تحریر

النحل

آیات ۱۱۴ تا ۱۱۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

114-118

حلال وحرام رزق کے حوالے سے ہدایت

ویڈیو

فَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّ اشۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۱۴﴾ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۵﴾ وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُکُمُ الۡکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ ﴿ؕ۱۱۶﴾ مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ۪ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۱۷﴾ وَ عَلَی الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا مَا قَصَصۡنَا عَلَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ مَا ظَلَمۡنٰہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾

آیت 114

فَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪

’’پس (اے اہلِ ایمان) تم کھایا کرو اُس میں سے جو اللہ نے تمہیں رزق دیاہے حلال اور پاکیزہ چیزیں‘‘

وَّ اشۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۱۴﴾

’’اور اللہ کی نعمت کا شکر اداکرو اگر تم واقعتا اُسی کی بندگی کرتے ہو۔‘‘

نوٹ کیجیے کہ اللہ کی نعمتوں کا ذکر مختلف انداز میں اس سورت میں بار بار آ رہا ہے۔

آیت 115

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ ۚ

’’اُس نے تو بس حرام کیا ہے تم پر مردار‘ خون‘ خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جس پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا۔‘‘

فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۵﴾

’’پھر جو کوئی مجبور ہو جائے‘ (لیکن) نہ وہ طالب ہو‘ نہ حد سے بڑھنے والا‘ تو اللہ یقینا بخشنے والا ‘نہایت رحم والا ہے۔‘‘

یعنی انتہائی مجبوری کی حالت میں‘ جان بچانے کے لیے وقتی طور پر بقدر ضرورت ان حرام اشیاء کو استعمال میں لا کر جان بچائی جا سکتی ہے ‘مگر نہ تو دل میں ان کی طلب ہو ‘نہ اللہ سے سرکشی کا ارادہ ‘ اور نہ ہی ایسی حالت میں وہ چیز ضرورت سے زیادہ کھائی جائے۔

آیت 116

وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُکُمُ الۡکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ

’’اور مت کہوجس کے متعلق تمہاری زبانیں جھوٹ گھڑتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے‘‘

حلال اور حرام کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے ‘اس لیے اس بارے میں غیر محتاط رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ بغیر علم‘ دلیل اور سند کے جو منہ میں آیا کہہ دیا۔

لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ

’’تا کہ تم اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرو۔‘‘

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ ﴿ؕ۱۱۶﴾

’’یقینا جو لوگ اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔‘‘

آیت 117

مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ۪ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۱۷﴾

’’برتنے کا سامان ہے (دُنیوی زندگی میں) تھوڑا سا ‘اور پھر ان لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘

آیت 118

وَ عَلَی الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا مَا قَصَصۡنَا عَلَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ ۚ

’’اور اُن لوگوں پر جو یہودی ہوئے ہم نے حرام کی تھیں (وہ چیزیں) جو ہم بیان کر چکے ہیں آپؐ پر اس سے پہلے۔‘‘

اس بارے میں تفصیل سورۂ آل عمران:۹۳‘ النساء :۱۴۰ اور الانعام :۱۴۶میں گزر چکی ہے۔حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی مرضی سے اپنے اوپر اونٹ کا گوشت حرام کر لیا تھا ‘جس کی تعمیل بعد میں وہ پوری قوم کرتی رہی۔ اس کے علاوہ مختلف حیوانات کی چربی بھی بنی اسرائیل پر حرام کر دی گئی تھی۔

وَ مَا ظَلَمۡنٰہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾

’’اور ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے