’’اور وہ روکتا ہے بے حیائی ‘ برائی اور سرکشی سے۔‘‘
یَعِظُکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۹۰﴾
’’ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم سبق حاصل کرو۔‘‘
یہ آیت اس لحاظ سے بہت مشہور ہے کہ اکثر جمعۃ المبارک کے خطبات میں شامل کی جاتی ہے۔ یہ بہت ہی جامع آیت ہے اور اس میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے انداز میں تین چیزوں کا حکم دیا گیا ہے اور تین ہی چیزوں سے منع کیا گیا ہے۔ پہلا حکم عدل کا ہے اور دوسرا احسان کا۔ عدل تو یہ ہے کہ جس کا جس قدر حق ہے عین اسی قدر آپ اسے دے دیں‘ لیکن احسان ایک ایسا عمل ہے جو عدل سے بہت اعلیٰ و ارفع ہے ۔یعنی احسان یہ ہے کہ آپ کسی کو اس کے حق سے زیادہ دیں اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے ۔چنانچہ اللہ محسنین کو محبوب رکھتا ہے۔ تیسرا حکم قرا بت داروں کے حقوق کا خیال رکھنے کے بارے میں ہے ‘یعنی ان سے حسن سلوک سے پیش آنا‘ صلہ رحمی کے تقاضے پورے کرنا اور انفاقِ مال کے سلسلے میں ان کو ترجیح دینا۔ یہ تین احکام اُن اعمال کے بارے میں ہیں جو ایک اچھے معاشرے کی بنیاد کا کام دیتے ہیں۔
جن چیزوں سے یہاں منع فرمایا گیا ہے ان میں سب سے پہلے بے حیائی ہے ۔ حیا گویا انسان اور ہر برے کام کے درمیان پردہ ہے۔ جب تک یہ پردہ قائم رہتا ہے انسان عملی طور پر برائی سے بچا رہتا ہے‘ اور جب یہ پردہ اُٹھ جاتا ہے تو پھر انسان بے شرم ہو کر آزاد ہو جاتا ہے۔ پھر وہ ؏
’’بے حیا باش و ہرچہ خواہی کن!‘‘
کا مصداق بن کر جو چاہے کرتا پھرتا ہے۔ بے حیائی کے بعد منکر سے منع کیا گیا ہے ۔ منکر ہر وہ کام ہے جس کے برے ہونے پر انسان کی فطرت گواہی دے۔ تیسرا نا پسندیدہ عمل یا جذبہ البغی یعنی سرکشی ہے۔یہ سرکشی اگر اللہ کے خلاف ہو تو بغاوت ہے اور یوں کفر ہے ‘اور اگر یہ انسانوں کے خلاف ہو تو اسے ’’عدوان‘‘ کہا جاتا ہے یعنی ظلم اور زیادتی۔بہر حال ان دونوں سطحوں پر یہ انتہائی نا پسندیدہ اور مذموم جذبہ ہے۔
اگلی چند آیات مشکلات القرآن میں سے ہیں۔ ان کی تفسیر کے بارے میں بہت سی آراء ہیں جو سب کی سب یہاں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ میں یہاں صرف وہ رائے بیان کروں گا جس سے مجھے اتفاق ہے۔ میری رائے کے مطابق ان آیات میں روئے سخن اہلِ کتاب کی طرف ہے ۔ مکی سورتوں میں اگرچہ اہلِ کتاب سے ’’یٰــبَنِی اِسْرَائِیل‘‘ یا ’’یٰــاَھل الکتاب‘‘ کے الفاظ سے براہِ راست خطاب نہیں کیا گیا‘ لیکن سورۃ الانعام اور اس کے بعد (مکی دور کے آخری سالوں میں) نازل ہونے والی سورتوں میں اہل کتاب کو بالواسطہ انداز میں مخاطب کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک محمدرسول اللہﷺ کے دعوائے نبوت کے بارے میں خبریں مدینہ پہنچ چکی تھیں اوریہودِ مدینہ ان خبروں کو سن کر بہت متجسسانہ انداز میں مزید معلومات کی ٹوہ میں تھے ۔ ان میں سے کچھ لوگ تو نبی آخر الزماںﷺ کو پہچان بھی چکے تھے اور وہ اس انتظار میں تھے کہ مزید معلومات سے آپﷺ کی نبوت کی تصدیق ہو جائے تووہ آپﷺ پر ایمان لے آئیں۔ دوسری طرف یہودِ مدینہ ہی میں سے کچھ لوگوں کے دلوں میں آپﷺ کے خلاف حسد کی آگ بھی بھڑک چکی تھی۔ اس قسم کے لوگ آپﷺ کی مخالفت کے لیے قریشِ مکہ سے مسلسل رابطے میں تھے اور آپؐ کی آزمائش کے لیے قریش مکہ کو مختلف قسم کے سوالات بھیجتے رہتے تھے۔ ان سوالات میں ایک اہم سوال یہ بھی تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام تو فلسطین میں آباد تھے لیکن ان کی اولاد یعنی بنی اسرائیل کے لوگ وہاں سے مصر کیسے پہنچے؟ان کا یہی سوال تھا جس کے جواب میں پوری سورئہ یوسف نازل ہوئی تھی۔ چنانچہ یہ وہ معروضی صورتِ حال تھی جس کی وجہ سے مکی دور کی آخری سورتوں میں کہیں کہیں اہل کتاب کا ذکر بھی موجود ہے اور بالواسطہ طور پر ان سے خطاب بھی ہے۔ اس پس منظر میں میری رائے یہی ہے کہ آئندہ آیات میں روئے سخن اہل کتاب کی طر ف ہے۔
’’اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم عہد کر چکے ہو‘‘
یہاں بنی اسرائیل کا وہ وعدہ مرا دہے جس کی تفصیل بعد میں مدنی سورتوں میں آئی۔ مدنی سورتوں میں اِن کے اس عہد کا بار بار ذکر کیا گیا ہے: {وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ …} (البقرۃ :۶۳) ۔ یہاں پر اس عہد کی تفصیل میں جائے بغیر صرف اس کا تذکرہ کر دیا گیا کہ ’’عاقلاں را اشارہ کا فی است‘‘۔ مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل کے صاحبانِ علم و بصیرت بات کو سمجھنا چاہیں تو سمجھ لیں۔
’’ اور مت ہو جاؤ اُس (دیوانی) عورت کی مانند جس نے اپنا سوت توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ‘مضبوطی (سے کاتنے) کے بعد۔‘‘
دیکھو تم تو ایک مدت سے نبی آخر الزماںﷺ کے منتظر چلے آ رہے تھے اور اہلِ عرب کو اس حوالے سے دھمکایا بھی کرتے تھے کہ نبی آخر الزمان آنے والے ہیں‘ جب وہ تشریف لے آئے تو ہم ان کے ساتھ مل کر تم لوگوں پر غالب آ جائیں گے۔ اب جب کہ وہ نبیؐ آ گئے ہیں تو تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم اُنؐ کو جھٹلانے کے لیے بہانے ڈھونڈرہے ہو! تو کیااب تم لوگ اپنے منصوبوں اور افکار و نظریات کے تانے بانے خود اپنے ہی ہاتھوں تار تار کر دینے پر تل گئے ہو؟ کیا اُس دیوانی عورت کی طرح تمہاری بھی مت ماری گئی ہے جو بڑی محنت اور مشقت کے ساتھ کاتے ہوئے اپنے سوت کی تار تار ادھیڑ کے رکھ دے؟
’’تم اپنی قسموں کو اپنے مابین دخل دینے کا ذریعہ بناتے ہو تا کہ نہ ہو جائے ایک قوم بڑھی ہوئی دوسری قوم سے۔‘‘
یعنی تم نے تو اس معاملے کو گویا دو قوموں کا تنازعہ بنا لیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ وہی نبی(ﷺ) ہیں جن کی بشارت تمہاری کتاب میں موجود ہے ‘تم آپس میں عہد و پیمان کر رہے ہو‘ قسمیں کھا رہے ہو کہ ہم ہر گز آپ(ﷺ )پر ایمان نہیں لائیں گے۔ تمہاری اس ہٹ دھرمی کی وجہ اس کے سوا اور کوئی نہیں کہ تم قومی عصبیت میں مبتلا ہو چکے ہو۔ چونکہ اس آخری نبیﷺ کا تعلق بنی اسماعیل یعنی اُمیین سے ہے‘ اس لیے تم لوگ نہیں چاہتے کہ بنی اسماعیل کو اب ویسی ہی فضیلت حاصل ہو جائے جو پچھلے دو ہزار سال سے تم لوگوں کو حاصل تھی۔
اِنَّمَا یَبۡلُوۡکُمُ اللّٰہُ بِہٖ ؕ
’’یقینا اللہ تمہیں آزما رہا ہے اس کے ذریعے سے۔‘‘
اس میں تمہاری آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم لوگ حق پرست ہو یا نسل پرست؟ اگر تم لوگ اس معاملے میں نسل پرستی کا ثبوت دیتے ہو تو جان لو کہ اللہ سے تمہارا کوئی تعلق نہیں اور اگر حق پرست بننا چاہتے ہو توتمہیں سوچنا چاہیے کہ ایک مدت تک اللہ تعالیٰ نے نبوت تمہاری نسل میں رکھی اور اب اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل کے ایک فرد کو اس کے لیے چن لیا ہے۔ لہٰذاا سے اللہ کا فیصلہ سمجھتے ہوئے تمہیں قبول کر لینا چاہیے۔ تمہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ بنی اسماعیل بھی تو آخر تمہاری ہی نسل میں سے ہیں۔ وہ بھی تمہارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کی اولاد ہیں‘ مگر تم لوگ ہو کہ تم نے اس معاملے کو باہمی مخاصمت اور ضد {بَغْیًا بَیْنَہُمْ} کی بھینٹ چڑھا دیا ہے اور اس طرح تم لوگ اللہ کی اس آزمائش میں ناکام ہو رہے ہو۔
’’اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک ہی اُمت بنا دیتا‘‘
اللہ تعالیٰ یہ بھی کر سکتا تھا کہ پوری انسانیت کو ایک ہی امت بنا دیتاتاکہ نسلوں اور قوموں کی یہ تفریق ہی نہ ہوتی اور نہ ہی ایک امت کو معزول کر کے دوسری امت کو نوازنے کی ضرورت پیش آتی۔ پھر جس اللہ نے بخت نصر کے ہاتھوں تمہاری بربادی کے بعد حضرت عزیر علیہ السلام کی دعوتِ توبہ کے ذریعے تمہاری نشأۃثانیہ کی تھی ‘ وہ یہ بھی کر سکتا تھا کہ ایک دفعہ پھر کسی اصلاحی تحریک کے ذریعے تمہیں اپنی ہدایت اور رحمت سے نواز دیتا ۔ اس طرح آخری نبی بھی تم ہی میں آتے اور یہ قرآن بھی تم ہی کو ملتا۔ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو یہ سب کچھ ممکن تھا۔
’’اور تم سے ضرور پوچھا جائے گا اُس بارے میں جو کچھ تم کرتے تھے۔‘‘
یعنی اِس وقت تم لوگ ایک بہت بڑے امتحان سے دو چار ہو۔ تمہارے پاس نبی آخر الزماںﷺکے بارے میں واضح نشانیوں کے ساتھ علم آ چکاہے اور تم اللہ کی کتاب کے وارث بھی ہو۔ اس کے باوجود اگر تم نے ہمارے نبیﷺکی تصدیق نہ کی اور آپؐ کو جھٹلانے پر تلے رہے تو اس بارے میں تم سے ضرور جواب طلبی ہو گی۔
اب ذرا سورۃ البقرہ کی ان آیات کو ذہن میں تازہ کیجئے:
’’اے بنی اسرائیل! یاد کرو تم میری وہ نعمت جو میں نے تم پر انعام کی ‘ اور پورا کرو میرا عہد‘ میں پورا کروں گا تمہارے (ساتھ کیے گئے) عہد کو اور مجھ ہی سے ڈرو۔ اور ایمان لاؤ اُس کتاب پر جو میں نے نازل کی ہے‘ جو تصدیق کرتے ہوئے آئی ہے اُس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے‘ اور مت ہو جاؤ تم ہی سب سے پہلے اس کا کفر کرنے والے ‘ اور مت بیچو میری آیات کو تھوڑی سی قیمت کے عوض اور میرا ہی تقویٰ اختیار کرو۔ اور نہ ملاؤ حق کو باطل کے ساتھ اور نہ چھپاؤ حق کو جانتے بوجھتے۔‘‘
ان آیات کو پڑھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہاں سورۃ النحل میں جو بات اَوْفُوْا بِعَہْدِ اللّٰہِ سے شروع ہوئی ہے یہ گویا تمہید ہے اُس مضمون کی جو سورۃ البقرۃ کی مندرجہ بالا آیات کی شکل میں مدینہ جا کر نازل ہونے والا تھا۔
’’اور مت بناؤ اپنی قسموں کو اپنے درمیان دھوکے کا ذریعہ کہ پھسل جائے کوئی قدم پختگی کے بعد‘‘
دیکھو ‘حقیقت یہ ہے کہ تم ہمارے نبیﷺ کو اچھی طرح پہچان چکے ہو: {یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ ؕ} (البقرۃ:۱۴۶) ۔ اب اس حالت میں اگر تم پھسلو گے تو یاد رکھو سیدھے جہنم کی آگ میں جا کر گرو گے: {فَانۡہَارَ بِہٖ فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ ؕ } (التوبۃ:۱۰۹)
’’اور تمہیں عذاب کا مزہ چکھنا پڑے بسبب اس کے کہ تم نے (لوگوں کو) روکا اللہ کے راستے سے ‘اور تمہارے لیے (اس کی پاداش میں) بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘
تمہیں تو چاہیے تھا کہ سب سے پہلے کھڑے ہو کر گواہی دیتے کہ ہم نے محمد(ﷺ )کو اپنی کتاب میں دی گئی نشانیوں سے ٹھیک ٹھیک پہچان لیا ہے‘ آپ(ﷺ) واقعی اللہ کے رسولؐ ہیں۔ اور تمہیں نصیحت بھی کی گئی تھی: {وَ لَا تَکُوۡنُوۡۤا اَوَّلَ کَافِرٍۭ بِہٖ ۪ } (البقرۃ:۴۱) ’’ اور تم اس کے پہلے منکر نہ بن جانا‘‘۔ اس سب کچھ کے باوجود تم لوگ اس گواہی کو چھپار ہے ہو: {وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنۡدَہٗ مِنَ اللّٰہِ ؕ } (البقرۃ: ۱۴۰) ’’اور اُس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو گا جس نے چھپائی وہ گواہی جو اس کے پاس ہے اللہ کی طرف سے!‘‘
’’یقینا اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ بہت بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم علم رکھتے ہو۔‘‘
تمہیں دنیا کے چھوٹے چھوٹے مفادات بہت عزیز ہیں اور ان حقیر مفادات کے لیے تم لوگ اللہ کی ہدایت کو ٹھکرا رہے ہو ‘مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر تم لوگ اس ہدایت کو قبول کر لو گے تو اللہ کے ہاں اخروی انعامات سے نوازے جائو گے ۔ اللہ کے ہاں جنت کی دائمی نعمتیں تمہارے ان مفادات کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں جن کے ساتھ تم لوگ آج چمٹے ہوئے ہو۔
’’اور ہم لازماً دیں گے صبر کرنے والوں کو ان کا اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق۔‘‘
ہر نیکو کار شخص کے تمام اعمال ایک درجے کے نہیں ہوتے‘ کوئی نیکی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اور کوئی نسبتاً چھوٹے درجے کی۔ مگر جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ خوش ہوجائیں گے ‘ ان کی اعلیٰ درجے کی نیکیوں کو سامنے رکھ کر ان کے اجر و ثواب کا تعین کیا جائے گا۔
’’جس کسی نے بھی نیک عمل کیا ‘ خواہ وہ مرد ہو یا عورت‘ بشرطیکہ ہو وہ مؤمن تو ہم اسے (دُنیا میں) ایک پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔‘‘
ایسے لوگ بے شک دنیا میں روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کریں مگر انہیں سکون قلب کی دولت نصیب ہو گی‘ ان لوگوں کے دل غنی ہوں گے‘کیونکہ حضورﷺ کا فرمان ہے : حدیث(( اَلْـغِنٰی غِنَی النَّـفْسِ))۱ کہ اصل امیری تو دل کی امیری ہے۔ اگر انسان کا دل غنی ہے تو انسان واقعتا غنی ہے اور اگر ڈھیروں دولت پا کر بھی دل لالچ کے پھندے میں گرفتار ہے تو ایسا شخص دراصل غنی یاامیر نہیں ‘فقیر ہے۔ چنانچہ نیکو کار انسانوں کو دُنیوی زندگی میں ہی غنا اور سکونِ قلب کی نعمت سے نوازا جائے گا ‘کیونکہ یہ نعمت تو ثمرہ ہے اللہ کی یاد کا: {اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾} (الرعد) ’’آگا ہ رہو! دل تو اللہ کے ذکر ہی سے مطمئن ہوتے ہیں‘‘۔
ایسے لوگوں کا شمار اللہ کے دوستوں اور اولیاء میں ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ خصوصی شفقت کا معاملہ فرمایا جاتا ہے اور انہیں حزن و ملال کے سایوں سے محفوظ رکھا جاتا ہے: {اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ۶۲﴾} ( یونس) ’’ آگاہ رہو! یقینا اولیاء اللہ پر نہ کوئی خو ف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘
’’اور (آخرت میں) ہم انہیں ضرور دیں گے ان کے اجر ‘اُن کے بہترین اعمال کے مطابق۔‘‘
(۱) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ((لَـیْسَ الْغِنٰی عَنْ کَثْرَۃِ الْعَرَضِ‘ وَلٰـکِنَّ الْغِنٰی غِنَی النَّفْسِ)) (صحیح البخاری‘ کتاب الرقاق‘ باب الغنی غنی النفس۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الزکاۃ‘ باب لیس الغنی عن کثرۃ العرض) ’’دولت مندی اسبابِ دُنیوی کی کثرت سے نہیں ہوتی ‘ بلکہ اصل دولت مند (غنی) تو وہ ہے جس کا دل غنی ہے۔‘‘
’’اُس کا زور تو انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور جو اس کو (اللہ کے ساتھ) شریک ٹھہرانے والے ہیں۔‘‘
شیطان کا زور انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اُس کو اپنا رفیق اور سرپرست بنا لیتے ہیں اور اللہ کی اطاعت کے بجائے اُس کی اطاعت کرتے ہیں۔ گویا اس کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرالیتے ہیں‘ یا اُس کے بہکانے سے دوسری ہستیوں کو اللہ کا شریک بنا لیتے ہیں۔