہو۔

آیت 52

یَوۡمَ یَدۡعُوۡکُمۡ فَتَسۡتَجِیۡبُوۡنَ بِحَمۡدِہٖ

’’جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم (اُس کی پکار پر) لبیک کہو گے اُس کی حمد کرتے ہوئے‘‘

جب وہ گھڑی آئے گی اور تمہار اخالق تمہیں قبروں سے باہر آنے کے لیے بلائے گا تو تمہاری ہڈیاں اور تمہارے جسموں کے بکھرے ذرات سب سمٹ کر پھر سے زندہ انسانوں کا روپ دھار لیں گے اور تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کی تعمیل میں بھاگے چلے جا رہے ہو گے۔

وَ تَظُنُّوۡنَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿٪۵۲﴾

’’اور تم گمان کرو گے کہ تم نہیں رہے مگر بہت تھوڑا (عرصہ)۔‘‘

اس وقت تمہیں دُنیا اور عالم برزخ (قبر) میں اپنابیتا ہوا زمانہ ایسے لگے گا جیسے کہ چند گھڑیاں ہی تم وہاں گزار کر آئے ہو۔

53

انسان کی خوش کلامی شیطان کی ناکامی ہے

ویڈیو

وَ قُلۡ لِّعِبَادِیۡ یَقُوۡلُوا الَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ یَنۡزَغُ بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا ﴿۵۳﴾

آیت 53

وَ قُلۡ لِّعِبَادِیۡ یَقُوۡلُوا الَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ

’’اور آپؐ میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہی بات کہیں جو بہت اچھی ہو۔‘‘

یہاں وہ نکتہ ذہن میں تازہ کر لیجیے جس کی قبل ازیں وضاحت ہو چکی ہے کہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو براہِ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ اُن سے براہِ راست تخاطب کا سلسلہ (یٰٓــاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا) تحویل قبلہ کے بعد شروع ہوا‘جب انہیں باقاعدہ اُمتِ مسلمہ کے منصب پر فائز کر دیا گیا۔ اس سے پہلے اہل ایمان کو رسول اللہﷺ کی وساطت سے ہی مخاطب کیا جاتا رہا۔ چنانچہ اسی اصول کے تحت یہاں بھی حضورﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپؐ میرے بندوں (مؤمنین) کو میری طرف سے یہ بتا دیں کہ وہ ہر حال میں خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں اور گفتگو میں کبھی ترشی اور تلخی نہ آنے دیں۔ اس طرح آپس میں بھی شیر و شکر بن کر رہیں اور مخالفین کے سامنے بھی بہتر اخلاق کا نمونہ پیش کریں --- اقامتِ دین کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے مؤمنین کے سامنے بہت زیادہ رکاوٹیں ہیں ۔ ان کے مخاطبین جہالت کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے جاہلانہ اعتقادات نسلوں سے چلے آ رہے ہیں۔ اسی طرح انہیں اپنے رسم و رواج ‘سیاسی و معاشی مفادات اورغیرت و حمیت کے جذبات بہت عزیز ہیں۔ انہیں اس سب کچھ کا دفاع کرنا ہے اور اس کے لیے وہ ہر طرح کی قربانیاں دینے کو تیار ہیں۔ ان حالات میں داعیانِ حق کو تحمل‘بردباری اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اشتعال میں آ کر اعلیٰ اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں۔

اِنَّ الشَّیۡطٰنَ یَنۡزَغُ بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا ﴿۵۳﴾

’’یقینا شیطان ان کے درمیان جھگڑا ڈالے گا۔یقینا شیطان انسا ن کا کھلا دشمن ہے۔‘‘

54-55

اللہ تمام انسانوں کے حال سے واقف ہے

ویڈیو

رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِکُمۡ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یَرۡحَمۡکُمۡ اَوۡ اِنۡ یَّشَاۡ یُعَذِّبۡکُمۡ ؕ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ وَکِیۡلًا ﴿۵۴﴾ وَ رَبُّکَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ لَقَدۡ فَضَّلۡنَا بَعۡضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا ﴿۵۵﴾

آیت 54

رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِکُمۡ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یَرۡحَمۡکُمۡ اَوۡ اِنۡ یَّشَاۡ یُعَذِّبۡکُمۡ ؕ

’’تمہارا ربّ تم سے خوب واقف ہے۔اگر وہ چاہے گا تو تم پر رحم فرمائے گا ‘یا اگرچاہے گا تو تمہیں عذاب دے گا۔‘‘

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ وَکِیۡلًا ﴿۵۴﴾

’’اور (اے نبیﷺ!)ہم نے آپ کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘

ہدایت کو قبول کرنا یا نہ کرنا ہر شخص کا ذاتی معاملہ اور ذاتی انتخاب ہے۔ آپﷺ ان تک پیغام پہنچانے کے ذمہ دار ہیں ‘انہیں ہدایت پر لانے کے مکلف نہیں۔

آیت 55

وَ رَبُّکَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’اور آپؐ کا رب خوب جانتا ہے اس کو جو کوئی ہے آسمانوں اور زمین میں۔‘‘

وَ لَقَدۡ فَضَّلۡنَا بَعۡضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰی بَعۡضٍ

’’اور ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت بخشی ہے‘‘

یہاں اس فقرے کے سیاق و سباق کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل مکی دور کے آخری برسوں میں نازل ہوئی اور اس کا آغاز بھی بنی اسرائیل کی تاریخ سے ہوا۔ اس سورۃ کے نزول سے پہلے نبی آخرالزماںﷺ کی بعثت اور قرآن کے بارے میں تمام خبریں مدینہ پہنچ چکی تھیں اور یہودِ مدینہ ایک ایک بات اور ایک ایک خبر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔ پھر عنقریب حضورﷺ خود بھی مدینہ تشریف لانے والے تھے۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کا یہودیوں کے ساتھ عقائد و نظریات کے بارے میں تبادلہ خیالات ہونا تھا تو انبیاء کرامؑ کے فضائل کے بارے میں سوالات کا اٹھنا ناگزیر تھا‘کہ اگر محمد(ﷺ) نبی ہیں تو آپﷺ اور موسیٰ علیہ السلام میں سے افضل کون ہیں؟ یا یہ مسئلہ کہ محمدﷺ افضل ہیں یا عیسیٰ علیہ السلام ؟ چنانچہ اس حوالے سے یہاں ایک بنیادی اور اصولی بات بیان فرما دی گئی کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان میں موجود اپنی تمام مخلوق کے احوال و کیفیات سے خوب واقف ہے اوراس نے اپنے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۵۳ میں یہی بات یوں بیان فرمائی گئی ہے: {تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ ۷} ’’ یہ رسول ؑہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے‘‘۔ ایسا نہ ہو کہ اس بحث میں پڑ کر آپ لوگ اپنے نبیﷺ کی فضیلت اس طرح بیا ن کریں کہ مخالفین کے منفی جذبات کو ہوا ملے اور وہ تعصب سے مغلوب ہو کر آپؐ کی بات ہی سننے سے انکار کر دیں۔

یہ بہت نازک مسئلہ ہے اور اس کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرور ت ہے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبیﷺ تمام انبیاء کرامؑ سے افضل ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپﷺ سب سے افضل ہیں‘ مگر موقع و محل دیکھے بغیر اپنے اس عقیدے کا اس طرح سے چرچا کرنا درست نہیں کہ اس سے دوسرے مشتعل ہوں اور ان کے مخالفانہ جذبات و خیالات کو انگیخت ملے۔ اس ضمن میں حضورﷺ کی واضح حدیث ہے کہ حدیث((لَا تُفَضِّلُوْا بَیْنَ اَنْبِیَائَ اللّٰہِ))۱’’اللہ کے نبیوں کے مابین درجہ بندی نہ کیا کرو‘‘۔آپﷺ نے مزید فرمایا: حدیث((لاَ یَنْبَغِیْْ لِعَبْدٍ اَنْ یَـقُوْلَ اَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی))۲’’کسی شخص کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں (محمدﷺ) یونس بن متیٰ سے افضل ہوں‘‘۔آپﷺ نے یہاں حضرت یونس کا ذکر شاید اس لیے فرمایا کہ حضرت یونس علیہ السلام واحد نبی ہیں جن کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ گرفت ہوئی ہے ۔ بہر حال آپﷺ نے واضح طور پر اس سے منع فرمایا ہے کہ دوسرے انبیاء پر آپؐ کی فضیلت کا پرچار کیا جائے۔

وَّ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا ﴿۵۵﴾

’’اور ہم نے داؤدؑ کو زبور عطا کی تھی۔‘‘

اسی سیاق و سباق کی مناسبت سے یہاں بنی اسرائیل کے ایک نبی کا تذکرہ فرما دیا اور آپؑ کی فضیلت بھی بیان فرما دی کہ حضرت داؤد علیہ السلام کو ہم نے زبور جیسی جلیل القدر کتاب عطا فرمائی تھی ۔ یہاں پر یہ اشارہ ملتا ہے کہ موقع و محل کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء و رسل ؑ کے فضائل اور اعلیٰ مراتب کے ذکر سے ان کی عزت افزائی کرتا ہے۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب احادیث الانبیائ‘ باب قول اللّٰہ تعالٰی وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ … وصحیح مسلم‘ کتاب الفضائل‘ باب من فضائل موسٰی علیہ السلام۔

(۲) صحیح البخاری‘ کتاب احادیث الانبیائ‘ باب قول اللّٰہ تعالی وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ… وصحیح مسلم‘ کتاب الفضائل‘ باب فی ذکر یونس علیہ السلام وقول النبی ﷺ لا ینبغی لعبد ان یقول انا خیر من یونس بن متی۔

56-57

اللہ کے محبوب بندوں کا حال

ویڈیو

قُلِ ادۡعُوا الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَلَا یَمۡلِکُوۡنَ کَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡکُمۡ وَ لَا تَحۡوِیۡلًا ﴿۵۶﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ یَبۡتَغُوۡنَ اِلٰی رَبِّہِمُ الۡوَسِیۡلَۃَ اَیُّہُمۡ اَقۡرَبُ وَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَہٗ وَ یَخَافُوۡنَ عَذَابَہٗ ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحۡذُوۡرًا ﴿۵۷﴾

آیت 56

قُلِ ادۡعُوا الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَلَا یَمۡلِکُوۡنَ کَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡکُمۡ وَ لَا تَحۡوِیۡلًا ﴿۵۶﴾

’’آپؐ کہیے کہ ان کو پکار دیکھو جن کو تم نے اُس کے سوا (معبود) گمان کر رکھا ہے‘ تو نہ انہیں کچھ اختیار حاصل ہے تم سے کوئی تکلیف دُور کرنے کا اور نہ ہی (تمہاری حالت) بدلنے کا۔‘‘

آیت 57

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ یَبۡتَغُوۡنَ اِلٰی رَبِّہِمُ الۡوَسِیۡلَۃَ اَیُّہُمۡ اَقۡرَبُ

’’وہ لوگ جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے قرب کے متلاشی ہیں کہ ان میں سے کون (اُس کے) زیادہ قریب ہے‘‘

لفظ ’’وسیلہ‘‘ بمعنی قرب اس سے پہلے ہم سورۃ المائدۃ (آیت ۳۵) میں پڑھ چکے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں اللہ کے بندے اللہ کے ہاں اپنے درجات بڑھانے کی فکر میں رہتے ہیں اسی طرح عالم غیب یا عالم امر میں بھی تقرب الی اللہ کی یہ درجہ بندی موجود ہے ۔ جیسے فرشتوں میں طبقۂ اسفل کے فرشتے ‘پھر درجہ اعلیٰ کے فرشتے اور پھر ملائکہ مقربین ہیں۔

اللہ کی شریک ٹھہرائی جانے والی شخصیات میں سے کچھ تو ایسی ہیں جو بالکل خیالی ہیں اور حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ۔لیکن ان کے علاوہ ہر زمانے میں لوگ انبیاء ‘اولیاء اللہ اور فرشتوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک سمجھتے رہے ہیں۔ ایسی ہی شخصیات کے بارے میں یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ چاہے انبیاء و رسل ہوں‘یا اولیاء اللہ‘یا فرشتے‘ وہ تو عالم امر میں خود اللہ کی رضا جوئی کے لیے کوشاں اور اس کے قرب کے متلاشی ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم میں متعدد بار ذکر ہوا ہے کہ ایسی تمام شخصیات جنہیں دنیا میں مختلف انداز میں اللہ کے سوا پکارا جاتا تھا قیامت کے دن اپنے عقیدت مندوں کے مشرکانہ نظریات سے اظہارِ بیزاری کریں گی اور صاف کہہ دیں گی کہ اگر یہ لوگ ہمارے پیچھے ہمیں اللہ کا شریک ٹھہراتے رہے تھے تو ہمیں اس بارے میں کچھ خبر نہیں۔

وَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَہٗ وَ یَخَافُوۡنَ عَذَابَہٗ ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحۡذُوۡرًا ﴿۵۷﴾

’’اور وہ امیدوار ہیں اُس کی رحمت کے اور ڈرتے رہتے ہیں اُس کے عذاب سے۔واقعتا آپؐ کے رب کا عذاب چیز ہی ڈرنے کی ہے۔‘‘

58

دنیا کی ہر بستی فنا ہو کر رہے گی

ویڈیو

وَ اِنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا نَحۡنُ مُہۡلِکُوۡہَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ اَوۡ مُعَذِّبُوۡہَا عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ کَانَ ذٰلِکَ فِی الۡکِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا ﴿۵۸﴾

آیت 58

وَ اِنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا نَحۡنُ مُہۡلِکُوۡہَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ اَوۡ مُعَذِّبُوۡہَا عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ

’’اور نہیں ہے کوئی بستی مگر ہم اسے ہلاک کر کے رہیں گے روزِ قیامت سے قبل یا ہم عذاب دیں گے اُسے بہت ہی شدید عذاب۔‘‘

یہ اشارہ ہے اُس بہت بڑی تباہی کی طرف جو قیامت سے پہلے اس دنیا پر آنے والی ہے۔ سورۃ الکہف کی دوسری آیت میں اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے: {لِیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ} ۔ سورۂ بنی اسرائیل اور سورۃ الکہف کا آپس میں چونکہ زوجیت کا تعلق ہے اس لیے یہ مضمون ان دونوں آیات کو ملا کر پڑھنے سے واضح ہوتا ہے۔ احادیث میں المَلحمۃ العُظمٰی کے نام سے ایک بہت بڑی جنگ کی پیشین گوئی کی گئی ہے جو قیامت سے پہلے دنیا میں برپا ہو گی۔ آیت زیر نظر میں اُسی تباہی کا ذکر ہے جس سے روئے زمین پر موجود کوئی بستی محفوظ نہیں رہے گی۔ سورۃ الکہف میں زیادہ صراحت کے ساتھ اس کا تذکرہ آئے گا۔

اس وقت دنیا میں ایٹمی جنگ چھڑنے کا امکان ہر وقت موجود ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی وقت ایسا سانحہ رونما ہو جاتا ہے تو ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے دنیا پر جو تباہی آئے گی اس کو تصور میں لانا بھی مشکل ہے۔ ان حالات میں المَلحمۃ العُظمٰی کے بارے میں پیشین گوئیاں آج مجسم صورت میں سامنے کھڑی نظر آتی ہیں۔

کَانَ ذٰلِکَ فِی الۡکِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا ﴿۵۸﴾

’’یہ (اللہ کی) کتاب میں لکھا ہوا ہے۔‘‘

یعنی یہ طے شدہ امور میں سے ہے۔ ایک وقت معین پر یہ سب کچھ ہو کر رہنا ہے۔

59

فرمائشی معجزہ نہ دکھانے کی حکمت

ویڈیو

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنۡ نُّرۡسِلَ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنۡ کَذَّبَ بِہَا الۡاَوَّلُوۡنَ ؕ وَ اٰتَیۡنَا ثَمُوۡدَ النَّاقَۃَ مُبۡصِرَۃً فَظَلَمُوۡا بِہَا ؕ وَ مَا نُرۡسِلُ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّا تَخۡوِیۡفًا ﴿۵۹﴾

آیت 59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنۡ نُّرۡسِلَ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنۡ کَذَّبَ بِہَا الۡاَوَّلُوۡنَ ؕ

’’اور ہمیں نہیں روکا(کسی اور بات نے) کہ ہم نشانیاں بھیجیں‘سوائے اس کے کہ ان کو جھٹلا دیا تھا پہلے لوگوں نے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے حسی معجزات دکھانے صر ف اس لیے بند کر دیے ہیں کہ سابقہ قوموں کے لوگ ایسے معجزات کو دیکھ کر بھی کفر پر ڈٹے رہے اور ایمان نہ لائے۔یہ وہی مضمون ہے جو سورۃ الانعام اور اس کے بعد نازل ہونے والی مکی سورتوں میں تسلسل سے دہرایا جا رہا ہے ۔

وَ اٰتَیۡنَا ثَمُوۡدَ النَّاقَۃَ مُبۡصِرَۃً فَظَلَمُوۡا بِہَا ؕ

’’اور ہم نے قومِ ثمود کو اونٹنی دی آنکھیں کھول دینے والی نشانی (کے طو رپر) تو انہوں نے اس کے ساتھ بھی ظلم کیا۔‘‘

قومِ ثمود کو ان کے مطالبے پر اونٹنی کا بصیرت افروز معجزہ دکھایا گیا مگر انہوں نے اس واضح معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی حضرت صالح علیہ السلام پر ایمان لانے کے بجائے اس اونٹنی ہی کو مار ڈالا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مٹی سے زندہ پرندے بنانے اور ’’قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ‘‘ کہہ کر مردوں کو زندہ کرنے تک کے معجزات دیے گئے ‘ مگر کیا انہیں دیکھ کر وہ لوگ ایمان لے آئے؟

وَ مَا نُرۡسِلُ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّا تَخۡوِیۡفًا ﴿۵۹﴾

’’اور ہم نہیں بھیجتے نشانیاں مگر صرف ڈرانے کے لیے ۔‘‘

نشانیاں یا معجزے بھیجنے کا مقصد تو لوگوں کو خبردار کرنا ہوتا ہے ‘سو یہ مقصد قرآن کی آیات بخوبی پورا کر رہی ہیں۔ اس کے بعد اب اور کون سی نشانیوں کی ضرورت باقی ہے؟ اگلی آیت میں یہی بات تین مثالوں سے مزید واضح کی گئی ہے کہ یہ لوگ کس طرح قرآن کی آیا ت کے ساتھ بحث برائے بحث اور انکار کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور یہ کہ اللہ نے حسی معجزات دکھانا کیوں بند کر دیے ہیں۔

60

آیاتِ متشابہات

ویڈیو

وَ اِذۡ قُلۡنَا لَکَ اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ؕ وَ مَا جَعَلۡنَا الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَۃَ الۡمَلۡعُوۡنَۃَ فِی الۡقُرۡاٰنِ ؕ وَ نُخَوِّفُہُمۡ ۙ فَمَا یَزِیۡدُہُمۡ اِلَّا طُغۡیَانًا کَبِیۡرًا ﴿٪۶۰﴾

آیت 60

وَ اِذۡ قُلۡنَا لَکَ اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ؕ

’’اور جب ہم آپؐ سے کہتے ہیں کہ آپؐ کے رب نے لوگوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔‘‘

قرآن حکیم کی بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے‘ مثلاً : {وَّ اللّٰہُ مِنۡ وَّرَآئِہِمۡ مُّحِیۡطٌ ﴿ۚ۲۰﴾} (البروج) ’’اور اللہ ان کا ہر طرف سے احاطہ کیے ہوئے ہے‘‘۔ یہ لوگ جب ایسی آیات سنتے ہیں تو ڈرنے کی بجائے فضول بحث پر اتر آتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ کہاں ہے اللہ؟ ہمارا احاطہ کیوں کر ہوا ہے؟

اگر فلسفیانہ پہلو سے دیکھا جائے تو اس آیت میں ’’ حقیقت و ماہیتِ وجود‘‘ کے موضوع سے متعلق اشارہ پایا جاتا ہے جوفلسفے کا مشکل ترین مسئلہ ہے اور آسانی سے سمجھ میں آنے والا نہیں ہے‘ یعنی ایک وجود خالق کا ہے ‘وہ ہر جگہ ‘ ہر آن موجود ہے‘ اورایک وجود مخلوق یعنی اس کائنات کا ہے۔ اب خالق و مخلوق کے مابین ربط کیا ہے؟اس سلسلے میں کچھ لوگ ’’ہمہ اوست‘‘ (Pantheism) کے قائل ہو گئے۔ ان کے خیال کے مطابق یہ کائنات ہی خدا ہے‘خدا نے ہی کائنات کا روپ دھار لیا ہے‘ جیسے خدا خود ہی انسانوں کا روپ دھار کر ’’اوتار‘‘ کی صورت میں زمین پر آ جاتا ہے ۔یہ بہت بڑا کفر اور شرک ہے۔ دوسری طرف اگر یہ سمجھیں کہ اللہ کا وجود اس کائنات میں نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اُس کا وجود کہیں الگ ہے اور وہ نعوذ باللہ کہیں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا۔ ہمیں بس اس قدر سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ کا وجودمطلق (Absolute) ہے۔ وہ حدود و قیود‘زمان و مکان‘کسی سمت یا جہت کے تصور سے ماوراء ‘وراء الوراء‘ثم وراء الوراء ہے۔

وَ مَا جَعَلۡنَا الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلنَّاسِ

’’اور نہیں بنایا ہم نے اس مشاہدے کو جو ہم نے آپؑ کو دکھایا تھا مگر ایک فتنہ لوگوں کے لیے ‘‘

یہاں پرلفظ ’’رؤیا ‘‘ خواب کے معنی میں نہیں آیابلکہ اس سے رُؤیت بصری مراد ہے۔ انسان اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھتا ہے اس پر بھی ’’رؤیا‘‘ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شب معراج میں حضورﷺ کو جو مشاہدات کرائے تھے اور جو نشانیاں آپﷺ کو دکھائی تھیں اُن کی تفصیل جب کفارِ مکہ نے سنی تو یہ معاملہ ان کے لیے ایک فتنہ بن گیا۔ وہ نہ صرف خود اس کے منکر ہوئے ‘بلکہ اس کی بنیاد پر وہ مسلمانوں کو اُن کے دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر انہوں نے پوری شد و مد سے یہ پرچار شروع کر دیا کہ محمد(ﷺ) پر جنون کے اثرات ہو چکے ہیں (معاذ اللہ ‘ثم معاذ اللہ) ۔ اس زمانے میںجب مکہ سے بیت المقدس پہنچنے میں پندرہ دن لگتے تھے ‘یہ دعویٰ انتہائی ناقابلِ یقین معلوم ہوتا تھا کہ کوئی شخص راتوں رات نہ صرف بیت المقدس سے ہو آیا ہے بلکہ آسمانوں کی سیر بھی کر آیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے موقع غنیمت سمجھ کر اس موضوع کو خوب اچھالا اور مسلمانوں سے بڑھ چڑھ کر بحث مباحثے کیے۔ اس طرح نہ صرف یہ بات کفار کے لیے فتنہ بن گئی بلکہ مسلمانوں کے لیے بھی ایک آزمائش قرار پائی۔

جب یہی نا قابل یقین بات ان لوگوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کی اور آپؓ سے تبصرہ چاہا تو آ پؓ نے بلاتوقف جواب دیا کہ اگر واقعی حضورﷺ نے ایسا فرمایا ہے تو یقینا سچ فرمایا ہے‘ کیونکہ جب میں یہ مانتا ہوں کہ آپﷺ کے پاس آسمانوں سے ہر روز فرشتہ آتا ہے تو مجھے آپﷺ کا یہ دعویٰ تسلیم کرنے میں آخر کیونکر تامل ہوگا کہ آپﷺ راتوں رات آسمانوں کی سیر کر آئے ہیں! اسی بلا تامل تصدیق کی بنا پر اس دن سے حضرت ابو بکرؓ کا لقب ’’صدیق اکبر رضی اللہ عنہ‘‘ قرار پایا۔

وَ الشَّجَرَۃَ الۡمَلۡعُوۡنَۃَ فِی الۡقُرۡاٰنِ ؕ

’’اور اُس درخت کو بھی جس پر قرآن میں لعنت وارد ہوئی ہے۔‘‘

اسی طرح جب قرآن میں زقوم کے درخت کا ذکر آیا اور اس کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ اس درخت کی جڑیں جہنم کی تہہ میں ہوں گی ( الصافات:۶۴) اور وہاں سے یہ جہنم کی آگ میں پروان چڑھے گا تو یہ بات بھی ان لوگوں کے لیے فتنے کا باعث بن گئی۔ بجائے اس کے کہ وہ لوگ اسے اللہ کی قدرت سمجھ کر تسلیم کر لیتے‘الٹے اس بات پر تمسخر اور استہزا کرنے لگے کہ آگ کے اندر بھلا درخت کیسے پیدا ہو سکتے ہیں؟ انہیں کیامعلوم کہ یہ اُس عالم کی بات ہے جس کے طبعی قوانین اس دنیا کے طبعی قوانین سے مختلف ہوں گے اور جہنم کی آگ کی نوعیت اور کیفیت بھی ہماری دنیا کی آگ سے مختلف ہو گی۔

وَ نُخَوِّفُہُمۡ ۙ فَمَا یَزِیۡدُہُمۡ اِلَّا طُغۡیَانًا کَبِیۡرًا ﴿٪۶۰﴾

’’اور (ان باتوں سے) ہم تو انہیں تنبیہہ کرتے ہیں مگر یہ تنبیہہ ان کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جا رہی ہے۔‘‘

قرآن میں یہ سب باتیں انہیں خبردار کرنے کے لیے نازل ہوئی ہیں‘ مگر یہ ان لوگوں کی بد بختی ہے کہ اللہ کی آیات سن کر ڈرنے اور ایمان لانے کی بجائے وہ مزید سرکش ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی سرکشی میں روز بروز مزید اضافہ ہوتاجا رہا ہے ۔

یوٹیوب پر دیکھیے