تحریر

النحل

آیات ۶۵ تا ۸۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

65-69

اللہ کی نعمت چار مشروبات کی صورت میں

ویڈیو

وَ اللّٰہُ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ ﴿٪۶۵﴾ وَ اِنَّ لَکُمۡ فِی الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَۃً ؕ نُسۡقِیۡکُمۡ مِّمَّا فِیۡ بُطُوۡنِہٖ مِنۡۢ بَیۡنِ فَرۡثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیۡنَ ﴿۶۶﴾ وَ مِنۡ ثَمَرٰتِ النَّخِیۡلِ وَ الۡاَعۡنَابِ تَتَّخِذُوۡنَ مِنۡہُ سَکَرًا وَّ رِزۡقًا حَسَنًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾ وَ اَوۡحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحۡلِ اَنِ اتَّخِذِیۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعۡرِشُوۡنَ ﴿ۙ۶۸﴾ ثُمَّ کُلِیۡ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسۡلُکِیۡ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلًا ؕ یَخۡرُجُ مِنۡۢ بُطُوۡنِہَا شَرَابٌ مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہٗ فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۶۹﴾

آیت 65

وَ اللّٰہُ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ

’’اوراللہ ہی نے آسمان سے پانی اتارا‘ پھر ا س سے زندہ کر دیا زمین کو اُس کے مردہ ہوجانے کے بعد۔‘‘

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ ﴿٪۶۵﴾

’’ یقینا اس میں نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو سنتے ہوں۔‘‘

یہ نشانی ان لوگوں کے لیے ہے جن کا سننا حیوانوں کا سا سننا نہ ہو‘ بلکہ انسانوں کا سا سننا ہو ۔ علامہ اقبال نے ’’زبورِ عجم‘‘ میں کیا خوب کہا ہے :

دم چیست ؟پیام است‘ شنیدی‘ نشنیدی!

در خاکِ تو یک جلوئہ عام است ندیدی؟

دیدن دگر آموز! شنیدن دگر آموز!

یعنی سانس جو تم لیتے ہو یہ بھی اللہ کا ایک پیغام ہے ‘ یہ الگ بات ہے کہ تم اس پیغام کو سنتے ہو یا نہیں سنتے ہو۔یہ درست ہے کہ تم خاک سے بنے ہو‘ مگر تمہارے اسی خاکی وجود کے اندر ایک نور اور جلوۂ ربانی بھی موجود ہے۔ یہ روح ربانی جو تمہارے وجود میں پھونکی گئی ہے یہ جلوہ ربانی ہی تو ہے ‘ جسے تم دیکھتے ہی نہیں ہو۔ تمہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ تمہارے اندر کیا کیا کچھ موجود ہے : {وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾} (الذاریات) ’’اورتمہارے اندر (کیا کچھ ہے)‘ کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟‘‘ذرا دوسری طرح کا دیکھنا اور دوسری طرح کا سننا سیکھو! ایسادیکھنا سیکھو جو چیزوں کی اصلیت کو دیکھ سکے اور ایسا سننے کی صلاحیت حاصل کروجس سے تمہیں حقیقت کی پہچان نصیب ہو ۔ اگر ایسا نہیں تو پھر یہ دیکھنا اور یہ سننا محض حیوانوں کا سا دیکھنا اور سننا ہے۔ ؎

اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن

جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا!

اس سورۃ میں تکرار کے ساتھ اہلِ فکر و دانش کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اللہ کی نشانیوں کو دیکھ کر ‘ سن کراور سمجھ کر سبق حاصل کرنے کی کوشش کریں۔(آیتِ زیر نظر کے علاوہ ملاحظہ ہو ں آیات ۱۱‘۱۲‘۶۷‘۶۹ اور ۷۹)

آیت 66

وَ اِنَّ لَکُمۡ فِی الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَۃً ؕ

’’اور یقینا تمہارے لیے چوپایوں میں بھی عبر ت ہے۔‘‘

چوپایوں کی تخلیق میں بھی تمہارے لیے بڑا سبق ہے۔ ان کو دیکھو‘ غور کرو اور اللہ کی حکمتوں کو پہچانو!

نُسۡقِیۡکُمۡ مِّمَّا فِیۡ بُطُوۡنِہٖ مِنۡۢ بَیۡنِ فَرۡثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیۡنَ ﴿۶۶﴾

’’ہم پلاتے ہیں تمہیں اُس میں سے جو اُن کے پیٹوں میں ہوتا ہے‘ گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ‘ پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار۔‘‘

آیت 67

وَ مِنۡ ثَمَرٰتِ النَّخِیۡلِ وَ الۡاَعۡنَابِ تَتَّخِذُوۡنَ مِنۡہُ سَکَرًا وَّ رِزۡقًا حَسَنًا ؕ

’’اور کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے بھی‘ اُن سے تم نشہ آور چیزیں بھی بناتے ہو اور اچھار زق بھی۔‘‘

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾

’’ یقینا اس میں نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔‘‘

آیت 68

وَ اَوۡحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحۡلِ اَنِ اتَّخِذِیۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعۡرِشُوۡنَ ﴿ۙ۶۸﴾

’’اور آپ کے رب نے وحی کی شہد کی مکھی کی طرف ‘ کہ گھر بنا پہاڑوں میں‘ درختوں میں اور لوگ (انگوروں کی بیلوں کے لیے) جو چھتریاں بناتے ہیں ان میں۔‘‘

یعنی شہد کی مکھی کی فطرت میں یہ چیز ودیعت کر دی گئی ہے۔

آیت 69

ثُمَّ کُلِیۡ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسۡلُکِیۡ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلًا ؕ

’’پھر ہر طرح کے میووں میں سے کھااور اپنے ربّ کے ہموار کیے ہوئے راستوں پر چلتی رہ۔‘‘

یَخۡرُجُ مِنۡۢ بُطُوۡنِہَا شَرَابٌ مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہٗ فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ ؕ

’’نکلتی ہے اِن کے پیٹوں سے پینے کی ایک شے (شہد)‘ جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں‘ اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔‘‘

شہد کی مکھی جن جن جڑی بوٹیوں اور پودوں کے پھولوں کا رس چوستی ہے اُن کے خواص اور اُن کی تاثیرات کو گویا وہ کشید کرتی ہے۔ اس طرح شہد میں مختلف ادویات کے اثرات بھی شامل ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس میں بہت سی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۶۹﴾

’’یقینا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔‘‘

70

انسان کی بے بسی

ویڈیو

وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ ثُمَّ یَتَوَفّٰىکُمۡ ۟ۙ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡ لَا یَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿٪۷۰﴾

آیت 70

وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ ثُمَّ یَتَوَفّٰىکُمۡ ۟ۙ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ

’’اور اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ‘پھر وہی تمہیں وفات دے گا‘ اور تم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ناکارہ عمر کو لوٹا دیے جاتے ہیں‘‘

ایسی عمر جس میں آدمی ناکارہ ہو کر دوسروں پر بوجھ بن جاتا ہے۔

لِکَیۡ لَا یَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿٪۷۰﴾

’’کہ نہ جانے علم رکھنے کے بعد کچھ بھی۔ یقینا اللہ جاننے والا ‘قدرت والاہے۔‘‘

بڑھاپے میں اکثر لوگوں کی قوتِ فکر متاثر ہو جاتی ہے ا ور زیادہ عمر رسیدہ لوگوں کو تو dementia ہو جاتا ہے جس سے ذہنی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں اور یاداشت جواب دے جاتی ہے ۔ اس کیفیت میں بڑے بڑے فلسفی اور دانشور بچوں جیسی باتیں کرنے لگتے ہیں۔

71

شرک کی نفی ایک واضح مثال ہے

ویڈیو

وَ اللّٰہُ فَضَّلَ بَعۡضَکُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ فِی الرِّزۡقِ ۚ فَمَا الَّذِیۡنَ فُضِّلُوۡا بِرَآدِّیۡ رِزۡقِہِمۡ عَلٰی مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَہُمۡ فِیۡہِ سَوَآءٌ ؕ اَفَبِنِعۡمَۃِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۷۱﴾

آیت 71

وَ اللّٰہُ فَضَّلَ بَعۡضَکُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ فِی الرِّزۡقِ ۚ

’’اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے۔‘‘

رزق سے مراد صرف مادی اسباب و وسائل ہی نہیں بلکہ اس میں انسان کی جسمانی و ذہنی صلاحیتیں بھی شامل ہیں۔ مادی وسائل کی کمی بیشی کے بارے میں تو کوئی سوشلسٹ یا کمیونسٹ اعتراض کر سکتا ہے کہ یہ غلط تقسیم اور غلط نظام کانتیجہ ہے‘جس کا ذمہ دار خود انسان ہے ‘مگر یہ امر اپنی جگہ اٹل حقیقت ہے کہ ہر انسان کی ذہنی استعداد اور جسمانی طاقت ایک سی نہیں ہوتی۔ جینز (genes) کے ذریعے وراثت میں ملنے والی تمام صلاحیتیں بھی سب انسانوں میں برابر نہیں ہوتیں‘پھر اس میں کسی کے اختیار و انتخاب کو بھی کوئی دخل نہیں ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مادی اسباب و وسائل کے علاوہ ذاتی صلاحیتوں میں بھی مختلف انسانوں کو مختلف اعتبار سے ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔

فَمَا الَّذِیۡنَ فُضِّلُوۡا بِرَآدِّیۡ رِزۡقِہِمۡ عَلٰی مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَہُمۡ فِیۡہِ سَوَآءٌ ؕ

’’تو نہیں ہیں وہ لوگ جنہیں (رزق میں) فضیلت دی گئی ہے لوٹانے والے اپنا رزق اپنے غلاموں کو کہ وہ ہو جائیں اس میں برابر۔‘‘

یعنی ایسا تو نہیں ہوتا کہ اُمراء اپنی دولت اور جائیدادیں اپنے غلاموں میں تقسیم کر دیں اور انہیں بھی اپنے ساتھ ان جائیدادوں کا مالک بنا لیں۔ تو اگر تم لوگ اپنے غلاموں کو اپنے ساتھ اپنی ملکیت میں شریک نہیں کرتے تو کیا اللہ تمہارے جھوٹے معبودوں کو اپنے برابر کر لے گا؟ اور یہ جو ان لوگوں کا خیا ل ہے کہ ایک بڑا خدا ہے اور کچھ چھوٹے چھوٹے خدا ہیں اور یہ چھوٹے خدا بڑے خدا سے ان کی سفارش کریں گے تو کیا اللہ پر ان میں سے کسی کی دھونس چل سکے گی یا اللہ ان میں سے کسی کو یہ اختیار دے گا کہ و ہ اس سے اپنی کوئی بات منوالے؟

اَفَبِنِعۡمَۃِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۷۱﴾

’’تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمت کا انکار کر رہے ہیں؟‘‘

72-74

اللہ کے احسانات اور بندوں کی ناشکری

ویڈیو

وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ بَنِیۡنَ وَ حَفَدَۃً وَّ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ یُؤۡمِنُوۡنَ وَ بِنِعۡمَتِ اللّٰہِ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿ۙ۷۲﴾ وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَہُمۡ رِزۡقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ شَیۡئًا وَّ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ﴿ۚ۷۳﴾ فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلّٰہِ الۡاَمۡثَالَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۴﴾

آیت 72

وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا

’’اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری ہی نوع سے بیویاں بنائیں‘‘

عربی میں ’’زوج‘‘ شریک حیات (spouse) کو کہتے ہیں اور یہ لفظ بیوی اور خاوند دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عورت کے لیے مرد زوج ہے اور مرد کے لیے عورت۔

وَّ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ بَنِیۡنَ وَ حَفَدَۃً وَّ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ

’’اور بنائے تمہارے لیے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے‘ اور رزق دیا تمہیں پاکیزہ چیزوں سے۔‘‘

اَفَبِالۡبَاطِلِ یُؤۡمِنُوۡنَ وَ بِنِعۡمَتِ اللّٰہِ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿ۙ۷۲﴾

’’تو کیا یہ لوگ باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت کاوہ انکار کرتے ہیں؟‘‘

یعنی کفرانِ نعمت کرتے ہیں۔ یہاں یہ اہم بات لائق توجہ ہے کہ اس سورۃ میں اللہ کی نعمتوں کا ذکر بہت تکرار کے ساتھ آ رہا ہے۔

آیت 73

وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَہُمۡ رِزۡقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ شَیۡئًا وَّ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ﴿ۚ۷۳﴾

’’اور یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا اُن کی جنہیں کچھ اختیار نہیں اُن کے لیے کسی رزق کا ‘نہ آسمانوں سے اور نہ زمین سے‘ اور نہ وہ اس کی قدرت ہی رکھتے ہیں۔‘‘

مشرکینِ عرب ایامِ جاہلیت میں جو تلبیہ پڑھتے تھے اس میں توحید کے اقرار کے ساتھ ساتھ شرک کا اثبات بھی موجود تھا۔ ان کا تلبیہ یہ تھا : لبّیک اللّٰھُم لبّیک‘ لبّیک لَا شَرِیْکَ لَک لبّیک‘ اِلَّا شَرِیْکًا تَملِکُہُ وَمَا مَلَک یعنی میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں‘ تیرا کوئی شریک نہیں ہے‘ میں حاضر ہوں۔ سوائے اُس شریک کے کہ اُس کا اور جو کچھ اس کا اختیار ہے سب کا مالک تو ہی ہے ۔یعنی بالآخر اختیار تیرا ہی ہے اور تیرا کوئی شریک تجھ سے آزاد ہو کر خود مختار (autonomous) نہیں ہے۔چنانچہ جس طرح عیسائیوں نے توحید کو تثلیث میں بدلا اور پھر تثلیث کو توحید میں لے آئے (One in three and three in One) اسی طرح مشرکین عرب بھی توحید میں شرک پیدا کرتے اور پھر شرک کو توحید میں لوٹا دیتے تھے۔

آیت 74

فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلّٰہِ الۡاَمۡثَالَ ؕ

’’تو اللہ کے لیے مثالیں بیان نہ کیا کرو۔‘‘

قبل ازیں اسی سورت (آیت ۶۰) میں ہم پڑھ چکے ہیں: {وَ لِلّٰہِ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰی ؕ} ’’اور اللہ کی مثال سب سے بلند ہے‘‘ لیکن اس کا ترجمہ بالعموم یوں کیا جاتا ہے : ’’اللہ کی صفت بہت بلند ہے‘‘۔ یا ’’اللہ کی شان بہت بلند ہے‘‘۔اس لیے کہ اللہ کے لیے کوئی مثال بیان نہیں کی جا سکتی۔ انسانی سطح پر بات سمجھنے اور سمجھانے کے لیے کچھ نہ کچھ تمثیلی الفاظ تواستعمال کرنے پڑتے ہیں ‘مثلاً اللہ کا چہرہ‘ اللہ کا ہاتھ‘ اللہ کا تخت‘ اللہ کی کرسی ‘اللہ کا عرش وغیرہ‘ لیکن ایسے الفاظ سے ہم نہ تو حقیقت کا اظہار کر سکتے ہیں اور نہ ہی اللہ کی صفات اور اس کے افعال کی حقیقت کو جان سکتے ہیں۔ اسی لیے منع کر دیا گیا ہے کہ اللہ کے لیے مثالیں بیان نہ کیا کرو۔ اس کی منطقی وجہ یہ ہے کہ ہم اگر اس ہستی کے لیے کوئی مثال لائیں گے تو عالم خلق سے لائیں گے‘ جس کی ہر چیز محدود ہے ۔ یا پھر ایسی کوئی مثال ہم اپنے ذہن سے لائیں گے ‘جبکہ انسانی سوچ‘ قوتِ متخیلہ اور تصورات بھی سب محدود ہیں۔ دوسر ی طرف اللہ تعالیٰ کی ذات مطلق (Absolute) ہے اور اس کی صفات بھی مطلق ہیں۔ چنانچہ انسان کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ ایسی مطلق ہستی کے لیے کوئی مثال بیان کرسکے۔ اسی لیے سورۃ الشوریٰ کی آیت ۱۱میں دو ٹوک انداز میں فرما دیا گیا: {لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ۚ} کہ اس کی مثال کی سی بھی کوئی شے موجود نہیں۔

اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۴﴾

’’بے شک اللہ جانتا ہے‘ تم نہیں جانتے۔‘‘

75-76

دو بلیغ مثالیں

ویڈیو

ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا عَبۡدًا مَّمۡلُوۡکًا لَّا یَقۡدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّ مَنۡ رَّزَقۡنٰہُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنًا فَہُوَ یُنۡفِقُ مِنۡہُ سِرًّا وَّ جَہۡرًا ؕ ہَلۡ یَسۡتَوٗنَ ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾ وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلَیۡنِ اَحَدُہُمَاۤ اَبۡکَمُ لَا یَقۡدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّ ہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوۡلٰىہُ ۙ اَیۡنَمَا یُوَجِّہۡہُّ لَایَاۡتِ بِخَیۡرٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیۡ ہُوَ ۙ وَ مَنۡ یَّاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ ۙ وَ ہُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿٪۷۶﴾

آیت 75

ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا عَبۡدًا مَّمۡلُوۡکًا لَّا یَقۡدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ

’’اللہ نے مثال بیان کی ہے ایک غلام مملوک کی ‘ جو اختیار نہیں رکھتا کسی چیز پر بھی‘‘

اللہ تعالیٰ ان کے شرک کی نفی کے لیے یہ مثال بیان کر رہا ہے کہ ایک بندہ وہ ہے جو کسی کا غلام اورمملوک ہے‘ اس کا کچھ اختیار نہیں‘ وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کر سکتا۔

وَّ مَنۡ رَّزَقۡنٰہُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنًا فَہُوَ یُنۡفِقُ مِنۡہُ سِرًّا وَّ جَہۡرًا ؕ

’’اور (ایک وہ ہے) جس کو ہم نے اپنے پاس سے بہت اچھا رزق دیا ہے‘ اور وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپ کر بھی اور علانیہ بھی۔‘‘

رزق میں مال‘ علم اور صلاحیتیں سب شامل ہیں۔ یعنی وہ شخص مال بھی خرچ کر رہا ہے ‘ لوگوں کو تعلیم بھی دے رہا ہے‘ اور کئی دوسرے طریقوں سے بھی لوگوں کو مستفید کر رہا ہے۔

ہَلۡ یَسۡتَوٗنَ ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾

’’کیا یہ (دونوں) برابر ہیں؟ کل تعریف اور شکر اللہ کے لیے ہے ‘لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔‘‘

ایک طرف اللہ کا وہ بندہ ہے جو اُس کے دین کی خدمت میں مصروف ہے ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض سر انجام دے رہا ہے‘ لوگوں میں دین کی تعلیم کو عام کر رہا ہے ‘یا اگر صاحب ثروت ہے تو اپنا مال اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے خرچ کر رہا ہے اور محتاجوں کی مدد کر رہا ہے ۔ جب کہ دوسری طرف ایک ایسا شخص ہے جس کے پاس کچھ اختیار و قدرت نہیں ہے ‘ وہ اپنی مرضی سے کچھ کر ہی نہیں سکتا۔ تو یہ دونوں برابر کیسے ہو سکتے ہیں؟

آیت 76

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلَیۡنِ اَحَدُہُمَاۤ اَبۡکَمُ لَا یَقۡدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّ ہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوۡلٰىہُ ۙ

’’اوراللہ نے (اب ایک اور) مثال بیان کی دو اشخاص کی ‘ ان میں سے ایک گونگا ہے‘ وہ قدرت نہیں رکھتا کسی بھی چیز پر اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے‘‘

اَیۡنَمَا یُوَجِّہۡہُّ لَایَاۡتِ بِخَیۡرٍ ؕ

’’جہاں کہیں بھی وہ( آقا) اسے بھیجتا ہے ‘ وہ کوئی خیر لے کر نہیں آتا۔‘‘

ایک شخص کے دو غلام ہیں۔ ایک غلام گونگا ہے‘ کسی کام کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتا‘ الٹا اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ کام وغیرہ کچھ نہیں کرتا ‘ صرف روٹیاں توڑتا ہے۔ اگر اس کا آقا اسے کسی کام سے بھیج دے تو وہ کام خراب کر کے ہی آتا ہے۔

ہَلۡ یَسۡتَوِیۡ ہُوَ ۙ وَ مَنۡ یَّاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ ۙ وَ ہُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿٪۷۶﴾

’’کیا برابر ہو گا وہ ‘ اور وہ جو حکم دیتاہے عدل کا‘ اور وہ سیدھی راہ پر قائم ہے؟‘‘

اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک شخص کے دو غلاموں کے حوالے سے دو طرح کے انسانوں کی مثال بیان فرمائی ہے کہ سب انسان میرے غلام ہیں۔ لیکن میرے ان غلاموں کی ایک قسم وہ ہے جو میری نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں مگر میرا کوئی کام نہیں کرتے‘ میرے دین کی کچھ خدمت نہیں کرتے‘ میری مخلوق کے کسی کام نہیں آتے۔ یہ لوگ اس غلام کی مانند ہیں جو اپنے آقا پر بوجھ ہیں ۔دوسری طرف میرے وہ بندے اور غلام ہیں جو دن رات میری رضا جوئی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں‘ نیکی کا حکم دے رہے ہیں اور برائی سے روک رہے ہیں‘ میرے دین کو قائم کرنے کی جدوجہد میں وہ اپنے تن‘ من اور دھن کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ تو کیا یہ دونوں طرح کے انسان برابر ہو سکتے ہیں؟

77-83

اللہ کی بے مثال قدرتیں اور نعمتیں

ویڈیو

وَ لِلّٰہِ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَاۤ اَمۡرُ السَّاعَۃِ اِلَّا کَلَمۡحِ الۡبَصَرِ اَوۡ ہُوَ اَقۡرَبُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۷۷﴾ وَ اللّٰہُ اَخۡرَجَکُمۡ مِّنۡۢ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا ۙ وَّ جَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ۙ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۸﴾ اَلَمۡ یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیۡ جَوِّ السَّمَآءِ ؕ مَا یُمۡسِکُہُنَّ اِلَّا اللّٰہُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۷۹﴾ وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡۢ بُیُوۡتِکُمۡ سَکَنًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ جُلُوۡدِ الۡاَنۡعَامِ بُیُوۡتًا تَسۡتَخِفُّوۡنَہَا یَوۡمَ ظَعۡنِکُمۡ وَ یَوۡمَ اِقَامَتِکُمۡ ۙ وَ مِنۡ اَصۡوَافِہَا وَ اَوۡبَارِہَا وَ اَشۡعَارِہَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۸۰﴾ وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنَ الۡجِبَالِ اَکۡنَانًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ سَرَابِیۡلَ تَقِیۡکُمُ الۡحَرَّ وَ سَرَابِیۡلَ تَقِیۡکُمۡ بَاۡسَکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ یُتِمُّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تُسۡلِمُوۡنَ ﴿۸۱﴾ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۸۲﴾ یَعۡرِفُوۡنَ نِعۡمَتَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنۡکِرُوۡنَہَا وَ اَکۡثَرُہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿٪۸۳﴾

آیت 77

وَ لِلّٰہِ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’اور آسمانوں اور زمین کی ساری چھپی باتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔‘‘

وَ مَاۤ اَمۡرُ السَّاعَۃِ اِلَّا کَلَمۡحِ الۡبَصَرِ اَوۡ ہُوَ اَقۡرَبُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۷۷﴾

’’اور قیا مت کا معاملہ تو ایسے ہے جیسے نگاہ کا لپکنا‘ یا (ممکن ہے) وہ اس سے بھی قریب تر ہو۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

آیت 78

وَ اللّٰہُ اَخۡرَجَکُمۡ مِّنۡۢ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا ۙ

’’ اوراللہ نے تمہیں نکالا تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے جبکہ تم کچھ نہیں جانتے تھے‘‘

نوزائیدہ بچہ عقل وشعور اور سمجھ بوجھ سے بالکل عاری ہوتا ہے ‘بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کا بچہ تمام حیوانات کے بچوں سے زیادہ کمزوراور زیادہ محتاج (dependent) ہوتا ہے۔

وَّ جَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ۙ

’’اور تمہارے لیے سماعت‘ بصارت اور عقل بنائی۔‘‘

اََفْئِدَۃ کا ترجمہ عام طور پر ’’دل‘‘ کیا جاتا ہے ‘مگر میرے نزدیک اس سے مراد عقل اور شعور ہے۔ اس پر تفصیلی گفتگو ان شاء اللہ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت {اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۶﴾} کے ضمن میں ہو گی۔ آیت زیر نظر میں کانوں اور آنکھوں کا ذکرانسانی حو اس (senses) کے طور پر ہوا ہے اور ان حواس کا تعلق عقل (اََفْئِدَۃ) کے ساتھ وہی ہے جو کمپیوٹر کے input devices کا اس کے پراسیسنگ یونٹ کے ساتھ ہوتاہے۔ جس طرح کمپیوٹر کا پراسیسنگ یونٹ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات (data) کو پراسس کر کے اس سے کوئی نتیجہ اخذکرتا ہے اسی طرح حواسِ خمسہ سے حاصل ہونے والی معلومات سے انسانی دماغ سوچ بچار کر کے کوئی نتیجہ نکالتا ہے۔ انسان کی اسی صلاحیت کو ہم عقل کہتے ہیں اور میرے نزدیک اََفْئِدَۃ سے مراد انسان کی یہی عقل ہے۔

لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۸﴾

’’تا کہ تم شکرکرو۔‘‘

یہ تمام صلاحیتیں انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں اور اللہ نے یہ نعمتیں انسان کو اس لیے عطا کی ہیں کہ وہ ان پر اللہ کا شکر ادا کرے‘ اور اس سلسلے میں اللہ کے شکر کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان نعمتوں کا استعمال درست طور پر کرے اور ان سے کوئی ایسا کام نہ لے جس سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔

آیت 79

اَلَمۡ یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیۡ جَوِّ السَّمَآءِ ؕ مَا یُمۡسِکُہُنَّ اِلَّا اللّٰہُ ؕ

’’کیا یہ دیکھتے نہیں پرندوں کو کہ وہ آسمان کی فضا میں مسخر ہیں ‘انہیں نہیں تھاما ہوا کسی نے سوائے اللہ کے ۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے قانون کے مطابق یہ پرندے فضا میں تیر رہے ہیں۔

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۷۹﴾

’’ یقینا اس میں نشانیاں ہیں اُ ن لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہوں۔‘‘

آیت 80

وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡۢ بُیُوۡتِکُمۡ سَکَنًا

’’اور اللہ نے تمہارے گھروں میں تمہارے لیے سکونت کی جگہ بنائی ہے‘‘

وَّ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ جُلُوۡدِ الۡاَنۡعَامِ بُیُوۡتًا تَسۡتَخِفُّوۡنَہَا یَوۡمَ ظَعۡنِکُمۡ وَ یَوۡمَ اِقَامَتِکُمۡ ۙ

’’اور اُس نے بنا دیے تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں سے ایسے گھر (خیمے) جنہیں تم بہت ہلکا پھلکا پاتے ہو اپنے کوچ اور قیام کے دن‘‘

جانوروں کی کھالوں سے بنائے گئے خیمے بہت ہلکے پھلکے ہوتے ہیں۔چنانچہ دورانِ سفر بھی انہیں اٹھانا آسان ہوتا ہے اور اسی طرح جب اور جہاں چاہیں انہیں آسانی سے گاڑ کر آرام دہ قیام گاہ بنائی جا سکتی ہے۔

وَ مِنۡ اَصۡوَافِہَا وَ اَوۡبَارِہَا وَ اَشۡعَارِہَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۸۰﴾

’’اور (اُس نے بنایا تمہارے لیے ) اُن (بھیڑوں) کی اُون سے اور ان (اونٹوں اور بکریوں )کے بالوں سے سامان اور برتنے کی چیزیں ایک خاص وقت تک کے لیے۔‘‘

قبل ازیں آیت ۵میں جانوروں کے بالوں کی افادیت کے حوالے سے ’’دِفْ ئٌ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا تھا‘ جس میں سردی کی شدت سے بچنے کے لیے کپڑا تیار کرنے کی طرف اشارہ تھا۔ یہاں اس سلسلے میں وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ مختلف جانوروں کی اون اور ان کے بالوں کی صورت میں اللہ نے تمہارے لیے قدرتی ریشہ (fiber) پیدا کر دیا ہے جس سے تم لوگ کپڑے بنتے ہو اور دوسری بہت سی مفید اشیاء بناتے ہو۔ ایک مدت تک انسان کے پاس کپڑا بنانے کے لیے جانوروں سے حاصل ہونے والے اس ریشے کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی۔ کپاس کی دریافت بہت بعد میں ہوئی۔ موجود ہ زمانے میں اس مقصد کے لیے اگرچہ مصنوعی ریشے کی رنگا رنگ اقسام موجود ہیں مگر اس قدرتی ریشے کی اہمیت و افادیت سے آج بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

آیت 81

وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا

’’اور اللہ ہی نے بنایا تمہارے لیے اپنی پیدا کردہ چیزوں سے سایہ‘‘

اللہ نے درختوں اور بہت سی دوسری چیزوں سے سائے کا نظام وضع فرمایا ہے جو انسانی زندگی کے لیے بہت مفید ہے۔

وَّ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنَ الۡجِبَالِ اَکۡنَانًا

’’اور اُسی نے بنائیں تمہارے لیے پہاڑوں کے اندر پناہ گاہیں‘‘

پہاڑوں کے اندر قدرتی غاریں پائی جاتی ہیں جن میں لوگ طوفانی ہواؤں وغیرہ کی شدت سے بچنے کے لیے پناہ لے سکتے ہیں۔ پرانے زمانے میں تو اس حوالے سے ان غاروں کی بہت اہمیت تھی۔

وَّ جَعَلَ لَکُمۡ سَرَابِیۡلَ تَقِیۡکُمُ الۡحَرَّ وَ سَرَابِیۡلَ تَقِیۡکُمۡ بَاۡسَکُمۡ ؕ

’’اور بنائے تمہارے لیے ایسے لباس جو تمہیں بچاتے ہیں گرمی سے اور ایسے لباس (زرہیں) جو تمہیں بچاتے ہیں تمہاری لڑائی میں‘‘

کَذٰلِکَ یُتِمُّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تُسۡلِمُوۡنَ ﴿۸۱﴾

’’اسی طرح وہ اتمام فرماتا ہے اپنی نعمت کا تم پر تا کہ تم اطاعت کی روش اختیار کرو۔‘‘

جیسا کہ قبل ازیں بھی اشار ہ کیا گیا ہے‘اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ذکر کی تکرار بہت زیادہ ہے۔ (مزید ملاحظہ ہوں آیات ۱۸‘۳۵‘۷۱‘۷۲‘۸۳ اور ۱۱۴)۔

آیت 82

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۸۲﴾

’’تو (اے نبیﷺ!) اگر یہ لوگ منہ پھیر لیں تو آپ پر تو صرف صاف صاف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔‘‘

آیت 83

یَعۡرِفُوۡنَ نِعۡمَتَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنۡکِرُوۡنَہَا وَ اَکۡثَرُہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿٪۸۳﴾

’’یہ لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں ‘پھر منکر ہو جاتے ہیں اور ا ن میں اکثر نا شکرے ہیں۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے