تحریر

النحل

آیات ۱۱۹ تا ۱۲۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

119-120

یہودیوں کے لیے سزا

ویڈیو

ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیۡنَ عَمِلُوا السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ وَ اَصۡلَحُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۱۱۹﴾ اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیۡفًا ؕ وَ لَمۡ یَکُ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿ۙ۱۲۰﴾

آیت 119

ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیۡنَ عَمِلُوا السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ وَ اَصۡلَحُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۱۱۹﴾

’’پھر یقینا آپؐ کا رب ان لوگوں کے حق میں جو جہالت سے کوئی بُرا کام کر بیٹھیں‘ پھر اس کے بعد وہ توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں ‘تو یقینا آپؐ کا رب اس کے بعد بہت بخشنے والا‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘

جو لوگ جذبات کی رو میں بہہ کر یا نادانی میں کوئی گناہ کر بیٹھیں ‘پھر توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیں اور غلط روش سے باز آ جائیں تو ایسے لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ ضرور غفورو رحیم ہے۔

آیت 120

اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیۡفًا ؕ وَ لَمۡ یَکُ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿ۙ۱۲۰﴾

’’یقینا ابراہیم ؑایک امت تھے ‘اللہ کے لیے فرمانبرداراور یکسو ‘اور آپؑ مشرکین میں سے نہیں تھے۔‘‘

اَمَّ یَئُومُّ کے لغوی معنی قصد کرنے کے ہیں۔ سورۂ یوسف (آیت ۴۵) میں اُمَّۃ کا لفظ وقت اور مدت کے لیے بھی استعمال ہوا ہے (وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّۃٍ)۔ وقت اور زمانے کے بھی ہم پیچھے چلتے ہیں تو گویا اس کا قصد کرتے ہیں۔ اسی طرح راستے پر چلتے ہوئے بھی انسان اس کا قصد کرتا ہے۔ اس حوالے سے لفظ اُمَّۃ وقت اور راستے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح جب بہت سے لوگ ایک نظریے کا قصد کر کے اکٹھے ہو جائیں تو انہیں بھی اُمَّۃ کہا جاتا ہے‘ یعنی ہم مقصد لوگوں کی جماعت ۔چنانچہ اسی معنی میں سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۴۳میں فرمایا گیا: {وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ} ۔ اس لحاظ سے آیت زیرنظر میں لفظ اُمت کامفہوم یہ ہو گاکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک راستہ بنانے والے‘ اور ایک ریت ڈالنے والے تھے‘ اور اس طرح آپؐ اپنی ذات میں گویا ایک اُمت تھے۔جب دنیا میں کوئی مسلمان نہ تھا اور پوری دنیا کفر کے راستے پر گامزن تھی تو آپؑ تن تنہا اسلام کے علمبردار تھے۔

121-123

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی ذات میں ایک امّت تھے

ویڈیو

شَاکِرًا لِّاَنۡعُمِہٖ ؕ اِجۡتَبٰہُ وَ ہَدٰىہُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۲۱﴾ وَ اٰتَیۡنٰہُ فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً ؕ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿ؕ۱۲۲﴾ ثُمَّ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ اَنِ اتَّبِعۡ مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾

آیت 121

شَاکِرًا لِّاَنۡعُمِہٖ ؕ اِجۡتَبٰہُ وَ ہَدٰىہُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۲۱﴾

’’ شکر گزار تھے اُس کی نعمتوں کے ۔اللہ نے ان کو پسند کر لیا تھا اور اُن کو ہدایت دی تھی سیدھی راہ کی طرف۔‘‘

آیت 122

وَ اٰتَیۡنٰہُ فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً ؕ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿ؕ۱۲۲﴾

’’اور ان کو ہم نے دنیا میں بھی بھلائی عطا کی تھی‘ اور یقینا آخرت میں بھی وہ نیک بندوں میں سے ہوں گے۔‘‘

آیت 123

ثُمَّ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ اَنِ اتَّبِعۡ مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾

’’پھر (اے محمدﷺ!) ہم نے وحی کی آپ کی طرف کہ پیروی کیجئے ملتِ ابراہیم ؑکی یکسو ہوکر‘اور وہؑ ہر گز مشرکین میں سے نہ تھے۔‘‘

124

اللہ کے نزدیک افضل دن جمعہ کا ہے سبت کا نہیں

ویڈیو

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبۡتُ عَلَی الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَیَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾

آیت 124

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبۡتُ عَلَی الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ

’’ ہفتہ کا دن تو انہی لوگوں کے لیے معین کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا۔‘‘

دراصل بنی اسرائیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے عبادت کے لیے جمعہ کا دن ہی مقرر فرمایا تھا ‘مگر انہوں نے اپنی شرارت کی وجہ سے اس کی ناقدری کی اور اسے چھوڑ کر ہفتہ کا دن اختیار کر لیا ۔ چنانچہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس حیثیت میں ہفتہ کا دن ہی مقرر کر دیا۔

وَ اِنَّ رَبَّکَ لَیَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾

’’اوریقینا آپؐ کا رب اُن کے مابین فیصلہ کرے گا قیامت کے دن اُن چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے