تحریر

الإسراء

آیات ۱۱۰ تا ۱۱۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

110

سارے اچھے نام اور صفات اللہ ہی کے پاس ہیں

ویڈیو

قُلِ ادۡعُوا اللّٰہَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ ؕ اَیًّامَّا تَدۡعُوۡا فَلَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ۚ وَ لَا تَجۡہَرۡ بِصَلَاتِکَ وَ لَا تُخَافِتۡ بِہَا وَ ابۡتَغِ بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿۱۱۰﴾

آیت 110

قُلِ ادۡعُوا اللّٰہَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ ؕ

’’آپؐ کہہ دیجیے کہ تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر۔‘‘

اَیًّامَّا تَدۡعُوۡا فَلَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ۚ

’’جس نام سے بھی تم پکاروسب اچھے نام اسی کے ہیں۔‘‘

ہرخیر ‘ہر خوبی‘ہر بھلائی‘ہر حسن‘ہر کمال‘ہر جمال جس کا تم تصور کر سکتے ہو ‘وہ بہ تمام و کمال اللہ تعالیٰ کی ذات میں موجود ہے۔

وَ لَا تَجۡہَرۡ بِصَلَاتِکَ وَ لَا تُخَافِتۡ بِہَا وَ ابۡتَغِ بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿۱۱۰﴾

’’اور مت بلند کرو آواز اپنی نمازمیں اور نہ ہی بہت پست رکھو اس میں‘بلکہ اس کے بین بین روش اختیار کرو۔‘‘

تمہاری نمازیں اور دعائیں نہ تو بہت زیادہ جہری ہوں نہ بالکل ہی سری‘ بلکہ ان کے بین بین کی راہ اختیار کرو۔

111

توحیدِ باری تعالیٰ کا خزانہ

ویڈیو

وَ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرۡہُ تَکۡبِیۡرًا ﴿٪۱۱۱﴾

آیت 111

وَ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ

’’اور کہہ دیجیے کہ کل حمد اور کل شکر اللہ ہی کے لیے ہے‘‘

یہ آیت اپنے مضمون کے اعتبار سے سورۃ الاخلاص کی ہم وزن ہے۔ اس میں پانچ مختلف انداز میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور توحید کا بیان ہے۔ اس ضمن میں یہ پہلی بات ہے ‘یعنی حضورﷺ کی زبان مبارک سے یہ اعلان کہ تمام تعریفیں اور ہر قسم کا شکر اللہ ہی کے لیے ہے۔

الَّذِیۡ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا

’’جس نے نہیں بنائی کوئی اولاد‘‘

یہ دوسری بات ہے ‘جسے سورۃ الاخلاص میں {لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ ۙ﴿۳﴾} کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ

’’اور نہیں ہے اس کا کوئی شریک بادشاہی میں‘‘

تیسری بات اقتدار و اختیار سے متعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ تنہا ہر چیز کا مالک و مختار اورمالک الملک ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں۔

وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ

’’اور نہ ہی اس کا کوئی دوست ہے کمزوری کی وجہ سے‘‘

یہ چوتھی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دوستی کو اپنی دوستیوں پر قیاس مت کرو۔ تم تو دوستیاں اس لیے پالتے ہو کہ تم اپنے دوستوں کے محتاج ہوتے ہو۔ انسان دوست اس لیے بناتا ہے کہ وہ ضرورت کے وقت کام آئے گا۔ بعض دفعہ انسان اپنے کسی دوست کی انتہائی ناجائز بات صرف اس لیے ماننے پر مجبور ہو تا ہے کہ کل وہ میری بھی کوئی ضرورت پوری کرے گا۔ انسان کی یہی کمزوری اسے دوست بنانے اور دوستانہ تعلق نبھانے پر مجبور کرتی ہے‘ مگراللہ تعالیٰ کی ذات ایسی تمام کمزوریوں سے پاک ہے۔وہ کسی کامحتاج نہیں بلکہ سب اس کے محتاج ہیں۔ چنانچہ اللہ کی دوستی کسی ضرورت کی بنیاد پر نہیں ہوتی اور نہ ہی اللہ کا کوئی دوست اس سے اپنی کوئی بات زبردستی منوا سکتا ہے۔ پانچویں اور آخری بات بہت اہم ہے:

وَ کَبِّرۡہُ تَکۡبِیۡرًا ﴿٪۱۱۱﴾

’’اُس کی تکبیر کرو جیسے کہ تکبیر کرنے کا حق ہے۔‘‘

یہ ترجمہ( تکبیر کرو)بہت اہم اور توجہ طلب ہے۔ صرف زبان سے’’ اللہ اکبر‘‘ کہہ دینے سے اللہ کی تکبیر نہیں ہوجاتی‘اس کے لیے عملی طور پر بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ زبان سے اللہ اکبر کہنا تو تکبیر کا پہلا درجہ ہے کہ کسی نے زبان سے اقرار کر لیا کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس کے بعد اہم اور کٹھن مرحلہ اپنے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات میں اللہ کو عملی طور پر بڑا کرنے کا ہے ۔ یہ مرحلہ تب طے ہو گا جب ہمارے گھر میں بھی اللہ کو بڑا تسلیم کیا جائے گا اور گھر کے تمام معاملات میں اسی کی بات مانی جائے گی‘ جب ہماری پارلیمنٹ میں بھی اس کی بڑائی کو تسلیم کیا جائے گا اور کوئی قانون اس کی شریعت کے خلاف نہیں بن سکے گا‘ جب ہماری عدالتوںمیں بھی اس کی بڑائی کا ڈنکا بجے گا اورتمام فیصلے اسی کے احکامات کی روشنی میں کیے جائیں گے۔ غرض جب تک ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اور ہر کہیں اس کا حکم آخری حکم کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا‘اللہ کی تکبیر کا حق ادا نہیں ہوگا۔ اللہ کے احکام کو عملی طور پر نافذ نہ کرنے والوں کے لیے سورۃ المائدۃ کا یہ حکم بہت واضح ہے: {وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۴۴﴾ … فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾… فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۷﴾} ۔ آج ہم نے اللہ کو (نعوذ باللہ) اپنے تئیں مسجدوں میں بند کر دیا ہے کہ اے اللہ آپ یہیں رہیں‘ہم یہیں پر آ کر آپ کی تکبیر کے ترانے گائیں گے‘آپ کی تسبیح و تحمید کریں گے --- لیکن مسجد سے باہر ہماری مجبوریاں ہیں۔ کیا کریں مارکیٹ میں مالی مفادات کے ہاتھوں مجبور ہیں‘گھر میں بیوی بڑی ہے‘کسی اور جگہ کوئی اور بڑا ہے۔ ایسے حالات میں ہمارے ہاں اللہ کی تکبیر کا مفہوم ہی بدل کر رہ گیا ہے اور اب تکبیر فقط دو الفاظ (اللہ اکبر) پر مشتمل ایک کلمہ ہے‘ جسے زبان سے ادا کردیں تو گویااللہ کی بڑائی کا حق ادا ہوجاتا ہے۔

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

یوٹیوب پر دیکھیے