تحریر

النحل

آیات ۴۱ تا ۶۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

41-42

اللہ کی راہ میں ہجرت کی فضیلت

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا فِی اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا لَـنُبَوِّئَنَّہُمۡ فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً ؕ وَ لَاَجۡرُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾ الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿۴۲﴾

آیت 41

وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا فِی اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا لَـنُبَوِّئَنَّہُمۡ فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً ؕ

’’اور جن لوگوں نے اللہ کے لیے ہجرت کی ‘ اس کے بعد کہ اُن پر ظلم کیا گیا‘ ہم انہیں دُنیا میں بھی ضرور اچھی جگہ دیں گے۔ ‘‘

وَ لَاَجۡرُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾

’’ اور (اُن کے لیے) آخرت کا اجر تو بہت ہی بڑا ہے۔ کاش کہ اُن کو معلوم ہوتا۔‘‘

آیت 42

الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿۴۲﴾

’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر کیا اور وہ اپنے رب پر توکل کرنے والے ہیں۔‘‘

43-44

حدیث قرآن کی وضاحت کرتی ہے

ویڈیو

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ ؕ وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۴۴﴾

آیت 43

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ

’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے مگر مردوں ہی کو (رسول بنا کر )جن کی طرف ہم وحی کیا کرتے تھے‘‘

یعنی آپﷺ پہلے نبی یارسول نہیں ہیں بلکہ آپﷺ سے پہلے ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں۔ وہ سب کے سب آدمی ہی تھے اور ان کی طرف ہم اسی طرح وحی بھیجتے تھے جس طرح آج آپؐ کی طرف وحی آتی ہے۔

فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾

’’تو تم لوگ اہلِ ذکر سے پوچھ لو ‘اگر تم خود نہیں جانتے ہو۔‘‘

یعنی اے اہلِ مکہ! اگر تم لوگوں کو اس بارے میں کچھ شک ہے تو تمہارے پڑوس مدینہ میں وہ لوگ آباد ہیں جو سلسلۂ وحی و رسالت سے خوب واقف ہیں ‘اُن سے پوچھ لو کہ اب تک جو انبیاء و رسل علیہم السلام اس دنیا میں آئے ہیں وہ سب کے سب انسان تھے یا فرشتے؟

آیت 44

بِالۡبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ ؕ

’’(ہم نے انہیں بھیجا) کھلی نشانیوں اور کتابوں کے ساتھ۔‘‘

وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۴۴﴾

’’اور ہم نے نازل کیا آپؐ کی طرف الذکر ‘تا کہ آپؐ واضح کر دیں لوگوں کے لیے جو کچھ نازل کیا گیا ہے اُن کی جانب اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔‘‘

یہاں قرآن کے لیے پھر لفظ ’’الذکر‘‘ استعمال ہوا ہے ‘یعنی یہ قرآن ایک طرح کی یاد دہانی ہے۔ یہ آیت منکرین سنت و حدیث کے خلاف ایک واضح دلیل فراہم کرتی ہے۔ اس کی رُ وسے قرآن کی ’’تبیین‘‘ رسولؑ کا فرضِ منصبی ہے۔ قرآن کے اَسرار و رموز کو سمجھانا ‘اس میں اگر کوئی نکتہ مجمل ہے تو اس کی تفصیل بیان کرنا‘ اگر کوئی حکم مبہم ہے تو اس کی وضاحت کرنا رسول اللہ ﷺ کا فرضِ منصبی تھا۔ یہ فرض اس آیت کی رو سے خود اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تفویض کیا ہے‘ مگر منکرین سنت آج آپﷺ کو یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کی رائے کے مطابق یہ اللہ کی کتاب ہے جو اللہ کے رسولؐ نے ہم تک پہنچا دی ہے‘ اب ہم خود اس کو پڑھیں گے‘ خود سمجھیں گے اور خود ہی عمل کی جہتیں متعین کریں گے۔ حضورﷺ کے سمجھانے کی اگر کچھ ضرورت تھی بھی تووہ اپنے زمانے کی حد تک تھی۔ فیا للعجب!

45-47

اللہ کے عذاب سے ہر وقت ڈرتے رہو

ویڈیو

اَفَاَمِنَ الَّذِیۡنَ مَکَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ یَّخۡسِفَ اللّٰہُ بِہِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ یَاۡتِیَہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾ اَوۡ یَاۡخُذَہُمۡ فِیۡ تَقَلُّبِہِمۡ فَمَا ہُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿ۙ۴۶﴾ اَوۡ یَاۡخُذَہُمۡ عَلٰی تَخَوُّفٍ ؕ فَاِنَّ رَبَّکُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۴۷﴾

آیت 45

اَفَاَمِنَ الَّذِیۡنَ مَکَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ یَّخۡسِفَ اللّٰہُ بِہِمُ الۡاَرۡضَ

’’تو کیا بے خوف ہو گئے ہیں وہ لوگ جنہوں نے بری چالیں چلیں اس بات سے کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے‘‘

یہ لوگ ہمارے رسولؐ کے خلاف سازشوں کے جال بننے میں مگن ہیں اور حق کی دعوت کا راستہ روکنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ کیا یہ ڈرتے نہیں کہ اگر اللہ چاہے تو انہیں اس جرم کی پاداش میں زمین میں دھنسا دے؟

اَوۡ یَاۡتِیَہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾

’’یا (انہیں یہ خوف بھی نہیں رہا کہ) اُن پر آدھمکے کوئی عذاب جہاں سے انہیں گمان تک نہ ہو۔‘‘

آیت 46

اَوۡ یَاۡخُذَہُمۡ فِیۡ تَقَلُّبِہِمۡ فَمَا ہُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿ۙ۴۶﴾

’’یا وہ انہیں پکڑ لے ان کی چلت پھرت میں ‘ پھر وہ (اللہ کو )عاجز کرنے والے نہیں ہیں۔‘‘

یوں بھی ہو سکتا ہے کہ ان کی روز مرہ زندگی میں ‘معمول کی سرگرمیوں کے دوران ہی ان کی پکڑ کا حکم آجائے اور پھر اللہ کے اس حکم کے مقابلے میں ان کی کوئی تدبیر بھی کامیاب نہ ہو سکے۔

آیت 47

اَوۡ یَاۡخُذَہُمۡ عَلٰی تَخَوُّفٍ ؕ فَاِنَّ رَبَّکُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۴۷﴾

’’یا انہیں پکڑ ے خوف دلاکر۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا ربّ بہت بخشنے والا‘ نہایت رحم والا ہے۔‘‘

اگرچہ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو اچانک بھی پکڑ سکتا ہے ‘مگر چونکہ وہ بہت شفیق اور نہایت رحم فرمانے والا ہے ‘اس لیے اس کا عذاب یونہی بے خبری میں نہیں آتا بلکہ متعلقہ قوم کو پہلے پوری طرح آگاہ کیا جاتاہے ‘ ان پر اتمامِ حجت کے تمام تقاضے پورے کیے جاتے ہیں ‘ تب کہیں جا کر عذاب کا فیصلہ ہوتا ہے ۔ جیسے سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا: {وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴿۱۵﴾} ’’ اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ ہم رسول ؑنہ بھیجیں‘‘۔ یعنی ہمیشہ ایساہوتا رہا ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لیے رسول ؑبھیجا گیا‘ جس نے اُن پر حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا خوب اچھی طرح واضح کر دیا‘ یہاں تک کہ متعلقہ قوم پر حجت تمام ہونے میں کوئی کسر باقی نہ رہی ۔ اس کے بعد بھی جولوگ کفر اور ظلم پر اڑے رہے ‘ اُن پر گرفت کی گئی اور عذاب کے ذریعے انہیں نیست و نابود کر دیا گیا۔

48-50

ہر شے ہی نہیں اس کا سایہ بھی اللہ کو سجدہ کرتا ہے

ویڈیو

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلٰی مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُہٗ عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰہِ وَ ہُمۡ دٰخِرُوۡنَ ﴿۴۸﴾ وَ لِلّٰہِ یَسۡجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ ہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۴۹﴾ یَخَافُوۡنَ رَبَّہُمۡ مِّنۡ فَوۡقِہِمۡ وَ یَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ ﴿٪ٛ۵۰﴾

آیت 48

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلٰی مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُہٗ عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰہِ وَ ہُمۡ دٰخِرُوۡنَ ﴿۴۸﴾

’’کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہر شے کی طرف ‘کہ جھکتے ہیں اس کے سائے دائیں اور بائیں اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے اور وہ سب عاجزی (کی کیفیت) میں ہوتے ہیں۔‘‘

اس آیت میں ہمارے اردگرد کی اشیاء سے پیدا ہونے ولے ماحول کی تصویر کشی کی گئی ہے جسے دیکھتے ہوئے ہم اللہ کی کبریائی کا ایک نقشہ اپنے تصور میں لا سکتے ہیں۔ جب سورج نکلتا ہے تو تمام چیزوں کے سائے زمین پر بچھے ہوئے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پھر سورج کے بلند ہونے کے ساتھ ہی ساتھ یہ سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں۔ سورج کے ڈھلنے کے ساتھ دوسری سمت میں پھیلتے ہوئے یہ سایے پھر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔

آیت 49

وَ لِلّٰہِ یَسۡجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ ہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۴۹﴾

’’اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں آسمانوں اور زمین میں جتنے جاندار ہیں اور فرشتے بھی‘ اور وہ تکبر سے کام نہیں لیتے۔‘‘

آیت 50

یَخَافُوۡنَ رَبَّہُمۡ مِّنۡ فَوۡقِہِمۡ وَ یَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ ﴿٪ٛ۵۰﴾

’’وہ ڈرتے رہتے ہیں اپنے اوپر اپنے ربّ سے اور وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔‘‘

یہ خصوصی طور پر فرشتوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ جیسے سورۃ التحریم میں فرمایا گیا: {لَّا یَعۡصُوۡنَ اللّٰہَ مَاۤ اَمَرَہُمۡ وَ یَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶﴾} ’’وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو حکم وہ انہیں دیتا ہے اور وہی کرتے ہیں جو حکم انہیں دیا جاتا ہے۔‘‘

51-52

دو معبود نہ بناؤ

ویڈیو

وَ قَالَ اللّٰہُ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اِلٰـہَیۡنِ اثۡنَیۡنِ ۚ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ ﴿۵۱﴾ وَ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لَہُ الدِّیۡنُ وَاصِبًا ؕ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَتَّقُوۡنَ ﴿۵۲﴾

آیت 51

وَ قَالَ اللّٰہُ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اِلٰـہَیۡنِ اثۡنَیۡنِ ۚ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ ﴿۵۱﴾

’’اور اللہ نے فرمایا ہے کہ دو معبود مت بنائو‘ یقینا وہ تو ایک ہی معبود ہے‘ پس تم مجھ ہی سے ڈرو۔‘‘

آیت 52

وَ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لَہُ الدِّیۡنُ وَاصِبًا ؕ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَتَّقُوۡنَ ﴿۵۲﴾

’’اور اُسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اُسی کے لیے اطاعت ہے ہمیشہ ہمیش‘ تو کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کا تقویٰ اختیار کرتے ہو؟‘‘

53-56

ہر نعمت اللہ ہی کی عطا کردہ ہے

ویڈیو

وَ مَا بِکُمۡ مِّنۡ نِّعۡمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فَاِلَیۡہِ تَجۡـَٔرُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾ ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّ عَنۡکُمۡ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡکُمۡ بِرَبِّہِمۡ یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾ لِیَکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ ؕ فَتَمَتَّعُوۡا ۟ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۵﴾ وَ یَجۡعَلُوۡنَ لِمَا لَا یَعۡلَمُوۡنَ نَصِیۡبًا مِّمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ ؕ تَاللّٰہِ لَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا کُنۡتُمۡ تَفۡتَرُوۡنَ ﴿۵۶﴾

آیت 53

وَ مَا بِکُمۡ مِّنۡ نِّعۡمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فَاِلَیۡہِ تَجۡـَٔرُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾

’’ اور جو نعمت بھی تمہیں میسر ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے‘ پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے سامنے تم فریاد کرتے ہو۔‘‘

تکلیف کی کیفیت میں تم اللہ کو ہی یاد کرتے ہو‘ اسی کی جناب میں گڑ گڑاتے ‘آہ وزاری کرتے اور دعائیں مانگتے ہو۔ اس حالت میں تمہیں کوئی دوسرا معبود یاد نہیں آتا۔

آیت 54

ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّ عَنۡکُمۡ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡکُمۡ بِرَبِّہِمۡ یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾

’’پھر جب وہ تم سے تکلیف دور کر دیتا ہے تو جبھی تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنا شروع کر دیتا ہے۔‘‘

آیت 55

لِیَکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ ؕ فَتَمَتَّعُوۡا ۟ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۵﴾

’’تا کہ ناشکری کریں ان (نعمتوں) کی جو ہم نے ان کو دی ہیں۔ تو چند روزہ مزے اڑا لو‘ پس عنقریب تم جان لو گے۔‘‘

کچھ دنوں کی بات ہے دنیا میں تم لوگ مزے اڑا لو۔ بہت جلد اصل حقیقت کھل کر تمہارے سامنے آ جائے گی۔

آیت 56

وَ یَجۡعَلُوۡنَ لِمَا لَا یَعۡلَمُوۡنَ نَصِیۡبًا مِّمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ ؕ

’’اور وہ بنا دیتے ہیں ان کے لیے جن کے بارے میں انہیں کوئی علم ہی نہیں ‘ ایک حصہ اس میں سے جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ ہی کے عطا کردہ رزق میں سے وہ لوگ اللہ کے ان شریکوں کے لیے بھی حصے نکالتے تھے جن کے بارے میں کوئی علمی سند یا واضح دلیل بھی ان کے پاس موجود نہیں تھی۔ یہ مضمون سورۃ الانعام کی آیت ۱۳۶میں بھی آ چکا ہے کہ وہ لوگ اپنی کھیتیوں کی پیداوار اور جانوروں میں سے جہاں اللہ کے لیے حصہ نکالتے تھے وہاں اپنے جھوٹے معبودوں کے حصے کے لیے بھی خاص اہتمام کرتے تھے۔

تَاللّٰہِ لَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا کُنۡتُمۡ تَفۡتَرُوۡنَ ﴿۵۶﴾

’’اللہ کی قسم! ضرور سوال کیا جائے گا تم سے اس بارے میں جو افترا تم لوگ کرتے تھے۔‘‘

57-60

مشرکینِ مکہ کی بے انصافی

ویڈیو

وَ یَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰہِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰنَہٗ ۙ وَ لَہُمۡ مَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿۵۷﴾ وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمۡ بِالۡاُنۡثٰی ظَلَّ وَجۡہُہٗ مُسۡوَدًّا وَّ ہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿ۚ۵۸﴾ یَتَوَارٰی مِنَ الۡقَوۡمِ مِنۡ سُوۡٓءِ مَا بُشِّرَ بِہٖ ؕ اَیُمۡسِکُہٗ عَلٰی ہُوۡنٍ اَمۡ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿۵۹﴾ لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوۡءِ ۚ وَ لِلّٰہِ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰی ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۶۰﴾

آیت 57

وَ یَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰہِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰنَہٗ ۙ وَ لَہُمۡ مَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿۵۷﴾

’’اور وہ بناتے ہیں اللہ کے لیے بیٹیاں‘ وہ پاک ہے (اس سے) ‘اور خود اُن کے لیے وہ کچھ جو انہیں پسند ہے!‘‘

اللہ تعالیٰ کی اولاد کے طور پر وہ لوگ اس سے بیٹیاں منسوب کرتے ہیں جبکہ خود اپنے لیے وہ بیٹے پسند کرتے ہیں۔انہوں نے اللہ کے لیے اولاد تجویز بھی کی تو بیٹیاں تجویز کیں‘ جو خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔

آیت 58

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمۡ بِالۡاُنۡثٰی ظَلَّ وَجۡہُہٗ مُسۡوَدًّا وَّ ہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿ۚ۵۸﴾

’’اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اُس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ(اندر ہی اندر) رنج و غم سے گھٹتا رہتا ہے۔‘‘

آیت 59

یَتَوَارٰی مِنَ الۡقَوۡمِ مِنۡ سُوۡٓءِ مَا بُشِّرَ بِہٖ ؕ

’’وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس بری خبر کی وجہ سے جو اُسے دی گئی۔‘‘

جب اسے خوشخبری دی جاتی ہے کہ وہ ایک بیٹی کا باپ بن گیا ہے تو اسے ایک منحوس خبر خیال کرتا ہے اور یوں محسوس کرتا ہے کہ ا ب وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا ۔ شرم کے مارے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور ہر وقت اسی شش و پنج میں رہتا ہے کہ :

اَیُمۡسِکُہٗ عَلٰی ہُوۡنٍ اَمۡ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ ؕ

’’کیا وہ اسے ذِلت کے باوجود روکے رکھے یا مٹی میں دفن کر دے؟‘‘

اَلَا سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿۵۹﴾

’’آگاہ رہو ‘بہت ہی برا ہے جو فیصلہ وہ کرتے ہیں۔‘‘

آیت 60

لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوۡءِ ۚ

’’ان لوگوں کے لیے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے بری مثال ہے۔‘‘

وَ لِلّٰہِ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰی ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۶۰﴾

’’ اور اللہ کی صفت نہایت بلند ہے۔اور وہ زبردست ہے کمال حکمت والا۔‘‘

عقیدۂ آخرت کے حوالے سے یہ حقیقت لائق توجہ ہے کہ یہ عقیدہ دُنیوی زندگی میں انسانی اعمال پر تمام عوامل سے بڑھ کر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آخرت اور ایمان بالآخرت کے بارے میں بہت تکرار پائی جاتی ہے۔

61

اللہ کی رحمت نہ ہوتی تو ہم تباہ ہو جاتے

ویڈیو

وَ لَوۡ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِظُلۡمِہِمۡ مَّا تَرَکَ عَلَیۡہَا مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّ لٰکِنۡ یُّؤَخِّرُہُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۶۱﴾

آیت 61

وَ لَوۡ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِظُلۡمِہِمۡ مَّا تَرَکَ عَلَیۡہَا مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّ لٰکِنۡ یُّؤَخِّرُہُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ۚ

’’اور اگر اللہ (فوراً) پکڑ کرتا لوگوں کی ان کے گناہوں کے سبب تو نہ چھوڑتا اس (زمین) پر کوئی بھی جاندار‘ لیکن وہ مہلت دیتا ہے انہیں ایک وقتِ معین تک۔‘‘

یہ اللہ کی خاص رحمت ہے کہ وہ لوگوں کے ظلم و معصیت کی پاداش میں فوری طور پر ان کی گرفت نہیں کرتا‘ بلکہ ڈھیل دے کر انہیں اصلاح کا پورا پورا موقع دیتا ہے۔

فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۶۱﴾

’’پھر جب ان کا وقت معین آجائے گاتو نہ وہ اس سے ایک ساعت پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔‘‘

62-63

سو سو گناہ کیے تیری رحمت کے زور پر

ویڈیو

وَ یَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰہِ مَا یَکۡرَہُوۡنَ وَ تَصِفُ اَلۡسِنَتُہُمُ الۡکَذِبَ اَنَّ لَہُمُ الۡحُسۡنٰی ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَہُمُ النَّارَ وَ اَنَّہُمۡ مُّفۡرَطُوۡنَ ﴿۶۲﴾ تَاللّٰہِ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۳﴾

آیت 62

وَ یَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰہِ مَا یَکۡرَہُوۡنَ

’’اور وہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے لیے جو وہ خود پسند نہیں کرتے‘‘

یعنی ان میں سے کوئی بھی خود بیٹی کا باپ بننا پسند نہیں کرتا‘ مگر اللہ کے ساتھ بیٹیاں منسوب کرتے ہوئے یہ لوگ ایسا کچھ نہیں سوچتے۔

وَ تَصِفُ اَلۡسِنَتُہُمُ الۡکَذِبَ اَنَّ لَہُمُ الۡحُسۡنٰی ؕ

’’اور ان کی زبانیں جھوٹ بیان کر رہی ہیں کہ ان کے لیے یقینا بھلائی ہے۔‘‘

یہ لوگ اس زعم میں ہیں کہدنیا میں انہیں عزت‘ دولت اور سرداری ملی ہوئی ہے ‘ تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ ان سے خوش ہے اور انہیں یہ خوش فہمی بھی ہے کہ اگر اس نے یہاں انہیں یہ سب کچھ دیا ہے تو آخرت میں بھی وہ ضرور انہیں اپنی نعمتوں سے نوازے گا۔ چنانچہ دنیا ہو یا آخرت ان کے لیے تو بھلائی ہی بھلائی ہے۔

لَا جَرَمَ اَنَّ لَہُمُ النَّارَ وَ اَنَّہُمۡ مُّفۡرَطُوۡنَ ﴿۶۲﴾

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے لیے آگ ہے اور یہ کہ وہ بڑھائے جا رہے ہیں۔‘‘

دنیا میں ان کی رسی دراز کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی میں جس حد تک جری ہو کر آگے بڑھ سکتے ہیں بڑھتے چلے جائیں۔

آیت 63

تَاللّٰہِ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ

’’اللہ کی قسم! ہم نے بھیجا( اپنے رسولوںؑ کو)بہت سی اُمتوں کی طرف آپؐ سے پہلے‘لیکن شیطان نے ان کے لیے اُن کے اعمال کو مزین کیے رکھا‘‘

شیطان کے بہکاوے کے سبب وہ لوگ اس خوش فہمی میں رہے کہ ان کاکلچر ‘ ان کی تہذیب اور ان کی روایات سب سے اعلیٰ ہیں۔

فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۳﴾

’’تو آج وہی ان کا ساتھی ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘

64

قرآن کی فیصلہ کن وضاحت . . . .حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

ویڈیو

وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶۴﴾

آیت 64

وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ۙ

’’اور نہیں اُتاری (اے محمدﷺ!) ہم نے آپ پر یہ کتاب مگر اس لیے کہ آپ واضح کر دیں ان کے لیے وہ سب کچھ جس میں انہوں نے اختلاف کیا‘‘

وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶۴﴾

’’اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں۔‘‘

اس آیت کو پڑھتے ہوئے سورۂ یونس کی یہ دو آیات بھی ذہن میں رکھیے:

دوسرے مقام کی آیت

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰہِ وَ بِرَحۡمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلۡیَفۡرَحُوۡا ؕ ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۵۸﴾

’’اے لوگو! آ گئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں (کے جو روگ ہیں ان)کی شفا اور ہدایت اور اہل ایمان کے حق میں (بہت بڑی) رحمت۔(اے نبیﷺ!ان سے) کہہ دیجیے کہ یہ ( قرآن) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے (نازل ہوا) ہے‘تو چاہیے کہ لوگ اس پر خوشیاں منائیں‘وہ بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے