تحریر

الإسراء

آیات ۲۳ تا ۴۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

23-25

اللہ کے بعد حق والدین کا ہے

ویڈیو

وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾ وَ اخۡفِضۡ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَۃِ وَ قُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا ﴿ؕ۲۴﴾ رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا فِیۡ نُفُوۡسِکُمۡ ؕ اِنۡ تَکُوۡنُوۡا صٰلِحِیۡنَ فَاِنَّہٗ کَانَ لِلۡاَوَّابِیۡنَ غَفُوۡرًا ﴿۲۵﴾

آیت 23

وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ

’’اور فیصلہ کر دیا ہے آپؐ کے رب نے کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اُس کے ‘اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔‘‘

اللہ کے حقوق کے فوراً بعد والدین کے حقوق ادا کرنے کی تاکید اس سے پہلے ہم سورۃ البقرۃ کی آیت ۸۳اور سورۃ النساء کی آیت ۳۶میں بھی پڑھ آئے ہیں ۔ اس کے بعد سورۂ لقمان کی آیت ۱۴میں یہی حکم چوتھی مرتبہ آئے گا۔

اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا

’’اگر پہنچ جائیں تمہارے پاس بڑھاپے کو ان میں سے کوئی ایک یا دونوں‘‘

فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾

’’تو انہیں اُف تک مت کہو اور نہ انہیں جھڑکو‘ اور ان سے بات کرو نرمی کے ساتھ۔‘‘

اگر کبھی والدین کی بات کو ٹالنا بھی پڑ جائے تو حکمت اور نرمی کے ساتھ ایسا کیا جائے ۔ عقل اور منطق کے بل پر سینہ تان کر یوں جواب نہ دیا جائے کہ ان کا دل دکھے۔

آیت 24

وَ اخۡفِضۡ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَۃِ

’’اور جھکائے رکھو ان کے سامنے اپنے بازو عاجزی اور نیاز مندی سے‘‘

جب بھی اپنے والدین کے سامنے آئو تو تمہاری چال ڈھال اور گفتگو کے انداز سے عاجزی و انکساری اور ادب و احترام کا اظہار ہونا چاہیے۔

وَ قُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا ﴿ؕ۲۴﴾

’’اور دعا کرتے رہو : اے میرے رب ان دونوں پر رحم فرما جیسے کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے حضورہر وقت ان کے لیے دعا گو رہنا چاہیے کہ اے اللہ جب میں ضعیف ‘کمزور اور محتاج تھا توانہوں نے میری غذا‘میرے آرام اور میری دوسری ضروریات کا انتظام کیا۔ میری تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھا اور میرے لیے اپنے آرام و آرائش کو قربان کیا۔ اب میں تو ان کے ان احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا۔ اس لیے میں تجھی سے درخواست کرتا ہوں کہ تو ان پر رحم فرما اور اپنی خصوصی شفقت اور مہربانی سے اُن کی خطاؤں کو معاف فرما دے۔

آیت 25

رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا فِیۡ نُفُوۡسِکُمۡ ؕ اِنۡ تَکُوۡنُوۡا صٰلِحِیۡنَ فَاِنَّہٗ کَانَ لِلۡاَوَّابِیۡنَ غَفُوۡرًا ﴿۲۵﴾

’’تمہارا رب خوب واقف ہے اس سے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ اگر تم واقعی نیک ہو گے تو وہ (اپنی طرف ) رجوع کرنے والوں کے لیے بڑا بخشنے والا ہے۔‘‘

بوڑھے والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم پر کماحقہ عمل کرنا آسان کام نہیں۔ بڑھاپے میں انسان پر ’’ارذلِ عمر‘‘ کا مرحلہ بھی آتا ہے‘ جس کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں: {لِکَیۡ لَا یَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ } (النحل:۷۰) ۔ایسی کیفیت میں کبھی بچوں کی سی عادتیں لوٹ آتی ہیں اور ان کی بہت سی باتیں ناقابل عمل اور اکثر احکام ناقابل تعمیل ہوتے ہیں۔ کہیں انہیں سمجھانا بھی پڑتا ہے اور کبھی روکنے ٹوکنے کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔ ان سب مراحل میں کوشش کے باوجود کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہو ہی جاتی ہے اور کبھی نہ کبھی کوئی کوتاہی رہ ہی جاتی ہے۔ یہاں اس سیاق و سباق میں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف تمہارے ظاہر ی عمل اور رویے ہی کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں کی نیتوں کو بھی جانتا ہے۔ چنانچہ اگر بندے کے دل کا رجوع اللہ کی طرف ہو اور نیت اس کی نافرمانی کی نہ ہو تو چھوٹی موٹی لغزشوں کو وہ معاف فرمانے والا ہے۔

26-30

اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے حوالے سے ہدایات

ویڈیو

وَ اٰتِ ذَاالۡقُرۡبٰی حَقَّہٗ وَ الۡمِسۡکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ وَ لَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِیۡرًا ﴿۲۶﴾ اِنَّ الۡمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ ؕ وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا ﴿۲۷﴾ وَ اِمَّا تُعۡرِضَنَّ عَنۡہُمُ ابۡتِغَآءَ رَحۡمَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکَ تَرۡجُوۡہَا فَقُلۡ لَّہُمۡ قَوۡلًا مَّیۡسُوۡرًا ﴿۲۸﴾ وَ لَا تَجۡعَلۡ یَدَکَ مَغۡلُوۡلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبۡسُطۡہَا کُلَّ الۡبَسۡطِ فَتَقۡعُدَ مَلُوۡمًا مَّحۡسُوۡرًا ﴿۲۹﴾ اِنَّ رَبَّکَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿٪۳۰﴾

آیت 26

وَ اٰتِ ذَاالۡقُرۡبٰی حَقَّہٗ وَ الۡمِسۡکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ وَ لَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِیۡرًا ﴿۲۶﴾

’’اور حق ادا کرو قرابت داروں ‘مسکینوں اور مسافروں کااور فضول میں مال مت اڑاؤ۔‘‘

تبذیرکے معنی بلاضرورت مال اڑانے کے ہیں اور یہ اسراف سے بڑا جرم ہے۔ اسراف تو یہ ہے کہ کسی ضرورت میں ضرورت سے زائد خرچ کیا جائے۔ مثلاً کھانا کھانا ایک ضرورت ہے اور یہ ضرورت دو روٹیوں اور تھوڑے سے سالن سے بخوبی پوری ہو جاتی ہے‘مگر اسی ضرورت کے لیے اگر کئی کئی کھانوں پر مشتمل دستر خوان سجا دیے جائیں تو یہ اسراف ہے۔ اسی طرح کپڑا انسان کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک دو جوڑے کافی ہیں۔ اب اگر الماریوں کی الماریاں طرح طرح کے جوڑوں ‘سوٹوں اور پوشاکوں سے بھری پڑی رہیں تو یہ اسراف کے زمرے میں آئے گا۔ اسراف کے مقابلے میں تبذیر سے مراد ایسے بے تحاشا اخراجات ہیں جن کی سرے سے ضرورت ہی نہ ہو‘ مثلاً شادی بیاہ کی رسموں پر بے حساب خرچ کرنا اور نام و نمود کے لیے طرح طرح کے مواقع پیدا کر کے ان پر مال و دولت کو ضائع کرنا تبذیر ہے۔

آیت 27

اِنَّ الۡمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ ؕ

’’یقینا مال کو فضول اڑانے والے شیاطین کے بھائی ہیں۔‘‘

یہاں پر مبذرین کو جوشیاطین کے بھائی قرار دیا گیا ہے‘ اس کی منطق اور بنیاد کیا ہے؟ یہ بات جب میری سمجھ میں آئی تو مجھ پر قرآن کے اعجاز کاایک نیا پہلو منکشف ہوا۔ سورۃ المائدۃ کی آیت ۹۱ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ …} ’’شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کرے شراب اور جوئے کے ذریعے سے…‘‘ اس آیت کے مضمون پر غور کرنے سے یہ حقیقت سمجھ میں آتی ہے کہ شراب اور جوا شیطان کے وہ خطرناک ہتھیار ہیں جن کی مدد سے وہ انسانوں کے درمیان بغض و عداوت کی آگ کو بھڑکا کر اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتا ہے۔ چنانچہ اگر شیطان کا ہدف انسانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض اور عداوت کے جذبات پیدا کرنا ہے تو اس کا یہ ہدف تبذیر کے عمل سے بھی بخوبی پورا ہو جاتا ہے اور یوں ’’مبذرین‘‘ اس مکروہ ایجنڈے کی تکمیل کے لیے شیطان کے کندھے سے کندھا اور اس کے قدم سے قدم ملائے سر گرمِ عمل نظر آتے ہیں۔ اس تلخ حقیقت کو ایک مثال سے سمجھیں۔ ذرا تصور کریں کہ ایک سیٹھ صاحب کی بیٹی کی شادی کے موقع پر اس کی کوٹھی بقعۂ نور بنی ہوئی ہے‘ خوب دھوم دھڑکا ہے اور محض نمود و نمائش کے لیے مال و دولت کو بے دریغ لٹایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف اسی سیٹھ صاحب کا ایک ملازم ہے جو صرف اپنی غربت کے سبب اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے نہیں کر پارہا اور سیٹھ صاحب کے یہ تمام تبذیری چلن اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے لازمی طور پر اس غریب کے دل میں نفرت‘بغض اور دشمنی کا لاوا جوش مارے گا۔ اب اگر اسے موقع ملے تو یہ آتش فشاں پوری شدت سے پھٹے گا اور وہ غریب ملازم اپنے مالک کا پیٹ پھاڑ کر اس کی دولت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔اسی طرح فضول لٹائی جانے والی دولت کی نمائش سے امراء کے خلاف معاشرے کے محروم لوگوں کے دلوں میں بغض وعداوت اور نفرت کی آگ بھڑکتی ہے اور یوں شیطان کے ایجنڈے کی تکمیل ہوتی ہے۔اسی شیطانی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے معاونین کا کردار ادا کرنے کے باعث مبذرین کو یہاں ’’اِخوان الشّیاطین ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا ﴿۲۷﴾

’’اور یقینا شیطان اپنے رب کا بہت ہی نا شکرا ہے۔‘‘

آیت 28

وَ اِمَّا تُعۡرِضَنَّ عَنۡہُمُ ابۡتِغَآءَ رَحۡمَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکَ تَرۡجُوۡہَا

’’اور اگر تمہیں اعراض کرنا ہی پڑجائے اُن سے اپنے رب کی رحمت کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہے‘‘

کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی محتاج اپنی کسی حاجت برآری کے لیے ایسے موقع پر آپ کے پاس آتا ہے جب آپ کے پاس بھی اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ سے اچھے دنوں اور فراخ دستی کی امید تو ہے مگر وقتی طور پر آپ سائل کی حاجت سے اعراض کرنے پر مجبور ہیں اور چاہتے ہوئے بھی اس کی مدد نہیں کرسکتے۔ اگرتمہیں کسی وقت ایسی صورت حال کا سامان ہو:

فَقُلۡ لَّہُمۡ قَوۡلًا مَّیۡسُوۡرًا ﴿۲۸﴾

’’تو ان سے کہو نرم بات۔‘‘

ایسے موقع پرسائل کو جھڑکونہیں ‘بلکہ متانت اور شرافت سے مناسب الفاظ میں اس سے معذرت کر لو۔

آیت 29

وَ لَا تَجۡعَلۡ یَدَکَ مَغۡلُوۡلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ

’’اور نہ باندھ لو اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کے ساتھ‘‘ یہ استعارہ ہے بخل اور کنجوسی کا۔ یعنی آپ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کے ساتھ باندھ کر کسی کو کچھ دینے سے خود کو معذور نہ کر لیں۔

وَ لَا تَبۡسُطۡہَا کُلَّ الۡبَسۡطِ

’’اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو‘‘

بعض اوقات انسان کے اندر نیکی کا جذبہ اس قدر جوش کھاتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا دینا چاہتا ہے۔

فَتَقۡعُدَ مَلُوۡمًا مَّحۡسُوۡرًا ﴿۲۹﴾

’’کہ پھر بیٹھے رہو ملامت زدہ ہارے ہوئے۔‘‘

ایسانہ ہو کہ ایک وقت میں تو جذبات میں آ کر انسان سارا مال قربان کر دے مگر بعد میں پچھتائے کہ یہ میں نے کیا کر دیا؟ اب کیا ہو گا؟ اب میری اپنی ضروریات کہاں سے پوری ہوں گی ؟ چنانچہ انسان کو ہر حال میں اعتدال کی روش اختیار کرنی چاہیے۔

آیت 30

اِنَّ رَبَّکَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ

’’یقینا تمہارا رب کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے(جس کے لیے چاہتا ہے)۔‘‘

بعض اوقات اللہ کا کوئی بندہ چاہتا ہے کہ میں کوشش کر کے اپنے فلاں نادار رشتہ دار کے حالات بہتر کردوں‘ مگر اس کی پوری کوشش کے باوجود اس کے حالات نہیں سدھرتے۔ ایسی کیفیت کے بارے میں فرمایا گیا کہ کسی کے رزق کی تنگی اور فراخی کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے‘ اس میں تم لوگوں کو کچھ اختیار نہیں۔ لہٰذا تم لوگ اپنی سی کوشش کرتے رہو اور نتائج اللہ پر چھوڑ دو۔

اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿٪۳۰﴾

’’یقینا وہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا (اور ان کے حالات کو )دیکھنے والا ہے۔‘‘

31-35

مال ،جان اور آبرو کے تحفّظ کے لئے ہدایات

ویڈیو

وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ خَشۡیَۃَ اِمۡلَاقٍ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُہُمۡ وَ اِیَّاکُمۡ ؕ اِنَّ قَتۡلَہُمۡ کَانَ خِطۡاً کَبِیۡرًا ﴿۳۱﴾ وَ لَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ؕوَ سَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۳۲﴾ وَ لَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ ؕ وَ مَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِوَلِیِّہٖ سُلۡطٰنًا فَلَا یُسۡرِفۡ فِّی الۡقَتۡلِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ مَنۡصُوۡرًا ﴿۳۳﴾ وَ لَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡیَتِیۡمِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ حَتّٰی یَبۡلُغَ اَشُدَّہٗ ۪ وَ اَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۴﴾ وَ اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ اِذَا کِلۡتُمۡ وَ زِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِیۡمِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا ﴿۳۵﴾

آیت 31

وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ خَشۡیَۃَ اِمۡلَاقٍ ؕ

’’اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے اندیشے سے۔‘‘

قدیم زمانے میں قتل اولاد کا محرک افلاس کا خوف ہوا کرتا تھا۔آج کل ہمارے ہاں برتھ کنڑول اور آبادی کی منصوبہ بندی کے بارے میں جو اجتماعی سوچ پائی جاتی ہے اور اس سوچ کے مطابق انفرادی اور اجتماعی سطح پر جو کوششیں ہو رہی ہیں ان کی کئی صورتیں بھی اس آیت کے حکم میں آتی ہیں۔ اس سلسلے میں مجموعی طور پر کوئی ایک حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ اس کی تمام صورتیں حرام مطلق نہیں‘بلکہ بعض صورتیں جائز بھی ہیں‘جبکہ بعض مکروہ اور بعض حرام۔ مگر ایسی سوچ کو ایک اجتماعی تحریک کی صورت میں منظم کرنا بہر حال ایمان اور توکل علی اللہ کی نفی ہے۔ اس کوشش کا سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ کے رازق ہونے پر ایمان و یقین نہیں اور وہ خود اپنی جمع تفریق سے حساب پورا کرنے کی کوششیں کرنا چاہتا ہے۔ دراصل انسان اللہ کے خزانوں اور وسائل کی وسعتوں کا کچھ اندازہ نہیں کر سکتا اور اسے اپنی اس کوتاہی اور معذوری کا ادراک ہونا چاہیے۔ مثلاً کچھ عرصہ پہلے تک انسان کو اندازہ نہیں تھا کہ سمندر کے اندر انسانی غذا کے کس قدر وسیع خزانے پوشیدہ ہیں اور اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ سمندری گوشت {لَحۡمًا طَرِیًّا} (النحل:۱۴اور فاطر:۱۲) کی افادیت انسانی صحت کے لیے red meat کے مقابلے میں کس قدر زیادہ ہے۔

اس ضمن میں ایک اہم بات یہ جاننے کی ہے کہ مختلف مانع حمل طریقوں اور کوششوں پر ’’قتل اولاد‘‘ کے حکم کا اطلاق نہیں ہوتا ‘لیکن باقاعدہ حمل ٹھہر جانے کے بعد اسے ضائع کرنا بہر حال قتل کے زمرے میں ہی آتا ہے۔

نَحۡنُ نَرۡزُقُہُمۡ وَ اِیَّاکُمۡ ؕ

’’ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔‘‘

تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں جو رزق مل رہا ہے وہ تمہاری اپنی محنت اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ایسا ہر گز نہیں‘تمہارے حقیقی رازق ہم ہیں اور جیسے ہم تمہیں رزق دے رہے ہیں اسی طرح تمہاری اولاد کے رزق کا بندوبست بھی ہمارے ذمہ ہے۔

اِنَّ قَتۡلَہُمۡ کَانَ خِطۡاً کَبِیۡرًا ﴿۳۱﴾

’’یقینا ان کو قتل کرنا بہت بڑی خطا ہے۔‘‘

آیت 32

وَ لَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰۤی

’’اور زنا کے قریب بھی مت جاؤ‘‘

یہاں ’’زنا مت کرو‘‘ کے بجائے وہ حکم دیا جا رہا ہے جس میں انتہائی احتیاط کا مفہوم پایا جاتا ہے کہ زنا کے قریب بھی مت پھٹکو۔ یعنی ہر اس معاملے سے خود کو محفوظ فاصلے پر رکھو جو تمہیں زنا تک لے جانے یا پہنچانے کا سبب بن سکتا ہو۔

اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ؕ وَ سَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۳۲﴾

’’یقینا یہ بہت بے حیائی کا کام ہے ‘اور بہت ہی برا راستہ ہے۔‘‘

آیت 33

وَ لَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ ؕ

’’اور مت قتل کرو اُس انسانی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے مگر حق کے ساتھ۔‘‘

یہاں ’’حق‘‘ سے مراد چند وہ صورتیں ہیں جن میں انسانی جان کا قتل جائز ہے۔ ان میں خون کا بدلہ خون‘ اسلامی ریاست میں مرتد کی سزا موت‘شادی شدہ زانی اور زانیہ کا رجم اور حربی کافر کا قتل شامل ہے۔

وَ مَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِوَلِیِّہٖ سُلۡطٰنًا

’’اور جسے قتل کر دیا گیا مظلومی میں ‘تو اس کے ولی کو ہم نے اختیار دیا ہے‘‘

اسلامی قانون میں مقتول کے ورثاء کو اختیار ہے کہ وہ جان کے بدلے جان کی سزا پر اصرار کریں یامعاف کر دیں یا پھر خون بہا لے لیں۔یہ تینوں اختیارات مقتول کے ورثاء ہی کو حاصل ہیں۔ کسی عدالت یا سربراہِ مملکت کو اس میں کچھ اختیار نہیں۔

فَلَا یُسۡرِفۡ فِّی الۡقَتۡلِ ؕ

’’تو وہ بھی قتل میں حد سے تجاوز نہ کرے۔‘‘

یعنی جان کے بدلے جان کا فیصلہ ہو تو اس میں تجاوز کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک آدمی کے بدلے مخالف فریق کے زیادہ لوگ قتل کر دیے جائیں‘طریقہ قتل میں کسی قسم کی زیادتی کی جائے یا کسی بھی انداز میں اپنے اس اختیار کا ناجائز استعمال کیا جائے۔

اِنَّہٗ کَانَ مَنۡصُوۡرًا ﴿۳۳﴾

’’ اُس کی مدد کی جائے گی۔‘‘

قاتل کو پکڑنے ‘اس پر مقدمہ چلانے اور انصاف دلانے تک کے طویل اور پیچیدہ عمل میں ہر مرحلے پر مقتول کے ورثاء کی مدد کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قتل کے مقدمات میں ریاست یا حکومت مدعی نہیں بنے گی‘ بلکہ مقتول کے ورثاء ہی مدعی ہوں گے۔ ہمارے ہاں جو ’’سرکار بنام فلاں‘‘ کے عنوان سے مقدمہ بنتا ہے وہ معاملہ سراسر غیر اسلامی ہے۔

آیت 34

وَ لَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡیَتِیۡمِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ

’’اور مت قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر احسن طریقے سے‘‘

یہ آیت قبل ازیں ہم سورۃ الانعام (آیت۱۵۲) میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ یعنی یتیم کے مال کو ہڑپ کرنے‘اس سے نا جائز فائدہ اٹھانے یا اسے ضائع کرنے کی کوشش نہ کرو‘بلکہ اس کی حفاظت کرواور اسے ہر طرح سے سنبھال کر رکھو:

حَتّٰی یَبۡلُغَ اَشُدَّہٗ ۪

’’یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے‘‘

وَ اَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۴﴾

’’اور عہد کو پورا کرو‘یقینا عہد کے بارے میں باز پرس ہو گی۔‘‘

آیت 35

وَ اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ اِذَا کِلۡتُمۡ وَ زِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِیۡمِ ؕ

’’اور جب تم ناپو تو پیمانہ پورا بھرو‘اور وزن کرو سیدھی ترازو کے ساتھ۔‘‘

ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا ﴿۳۵﴾

’’یہی بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی خوب تر ہے۔‘‘

اگر تم ناپ تول پورا کرتے ہو اور لین دین کے تمام معاملات دیانتداری سے سر انجام دیتے ہو تو حضرت شعیب علیہ السلام کے فرمان کے مطابق : {بَقِیَّتُ اللّٰہِ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ۬ۚ } (ھود:۸۶) ’’اللہ کا دیا ہوا منافع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو‘‘۔دیانتداری سے کمایا ہوا منافع تھوڑا بھی ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا کرے گا۔

36

علم کی فضیلت

ویڈیو

وَ لَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۶﴾

آیت 36

وَ لَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ

’’اور مت پیچھے پڑو اُس چیز کے جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں۔‘‘

بحیثیت اشرف المخلوقات انسان کا طرز عمل خالص علم پر مبنی ہونا چاہیے۔ اسے زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے کسی عمل یا نظریے کی بنیاد توہمات پر رکھے یا ایسی معلومات کو لائق اعتنا ء سمجھے جن کی کوئی علمی سند نہ ہو۔مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود انسانی علم کی بنیاد اور اس کا منبع کیا ہے؟ اس سلسلے میں ہم جانتے ہیں کہ بنیادی طور پر انسانی علم کی دو اقسام ہیں ۔ایک اکتسابی علم (acquired knowledge) اور دوسرا الہامی علم (revealed knowledge)۔ اکتسابی علم کی بنیاد وہی علم الاسماء ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سکھایا تھا اور جس کا ذکر ہم سورۃ البقرۃ کے چوتھے رکوع میں پڑھ آئے ہیں۔ اس علم کا تعلق انسانی حواس اور ذہن سے ہے۔ انسان اپنے حواس کی مدد سے یہ علم حاصل کر کے اپنے ذہن میں محفوظ کرتا رہتا ہے ۔ جوں جوں انسان کے تجربے اور مشاہدے کا دائرہ پھیلتا ہے اس علم میں بھی توسیع ہوتی جاتی ہے اور یوں یہ علم کرٔہ ارض پر انسانی زندگی کے روزِ اوّل سے لے کر آج تک مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ دوسری طرف الہامی علم ہے جس کا انسان کے حواس سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ اس علم کے تمام ذرائع مثلاً وحی (جلی یا خفی)‘الہام ‘کشف اوررؤیائے صادقہ(سچے خواب) کا تعلق انسان کے حیوانی وجود کے بجائے اس کے روحانی وجود سے ہے ۔ انسانی روح اس علم کو براہِ راست موصول کرتی ہے اور اس کا مسکن و مرکز انسانی قلب ہے۔اس سلسلے میں دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ انبیاء fپر نازل ہونے والی وحی ‘چاہے جلی ہو یا خفی‘نبوت کا حصہ ہے اور علمی لحاظ سے ایک قطعی دلیل یا برہانِ قاطع ہے۔ لیکن کسی عام شخص کو وحی خفی ‘الہام یا کشف کے ذریعے ملنے والا علم دوسروں کے لیے کوئی علمی دلیل فراہم نہیں کرتا۔ایسا علم صرف متعلقہ شخص کے لیے دلیل ہو سکتا ہے اوروہ بھی صرف اس صورت میں جب وہ خلافِ شریعت نہ ہو ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو آیت زیر نظر میں انسان کا اکتسابی علم زیر بحث ہے۔

اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۶﴾

’’یقینا سماعت‘بصارت اور عقل سبھی کے بارے میں باز پرس کی جائے گی۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم کے اکتساب و استعمال کے لیے حواسِ خمسہ (جن میں سے دو اہم ترین حواس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے)اور عقل سے نوازا ہے اور اس لحاظ سے اس کی ان صلاحیتوں کا احتساب بھی ہو گا۔ یہاں پر لفظ فؤاد بہت اہم ہے جس کی وضاحت ضروری ہے۔ عام طور پر اس لفظ کا ترجمہ ’’دل‘‘ کیا گیا ہے‘ مگر اس ترجمے کے لیے کوئی لغوی بنیاد موجود نہیں۔ اس لفظ کا مادہ وہی ہے جس سے لفظ ’’فائدہ ‘‘مشتق ہے اور لفظ ’’فائدہ‘‘ کے معنی کسی چیز کے اس جوہر یا لب لباب کے ہیں جو اس چیز میں سے اصل مقصود ہوتاہے۔ پرانے دور کی کتب میں یہ انداز عام ملتا ہے کہ کوئی حکایت یا روایت بیان کرنے کے بعد اس کا نتیجہ بیان کرنے کے لیے لفظ ’’فائدہ‘‘ یا صرف ’’ف‘‘ لکھ دیا جاتا تھا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی تفصیل کے خلاصہ یا کسی کام کے نتیجہ کو فائدہ کہا جاتا ہے ۔ لفظ ’’فئید‘‘ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ عربی میں ’’فئید‘‘ کسی سبزی یا گوشت وغیرہ کی بھجیا کو کہا جاتا ہے اور اس لفظ (فئید) میں بھی نتیجہ یا خلاصہ وغیرہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی گوشت وغیرہ کو ابالنے یا بھوننے سے جب اس کا فالتو پانی خشک ہو جاتا ہے تب اس میں سے بہت تھوڑی مقدار میں وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس پر لفظ فئید کا اطلاق ہوتا ہے۔

اس لغوی وضاحت کے بعد لفظ ’’فؤاد‘‘ کے مفہوم اور انسانی حواس کے ساتھ اس کے تعلق کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ حواسِ انسانی اپنے اپنے ذرائع سے معلومات حاصل کر کے دماغ تک پہنچاتے ہیں ۔ دماغ کا کمپیوٹر ان معلومات کو process کرتا ہے‘ پہلے سے موجود اپنے ذخیرئہ معلومات کے ساتھ ان کا تطابق (tally) یا تقابل (compare) کرکے اس سارے عمل سے کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے اور پھر اس نتیجہ کو اپنے ذخیرۂ معلومات (memory) میں محفوظ (store) کر لیتا ہے۔ اسی ذخیرۂ معلومات کا نام علم ہے اور انسان کی وہ قوت یا صلاحیت جو اس سارے عمل کو ممکن بناتی ہے ’’فواد‘‘ کہلانے کی مستحق ہے ۔ عرفِ عام میں اس قوت یا صلاحیت کو عقل یا شعور کہا جاتا ہے۔ چنانچہ میرے نزدیک ’’فواد‘‘ کا درست ترجمہ عقل یا شعور ہی ہے۔

اس پورے تناظر میں اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفید حواس (sense organs) عطا کیے ہیں اور ان حواس سے حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے اسے نوازا ہے۔ اب اگر انسان اپنے ان حواس سے استفادہ نہ کرے‘عقل و شعور کی صلاحیت سے کوئی کام نہ لے اور اپنے نظریات کی بنیاد توہمات پر رکھ لے تو وہ بہت بڑے ظلم کا مرتکب ہو گا۔ مثلاً زلزلے کے بارے میں کبھی لوگوں میں یہ نظریہ مشہور تھا کہ ہماری یہ زمین ایک بیل نے اپنے ایک سینگ پر اٹھا رکھی ہے۔ جب وہ تھک جاتا ہے تو اسے دوسرے سینگ پر منتقل کرتا ہے‘ جس سے زلزلہ آجاتا ہے۔ اس مضحکہ خیز نظریے کے لیے نہ تو قرآن و حدیث میں کوئی دلیل موجود ہے اور نہ ہی انسان کے اکتسابی اور تجرباتی علوم اس کے لیے کوئی دلیل فراہم کرتے ہیں ----یہی وجہ ہے کہ انسان کو اپنی ان صلاحیتوں کے حوالے سے اس ہستی کے سامنے جوابدہ رکھا گیا ہے جس نے اسے یہ سب کچھ عطا کیا ہے۔ چنانچہ انسان کو چاہیے کہ جس چیز یا خبر کی بنیاد میں الہامی یا اکتسابی و تجربا تی علم کی کوئی قطعی دلیل موجود نہ ہو‘اسے قابل اعتناء نہ سمجھے اور اپنے فکار و نظریات کی بنیاد ایسے ٹھوس علمی حقائق پر رکھے جن کی وہ سائنٹیفک انداز میں توثیق و تصدیق بھی کر سکتا ہو۔ یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس نے علمی میدان میں نوعِ انسانی کی راہنمائی اس راستے کی طرف کی ہے جو انسان کے شایانِ شان ہے۔

یہاں پر ارسطو کے استخراجی فلسفے کا ذکر کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ ایک مدت تک پوری دنیا میں اس فلسفے کا ڈنکا بجتا رہا۔ عالم اسلام میں بھی یہ فلسفہ بہت مقبول رہا اور کئی صدیوں کے بعد اب جا کر کہیں اس کی گرفت ڈھیلی ہوئی ہے۔ استخراجی منطق (deductive knowledge) کے مطابق صرف دستیاب معلومات سے ہی نتائج اخد کیے جاتے تھے۔ چنانچہ کسی موضو ع پر جو تھوڑی بہت معلومات دستیاب ہوتی تھیں ‘وقت کے فلسفی اور حکیم انہی میں سے بال کی کھال اتار اتار کر نتائج اخذ کرتے رہتے تھے۔ اس کے مقابلے میں قرآن نے استقرائی منطق (inductive knowledge) کا فلسفہ متعارف کرایااور انسان کو مشاہدے اور تجربے کی مدد سے مسلسل علم حاصل کرنے کی راہ دکھائی: {اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَی الۡاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتۡ ﴿ٝ۱۷﴾وَ اِلَی السَّمَآءِ کَیۡفَ رُفِعَتۡ ﴿ٝ۱۸﴾وَ اِلَی الۡجِبَالِ کَیۡفَ نُصِبَتۡ ﴿ٝ۱۹﴾وَ اِلَی الۡاَرۡضِ کَیۡفَ سُطِحَتۡ ﴿ٝ۲۰﴾} (الغاشیۃ) ’’کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں اونٹ کی طرف کہ کیسے پیدا کیا گیا ہے۔ اور آسمان کی طرف کہ کیسے بلند کیا گیا ہے۔ اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے نصب کیے گئے ہیں ۔اور زمین کی طرف کہ کیسے ہموار کی گئی ہے!‘‘علامہ اقبال نے اس فکرِ قرآنی کی ترجمانی یوں کی ہے: ؎

کھول آنکھ‘ زمیں دیکھ‘ فلک دیکھ‘ فضا دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!

فطرت اور مظاہر فطرت کے بارے میں ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے قوانین بہت مضبوط اور مستحکم ہونے کے باوجود اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔ اللہ جب چاہے فطرت کے ان قوانین کومعطل کر سکتا ہے یا بدل سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اصل حقیقت یہی ہے کہ اس کائنات کا عمومی نظام بہت مضبوط ‘محکم اور اٹل طبعی اصول و قوانین پر چل رہا ہے اور ان قوانین کو معطل کر نے کے معجزات روز روز رونما نہیں ہوتے۔ سمندر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے نوعِ انسانی کی تاریخ میں ایک ہی دفعہ پھٹا تھا اور آگ نے ایک ہی دفعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے سے انکار کیا تھا۔ بہر حال دنیا میں طبعی سائنس (Physical Science) کی مختلف ٹیکنالوجیز کا وجود فطرت کے اٹل قوانین کا ہی مرہونِ منت ہے اور اسی وجہ سے آج طرح طرح کی سائنسی ترقی ممکن ہوئی ہے۔ اسی بنیاد پر قرآن ان مظاہر فطرت کو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں قرار دیتا ہے اور انسان کو دعوتِ فکر دیتا ہے کہ وہ اللہ کی ان نشانیوں کو غور سے دیکھے‘ان کے اندر کارفرما قوانین کا تجزیاتی مطالعہ کرکے نتائج اخذ کرے اور پھر ان نتائج کو کام میں لاکر اپنی زندگی میں ترقی کی نئی منازل تلاش کرے۔

علامہ اقبال نے اسی حوالے سے اپنے خطبات میں فرمایاہے: "The inner core of the western civilization is Quranic." کہ موجودہ مغربی تہذیب کا اندرونی محور خالص قرآنی ہے‘ کیونکہ اس کی بنیاد سائنس پر ہے اور سائنسی علوم کی طرف انسان کی توجہ قرآن نے مبذول کروائی ہے۔بہر حال قرآن انسان کو ہر قسم کے توہمات‘رمل‘نجوم‘پامسڑی وغیرہ سے بیزار کر کے اپنے معاملات اور نظریات کی بنیاد ٹھوس علمی حقائق پر رکھنے کی ہدایت کرتا ہے ۔

انسانی زندگی کے سفر میں توازن رکھنے کے لیے مذکورہ دونوں قسم کے علوم (اکتسابی اور الہامی ) اپنے اپنے دائرۂ عمل میں نہایت اہم ہیں۔ دونوں کی اہمیت اس سے بھی واضح ہوتی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے فوراً بعد آپؑ کو علم الاسماء (یہ وہی علم ہے جس کا تعلق انسانی حواس سے ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ جس کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے) سے بھی نواز دیا گیا تھا اور آپؑ کو زمین پر بھیجتے وقت الہامی علم کی اتباع کی ہدایت بھی کر دی گئی تھی: {فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی فَمَنۡ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۳۸﴾} (البقرۃ) ’’پھر اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت‘تو جس نے پیروی کی میری ہدایت کی تو ان کو نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

یورپی معاشرہ اس سلسلے میں بہت بڑی کوتاہی کا مرتکب ہوا ہے کہ اس معاشرے میں ساری توجہ اکتسابی علم پر مرکوز کر کے الہامی علم سے بالکل ہی صرفِ نظر کر لیا گیا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو آنکھیں دی تھیں‘ ان میں ایک اکتسابی علم کی آنکھ تھی اور دوسری الہامی علم کی۔ یورپ میں ایک آنکھ کومکمل طور پر بندکر کے ہر چیز کو دیکھنے اور پرکھنے کے لیے دوسری اکیلی آنکھ پر ہی انحصار کر لیا گیا۔ نتیجتاً نہ تو انسان کی سوچ میں اعتدا ل رہا نہ عمل میں توازن‘ اور یوں اس پورے معاشرے نے یک چشمی دجالیت کی شکل اختیار کر لی۔

37

اپنی اوقات پہچانو

ویڈیو

وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَ لَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا ﴿۳۷﴾

آیت 37

وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَ لَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا ﴿۳۷﴾

’’اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو‘نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکو گے اور نہ ہی پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکو گے۔‘‘

تم جس قدر چاہو طاقت ور ہو جاؤاور ہماری زمین پر جتنا بھی اکڑ اکڑ کر اور پاؤں مار مار کر چل لو‘ تم اپنی طاقت سے زمین کو پھاڑ نہیں سکتے‘اور جس قدر چاہو گردن اکڑا لو اور طرہ و دستار سے سربلند کر لو‘ تم قد میں ہمارے پہاڑوں کے برابر تو نہیں ہو سکتے۔

38-40

اللہ کا ہر حکم حکمت کا پیکر ہے

ویڈیو

کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ عِنۡدَ رَبِّکَ مَکۡرُوۡہًا ﴿۳۸﴾ ذٰلِکَ مِمَّاۤ اَوۡحٰۤی اِلَیۡکَ رَبُّکَ مِنَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ وَ لَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتُلۡقٰی فِیۡ جَہَنَّمَ مَلُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ﴿۳۹﴾ اَفَاَصۡفٰىکُمۡ رَبُّکُمۡ بِالۡبَنِیۡنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنَاثًا ؕ اِنَّکُمۡ لَتَقُوۡلُوۡنَ قَوۡلًا عَظِیۡمًا ﴿٪۴۰﴾

آیت 38

کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ عِنۡدَ رَبِّکَ مَکۡرُوۡہًا ﴿۳۸﴾

’’ ان سب باتوں کی برائی (کا پہلو) تیرے رب کو بہت ناپسند ہے۔‘‘

یعنی یہ جتنے بھی احکام ہیں ان میں اوامر (Dos) بھی ہیں اور نواہی (Donts) بھی۔ جہاں کسی کام کے کرنے کا حکم ہے وہاں اسے نہ کرنا برائی ہے اور جہاں کسی کام سے روکا گیا ہے وہاں اس میں ملوث ہونا برائی ہے۔ اور نافرمانی اور برائی اللہ تعالیٰ کو ہر صورت میں ناپسند ہے۔

آیت 39

ذٰلِکَ مِمَّاۤ اَوۡحٰۤی اِلَیۡکَ رَبُّکَ مِنَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ

’’یہ ہے جو (اے محمدﷺ!) آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی کی ہے حکمت میں سے۔‘‘

یہ احکامِ نوع انسانی کے لیے خزینۂ حکمت ہیں۔ انسانی تہذیب و تمدن‘ ثقافت اور اجتماعیت کے ان اصولوں پر کاربند ہو کر انسان اسی دنیا میں اپنی اجتماعی زندگی کو جنت بنا سکتا ہے۔

وَ لَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتُلۡقٰی فِیۡ جَہَنَّمَ مَلُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ﴿۳۹﴾

’’اور مت ٹھہرا ؤاللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود‘ورنہ تم جھونک دیے جاؤ گے جہنم میں ملامت زدہ‘دھتکارے ہوئے۔‘‘

یہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ان احکام میں اول و آخر توحید کا حکم دیا گیا ہے۔ آغاز میں {وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلآَّ اِیَّاہُ} کے الفاظ آئے تھے‘ جبکہ آخر میں اسی مضمون کو { وَلاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ} کے الفاظ میں پھر دہرایا گیا ہے۔

آیت 40

اَفَاَصۡفٰىکُمۡ رَبُّکُمۡ بِالۡبَنِیۡنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنَاثًا ؕ

’’ تو کیا تمہیں تومنتخب کر لیا ہے تمہارے رب نے بیٹوں کے ساتھ اور اپنے لیے بنا لی ہیں فرشتوں میں سے بیٹیاں؟‘‘

یہ اہل عرب کے اس عقیدے کا جوا ب ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ لوگ بیٹوں پر فخر کرتے تھے اور بیٹیوں کو اپنے لیے باعثِ عار سمجھتے تھے۔ ان کی اسی سوچ کی بنیاد پر ان سے سوال کیا گیا ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے عار سمجھتے ہو اسے آخر کس منطق کے مطابق اللہ سے منسوب کرتے ہو؟

اِنَّکُمۡ لَتَقُوۡلُوۡنَ قَوۡلًا عَظِیۡمًا ﴿٪۴۰﴾

’’یہ تو تم بہت بڑی (گستاخی کی) بات کہتے ہو!‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے