وَ یَوۡمَ نَبۡعَثُ فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ
’’اور (ذرا تصور کرو اُس دن کا) جس د ن ہم ہر اُمت میں کھڑاکریں گے ایک گواہ ان پر ان ہی میں سے‘‘
یہ وہی الفاظ ہیں جو ہم آیت ۸۴میں پڑھ آئے ہیں۔ قیامت کے دن تمام رسولؑ اپنی اپنی امت پر گواہ ہوں گے۔ سورۃ الاحزاب میں محمد رسول اللہﷺ کے بارے میں اس حوالے سے فرمایا گیا: {یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا ﴿۴۶﴾} ’’اے نبیؐ! یقینا ہم نے آپؐ کو بھیجا ہے گواہی دینے والا‘ خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر‘اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور ایک روشن چراغ ‘‘۔ اسی طرح سورۃ المزمل میں حضورﷺ کے بارے میں فرمایا: {اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا ﴿ؕ۱۵﴾} ’’یقینا ہم نے بھیجا ہے تمہاری طرف ایک رسول‘گواہی دینے والا تم پر جیسے ہم نے بھیجا تھا فرعون کی طرف ایک رسول۔‘‘
وَ جِئۡنَا بِکَ شَہِیۡدًا عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ ؕ
’’اور آپؐ کو کھڑا کریں گے گواہ (بنا کر) ان کے خلاف۔‘‘
قبل ازیں ہم سورۃ النساء میں بھی اس سے ملتی جلتی یہ آیت پڑھ چکے ہیں: {فَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّ جِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ۴۱﴾} ’’ پھر کیا حال ہوگا جب ہم لائیں گے ہر اُمت میں سے ایک گواہ اور آپؐ کو لائیں گے ان پر گواہ‘‘۔ یہاں ہٰٓؤُلَآئِ کے لفظ میں قریش مکہ کی طرف اشارہ ہے جن تک حضورﷺ نے براہِ راست اللہ کی دعوت پہنچا دی تھی۔ لہٰذا قیامت کے دن آپؐ ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ اے اللہ میں نے آپ کا پیغام بے کم و کاست ان تک پہنچا دیا تھا اور اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑی تھی۔ میں نے اس ضمن میں برس ہا برس تک ان کے درمیان ہر طرح کی مشقت اٹھائی۔ انہیں تنہائی میں فرداً فرداً بھی ملا اور علی الاعلان اجتماعی طور پر بھی اُن سے مخاطب ہوا۔ میں نے اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اللہ کا یہ پیغام اہل عرب تک براہِ راست پہنچا دیا اور باقی دنیا تک قیامت تک کے لیے یہ پیغام پہنچانے کی ذمہ داری آپﷺ نے امت کو منتقل فرما دی۔ اب اگر اُمت اس فرض میں کوتاہی کر ے گی تو لوگوں کی گمراہی کا وبال افرادِ امت پر آئے گا۔ چنانچہ یہ بہت بھاری اور نازک ذمہ داری ہے جو اُمت مسلمہ کے افراد ہونے کے سبب ہمارے کندھوں پر آ پڑی ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۴۳میں اُمتِ مسلمہ کی اس ذمہ داری کا ذکر تحویل قبلہ کے ذکر کے فوراًبعد اس طرح فرمایا گیا : {وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ} ’’اسی طرح ہم نے تمہیں ایک اُمت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے‘‘۔ اس بھاری ذمہ داری کی ادائیگی کے دوران بہت مشکل اور جان گسل مراحل کا آنا نا گزیر ہے۔ اس طرح کے مشکل مراحل سے گزرنے کا طریقہ سورۃ البقرۃ ہی میں آگے چل کر اس طرح واضح کیا گیا: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾} ’’ اےِ اہل ایمان تم مد د طلب کرو نماز اور صبر کے ساتھ ‘ یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔ اور پھر اس راہ میں جان کی بازی لگانے والے خوش نصیب اہل ایمان کی دلجوئی اس طرح فرمائی گئی: {وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾} ’’اور مت کہو انہیں مردہ جو اللہ کے رستے میں قتل کر دیے جائیں‘ بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔‘‘
وَ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ تِبۡیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿٪۸۹﴾
’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نے اُتار دی ہے آپ پر یہ کتاب وضاحت کرتی ہوئی ہر شے کی‘ اور یہ ہدایت‘ رحمت اور بشارت (بن کر آئی) ہے مسلمانوں کے لیے ۔‘‘
یعنی حیاتِ انسانی کے تمام مسائل کا حل قرآن میں موجود ہے۔ قرآن ان لوگوں کے لیے ہدایت‘ رحمت اور بشارت ہے جو مسلم یعنی اللہ کی فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔