تحریر

الإسراء

آیات ۱۱ تا ۲۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

11

اللہ سے معین شے نہیں. بھلائی مانگو

ویڈیو

وَ یَدۡعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَہٗ بِالۡخَیۡرِ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا ﴿۱۱﴾

آیت 11

وَ یَدۡعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَہٗ بِالۡخَیۡرِ ؕ

’’اور انسان شر مانگ بیٹھتا ہے (اپنے نزدیک) بھلائی مانگتے ہوئے۔‘‘

یعنی انسان اللہ سے دعا کررہا ہوتا ہے کہ اے اللہ! میرے لیے یوں کر دے‘یوں کر دے۔ حالانکہ اسے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ جو کچھ وہ اپنے لیے مانگ رہا ہے وہ اس کے لیے مفید ہے یا مضر ۔ اس طرح انسان اپنے لیے اکثر وہ کچھ مانگ لیتا ہے جو اس کے لیے الٹا نقصان دہ ہوتا ہے۔ سورۃ البقرۃ میں فرمایا گیا ہے: {عَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ عَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ شَرٌّ لَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۲۱۶﴾} ’’ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو ‘اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے شر ہو‘اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘۔چنانچہ بہتر لائحہ عمل یہ ہے کہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے انسان اپنے معاملات اس کے حوالے کر دے کہ اے اللہ! میرے معاملات تیرے سپرد ہیں‘کیونکہ میرے نفع و نقصان کو تو مجھ سے بہتر جانتا ہے: ؎

سپردم بتو مایۂ خویش را

تو دانی حسابِ کم و بیش را!

دعائے استخارہ میں بھی ہمیں تفویض امر کا یہی انداز سکھایا گیا ہے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ‘ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ ۱

’’اے اللہ! میں تیرے علم کی بدولت تجھ سے خیر چاہتا ہوں اور تیری قدرت کی برکت سے طاقت مانگتا ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے فضل عظیم کا‘بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں‘ تو سب کچھ جانتا ہے اور میں کچھ بھی نہیں جانتا ‘اور تو ہر قسم کے غیب کو جاننے والا ہے۔‘‘

بہر حال انسان کا عمومی رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اللہ پر توکل کرنے کے بجائے اپنی عقل اور سوچ پر انحصار کرتا ہے اور اس طرح اپنے لیے خیر کی جگہ شر کی دعائیں کرتا رہتا ہے۔

وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا ﴿۱۱﴾

’’اور انسان بہت جلد باز ہے۔‘‘

اپنی اس جلد بازی اور کوتاہ نظری کی وجہ سے وہ شر کو خیر اور خیر کو شر سمجھ بیٹھتا ہے۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الدعوات‘ باب الدعاء عند الاستخارۃ۔وسنن الترمذی‘ ابواب الصلاۃ‘ باب ما جاء فی صلاۃ الاستخارۃ۔

12

رات اور دن . . . . اللہ کی دو رحمت بھری نشانیاں

ویڈیو

وَ جَعَلۡنَا الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ اٰیَتَیۡنِ فَمَحَوۡنَاۤ اٰیَۃَ الَّیۡلِ وَ جَعَلۡنَاۤ اٰیَۃَ النَّہَارِ مُبۡصِرَۃً لِّتَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ لِتَعۡلَمُوۡا عَدَدَ السِّنِیۡنَ وَ الۡحِسَابَ ؕ وَ کُلَّ شَیۡءٍ فَصَّلۡنٰہُ تَفۡصِیۡلًا ﴿۱۲﴾

آیت 12

وَ جَعَلۡنَا الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ اٰیَتَیۡنِ فَمَحَوۡنَاۤ اٰیَۃَ الَّیۡلِ وَ جَعَلۡنَاۤ اٰیَۃَ النَّہَارِ مُبۡصِرَۃً لِّتَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّکُمۡ

’’اور ہم نے بنایا رات اور دن کو دو نشانیاں‘تو تاریک کر دیا ہم نے رات کی نشانی کواور روشن بنا دیا ہم نے دن کی نشانی کو ‘تا کہ تم تلاش کرو اپنے رب کا فضل‘‘

دن کو روشن بنایا تا کہ اس کی روشنی میں تم لوگ آسانی سے کسب معاش کے لیے دوڑ دھوپ کرسکو۔

وَ لِتَعۡلَمُوۡا عَدَدَ السِّنِیۡنَ وَ الۡحِسَابَ ؕ وَ کُلَّ شَیۡءٍ فَصَّلۡنٰہُ تَفۡصِیۡلًا ﴿۱۲﴾

’’اور تاکہ تم جان لو سالوں کی گنتی اور (نظام الاوقات کا) حساب ‘اور ہر چیز کو ہم نے کھول کھول کر بیان کر دیاہے۔‘‘

یہ دن اور رات کا الٹ پھیر ہی ہے جو نظام الاوقات کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے اور دنوں سے ہفتے‘مہینے اور پھر سال بنتے ہیں۔

13-14

کوئی شے منحوس نہیں

ویڈیو

وَ کُلَّ اِنۡسَانٍ اَلۡزَمۡنٰہُ طٰٓئِرَہٗ فِیۡ عُنُقِہٖ ؕ وَ نُخۡرِجُ لَہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلۡقٰىہُ مَنۡشُوۡرًا ﴿۱۳﴾ اِقۡرَاۡ کِتٰبَکَ ؕ کَفٰی بِنَفۡسِکَ الۡیَوۡمَ عَلَیۡکَ حَسِیۡبًا ﴿ؕ۱۴﴾

آیت 13

وَ کُلَّ اِنۡسَانٍ اَلۡزَمۡنٰہُ طٰٓئِرَہٗ فِیۡ عُنُقِہٖ ؕ

’’اور ہر انسان کی قسمت چپکا دی ہے ہم نے اس کی گردن میں ۔‘‘

’’ طائِر‘‘ کا لفظ عربی میں عام طور پر شگون‘ نحوست اور بد قسمتی کے لیے بولا جاتا ہے‘ لیکن یہاں پر خوش بختی اور بد بختی دونوں ہی مراد ہیں۔ یعنی کسی انسان کا جو بھی مقسوم و مقدور ہے‘زندگی میں اچھا براجو کچھ بھی اسے ملنا ہے‘ جیسے بھی اچھے برے حالات اسے پیش آنے ہیں‘اس سب کچھ کے بارے میں اس کا جو کھاتہ ’’اُمّ الکتاب‘‘ میں موجود ہے اس کا حاصل اس کی گردن میں چپکا دیا گیا ہے۔ گردن میں چپکانے کے الفاظ کا استعمال محاورۃً بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی کچھ مادی حقیقت بھی ہو۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی گردن میں کسی gland کی صورت میں واقعی کوئی مائیکرو کمپیوٹر نصب کر رکھا ہو۔ واللہ اعلم!

وَ نُخۡرِجُ لَہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلۡقٰىہُ مَنۡشُوۡرًا ﴿۱۳﴾

’’اور ہم نکال لیں گے اس کے لیے قیامت کے روز (اسے) ایک کتاب (کی شکل میں) ‘وہ پائے گا اسے کھلی ہوئی۔‘‘

ان الفاظ سے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ انسانی جسم کے اندر ہی کوئی ایسا سسٹم لگا دیا گیاہے جس میں اس کے تمام اعمال و افعال ریکارڈ ہو رہے ہیں اور قیامت کے دن ایک chip کی شکل میں اسے اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس chip کے اندر اس کی زندگی کی ساری فلم موجود ہو گی‘ ایک ایک حرکت جو اُس نے کی ہوگی‘ایک ایک لفظ جو اس نے منہ سے نکالا ہو گا‘ایک ایک خیال جو اس کے ذہن میں پیدا ہوا ہو گا‘ایک ایک نیت جو اس کے دل میں پروان چڑھی ہو گی‘سب ڈیٹا پوری تفصیل کے ساتھ اس میں محفوظ ہو گا۔روز قیامت اس chip کو کھول کر کھلی کتاب کی طرح اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور کہا جائے گا:

آیت 14

اِقۡرَاۡ کِتٰبَکَ ؕ کَفٰی بِنَفۡسِکَ الۡیَوۡمَ عَلَیۡکَ حَسِیۡبًا ﴿ؕ۱۴﴾

’’پڑھ لو اپنا اعمال نامہ!آج تم خود ہی اپنا حساب کر لینے کے لیے کافی ہو۔‘‘

تمہاری زندگی کی کتاب کا ایک ایک ورق اس قدر تفصیل سے تمہارے سامنے موجود ہے کہ تم خود ہی اپنا حساب کر سکتے ہو۔تمہارا سارا debit/credit تمہارے سامنے ہے۔

15-17

قوموں پر عذاب اِتمام حجّت کے بعد آتا ہے

ویڈیو

مَنِ اہۡتَدٰی فَاِنَّمَا یَہۡتَدِیۡ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیۡہَا ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴿۱۵﴾ وَ اِذَاۤ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نُّہۡلِکَ قَرۡیَۃً اَمَرۡنَا مُتۡرَفِیۡہَا فَفَسَقُوۡا فِیۡہَا فَحَقَّ عَلَیۡہَا الۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنٰہَا تَدۡمِیۡرًا ﴿۱۶﴾ وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنَ الۡقُرُوۡنِ مِنۡۢ بَعۡدِ نُوۡحٍ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ بِذُنُوۡبِ عِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿۱۷﴾

آیت 15

مَنِ اہۡتَدٰی فَاِنَّمَا یَہۡتَدِیۡ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیۡہَا ؕ

’’جس کسی نے ہدایت کی راہ اختیار کی تو اُس نے اپنے ہی (بھلے کے) لیے ہدایت کی راہ اختیار کی‘ اور جو کوئی گمراہ ہوا تو اُس کی گمراہی کا وبال اُسی پر ہے۔‘‘

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ

’’اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی۔‘‘

روزِ قیامت ہر کسی کو اپنی بداعمالیوں کا بوجھ ذاتی طور پر خود ہی اٹھانا ہو گا۔ اس سلسلے میں کوئی کسی کی کچھ مدد نہیں کرسکے گا۔ سب اپنے اپنے اعمال کا انبار اپنے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوں گے۔

وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴿۱۵﴾

’’اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ کسی رسول کو نہ بھیج دیں۔‘‘

یہ اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ کسی بھی قوم پر عذابِ استیصال اُس وقت تک نہیں بھیجا گیا جب تک کہ اس قوم کی ہدایت کے لیے اور حق و باطل کا فرق واضح کر دینے کے لیے کوئی رسول ؑمبعوث نہیں کر دیا گیا۔ البتہ چھوٹے چھوٹے عذاب اس قانون سے مشروط نہیں ۔ قرآن میں قومِ نوحؑ‘قومِ ہودؑ‘قومِ صالحؑ وغیرہ کی مثالیں بار بار بیان کی گئی ہیں جن سے اس اصول کی واضح نشاندہی ہوتی ہے کہ کسی قوم کو عذاب کے ذریعے اس وقت تک مکمل طور پر تباہ و برباد نہیں کیا جاتا جب تک اللہ کا مبعوث کردہ رسول ؑاس قوم کے لیے حق کا حق ہونابالکل واضح نہ کر دے اور اس سلسلے میں اُس قوم پر اِتمامِ حجت نہ ہو جائے۔ یہی مضمون سورۃ النساء ‘آیت ۱۶۵میں اس طرح بیان ہوا ہے: {رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ؕ } ’’ (اُس نے بھیجے) رسول ؑخوشخبری دینے والے اور خبردار کرنے والے تا کہ نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت رسولوں کے بعد۔‘‘

آیت 16

وَ اِذَاۤ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نُّہۡلِکَ قَرۡیَۃً اَمَرۡنَا مُتۡرَفِیۡہَا فَفَسَقُوۡا فِیۡہَا

’’اور جب ہم ارادہ کرتے کہ تباہ کر دیں کسی بستی کوتو ہم اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے اوروہ اس میں خوب نافرمانیاں کرتے‘‘

فَحَقَّ عَلَیۡہَا الۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنٰہَا تَدۡمِیۡرًا ﴿۱۶﴾

’’پس ثابت ہو جاتی اس پر (عذاب کی) بات‘پھر ہم اس کو بالکل نیست و نابود کر دیتے۔‘‘

یہاں کسی بستی پر عذابِ استیصال کے نازل ہونے کا ایک اصول بتایا جا رہا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں اس کا سبب وہاں کے دولت مند اور خوشحال لوگ بنتے ہیں۔یہ لوگ علی الاعلان اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی دیدہ دلیری کے سبب ان کی رسی مزید دراز کی جاتی ہے‘ یہاں تک کہ وہ اپنی عیاشیوں اور من مانیوں میں تمام حدیں پھلانگ کر پوری طرح عذاب کے مستحق ہو جاتے ہیں‘ عوام انہیں ان کے کرتوتوں سے باز رکھنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرتے ‘ بلکہ ایک وقت آتا ہے جب وہ بھی ان کے ساتھ جرائم میں شریک ہوجاتے ہیں اور یوں ایسا معاشرہ اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ ایسے میں صرف وہی لوگ عذاب سے بچ پاتے ہیں جو نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہے ہوں۔

آیت 17

وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنَ الۡقُرُوۡنِ مِنۡۢ بَعۡدِ نُوۡحٍ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ بِذُنُوۡبِ عِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿۱۷﴾

’’اور کتنی ہی قوموں کو ہم نے ہلاک کیا نوحؑ کے بعد۔اور کافی ہے آپؐ کا رب اپنے بندوں کے گناہوںسے باخبر رہنے اور ان کو دیکھنے کے لیے۔‘‘

18-22

طے کر لوطلبگار دنیا کے ہو یا آخرت کے

ویڈیو

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡعَاجِلَۃَ عَجَّلۡنَا لَہٗ فِیۡہَا مَا نَشَآءُ لِمَنۡ نُّرِیۡدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَہٗ جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلٰىہَا مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ﴿۱۸﴾ وَ مَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَۃَ وَ سَعٰی لَہَا سَعۡیَہَا وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعۡیُہُمۡ مَّشۡکُوۡرًا ﴿۱۹﴾ کُلًّا نُّمِدُّ ہٰۤؤُلَآءِ وَ ہٰۤؤُلَآءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّکَ ؕ وَ مَا کَانَ عَطَـآءُ رَبِّکَ مَحۡظُوۡرًا ﴿۲۰﴾ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ؕ وَ لَلۡاٰخِرَۃُ اَکۡبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَکۡبَرُ تَفۡضِیۡلًا ﴿۲۱﴾ لَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتَقۡعُدَ مَذۡمُوۡمًا مَّخۡذُوۡلًا ﴿٪۲۲﴾

آیت 18

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡعَاجِلَۃَ عَجَّلۡنَا لَہٗ فِیۡہَا مَا نَشَآءُ لِمَنۡ نُّرِیۡدُ

’’جو کوئی عاجلہ کا طلب گار بنتا ہے ہم اس کو جلدی دے دیتے ہیں اس میں سے جو کچھ ہم چاہتے ہیں‘جس کے لیے چاہتے ہیں‘‘

یہاں پر ’’دنیا ‘‘ کی بجائے ’’عاجلہ‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ یہ دونوں الفاظ مؤنث ہیں۔ ’’ادنیٰ ‘‘قریب کی چیز کو کہا جاتا ہے ‘اس کی مونث ’’دنیا ‘‘ہے جبکہ ’’عاجل ‘‘کے معنی جلدی والی چیز کے ہیں اوراس کی مؤنث ’’عاجلہ‘‘ ہے۔ یہ دنیا نقد کا سودا ہے‘ یہاں پر راحت بھی فوراً آسودگی دیتی ہے اور اس کی تکلیف بھی فوری طور پر خود کو محسوس کراتی ہے۔ اسی لیے اسے ’’عاجلہ‘‘ کہا گیا ہے۔ عاجلہ کے مقابلے میں آیت زیر نظر میں ’’آخرت‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو کہ قرآن حکیم میں اکثر ’’دنیا‘‘ کے مقابلے میں بھی آتا ہے۔ دنیا یا عاجلہ کے مقابلے میں آخرت کو آخرت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا ثواب و عذاب بعد میں آنے والی چیز ہے۔

آیت زیر نظر میں جو اصول بیان ہوا ہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ جو شخص دنیا کی عیش اور دنیا کی دولت و شہرت حاصل کرنے کا خواہش مند ہو اورصرف اسی کے لیے منصوبہ بندی ‘محنت اور دوڑ دھوپ کرے‘ اس کی محنت اور دوڑ دھوپ کو اللہ کسی نہ کسی درجہ میں کامیاب کر دیتا ہے‘ مگرضروری نہیں کہ جس قدر کوئی دنیا سمیٹنا چاہے اسی قدر اسے مل بھی جائے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو کوئی بھی اس ‘‘عاجلہ‘‘ کو پانے کی دوڑ میں شامل ہو ‘کامیاب ٹھہرے‘ بلکہ ہر کسی کو وہی کچھ ملے گا جو اللہ چاہے گا‘اور صرف اسی کو ملے گا جس کے لیے وہ چاہے گا۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو حصولِ دنیا کے لیے ساری عمر اپنے آپ کو ہلکان کر دیتے ہیں‘مگر دنیا پھر بھی ہاتھ نہیں آتی۔

چنانچہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ جس کو وہ چاہتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے دنیا میں اس کی محنت کا صلہ دے دیتا ہے۔

ثُمَّ جَعَلۡنَا لَہٗ جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلٰىہَا مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ﴿۱۸﴾

’’پھر ہم مقرر کر دیتے ہیں اس کے لیے جہنم ۔وہ داخل ہو گا اس میں ملامت زدہ‘دھتکارا ہوا۔‘‘

اس شخص کی خواہش اور محنت سب دنیا کے لیے کی تھی‘ چنانچہ دنیا کسی نہ کسی قدر اسے دے دی گئی۔ آخرت کے لیے اس نے خواہش کی تھی اور نہ محنت ‘لہٰذا آخرت میں سوائے جہنم کے اس کے لیے اور کچھ نہیں ہو گا۔

آیت 19

وَ مَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَۃَ وَ سَعٰی لَہَا سَعۡیَہَا وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ

’’ اور جو کوئی آخرت کا طلب گار ہو‘ اور اس کے لیے اس کے شایانِ شان کوشش کرے اور وہ مؤمن بھی ہو‘‘

یعنی اس کی یہ طلب صرف زبانی دعویٰ تک محدود نہ ہو‘بلکہ حصولِ آخرت کے لیے وہ ٹھوس اور حقیقی کوشش بھی کرے‘جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اہل ایمان میں سے ہو‘ کیونکہ ایمان کے بغیر اللہ کے ہاں بڑی سے بڑی نیکی بھی قابل قبول نہیں ہے۔

فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعۡیُہُمۡ مَّشۡکُوۡرًا ﴿۱۹﴾

’’تو یہی لوگ ہوں گے جن کی کوشش کی قدر افزائی کی جائے گی۔‘‘

اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! یہ آیت ہم میں سے ہر ایک کے لیے لٹمس ٹیسٹ ہے۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے ہر شخص ٹھیک سے معلوم کر سکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے کس موڑ پر ‘کس حیثیت سے کھڑ اہے؟ چنانچہ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی منصوبہ بندیوں اور شبانہ روز بھاگ دوڑ کی ترجیحات کا تجزیہ کر کے اپنا احتساب کرے کہ وہ کس قدر دنیا کا طالب ہے اور کس حد تک فلاحِ آخرت کو پانے کا خواہش مند؟ بہر حال دنیا پر آخرت کو ترجیح دینا اور پھراپنے قول و فعل سے اپنی ترجیحات کو ثابت کر نا ایک کٹھن اور دشوار کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو اس کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے ۔آمین!

آیت 20

کُلًّا نُّمِدُّ ہٰۤؤُلَآءِ وَ ہٰۤؤُلَآءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّکَ ؕ

’’ہم سب کو مدد پہنچائے جا رہے ہیں‘ان کو بھی اور ان کو بھی‘آپؐ کے رب کی عطا سے۔‘‘

یہ دنیا چونکہ دار الامتحان ہے اس لیے جب تک انسان یہاں موجود ہیں ‘ان میں سے کوئی مجرم ہو یا اطاعت گزار ‘ہر ایک کی بنیادی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نوازش ہے جس میں سے وہ اپنے نافرمانوں اور دشمنوں کو بھی نواز رہا ہے۔

وَ مَا کَانَ عَطَـآءُ رَبِّکَ مَحۡظُوۡرًا ﴿۲۰﴾

’’اور آپؐ کے رب کی عطا رُکی ہوئی نہیں ہے۔‘‘

دنیا میں اللہ تعالیٰ کی یہ عطا اور بخشش عام ہے۔ اس میں دوست اور دشمن کے امتیاز کی بنیاد پر کوئی قدغن یا روک ٹوک نہیں ہے۔

آیت 21

اُنۡظُرۡ کَیۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ؕ

’’دیکھو کیسے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے! ‘‘

اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بعض لوگوں کو مال و اسباب‘ذہنی و جسمانی صلاحیتوں ‘شکل و صورت اور مقام و مرتبے میں بعض دوسروں پر فضیلت دے رکھی ہے۔ یہ اس کی مرضی اور مشیت کا معاملہ ہے۔

وَ لَلۡاٰخِرَۃُ اَکۡبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَکۡبَرُ تَفۡضِیۡلًا ﴿۲۱﴾

’’لیکن آخرت کی زندگی درجات اور فضیلت میں اس سے بہت بڑھ کر ہو گی۔‘‘

دنیا میں تو درجات و فضائل جیسے بھی ہوں‘جتنے بھی ہوں‘محدود ہی ہوں گے‘مگر آخرت کی نعمتیں اور نوازشیں ایسی لامحدود اور لامتناہی ہوں گی کہ ان کا موازنہ و مقابلہ دنیا کی کسی چیز سے ممکن ہی نہیں ہو گا۔ یہاں ایک شخص بیس پچیس سال کٹیا میں رہ لے گا اور ایک دوسرا شخص اتنا ہی عرصہ محل میں رہ لے گا تو کیا فرق واقع ہو جائے گا ؟ آخرکار تو دونوں کو یہاں سے جانا ہے۔ لیکن آخرت کے آرام و آسائش ابدی ہوں گے ۔ وہاں کے نعمتوں کے باغات کی اپنی ہی شان ہو گی: {فَرَوۡحٌ وَّ رَیۡحَانٌ ۬ۙ وَّ جَنَّتُ نَعِیۡمٍ ﴿۸۹﴾} (الواقعۃ) ’’تو (اس کے لیے) آرام اور خوشبودار پھول اور نعمت کے باغ ہیں۔‘‘

آیت 22

لَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتَقۡعُدَ مَذۡمُوۡمًا مَّخۡذُوۡلًا ﴿٪۲۲﴾

’’اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بناؤ‘کہ پھر بیٹھے رہ جاؤ گے مذموم و بے سہارا ہو کر۔‘‘

آئندہ دو رکوع اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں تورات کے احکامِ عشرہ (Ten Commandments) کو قرآنی اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکے نزدیک ان احکام کے اندر تورات کی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ ان احکام کا خلاصہ ہم سورۃ الانعام کے آخری حصے میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ یہاں پر وہی باتیں ذرا تفصیل سے بیان ہوئی ہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے