تحریر

النحل

آیات ۱۰۱ تا ۱۱۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

101-105

قرآن مجید پر اعتراضات کا جواب

ویڈیو

وَ اِذَا بَدَّلۡنَاۤ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ ۙ وَّ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُفۡتَرٍ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾ قُلۡ نَزَّلَہٗ رُوۡحُ الۡقُدُسِ مِنۡ رَّبِّکَ بِالۡحَقِّ لِیُـثَبِّتَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾ وَ لَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ ؕ لِسَانُ الَّذِیۡ یُلۡحِدُوۡنَ اِلَیۡہِ اَعۡجَمِیٌّ وَّ ہٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۰۳﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ۙ لَا یَہۡدِیۡہِمُ اللّٰہُ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۰۴﴾ اِنَّمَا یَفۡتَرِی الۡکَذِبَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾

آیت 101

وَ اِذَا بَدَّلۡنَاۤ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ ۙ

’’ اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت‘‘ قبل ازیں یہ مضمون سورۃ البقرۃ میں بیان ہو چکا ہے: {مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا ؕ} (آیت ۱۰۶) ۔ چنانچہ سورۃ البقرۃ کے مطالعے کے دوران اس آیت کے تحت اس مضمون کی وضاحت بھی ہو چکی ہے۔

وَّ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ

’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ نازل کرتا ہے‘‘

قرآن کا نزول اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کے عین مطابق ہور ہا ہے ۔اگر کوئی مخصوص حکم کسی ایک دور کے لیے تھا اور پھر بدلے ہوئے حالات میں اس حکم میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو یہ سب کچھ اللہ کے علم کے مطابق ہے اور کسی خاص ضرورت اور حکمت کے تحت ہی کسی حکم میں تبدیلی کی جاتی ہے ۔ مگر ایسی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے:

قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُفۡتَرٍ ؕ

’’یہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ آپؐ خود ہی (اسے) گھڑنے والے ہیں‘‘

کہ پہلے یوں کہا گیا تھا‘ اب اسے بدل کر یوں کہہ رہے ہیں۔ اگر یہ اللہ کا کلام ہوتا تو اس میں اس طرح کی تبدیلی کیسے ممکن تھی؟

بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾

’’بلکہ ان میں سے اکثر علم نہیں رکھتے۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ ان کی اکثریت علم سے عاری ہے۔

آیت 102

قُلۡ نَزَّلَہٗ رُوۡحُ الۡقُدُسِ مِنۡ رَّبِّکَ بِالۡحَقِّ

’’آپؐ کہیے کہ اسے نازل کیا ہے روح القدس نے آپؐ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ‘‘

یہاں پر روح القدس کا لفظ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے لیے آیا ہے کہ ایک پاک فرشتہ اس کلام کو لے کر آیاہے۔

لِیُـثَبِّتَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا

’’تا کہ وہ ثابت قدم رکھے اہل ایمان کو‘‘

سورۃ الفرقان میں یہی مضمون ا س طرح بیان کیا گیا ہے : {کَذٰلِکَ ۚۛ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَ رَتَّلۡنٰہُ تَرۡتِیۡلًا ﴿۳۲﴾} ’’تا کہ ہم مضبوط کریں اس کے ساتھ آپؐ کے دل کو اور (اسی لیے) ہم نے پڑھ سنایا اسے ٹھہر ٹھہر کر۔‘‘

وَ ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾

’’اور یہ ہدایت اور خوشخبری ہو فرماںبرداروں کے لیے۔‘‘

جیسے جیسے حالات میں تبدیلی آ رہی ہے ‘ویسے ویسے اس قرآن کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ہدایت و راہنمائی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ مثلاً قصہ آدمؑ و ابلیس جب پہلی دفعہ بیان کیا گیا تو اس میں وہ تفصیلات بیان کی گئیں جو اس وقت کے مخصوص معروضی حالات میں حضورﷺ اور مسلمانوں کے لیے جاننا ضروری تھیں۔ پھر جب حالات میں تبدیلی آئی تو یہی قصہ کچھ مزید تفصیلات کے ساتھ پھر نازل کیا گیا اور اسی اصول اور ضرورت کے تحت اس کا نزول بار بار ہوا تا کہ ہر دور کے حالات کے مطابق اہل حق اس میں سے اپنی راہنمائی کے لیے سبق حاصل کر سکیں۔

آیت 103

وَ لَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ ؕ

’’اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اس کو تو ایک انسان سکھاتا ہے۔‘‘

مشرکین رسول اللہﷺ پر ایک الزام یہ لگا رہے تھے کہ آپ نے کسی عجمی غلام کو یا اہل کتاب میں سے کسی آدمی کو اپنے گھر میں چھپا رکھا ہے‘جو تورات کا عالم ہے۔ اس سے آپ یہ ساری باتیں سیکھتے ہیں اور پھر وحی کے نام پر ہمیں سناتے ہیں اور ہم پر دھونس جماتے ہیں۔

لِسَانُ الَّذِیۡ یُلۡحِدُوۡنَ اِلَیۡہِ اَعۡجَمِیٌّ وَّ ہٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۰۳﴾

’’ یہ لوگ جس کی طرف غلط طور پر منسوب کر رہے ہیں اُس کی زبان تو(ان کے بقول) عجمی ہے اور یہ (قرآن) فصیح عربی زبان ہے۔‘‘

چنانچہ یہ الزام لگاتے ہوئے ان کو خود سوچنا چاہیے کہ کوئی عجمی ایسی فصیح و بلیغ عربی زبان کیسے بول سکتا ہے!

آیت 104

اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ۙ لَا یَہۡدِیۡہِمُ اللّٰہُ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۰۴﴾

’’یقینا جو لوگ اللہ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے ‘اللہ انہیں ہدایت نہیں دے گا اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘

اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ کسی کو زبردستی کھینچ کر ہدایت کی طرف لے آئے۔

آیت 105

اِنَّمَا یَفۡتَرِی الۡکَذِبَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾

’’جھوٹ تو وہی لوگ گھڑتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے ‘اور وہی لوگ ہیں جو جھوٹے ہیں۔‘‘

106-109

مرتد کی مذّمت

ویڈیو

مَنۡ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِہٖۤ اِلَّا مَنۡ اُکۡرِہَ وَ قَلۡبُہٗ مُطۡمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمَانِ وَ لٰکِنۡ مَّنۡ شَرَحَ بِالۡکُفۡرِ صَدۡرًا فَعَلَیۡہِمۡ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۰۶﴾ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ سَمۡعِہِمۡ وَ اَبۡصَارِہِمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾ لَاجَرَمَ اَنَّہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾

آیت 106

مَنۡ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِہٖۤ

’’اور جو کوئی کفر کرے اللہ کا اپنے ایمان لانے کے بعد‘‘

اس کا اطلاق ایمان کی دونوں کیفیتوں پر ہو گا۔ ایک یہ کہ دل میں ایمان آ گیا‘ بات پوری طرح دل میں بیٹھ گئی‘ دل میں یقین کی کیفیت پیدا ہو گئی کہ ہاں یہی حق ہے مگر زبان سے ابھی اقرار نہیں کیا ۔ ایمان کی دوسری کیفیت یہ ہے کہ دل بھی ایمان لے آیا اور زبان سے ایمان کا اقرار بھی کر لیا۔ چنانچہ ان دونوں درجوں میں سے کسی بھی درجے میں اگر انسان نے حق کو حق جان لیا‘ دل میں یقین پیدا ہو گیا مگر پھر کسی مصلحت کا شکار ہو گیا اور حق کا ساتھ دینے سے کنی کتر اگیا تو اس پر اس حکم کا اطلاق ہو گا۔

اِلَّا مَنۡ اُکۡرِہَ وَ قَلۡبُہٗ مُطۡمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمَانِ

’’سوائے اس کے کہ کوئی شخص مجبور کر دیا گیا ہو اور اُس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو‘‘

کسی کی جان پر بنی ہوئی تھی اور اس حالت میں کوئی کلمہ کفر اس کی زبان سے ادا ہو گیا‘ مگر اس کا دل بدستور حالت ایمان میں مطمئن رہا تو ایسا شخص اللہ کے ہاں معذور سمجھا جائے گا۔

وَ لٰکِنۡ مَّنۡ شَرَحَ بِالۡکُفۡرِ صَدۡرًا فَعَلَیۡہِمۡ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۰۶﴾

’’مگر جس نے کھول دیا کفر کے ساتھ (اپنا) سینہ تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے ‘اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘

اوپر بیان کیے گئے استثناء کے مطابق مجبوری کی حالت میں تو کلمہ کفر کہنے والے کو معاف کر دیا جائے گا(بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر پوری طرح مطمئن ہو) مگر جو شخص کسی وجہ سے پورے شرحِ صدر کے ساتھ کفر کی طرف لوٹ گیا ‘وہ اللہ کے غضب اور بہت بڑے عذاب کا مستحق ہو گیا۔

آیت 107

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ ۙ

’’یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو محبوب رکھا آخرت کے مقابلے میں ‘‘

وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾

’’اور یہ (اللہ کا قاعدہ ہے) کہ اللہ ایسے کافروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔‘‘

آیت 108

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ سَمۡعِہِمۡ وَ اَبۡصَارِہِمۡ ۚ

’’یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں ‘ کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے ۔‘‘

وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾

’’ اور یہی لوگ ہیں جو غافل ہیں۔‘‘

آیت 109

لَاجَرَمَ اَنَّہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾

’’اب اس میں کوئی شک نہیں کہ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خسارے والے ہوں گے۔‘‘

یہ وہ لوگ ہیں جو دُنیوی زندگی کی محبت میں حق سے منہ موڑ کر غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ اب ان کے اس طرز عمل کا منطقی نتیجہ یہ ہو گا کہ آخرت کی بھلائیوں میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں ہو گا۔

اگلی آیت میں پھر ہجرت کا ذکر آ رہا ہے ‘جو اس سے پہلے آیت ۴۱ میں بھی آ چکا ہے ۔

110

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

ویڈیو

ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا فُتِنُوۡا ثُمَّ جٰہَدُوۡا وَ صَبَرُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۱۱۰﴾

آیت 110

ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا فُتِنُوۡا ثُمَّ جٰہَدُوۡا وَ صَبَرُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۱۱۰﴾

’’پھر یقینا آپؐ کا رب ان کے حق میں جنہوں نے ہجرت کی‘ اس کے بعد کہ انہیں تکالیف پہنچائی گئیں‘ پھر انہوں نے جہاد کیا اور صبر کیا‘ یقینا آپؐ کا رب اس (سب کچھ) کے بعد بخشنے والا‘ نہایت رحم والا ہے۔‘‘

جن مؤمنین پر مکہ میں مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ‘ ان حالات میں انہوں نے ہجرت کی‘ پھر وہ جہاد بھی کرتے رہے ‘ اس طرح راہِ حق میں آنے والی آزمائشوں کے تمام مراحل انہوں نے کمال صبر سے طے کیے‘ اللہ تعالیٰ انہیں ان کی اِن قربانیوں اور سرفروشیوں کا ضرور اجر دے گا۔ انہیں بخشش عطا فرمائے گا اور ان کی طرفِ نظر رحمت فرمائے گا۔

111

روزِ قیامت ہر اک کو اپنی پڑی ہو گی

ویڈیو

یَوۡمَ تَاۡتِیۡ کُلُّ نَفۡسٍ تُجَادِلُ عَنۡ نَّفۡسِہَا وَ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾

آیت 111

یَوۡمَ تَاۡتِیۡ کُلُّ نَفۡسٍ تُجَادِلُ عَنۡ نَّفۡسِہَا

’’جس دن آئے گی ہر جان اپنی طرف سے مدافعت کرتے ہوئے‘‘

روزِ قیامت ہر شخص چاہے گا کہ کسی نہ کسی طرح جہنم کی سزا سے اس کی جان چھوٹ جائے۔ لہٰذا اس کے لیے وہ مختلف عذر پیش کرے گا ۔

وَ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾

’’اور (بدلہ میں) پورا پورا دیا جائے گا ہر جان کو جو کچھ اس نے کمایا ہو گا اور اُن پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘

112-113

قرآن میں پاکستان کا ذکر

ویڈیو

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرۡیَۃً کَانَتۡ اٰمِنَۃً مُّطۡمَئِنَّۃً یَّاۡتِیۡہَا رِزۡقُہَا رَغَدًا مِّنۡ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الۡجُوۡعِ وَ الۡخَوۡفِ بِمَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾ وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡہُمۡ فَکَذَّبُوۡہُ فَاَخَذَہُمُ الۡعَذَابُ وَ ہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾

آیت 112

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرۡیَۃً کَانَتۡ اٰمِنَۃً مُّطۡمَئِنَّۃً یَّاۡتِیۡہَا رِزۡقُہَا رَغَدًا مِّنۡ کُلِّ مَکَانٍ

’’اور اللہ نے مثال بیان کی ہے ایک بستی کی جو بالکل امن و اطمینان کی حالت میں تھی‘ آتا تھا اس کے پاس اس کا رزق با فراغت ہر طرف سے‘‘

فَکَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الۡجُوۡعِ وَ الۡخَوۡفِ بِمَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾

’’تو اُس نے نا شکری کی اللہ کی نعمتوں کی‘ تو اسے چکھا (پہنا) دیا اللہ نے لباس بھوک اور خوف کا‘ اُن کے کرتوتوں کی پاداش میں۔‘‘

اس تمثیل کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ یہ ایک عام تمثیل ہے اور کسی خاص بستی سے متعلق نہیں۔ کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ قومِ سبا کی مثال ہے جس کے بارے میں تفصیل آگے چل کر سورۂ سبا میں آئے گی۔ ایک تیسری رائے یہ ہے کہ اس مثال کے آئینے میں مکہ اور اہل مکہ کا ذکر ہے کہ یہ شہر ہمیشہ سے امن و سکون کا گہوارہ چلا آ رہا تھا اور یہاں اہل مکہ کی تجارتی سرگرمیوں اور حج وعمرہ کے اجتماعات کے باعث خوشحالی اور فارغ البالی بھی تھی۔ دنیا بھر سے انواع وا قسام کا رزق فراوانی سے ان کے پاس چلا آتا تھا‘مگر حضورﷺ کی بعثت کے بعد آپؐ کی دعوت کا انکار کرنے کی پاداش میں اس شہر کے باشندوں پر قحط کا عذاب مسلط کر دیا گیاتھا۔ مکہ میں یہ قحط اسی قانونِ خداوندی کے تحت آیا تھا جس کا ذکر سورۃ الانعام کی آیت ۴۲اور سورۃ الاعراف کی آیت ۹۴میں ہوا ہے۔ اس اصول یا قانون کے تحت ہر رسول ؑکی بعثت کے بعد متعلقہ قوم پر چھوٹے چھوٹے عذاب آتے ہیں تا کہ انہیں خوابِ غفلت سے جاگنے اور سنبھلنے کا موقع مل جائے اور وہ رسول پر ایمان لا کر بڑے عذاب سے بچ جائیں۔

تاویل خاص کے اعتبار سے اس مثال میں یقینا مکہ ہی کی طرف اشارہ ہے مگر اس کی عمومی حیثیت بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ کوئی بستی بھی اس قانونِ خداوندی کی زد میں آ سکتی ہے۔ جیسے پاکستان کے عروس البلاد کراچی کے حالات کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایک وقت وہ تھا جب کراچی میں امن و امان ‘وسائلِ رزق کی فراوانی اور خوشحالی کی کیفیت ملک بھر کے لوگوں کے لیے باعثِ کشش تھی ‘مگر پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہر وہی نقشہ پیش کرنے لگا جس کی جھلک اس آیت میں دکھائی گئی ہے۔ یعنی کفر انِ نعمت کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے اس کے باشندوں کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا۔

آیت 113

وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡہُمۡ فَکَذَّبُوۡہُ فَاَخَذَہُمُ الۡعَذَابُ وَ ہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾

’’اور آیا ان کے پاس ایک رسول انہی میں سے تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا‘ پس آپکڑا انہیں عذاب نے اور وہ خود ہی ظالم تھے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے