وَ قَضَیۡنَاۤ اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ فِی الۡکِتٰبِ لَتُفۡسِدُنَّ فِی الۡاَرۡضِ مَرَّتَیۡنِ وَ لَتَعۡلُنَّ عُلُوًّا کَبِیۡرًا ﴿۴﴾
’’اور ہم نے متنبہ کر دیا تھا بنی اسرائیل کو کتاب میں کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد مچاؤ گے اور بہت بڑی سر کشی کرو گے۔‘‘
یعنی تم پر دو ادوار ایسے آئیں گے کہ تم زمین میں سرکشی کرو گے ‘ فساد برپا کرو گے‘ دین سے دور ہو جاؤ گے‘لہو و لعب میں مبتلا ہو جاؤ گے‘اور پھر اس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے تم پر عذاب کے کوڑے برسیں گے۔
یہاں پر بین السطور یہ اشارہ بھی ہے کہ اس سے پہلے بنی اسرائیل پرا یک بہتر دور بھی آیا تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمتوں اورنعمتوں سے نوازا تھا۔ سورۃ البقرۃ میں ان کے اس اچھے دور کی کچھ تفصیلات ہم پڑھ آئے ہیں۔ یاد دہانی کے طور پر اہم واقعات اختصار کے ساتھ یہاں پھر تازہ کر لیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ۱۴۰۰قبل مسیح میں بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر نکلے تھے۔ صحرائے سینا میں جبل طور کے پاس پڑاؤ کے زمانے میں آپؑ کو تورات عطا کی گئی۔ وہاں سے پھر شمال مشرق کی طرف کوچ کرنے اورفلسطین پر حملہ آور ہونے کا حکم دیا گیا۔ جہاد کے اس حکم سے انکار کی پاداش میں بنی اسرائیل کو صحرا نوردی کی سزا ملی۔ اسی دوران میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام دونوں کا یکے بعد دیگرے انتقال ہو گیا۔ صحرا نوردی کے دوران پروان چڑھنے والی نسل بہادر اور جفاکش تھی۔انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون کی سرکردگی میں جہاد کیا جس کے نتیجے میں فلسطین فتح ہو گیا۔فلسطین کا جو شہر سب سے پہلے فتح ہوا وہ اریحا (Jericho) تھا۔ فلسطین کی فتح کے بعد ایک بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ ایک مضبو ط مرکزی حکومت بنانے کے بجائے یہ علاقہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں نے آپس میں بانٹ لیا اورہر قبیلے نے اپنی حکومت قائم کر لی۔ یہ چھوٹی چھوٹی حکومتیں نہ صرف بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں بہت کمزور تھیں بلکہ بہت جلد انہوں نے آپس میں بھی لڑنا جھگڑنا شروع کر دیا‘ جس کے نتیجے میں ان کے زیر تسلط علاقے بہت جلد انتشار اور طوائف الملو کی کا شکار ہو گئے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے شام اور اُردن کے ہمسایہ علاقوں میں بسنے والی مشرک اقوام نے ان پر تسلط حاصل کر کے ان کی بیشتر آبادی کواس علاقے سے نکال باہر کیا۔
اس حالت کو پہنچنے پر انہوں نے اپنے نبی حضرت سموئیل ؑ سے مطالبہ کیا کہ اُن کے لیے ایک بادشاہ یا سپہ سالار مقرر کر دیں تا کہ اس کی قیادت میں تمام قبیلے اکٹھے ہو کر جہاد کریں۔ اس مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت طالوت کو اُن کا بادشاہ مقرر کیا گیا۔ حضرت طالوت نے دشمن افواج کے خلاف لشکر کشی کی‘ جن کا سپہ سالار جالوت تھا۔ اس جنگ میں حضرت داؤد علیہ السلام بھی شامل تھے۔ آپؑ نے جالوت کو قتل کر دیا ‘ جس کے نتیجے میں دشمن لشکر پر بنی اسرائیل کو فتح نصیب ہوئی اور وہ علاقے میں ایک مضبوط حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ حضرت طالوت کے بعد حضرت دائود علیہ السلام ان کے جانشین ہوئے اور حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد آپؑ کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام بادشاہ بنے۔
حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں فلسطین کے فتح ہونے سے لے کر طالوت اور جالوت کی جنگ تک تین سو سال کا وقفہ ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا عہد حکومت اس تین سو سالہ دور کا نقطۂ عروج تھا ۔ حضرت طالوت‘حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کا دورِ اقتدار تقریباً ایک سو سال کے عرصے پر محیط تھا۔ سولہ برس تک حضرت طالوت نے حکومت کی‘ اس کے بعد چالیس برس تک حضرت داؤدؑ اور پھر چالیس برس تک ہی حضرت سلیمانؑ برسر اقتدار رہے۔ یہ دور گویا بنی اسرائیل کی خلافتِ راشدہ کا دور تھا جو ہمارے دورِ خلافتِ راشدہ سے مماثلت رکھتا ہے۔ اگرچہ ان کی پہلی تین خلافتیں ایک سوبرس کے عرصے پر محیط تھیں اور ہماری امت کی پہلی تین خلافتوں کا عرصہ چوبیس برس تھا ‘لیکن جس طرح اُن کے پہلے خلیفہ کا دورِ اقتدار مختصر اور بعد کے دونوں خلفاء کا دور نسبتاً طویل تھا اسی طرح ہمارے ہاں بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کادورِ خلافت مختصر ‘جبکہ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کا دور نسبتاً طویل تھا۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قبول نہیں کیا تھا‘ چنانچہ شام اور مصر کے علاقے علیحدہ رہے تھے‘ بالکل اسی طرح بنی اسرائیل کی مملکت بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد آپؑ کے دو بیٹوں کے درمیان تقسیم ہو گئی۔ شمالی مملکت کا نام اسرائیل تھا جس کا دارالخلافہ سامریہ تھا‘ جبکہ جنوبی مملکت کا نام یہودیہ تھا اور اس کا دارالخلافہ یروشلم تھا۔
اس عظیم سلطنت کی تقسیم کے بعد بھی مادی اعتبار سے ایک عرصے تک بنی اسرائیل کا عروج برقرار رہا‘ لیکن رفتہ رفتہ عوام میں مشرکانہ عقائد ‘اوہام پرستی اور ہوسِ دنیا جیسی نظریاتی و اخلاقی بیماریاں پیدا ہو گئیں ‘ اوراحکامِ شریعت کا استہزا ان کا اجتماعی وطیرہ بن گیا۔ چنانچہ اخلاق و کردار کا یہ زوال منطقی طور پر ان کے مادی زوال پر منتج ہوا۔ بنی اسرائیل کا یہ عہدِ زوال بھی تقریباً تین سو سال ہی کے عرصے میں اپنی انتہا کو پہنچا۔ سب سے پہلے آشوریوں کے ہاتھوں ان کی شمالی سلطنت ’’اسرائیل‘‘ (سات آٹھ سو قبل مسیح کے لگ بھگ )تباہ ہوئی۔ اس کے بعد۵۸۷قبل مسیح میں عراق کے نمرود بخت نصر (Nebukadnezar) نے ان کی جنوبی سلطنت ’’یہودیہ‘‘ پر حملہ کیا اور پوری سلطنت کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔یروشلم کو اس طرح تباہ و برباد کیا گیا کہ کسی عمارت کی دو اینٹیں بھی سلامت نہیں رہنے دی گئیں۔ہیکل سلیمانی کو مسمار کر کے اس کی بنیادیں تک کھود ڈالی گئیں۔ اس دوران بخت نصر نے چھ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا جبکہ چھ لاکھ مردوں‘عورتوں اور بچوں کو جانوروں کی طرح ہانکتا ہوا بابل لے گیا‘جہاں یہ لوگ سوا سو سال تک اسیری (Captivity) کی حالت میں رہے۔ ذلت و رسوائی کے اعتبار سے یہ ان کی تاریخ کا بد ترین دور تھا۔
بنی اسرائیل کے دوسرے دورِ عروج کا آغاز حضرت عزیر علیہ السلام کی اصلاحی کوششوں سے ہوا۔ آپؑ کو بنی اسرائیل کی نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے نقیب کی حیثیت حاصل ہے۔ ۵۳۹ ق م میں ایران کے بادشاہ کیخورس (Cyrus) یا ذوالقرنین نے عراق (بابل) فتح کیا اور اس کے دوسرے ہی سال اس نے بنی اسرائیل کو اپنے وطن واپس جانے اور وہاں دوبارہ آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔ چنانچہ یہودیوں کے قافلے فلسطین جانے شروع ہو گئے اور یہ سلسلہ مدتوں جاری رہا۔ ۴۵۸ ق م میں حضرت عزیر علیہ السلام بھی ایک جلاوطن گروہ کے ساتھ یروشلم پہنچے اور اس شہر کو آباد کرنا شروع کیا اور ہیکل سلیمانی کی ازسر نو تعمیر کی۔ اس سے قبل حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سو برس تک سلائی بھی رکھا۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک سو سال کے لیے موت طاری کردی تھی اور پھر انہیں زندہ کیا اور انہیں بچشم سر ان کے مردہ گدھے کے زندہ ہونے کا مشاہدہ کرایا‘ جس کے بارے میں ہم سورۃ البقرۃ (آیت۲۵۹) میں پڑھ آئے ہیں۔ بہر حال حضرت عزیر علیہ السلام نے توبہ کی منادی کے ذریعے ایک زبردست تجدیدی اور اصلاحی تحریک چلائی جس کے نتیجے میں ان کے نظریات اور اعمال و اخلاق کی اصلاح ہونا شروع ہوئی۔ حضرت عزیر علیہ السلام نے تورات کو بھی یاداشتوں کی مدد سے ازسرنو مرتب کیا جو بخت نصر کے حملے کے دوران گم ہو گئی تھی ۔
ایرانی سلطنت کے زوال‘ سکندر مقدونی کی فتوحات اور پھر یونانیوں کے عروج سے یہودیوں کو کچھ مدت کے لیے شدید دھچکا لگا۔ یونانی سپہ سالار انیٹوکس ثالث نے ۱۹۸ ق م میں فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ یونانی فاتحین نے پوری جابرانہ طاقت سے کام لے کر یہودی مذہب و تہذیب کی بیخ کنی کرنا چاہی‘ لیکن بنی اسرائیل اس جبر سے مغلوب نہ ہوئے اور ان کے اندر ایک زبردست تحریک اٹھی جو تاریخ میں ’’مکابی بغاوت‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ حضرت عزیرؑ کی پھونکی ہوئی روحِ دینداری کا اثر تھا کہ انہوں نے بالآخر یونانیوں کو نکال کر اپنی ایک عظیم آزاد ریاست قائم کر لی جو ’’مکابی سلطنت‘‘ کہلاتی ہے۔ بنی اسرائیل کے دوسرے دورِ عروج میں قائم ہونے والی یہ سلطنت ۱۷۰ق م سے لے کر ۶۷ ق م تک پوری شان و شوکت کے ساتھ قائم رہی۔ مکابی سلطنت اپنے وقت کی معلوم دنیا کے تمام علاقوں پر محیط تھی۔ چنانچہ رقبے کے اعتبار سے یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت سے بھی وسیع تھی۔ اس زمانہ عروج میں پھر سے ان کی نظریاتی و اخلاقی حالت بگڑنے لگی۔ مشرکانہ عقائد سمیت بہت سی اخلاقی برائیاں پھر سے اُن میں پیدا ہوگئیں‘جن کے نتیجے میں ایک دفعہ پھر یہ قوم عذاب خداوندی کی زد میں آ گئی۔
مکابی تحریک جس اخلاقی ودینی روح کے ساتھ اٹھی تھی وہ بتدریج فنا ہوتی چلی گئی اور اس کی جگہ خالص دنیا پرستی اور بے روح ظاہر داری نے لے لی۔ آخر کار ان کے درمیان پھوٹ پڑ گئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپئی کوفلسطین آنے کی دعوت دی۔ چنانچہ پومپئی نے ۶۳ ق م میں بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کر دیا۔رومیوں نے فلسطین میں اپنے زیرسایہ ایک دیسی ریاست قائم کر دی جو بالآخر ۴۰ق م میں ہیرود نامی ایک ہوشیار یہودی کے قبضے میں آئی۔ یہ شخص ہیرود اعظم کے نام سے مشہور ہے اور اس کی فرماں روائی پورے فلسطین اور شرقِ اردن پر ۴۰ سے ۴ ق م تک رہی۔ اس شخص نے رومی سلطنت کی وفاداری کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کر کے قیصر کی خوشنودی حاصل کر لی تھی۔ اس زمانے میں یہودیوں کی دینی و اخلاقی حالت گرتے گرتے زوال کی آخری حد کوپہنچ گئی تھی۔ ہیرود اعظم کے بعد اس کی ریاست اس کے تین بیٹوں کے درمیان تقسیم ہو گئی۔ لیکن ۶ء میں قیصر آگسٹس نے ہیرود کے بیٹے ارخلائوس کو معزول کر کے اس کی پوری ریاست اپنے گورنر کے ماتحت کر دی اور ۴۱ء تک یہی انتظام قائم رہا۔ یہی زمانہ تھا جب حضرت مسیح علیہ السلام بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے اٹھے تو یہودیوں کے تمام مذہبی پیشوائوں نے مل کر ان کی مخالفت کی اور انہیں واجب القتل قرار دے کر رومی گورنر پونٹس پیلاطس سے ان کو سزائے موت دلوانے کی کوشش کی اور اپنے خیال کے مطابق تو ان کو سولی پر چڑھوا ہی دیا۔
رومیوں نے ۴۱ء میں ہیرود اعظم کے پوتے ’’ہیرود اگرپا‘‘ کو ان تمام علاقوں کا حکمران بنا دیا جن پر ہیرود اعظم اپنے زمانے میں حکمران تھا۔ اس شخص نے برسراقتدار آ کر مسیح علیہ السلام کے پیروؤں پر مظالم کی انتہا کر دی۔ کچھ ہی عرصے بعد یہودیوں اور رومیوں کے درمیان سخت کشمکش شروع ہو گئی اور ۶۴ء تا ۶۶ء کے دوران یہودیوں نے رومیوں کے خلاف کھلی بغاوت کر دی‘ جو اُن کے عروج ثانی کے خاتمے پر منتج ہوئی۔ یہودیوں کی بغاوت کا قلع قمع کرنے کے لیے بالآخر رومی سلطنت نے ایک سخت فوجی کارروائی کی اور ۷۰ء میں ٹائٹس (Titus) نے بزورِشمشیر یروشلم کو فتح کر لیا ۔ ہیکل سلیمانی ایک دفعہ پھر مسمارکر دیاگیا۔ جنرل ٹائیٹس کے حکم پر شہر میں قتل عام ہوا۔ ایک دن میں ایک لاکھ ۳۳ہزار یہودی قتل ہوئے ‘جبکہ ۶۷ہزار کو غلام بنا لیا گیا۔ اس طرح رومیوں نے پورے شہر میں کوئی متنفس باقی نہ چھوڑا۔ اس کے ساتھ ہی ارضِ فلسطین سے بنی اسرائیل کا عمل دخل مکمل طور پر ختم ہو گیا ۔ بیسویں صدی کے شروع تک پورے دو ہزار برس یہ لوگ جلاوطنی اور انتشار (Diaspora) کی حالت میں ہی رہے۔ جنرل ٹائیٹس کے ہاتھوں۷۰ء میں ہیکل سلیمانی مسمار ہوا تو آج تک تعمیر نہ ہو سکا۔ حضورﷺ کی پیدائش (۵۷۱ء)کے وقت اسے مسمار ہوئے پانچ سو برس گزر چکے تھے۔
یہ خلاصہ ہے اُس قوم کی داستانِ عبرت کا جو اپنے وقت کی امتِ مسلمہ تھی۔ جس کے اندر چودہ سو برس تک مسلسل نبوت رہی۔ جس کو تین الہامی کتابوں سے نوازا گیا اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : {یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۷﴾} (البقرۃ) ’’اے بنی اسرائیل یاد کرو میری وہ نعمت جو میں نے تم لوگوں کو عطا کی اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت دی تمام جہانوں والوں پر۔‘‘
آخر کار بنی اسرائیل کو اُمتِ مسلمہ کے منصب سے معزول کر کے محمد رسول اللہﷺ کی اُمت کو اس مسندِ فضیلت پر متمکن کیا گیا ۔ حضورﷺ نے اپنی اُمت کے بارے میں فرمایا کہ تم لوگوں پر بھی عین وہی حالات وارد ہوں گے جو بنی اسرائیل پر ہوئے تھے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ مسلمانوں کو پہلا عروج عربوں کے زیر قیادت نصیب ہوا۔ اس کے بعد جب زوال آیا تو صلیبیوں کی یلغار کی صورت میں ان پر عذاب کے کوڑے برسے۔ پھر تاتاریوں نے ہلاکو خان اور چنگیز خاں کی قیادت میں عالم اسلام کو تاخت و تاراج کیا۔ اس کے بعد قدرت نے عالم اسلام کی قیادت عربوں سے چھین کر انہی تا تاریوں کے ہاتھوں میں دے دی ‘جنہوں نے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا تھا ؎
ہے عیاں فتنۂ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
چنانچہ ترکوں کی قیادت میں اس اُمت کو ایک دفعہ پھر عروج نصیب ہوا ۔ ترکانِ تیموری‘ترکانِ صفوی‘ترکانِ سلجوقی اور ترکانِ عثمانی نے دنیا میں عظیم الشان حکومتیں قائم کیں۔ اس کے بعد اُمت مسلمہ پر دوسرا دورِزوال آیا ۔ بنی اسرائیل ؑپر دوسرا دورِعذاب یونانیوں اور رومیوں کے ہاتھوں آیا تھا جبکہ اُمتِ مسلمہ پر دوسرا عذاب اقوامِ یورپ کے تسلط کی صورت میں آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے انگریز‘فرانسیسی‘اطالوی‘ہسپانوی اور ولندیزی (Dutch) پورے عالم اسلام پر قابض ہو گئے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں عظیم عثمانی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔
یہ ان حالات وو اقعات کاخلاصہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے آیت زیر نظر میں فرمایا ہے کہ ہم نے تو پہلے ہی بنی اسرائیل کے بارے میں کہہ دیا تھا کہ تم لوگ اپنی تاریخ میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور سرکشی دکھاؤ گے۔
فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىہُمَا بَعَثۡنَا عَلَیۡکُمۡ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّیَارِ ؕ وَ کَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴿۵﴾
’’پھر جب ان دونوں میں سے پہلے وعدے کا وقت آ گیاتو ہم نے تم پر مسلط کر دیے اپنے سخت جنگجو بندے تو وہ تمہاری آبادیوں میں گھس گئے ‘ اور (یوں ہمارا) جو وعدہ تھا وہ پورا ہو کر رہا۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تم پر واضح کیا گیا تھا کہ جب تم لوگ دین سے برگشتہ ہو جائو گے ‘جب تم اللہ کی کتاب اور اس کے احکام کو ہنسی مذاق بنا لو گے تو تم ضرور اللہ کے عذاب کا نشانہ بنو گے۔ چنانچہ ان کے دین سے برگشتہ ہو جانے کے بعد آشوریوں اور عراق کے بادشاہ بخت نصر کے ہاتھوں ان پر عذاب کا کوڑا برسا‘ جس کے نتیجے میں دونوں اسرائیلی سلطنتیں ختم ہو گئیں‘ یروشلم مکمل طور پر تباہ ہو گیا‘ہیکل سلیمانی مسمار کر دیا گیا‘ چھ لاکھ یہودی قتل ہو گئے جبکہ چھ لاکھ کو غلام بنا لیا گیا۔
ثُمَّ رَدَدۡنَا لَکُمُ الۡکَرَّۃَ عَلَیۡہِمۡ
’’پھر ہم نے تمہاری باری لوٹائی ان پر‘‘
یعنی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر تمہیں سہارا دیا اور ان پر غلبے کا موقع عطا کر دیا۔ اس سہارے کا باعث ایرانی بادشاہ کیخورس (Cyrus) یا ذوالقرنین بنا۔ اس نے عراق (بابل) پر تسلط حاصل کر لینے کے بعد تمہیں آزاد کر کے واپس یروشلم جانے اور اس شہر کو ایک دفعہ پھر سے آباد کرنے کی اجازت دے دی۔ پھر جب تم نے واپس آکر یروشلم کو آباد کیا تو ہم نے ایک دفعہ پھر تمہاری مدد کی:
وَ اَمۡدَدۡنٰکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ جَعَلۡنٰکُمۡ اَکۡثَرَ نَفِیۡرًا ﴿۶﴾
’’اور ہم نے مدد کی تمہاری مال و دولت اور بیٹوں کے ذریعے سے اور بنا دیا تمہیں کثیر تعداد (والی قوم)۔‘‘
ہم نے تمہیں مال و اولاد میں برکت دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ تم لوگ خوب پھلے پھولے اور جلد ہی ایک مضبوط قوم بن کر اُبھرے۔
اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ اِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَہَا ؕ
’’اگر تم نے کوئی بھلائی کی تو خود اپنے ہی لیے کی ‘اور اگر کوئی برائی کمائی تو وہ بھی اپنے ہی لیے کمائی۔‘‘
تمہارے نیک اعمال کا فائدہ بھی تمہیں ہوا اور تمہاری برائیوں اور نافرمانیوں کا وبال دنیا میں بھی تم پر آیا اور اس کا وبال آخرت میں بھی تم پر پڑے گا۔
فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ
’’پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا‘‘
جب دوبارہ تم نے اللہ کے دین سے سرکشی اختیار کی‘تمہارے اعتقادات‘نظریات اور اخلاق پھر سے مسخ ہو گئے تو وعدے کے عین مطابق تم پر عذاب کے دوسرے مرحلے کا وقت آ پہنچا۔
لِیَسُوۡٓءٗا وُجُوۡہَکُمۡ
’’تا کہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں‘‘
اس سلسلے میں آیت ۵ میں یہ الفاظ آئے تھے : {بَعَثۡنَا عَلَیۡکُمۡ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ} کہ ہم نے تم پر اپنے بندے مسلط کر دیے جو سخت جنگجو تھے۔اس فقرے کا مفہوم یہاں بھی پایا جاتا ہے‘ لیکن یہاں دوبارہ اسے دہرایا نہیں گیا۔ چنانچہ اس فقرے کو یہاں مخدوف سمجھا جائے گا اور آیت کا مفہوم یوں ہو گا کہ ہم نے پھر تم پر اپنے سخت جنگجو بندے مسلط کیے تا کہ وہ تمہارے حلیے بگاڑ دیں۔
وَ لِیَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ کَمَا دَخَلُوۡہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ
’’اور وہ داخل ہو جائیں مسجد میں جیسے کہ داخل ہوئے تھے پہلی مرتبہ‘‘
یہاں اشارہ ہے بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کی بارِ دگر بے حرمتی کی طرف۔ جیسے ۵۸۷قبل مسیح میں بخت نصر نے بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کو مسمار کیا تھا‘ویسے ہی رومی جرنیل ٹائیٹس نے۷۰ء میں ایک دفعہ پھر ان کے تقدس کو پامال کیا ۔
وَّ لِیُتَبِّرُوۡا مَا عَلَوۡا تَتۡبِیۡرًا ﴿۷﴾
’’اور تباہ و برباد کر کے رکھ دیں (ہر اُس شے کو )جس کے اوپر بھی انہیں قبضہ حاصل ہو جائے۔‘‘
ان آیات میں بنی اسرائیل کی دو ہزار سالہ تاریخ کے نشیب و فراز کی تفصیلات کو سمو دیا گیا ہے۔ اس عرصے میں انہوں نے دو مرتبہ عروج دیکھا اور دو دفعہ ہی زوال سے دو چار ہوئے۔ نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت کے زمانے میں ان آیات کے نزول کے وقت ان کے دوسرے دورِزوال کو شروع ہوئے پانچ سو برس ہونے کو آئے تھے۔ اس سیاق و سباق میں انہیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ: