تحریر

النحل

آیات ۸۴ تا ۸۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

84-85

امّت کے خلاف رسولوں کی گواہی

ویڈیو

وَ یَوۡمَ نَبۡعَثُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا ثُمَّ لَا یُؤۡذَنُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ لَا ہُمۡ یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ ﴿۸۴﴾ وَ اِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوا الۡعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۸۵﴾

آیت 84

وَ یَوۡمَ نَبۡعَثُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا

’’اور جس دن ہم اٹھائیں گے ہر اُمت میں سے ایک گواہ‘‘

شہادتِ حق کا یہ مضمو ن اس سورت میں دو مرتبہ (مزید ملاحظہ ہو آیت ۸۹)آیا ہے ‘جبکہ قبل ازیں سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۴۳اور سورۃ النساء کی آیت۴۱ میں بھی اس کا ذکر ہے ۔ آیت زیر نظر میں ہر امت میں سے جس گواہ کا ذکر ہے وہ اس امت کا نبی یا رسول ہو گا۔ جیسا کہ سورۃ الاعراف میں فرمایا گیا: {فَلَنَسۡـَٔلَنَّ الَّذِیۡنَ اُرۡسِلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَنَسۡـَٔلَنَّ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۶﴾} ’’ہم ضرور پوچھیں گے ان سے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور ہم رسولوںؑ سے بھی پوچھیں گے‘‘۔ روزِ محشر ہر اُمت کی پیشی کے وقت اس امت کا رسولؑ عدالت کے سرکاری گواہ (prosecution witness) کی حیثیت سے گواہی دے گا کہ اے اللہ! تیری طرف سے جو پیغام مجھے اس قوم کے لیے ملا تھا وہ میں نے بے کم و کاست ان تک پہنچا دیا تھا۔ اب یہ لوگ جو ابدہ ہیں‘ ان سے محاسبہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح تمام انبیاء ورسل علیہم السلام اپنی اپنی اُمت کے خلاف گواہی دیں گے۔

ثُمَّ لَا یُؤۡذَنُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ لَا ہُمۡ یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ ﴿۸۴﴾

’’پھر کافروں کو نہ(بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ ہی ان کو عذر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔‘‘

اُس وقت انہیں ایسا موقع فراہم نہیں کیا جائے گا کہ وہ عذر تراش کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر سکیں۔

آیت 85

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوا الۡعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۸۵﴾

’’اور جب یہ ظالم دیکھ لیں گے عذاب کو تو پھراسے ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔‘‘

86-88

جن پر تکیہ تھا وہی پتّے ہوا دینے لگے

ویڈیو

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا شُرَکَآءَہُمۡ قَالُوۡا رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ شُرَکَآؤُنَا الَّذِیۡنَ کُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِکَ ۚ فَاَلۡقَوۡا اِلَیۡہِمُ الۡقَوۡلَ اِنَّکُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿ۚ۸۶﴾ وَ اَلۡقَوۡا اِلَی اللّٰہِ یَوۡمَئِذِۣ السَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۸۷﴾ اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ زِدۡنٰہُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا کَانُوۡا یُفۡسِدُوۡنَ ﴿۸۸﴾

آیت 86

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا شُرَکَآءَہُمۡ قَالُوۡا رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ شُرَکَآؤُنَا الَّذِیۡنَ کُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِکَ ۚ

’’اور جب مشرک لوگ دیکھیں گے اپنے (بنائے ہوئے) شریکوں کو توکہیں گے کہ اے ہمارے رب !یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔‘‘

فَاَلۡقَوۡا اِلَیۡہِمُ الۡقَوۡلَ اِنَّکُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿ۚ۸۶﴾

’’تو وہ پھینک دیں گے یہ بات انہی کی طرف کہ تم لوگ یقینا جھوٹ بول رہے ہو۔‘‘

شرک کا ارتکاب کرنے والے یہ لوگ محشر میں جب اُن مقدس ہستیوں کودیکھیں گے جن کے نام کی وہ دنیا میں دہائی دیا کرتے تھے تو پکار اٹھیں گے کہ اے اللہ! یہ ہیں وہ ہستیاں جنہیں ہم پکارا کرتے تھے آپ کو چھوڑ کر۔ مثلاًحضرت عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ کے نام کی دہائی دینے والے جب وہاں آپؒ کو بلند مراتب پر فائز دیکھیں گے تو آپؒ کو پہچان کر ایسے کہیں گے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا شریک ٹھہرانے والے جب آپؑ کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے کہ یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم جنہیں ہم اللہ کا چہیتا بیٹا سمجھتے تھے اور ہمارا عقیدہ تھا کہ وہ سولی پر چڑھ کر ہمارے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کر چکے ہیں۔

یہ تمام مقدس ہستیاں وہاں مشرکین کے مشرکانہ عقائد سے اظہارِ برا ء ت کریں گی کہ ہمارا تم لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے کہ تم لوگ دنیا میں ہماری عبادت کیا کرتے تھے اور اللہ کے سوا ہمیں پکارا کرتے تھے۔ قبل ازیں یہ مضمون سورۂ یونس کی آیت۲۸اور۲۹میں بھی گزر چکا ہے۔

آیت 87

وَ اَلۡقَوۡا اِلَی اللّٰہِ یَوۡمَئِذِۣ السَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۸۷﴾

’’اوروہ (سب کے سب) اُس روز اللہ کے حضور عاجزی پیش کریں گے اور گم ہو جائیں گے اُن سے (وہ عقائد) جو وہ گھڑا کرتے تھے۔‘‘

ایسی مقدس ہستیوں کے بارے میں جو عقائد اور نظریات انہوں نے گھڑ رکھے تھے کہ وہ انہیں عذاب سے بچا لیں گے اور اللہ کی پکڑ سے چھڑا لیں گے‘ ایسے تمام خود ساختہ عقائد میں سے اس دن انہیں کچھ بھی یاد نہیں رہے گا اور عذاب کو دیکھ کر ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔

آیت 88

اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ زِدۡنٰہُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا کَانُوۡا یُفۡسِدُوۡنَ ﴿۸۸﴾

’’وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور روکتے رہے (دوسروں کو) اللہ کے راستے سے ‘ ہم ان کے عذاب پر عذاب کااضافہ کرتے جائیں گے‘ بسبب اس فساد کے جو وہ کرتے تھے۔‘‘

اُن لوگوں کا عذاب بتدریج بڑھتا ہی چلا جائے گا جنہوں نے نہ صرف حق کو جھٹلایا بلکہ اس کے خلاف سازشیں کیں اور لوگوں کو ورغلا کر اللہ کے رستے سے روکتے رہے۔

89

نبی اکرم ﷺ کی امّت کے خلاف گواہی

ویڈیو

وَ یَوۡمَ نَبۡعَثُ فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ وَ جِئۡنَا بِکَ شَہِیۡدًا عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ ؕ وَ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ تِبۡیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿٪۸۹﴾

آیت 89

وَ یَوۡمَ نَبۡعَثُ فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ

’’اور (ذرا تصور کرو اُس دن کا) جس د ن ہم ہر اُمت میں کھڑاکریں گے ایک گواہ ان پر ان ہی میں سے‘‘

یہ وہی الفاظ ہیں جو ہم آیت ۸۴میں پڑھ آئے ہیں۔ قیامت کے دن تمام رسولؑ اپنی اپنی امت پر گواہ ہوں گے۔ سورۃ الاحزاب میں محمد رسول اللہﷺ کے بارے میں اس حوالے سے فرمایا گیا: {یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا ﴿۴۶﴾} ’’اے نبیؐ! یقینا ہم نے آپؐ کو بھیجا ہے گواہی دینے والا‘ خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر‘اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور ایک روشن چراغ ‘‘۔ اسی طرح سورۃ المزمل میں حضورﷺ کے بارے میں فرمایا: {اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا ﴿ؕ۱۵﴾} ’’یقینا ہم نے بھیجا ہے تمہاری طرف ایک رسول‘گواہی دینے والا تم پر جیسے ہم نے بھیجا تھا فرعون کی طرف ایک رسول۔‘‘

وَ جِئۡنَا بِکَ شَہِیۡدًا عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ ؕ

’’اور آپؐ کو کھڑا کریں گے گواہ (بنا کر) ان کے خلاف۔‘‘

قبل ازیں ہم سورۃ النساء میں بھی اس سے ملتی جلتی یہ آیت پڑھ چکے ہیں: {فَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّ جِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ؃۴۱﴾} ’’ پھر کیا حال ہوگا جب ہم لائیں گے ہر اُمت میں سے ایک گواہ اور آپؐ کو لائیں گے ان پر گواہ‘‘۔ یہاں ہٰٓؤُلَآئِ کے لفظ میں قریش مکہ کی طرف اشارہ ہے جن تک حضورﷺ نے براہِ راست اللہ کی دعوت پہنچا دی تھی۔ لہٰذا قیامت کے دن آپؐ ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ اے اللہ میں نے آپ کا پیغام بے کم و کاست ان تک پہنچا دیا تھا اور اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑی تھی۔ میں نے اس ضمن میں برس ہا برس تک ان کے درمیان ہر طرح کی مشقت اٹھائی۔ انہیں تنہائی میں فرداً فرداً بھی ملا اور علی الاعلان اجتماعی طور پر بھی اُن سے مخاطب ہوا۔ میں نے اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے اللہ کا یہ پیغام اہل عرب تک براہِ راست پہنچا دیا اور باقی دنیا تک قیامت تک کے لیے یہ پیغام پہنچانے کی ذمہ داری آپﷺ نے امت کو منتقل فرما دی۔ اب اگر اُمت اس فرض میں کوتاہی کر ے گی تو لوگوں کی گمراہی کا وبال افرادِ امت پر آئے گا۔ چنانچہ یہ بہت بھاری اور نازک ذمہ داری ہے جو اُمت مسلمہ کے افراد ہونے کے سبب ہمارے کندھوں پر آ پڑی ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۴۳میں اُمتِ مسلمہ کی اس ذمہ داری کا ذکر تحویل قبلہ کے ذکر کے فوراًبعد اس طرح فرمایا گیا : {وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ} ’’اسی طرح ہم نے تمہیں ایک اُمت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے‘‘۔ اس بھاری ذمہ داری کی ادائیگی کے دوران بہت مشکل اور جان گسل مراحل کا آنا نا گزیر ہے۔ اس طرح کے مشکل مراحل سے گزرنے کا طریقہ سورۃ البقرۃ ہی میں آگے چل کر اس طرح واضح کیا گیا: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾} ’’ اےِ اہل ایمان تم مد د طلب کرو نماز اور صبر کے ساتھ ‘ یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔ اور پھر اس راہ میں جان کی بازی لگانے والے خوش نصیب اہل ایمان کی دلجوئی اس طرح فرمائی گئی: {وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾} ’’اور مت کہو انہیں مردہ جو اللہ کے رستے میں قتل کر دیے جائیں‘ بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔‘‘

وَ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ تِبۡیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿٪۸۹﴾

’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نے اُتار دی ہے آپ پر یہ کتاب وضاحت کرتی ہوئی ہر شے کی‘ اور یہ ہدایت‘ رحمت اور بشارت (بن کر آئی) ہے مسلمانوں کے لیے ۔‘‘

یعنی حیاتِ انسانی کے تمام مسائل کا حل قرآن میں موجود ہے۔ قرآن ان لوگوں کے لیے ہدایت‘ رحمت اور بشارت ہے جو مسلم یعنی اللہ کی فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے