بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الإسراء

آیت ۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۂ بنی اسرائیل اور سورۃ الکہف دونوں مل کر ایک حسین و جمیل جوڑا بناتی ہیں۔قرآن عظیم کے وسط میں یہ دو سورتیں حکمتِ قرآنی کے دو عظیم خزانے ہیں۔ ان دونوں کے مابین کئی حوالوں سے مشابہت بھی پائی جاتی ہے اور کئی پہلوؤں سے ان کی آپس میں نسبتِ زوجیت بھی ظاہر ہوتی ہے ۔ یہ دونوں سورتیں کس کس اعتبار سے complementary حیثیت رکھتی ہیں یہ بات ان کے مطالعہ کے دوران واضح ہو جائے گی‘ تاہم اس سلسلے میں اہم نکات درج ذیل ہیں:

(۱) سورۂ بنی اسرائیل کا آغازاللہ کی تسبیح {سُبْحٰنَ الَّذِیْ …} سے ہوتا ہے‘جبکہ سورۃ الکہف بھی اللہ کی تحمید {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ…} سے شروع ہوتی ہے۔ ان دونوں کلمات کا باہمی تعلق اس حدیث سے واضح ہوتا ہے جس میں حضورﷺ نے فرمایاہے: حدیث((اَلتَّسْبِیْحُ نِصْفُ الْمِیْزَانِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ یَمْلَـؤُہٗ))۱’’تسبیح نصف میزان ہے اور الحَمد لِلّٰہ اسے بھر دیتا ہے‘‘۔ یعنی سبحان اللہ کہنے سے معرفتِ خداوندی کی میزان آدھی ہو جاتی ہے اور الحَمد لِلّٰہ کہنے سے یہ میزان مکمل طور پر بھر جاتی ہے۔ گویا یہ دونوں کلمات مل کر کسی انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی معرفت کے اثاثے کی تکمیل کرتے ہیں۔ آگے چل کر المُسَبِّحَات (وہ سورتیں جن کا آغاز اللہ کی تسبیح سے ہوتا ہے)کے مطالعہ کے دوران اس مضمون پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی۔

(۲) سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں مذکور ہے کہ ’’اللہ اپنے بندے کو لے گیا‘‘ جبکہ سورۃ الکہف کی پہلی آیت میں فرمایا کہ ’’اللہ نے اپنے بندے پر کتاب اتاری‘‘۔ گویا دونوں مقامات کی باہم متلازم (reciprocal) نسبت ہے۔

(۳) دونوں سورتوں کی ابتدائی آیات میں نبی اکرمﷺکے لیے رسول کے بجائے عبد کا لفظ استعمال ہو اہے۔

(۴) سورۂ بنی اسرائیل کی آخری دوآیات کا آغاز لفظ ’’قُل ‘‘ سے ہوتا ہے اور اسی طرح سورۃ الکہف کی آخری دو آیات بھی لفظ ’’قُل ‘‘ سے شروع ہوتی ہیں۔ نیز ان دونوں مقامات کی دو دو آیات کے مضامین میں باہم متلازم (reciprocal) نسبت ہے۔

(۵) یہ دونوں سورتیں ریل کے ڈبوں کی طرح آپس میں جڑی ہوئی (inter locked) ہیں۔ وہ اس طرح کہ سورۂ بنی اسرائیل کی آخری آیت ایک حکم پر ختم ہو رہی ہے: {وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ…} ’’ اور کہیے کہ کل حمد اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے…‘‘جبکہ سورۃ الکہف کی پہلی آیت کے مضمون سے یوں لگتا ہے جیسے یہ اس حکم کی تعمیل میں نازل ہوئی ہے: {اَلْـحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ…}۔

مضمون اور موضوع کے اعتبا ر سے سورئہ بنی اسرائیل کا پہلا رکوع بہت اہم اور عظیم ہے۔ اس رکوع میں بنی اسرائیل کی تاریخ کے اُن چار ادوار کا تذکرہ ہے جو حضورﷺ کی بعثت تک گزر چکے تھے۔ یہاں بنی اسرائیل کی دو ہزار سالہ تاریخ کو چار آیات کے اندر سمو کر گویا امت مسلمہ کے لیے ایک آئینہ فراہم کر دیا گیا ہے ۔ اس آئینے کو سامنے رکھ کر ہم اپنے ماضی ‘حال اور مستقبل کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اس کی وضاحت اس حدیث نبویﷺ میں ملتی ہے جس میں حضورﷺ نے فرمایا:

حدیث((لَیَاْتِیَنَّ عَلٰی اُمَّتِیْ مَا اَتٰی عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ…)) ۱

’’ میری اُمت پر بھی وہ تمام حالات وارد ہو کر رہیں گے جو بنی اسرائیل پر وارد ہوئے‘ بالکل اسی طرح جیسے ایک جوتی دوسری جوتی کے مشابہ ہوتی ہے…‘‘

اس حدیث میں جوتی کے دونوں پاؤں کی مشابہت کی یہ مثال اس اٹل حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عروج و زوال کے جو چار ادوار بنی اسرائیل پر گزر چکے ہیں بالکل ایسے ہی چار ادوار امتِ مسلمہ پر بھی وار دہوں گے۔اس پہلو سے دیکھا جائے تو سورۂ بنی اسرائیل کی ان چار آیات (۴تا۷)میں علم و معرفت اور معلومات کا ایک خزانہ پوشیدہ ہے‘جبکہ مذکورہ بالا حدیث اس خزانے کی چابی ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے اس چابی کی مدد سے اس خزانے تک رسائی ملی ہے‘جس کے نتیجے میں میرے لیے ان بیش بہا علمی و تاریخی معلومات کو ضبط تحریر میں لانا ممکن ہوا ہے۔ چنانچہ اس موضوع پر میرا ایک مختصر کتابچہ ’’تنظیم اسلامی کا تاریخی پس منظر‘‘ کے نام سے اور ایک مفصل کتاب ’’سابقہ اور موجودہ مسلمان اُمتوں کا ماضی ‘حا ل اور مستقبل ‘‘ کے عنوان سے دستیاب ہیں۔

ان دونوں مطبوعات کے انگلش تراجم بھی Rise and Decline of the Muslim Ummah اور Lessons from Histroy کے عنوانات سے طبع ہوتے ہیں۔ (اس موضوع کو سمجھنے کے لیے ان کتب کا مطالعہ مفید ہو گا۔)

(۱) سنن الترمذی‘ابواب الدعوات ۔ ومسند احمد ‘ ح:۲۱۹۹۵۔

(۱) سنن الترمذی‘ ابواب الایمان‘ باب ما جاء فی افتراق ھذہ الامۃ

1

واقعہ معراج . . . . زمینی سفر کا بیان

ویڈیو

سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۱﴾

آیت 1

سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا

’’پاک ہے وہ ذات جو لے گئی راتوں رات اپنے بندے (ﷺ) کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ (دُور کی مسجد) تک‘‘

یہ رسول اللہ ﷺ کے سفر معراج کے پہلے مرحلے کی طرف اشارہ ہے جو مسجد حرام (مکہ مکرمہ) سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) تک کے زمینی سفر پر مشتمل تھا۔ ’’سُبْحٰن‘‘ تنزیہہ کا کلمہ ہے‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہر نقص و عیب سے پاک و منزہ ہے۔ اس کلمہ سے بات کا آغاز کرنا خود دلالت کرتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑا خارقِ عادت واقعہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی غیر محدود قدرت سے رونما ہوا۔ یہ محض ایک روحانی تجربہ نہ تھا‘ بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺ کو کرایا۔

الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ

’’جس کے ماحول کو ہم نے با برکت بنایا‘‘

اس علاقے کی برکت دنیوی اعتبار سے بھی ہے اور روحانی اعتبار سے بھی۔ دنیوی اعتبار سے یہ علاقہ بہت زرخیز ہے اور یہاں کی آب و ہوا خصوصی طور پر بہت اچھی ہے۔ روحانی اعتبار سے دیکھیں تو یہ علاقہ بہت سے جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کا مسکن رہا ہے اورحضرت ابراہیم علیہ السلام سمیت بہت سے انبیاء یہاں مدفون ہیں۔ ہیکل سلیمانی بنی اسرائیل کی مرکزی عبادت گاہ تھی۔ اس لحاظ سے نہ معلوم اللہ کے کیسے کیسے نیک بندے کس کس انداز میں یہاں عبادت کرتے رہے ہوں گے۔ اس کے علاوہ بیت المقدس کو بنی اسرائیل کے قبلہ کی حیثیت بھی حاصل تھی۔ چنانچہ مادی و روحانی دونوں اعتبار سے اس علاقے کو اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ برکتوں سے نوازا ہے۔

سفر معراج کے پہلے مرحلے میں رسول اللہﷺ کو مکہ مکرمہ سے یروشلم لے جایا گیا‘ وہاں بیت المقدس میں تمام انبیاء کی ارواح کو جمع کیا گیا‘ انہیں جسد عطا کیے گئے(ہمارے حواس اس کیفیت کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں) اور وہاں حضورﷺ نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ حضورﷺ کے سفر معراج کے اس حصے کا ذکر جس انداز میں یہاں ہوا ہے اس کی ایک خصوصی اہمیت ہے۔ یہ گویا اعلان ہے کہ نبی آخر الزماںﷺ اور آپؐ کی امت کو توحید کے ان دونوں مراکز (بیت اللہ اور بیت المقدس)کا متولی بنایا جا رہا ہے۔ اسی حوالے سے آپﷺ کو پہلے بیت المقدس لے جایا گیا اور پھر وہاں سے آپﷺ کے آسمانی سفر کا مرحلہ شروع ہوا۔ سفر معراج کے اس دوسرے مرحلے کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ سورۃ النجم میں کیا گیا ہے۔

لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۱﴾

’’تا کہ ہم دکھائیں اُس (بندے محمدﷺ) کو اپنی نشانیاں۔یقینا وہی ہے سب کچھ سننے والا‘دیکھنے والا۔‘‘

بنی اسرائیل کے اہم ترین تاریخی مقام کا ذکر کرنے کے بعد اب آئندہ آیات میں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اُن کی تاریخ کا حوالہ دیا جا رہا ہے ۔

یوٹیوب پر دیکھیے