تحریر

النحل

آیات ۱۲۵ تا ۱۲۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

125

دعوتِ دین کی تین سطحیں

ویڈیو

اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾

آیت 125

اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ

’’آپؐ دعوت دیجیے اپنے رب کے راستے کی طرف دانائی اور اچھی نصیحت کے ساتھ‘‘

یہ دعوت الی الحق کا طریقہ اور اس کے آداب کا ذکر ہے ‘ جیسا کہ سورۂ یوسف‘ آیت ۱۰۸میں فرمایا گیا : {قُلۡ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ۟ؔ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیۡ ؕ} ’’( اے نبیﷺ! ) آپ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے ‘ میں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ‘ میں خود بھی اور میرے پیروکار بھی (اس راستے پر گامزن ہیں)۔‘‘

وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ

’’اور ان سے بحث کیجیے بہت اچھے طریقے سے ۔‘‘

اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾

’’یقیناآپؐ کا رب خوب واقف ہے اُن سے جو اُس کے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور وہ خوب جانتا ہے اُن کو بھی جو راہِ ہدایت پر ہیں۔‘‘

اپنے موضوع کے حوالے سے یہ بہت عظیم آیت ہے ۔اس میں انسانی معاشرے کے اندر انسانوں کی تین بنیادی اقسام کے حوالے سے دعوتِ دین کے تین مدارج بیان کیے گئے ہیں‘ مگر عام طور پر اس آیت کا ترجمہ اور تشریح کرتے ہوئے اس پہلو کو اجاگر نہیں کیاجاتا۔

کسی بھی معاشرے میں علم و دانش کی بلند ترین سطح پر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اس معاشرے کا دانشور طبقہ (intelligentsia) یاذہین اقلیت (intellectual minority) کہا جاتا ہے۔ اس طبقے کی حیثیت اس معاشرے یا قوم کے دماغ کی سی ہوتی ہے۔ یہ لوگ اگرچہ تعدادکے لحاظ سے بہت چھوٹی اقلیت پر مشتمل ہوتے ہیں مگر کسی معاشرے کی مجموعی سوچ اور اس کے مزاج کا رخ متعین کرنے میں اُن کا کردار یا حصہ فیصلہ کن حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو جذباتی تقاریر اور خوش کن وعظ متاثر نہیں کر سکتے‘ بلکہ ایسے لوگ کسی سوچ یا نظر یے کوقبول کرتے ہیں تو مصدقہ علمی و منطقی دلیل سے قبول کرتے ہیں اور اگر رد کرتے ہیں تو ایسی ہی ٹھوس دلیل سے ردّ کرتے ہیں۔

آیت زیر نظر میں بیان کردہ پہلا درجہ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے اور وہ ہے ’’حکمت‘‘۔ یہ علم و عقل کی پختگی کی بہت اعلیٰ سطح ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۶۹ میں اللہ تعالیٰ نے حکمت کو ’خیر کثیر‘ قرار دیا ہے: {یُّؤۡتِی الۡحِکۡمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَنۡ یُّؤۡتَ الۡحِکۡمَۃَ فَقَدۡ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ؕ } ۔ قرآن میں تین مقامات (البقرۃ۱۲۹‘ آل عمران :۱۶۴ اور الجمعہ:۲) پر اِن مراحل اور درجات کا ذکر کیا گیا ہے جن کے تحت حضورﷺ نے اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت فرمائی۔ ان میں بلند ترین مرحلہ یا درجہ حکمت کا ہے۔ حکمت کے سبب کسی انسان کی سوچ اور علم میں پختگی آ تی ہے‘ اس کی گفتگو میں جامعیت پیدا ہوتی ہے اور اس کی تجزیاتی اہلیت بہتر ہوجاتی ہے۔ اس طرح وہ کسی سے بات کرتے ہوئے یا کسی کو دین کی دعوت دیتے ہوئے معروضی صورتِ حال ‘ مخاطب کے ذہنی رجحان اور ترجیحات کا درست تجزیہ کرنے کے بعد اپنی گفتگو کے نکات اور دلائل کو ترتیب دیتا ہے۔ اسے خوب اندازہ ہوتا ہے کہ کس وقت اسے کیا پیش کرنا ہے اور کس انداز میں پیش کرنا ہے۔ کون سا نکتہ بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے اور کون سی دلیل ثانوی اہمیت کی حامل ہے۔ بہر حال کسی بھی معاشرے کے وہ لوگ جو علم‘ عقل اور شعور میں غیر معمولی اہلیت کے حامل ہوں‘ اُن کو دعوت دینے کے لیے بھی کسی ایسے داعی کی ضرورت ہے جو خود بھی علم و حکمت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو اور ان سے برابری کی سطح پر کھڑے ہو کر بات کر سکے۔ کیونکہ جب قرآن اپنے مخالفین کو چیلنج کرتا ہے : {ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۱۱﴾} (البقرۃ) ’’اپنی دلیل لاؤ اگر تم واقعی سچے ہو‘‘۔ تو ایسی صورت میں ہمارے مخالفین کو بھی حق ہے کہ وہ بھی ہم سے دلیل مانگیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم عقل اور منطق کی اعلیٰ سے اعلیٰ سطح پر ان کی تسلی و تشفی کا سامان فراہم کریں۔ لہٰذا آیت زیر نظر میں دعوت و تبلیغ کا پہلا درجہ حکمت بیان کیا گیاہے جس کا حق ادا کرنے کے لیے داعی کا صاحبِ حکمت اور حکیم ہونا لازمی ہے۔

حکمت کے بعد دوسرا درجہ ’’موعظۂ حسنہ‘‘ کا ہے ‘یعنی اچھا خوبصورت وعظ۔ یہ درجہ عوام الناس کے لیے ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جن کے ذہنوں میں عقل اور منطق کی چھلنیاں نہیں لگی ہوتیں۔ چنانچہ ایسے لوگوں کے لیے منطقی مباحث اور فلسفیانہ تقاریر ’’تکلیف مالا یطاق‘‘ کے مترادف ہیں۔ ان کے دل کھلی کتاب اور ذہن صاف سلیٹ کی مانند ہوتے ہیں‘ آپ ان پر جو لکھنا چاہیں لکھ لیں۔ ایسے لوگوں کو دعوت دینے کے لیے ان کے جذبات کو اپیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ پر تاثیر وعظ اور خلوص و ہمدردی سے کی گئی بات سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ ان کو احساس ہو جاتا ہے کہ داعی ہم پر اپنے علم کا رعب نہیں ڈالنا چاہتا‘ ہم پر دھونس نہیں جمانا چاہتا‘ وہ ہم سے اظہارِنفرت نہیں کر رہا‘ ہماری تحقیر نہیں کر رہا‘ بلکہ اس کے پیش نظر ہماری خیر خواہی ہے۔ چنانچہ داعی کے دل سے نکلی ہوئی بات ’’ از دل خیزد‘ بردل ریزد‘‘کے مصداق سیدھی ان کے دلوں میں اتر جاتی ہے۔

دعوتِ حق کا تیسرا درجہ {جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ} اُن عناصر کے لیے ہے جو کسی معاشرے میںِ خلق خدا کو گمراہ کرنے کے مشن کے علمبردار ہوتے ہیں۔ آج کل بہت سی تنظیموں کی طرف سے باقاعدہ پیشہ وارانہ تربیت سے ایسے لوگ تیار کر کے میدان میں اتارے جاتے ہیں۔ یہ لوگ خلوص و اخلاص سے کی گئی بات کو کسی قیمت پر ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہر حال میں اپنے نظریے اور موقف کی طرف داری کرنا ان لوگوں کی مجبوری ہوتی ہے ‘چاہے وہ کسی علمی و عقلی دلیل سے ہو یا ہٹ دھرمی سے۔ ایسے لوگوں کو مسکتِ جواب دے کر لاجواب کرنا ضروری ہوتا ہے ‘ورنہ بعض اوقات عوامی سطح کے اجتماعات میں اُن کی بحث برائے بحث کی پالیسی بہت خطرناک ہوسکتی ہے‘ جس سے عوام الناس کے ذہن منفی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے بحث و مباحثہ کے عمل کو ہمارے ہاں ’’مناظرہ‘‘ کہا جاتا ہے‘ جبکہ قرآن نے اسے ’’مجادلہ ‘‘کہا ہے۔بہر حال قرآن نے اپنے پیروکاروں کے لیے اس میں بھی اعلیٰ معیار مقرر کر دیا ہے کہ مخالفین سے مجادلہ بھی ہوتو احسن انداز میں ہو۔ اگر آپ کا مخالف کسی طور سے گھٹیا پن کا مظاہرہ بھی کرے تب بھی آپ کو جواب میں اچھے اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کی اجازت نہیں‘ جیسا کہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۰۸ میں حکم دیا گیا : {وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ } ’’ اور جن کو یہ (مشرک) اللہ کے سوا پکارتے ہیں انہیں برا بھلا نہ کہو کہ کہیں یہ بھی بغیر سوچے سمجھے مخالفت میں اللہ کو برا بھلا کہنے لگ جائیں‘‘۔ آج کل مختلف مذاہب کی تنظیمیں مثلاً عیسائی مشنریز باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اسلام کو ہدف بنانے کے لیے کچھ خاص موضوعات اور مسائل کو ایک مخصوص انداز میں پیش کرتی ہیں ۔ یہ لوگ ایسے موضوعات و مسائل پر مناظرے کرنے کے لیے باقاعدہ ٹریننگ کے ذریعے سپیشلسٹ (specialist) تیار کرتے ہیں۔ ایسے پیشہ وارانہ لوگوں کے مقابلے اور مجادلے کے لیے داعیانِ حق کو خصوصی تعلیم و تربیت دینے کی ضرورت ہے ۔

126-128

صبر اور تقویٰ کی اہمیت

ویڈیو

وَ اِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَ لَئِنۡ صَبَرۡتُمۡ لَہُوَ خَیۡرٌ لِّلصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۲۶﴾ وَ اصۡبِرۡ وَ مَا صَبۡرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ وَ لَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا تَکُ فِیۡ ضَیۡقٍ مِّمَّا یَمۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّ الَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ ﴿٪۱۲۸﴾

آیت 126

وَ اِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِہٖ ؕ

’’اور (اے مسلمانو!) اگر تم بدلہ لو تو اسی قدر جس قدر تمہیں تکلیف دی گئی ہو۔‘‘

وَ لَئِنۡ صَبَرۡتُمۡ لَہُوَ خَیۡرٌ لِّلصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۲۶﴾

’’اور اگر تم صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہترہے۔‘‘

آیت 127

وَ اصۡبِرۡ وَ مَا صَبۡرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ

’’اور (اے نبیﷺ!) آپ صبر کیجئے اور آپ کا صبر تو اللہ ہی کے سہارے پر ہے‘‘

یہ حکم براہِ راست رسول اللہﷺ کے لیے ہے اور آپﷺ کی وساطت سے تمام مسلمانو ں کے لیے بھی ۔ اس سلسلے میں حقیقت یہ ہے کہ اللہ پر جس قدر اعتماد ہوگا‘ جیسا اس پر توکل ہوگا‘ جتنا پختہ اس کے وعدوں پر یقین ہوگا‘ اسی انداز میں انسان صبر بھی کر سکے گا۔

وَ لَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا تَکُ فِیۡ ضَیۡقٍ مِّمَّا یَمۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾

’’اور آپؐ ان پر غم نہ کریں‘ اور نہ آپ تنگی میں پڑیں اس بارے میں جو سازشیں یہ لوگ کر رہے تھے۔‘‘

یہ لوگ اپنے کرتوتوں کے سبب عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔ چنانچہ آپؐ ان کے انجام کے بارے میں بالکل رنجیدہ اور فکر مند نہ ہوں اور نہ ہی ان کی سازشوں اور گھٹیا معاندانہ سرگرمیوں کے بارے میں سوچ کر آپؐ اپنا دل میلا کریں۔

آیت 128

اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّ الَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ ﴿٪۱۲۸﴾

’’یقینا اللہ اہلِ تقویٰ اور نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔‘‘

جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہوئے درجۂ احسان پر فائز ہو گئے ہیں‘ اللہ کی معیت ‘ نصرت اور تائیداُن کے شاملِ حال رہے گی۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو گا تو یہ مشرکین آپ کو کچھ گزند نہیں پہنچا سکتے۔ ؎

کیا ڈر ہے اگر ساری خدائی ہے مخالف

کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے!

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالایات والذِّکر الحکیم

یوٹیوب پر دیکھیے