وَ یَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰہِ مَا یَکۡرَہُوۡنَ
’’اور وہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے لیے جو وہ خود پسند نہیں کرتے‘‘
یعنی ان میں سے کوئی بھی خود بیٹی کا باپ بننا پسند نہیں کرتا‘ مگر اللہ کے ساتھ بیٹیاں منسوب کرتے ہوئے یہ لوگ ایسا کچھ نہیں سوچتے۔
وَ تَصِفُ اَلۡسِنَتُہُمُ الۡکَذِبَ اَنَّ لَہُمُ الۡحُسۡنٰی ؕ
’’اور ان کی زبانیں جھوٹ بیان کر رہی ہیں کہ ان کے لیے یقینا بھلائی ہے۔‘‘
یہ لوگ اس زعم میں ہیں کہدنیا میں انہیں عزت‘ دولت اور سرداری ملی ہوئی ہے ‘ تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ ان سے خوش ہے اور انہیں یہ خوش فہمی بھی ہے کہ اگر اس نے یہاں انہیں یہ سب کچھ دیا ہے تو آخرت میں بھی وہ ضرور انہیں اپنی نعمتوں سے نوازے گا۔ چنانچہ دنیا ہو یا آخرت ان کے لیے تو بھلائی ہی بھلائی ہے۔
لَا جَرَمَ اَنَّ لَہُمُ النَّارَ وَ اَنَّہُمۡ مُّفۡرَطُوۡنَ ﴿۶۲﴾
’’اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے لیے آگ ہے اور یہ کہ وہ بڑھائے جا رہے ہیں۔‘‘
دنیا میں ان کی رسی دراز کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی میں جس حد تک جری ہو کر آگے بڑھ سکتے ہیں بڑھتے چلے جائیں۔
تَاللّٰہِ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ
’’اللہ کی قسم! ہم نے بھیجا( اپنے رسولوںؑ کو)بہت سی اُمتوں کی طرف آپؐ سے پہلے‘لیکن شیطان نے ان کے لیے اُن کے اعمال کو مزین کیے رکھا‘‘
شیطان کے بہکاوے کے سبب وہ لوگ اس خوش فہمی میں رہے کہ ان کاکلچر ‘ ان کی تہذیب اور ان کی روایات سب سے اعلیٰ ہیں۔
فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۳﴾
’’تو آج وہی ان کا ساتھی ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘