وَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ ۙ لَا یَبۡعَثُ اللّٰہُ مَنۡ یَّمُوۡتُ ؕ
’’اور وہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں‘اپنی پکی قسمیں کہ اللہ ہر گز نہیں اٹھائے گا اُس کو جو مر جائے گا۔‘‘
مشرکینِ مکہ اگرچہ عمومی طور پر مرنے کے بعد دوسری زندگی کے قائل تھے مگر ان کا اس سلسلہ میں عقیدہ یہ تھا کہ جن بتوں کی وہ پوجا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے ان کے سفارشی ہوں گے اور اس طرح روزِ حشر کی تمام سختیوں سے وہ انہیں بچا لیں گے۔ لیکن ان کے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا۔ ان لوگوں کے اس عقیدہ کا تذکرہ قرآن میں متعدد بار ہوا ہے ۔ سورۃ الانعام میں ان لوگوں کا قول اس طرح نقل کیا گیا ہے: {وَ قَالُوۡۤا اِنۡ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا وَ مَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِیۡنَ ﴿۲۹﴾} ’’ اور وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے یہ ہماری زندگی مگر صرف دنیا کی اور ہم (دوبارہ) اٹھائے نہیں جائیں گے۔‘‘
بَلٰی وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾
’’کیوں نہیں‘ یہ وعدہ ہے اُس کے ذمہ سچا (کہ تم ضرور اٹھائے جائو گے) لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔‘‘
اِنَّمَا قَوۡلُنَا لِشَیۡءٍ اِذَاۤ اَرَدۡنٰہُ اَنۡ نَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿٪۴۰﴾
’’ہمارا قول تو کسی چیز کے بارے میں بس یہ ہوتا ہے ‘ جب ہم اس کا ارادہ کرتے ہیں کہ ہم فرماتے ہیں اُسے ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔‘‘
اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ حکم عالمِ امر کے بارے میں ہے ‘جبکہ عالمِ خلق میں یوں نہیں ہوتا (عالم امر اور عالم خلق کے بارے میں وضاحت اس سورۃ کی آیت ۲ اور سورۃ الاعراف کی آیت ۵۴کے ضمن میں گزر چکی ہے)۔ عالم امر میں کسی واقعے یا کسی چیز کے ظہور پذیر ہونے کے لیے اسباب ‘ وسائل اور وقت درکار نہیں‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ارادہ فرماکر کن فرماتے ہیں تو وہ چیز وجود میں آ جاتی ہے۔ عالم خلق میں بھی کلی اختیار تو اللہ ہی کا ہے مگر اس عالم کو عام طبعی قوانین کے مطابق چلایا جاتا ہے۔ چنانچہ عالم خلق میں کسی چیز کو وجود میں آنے اور مطلوبہ معیار تک پہنچنے کے لیے اسباب‘ وسائل اور وقت کی ضرورت پیش آتی ہے۔یہ کائنات اپنے تمام طبعی موجودات کے ساتھ عالم خلق کا اظہار ہے۔ آیت زیر نظر کے موضوع کی مناسبت سے یہاں میں کائنات کی تخلیق کے آغاز سے متعلق اپنی سوچ اور فکر کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔
کائنات کی تخلیق کے بارے میں ایک طرف تو پرانے فلسفیانہ تصورات ہیں اور دوسری طرف جدید سائنسی نظریات (theories) ۔فلسفیانہ تصورات کے مطابق سب سے پہلے وجودِ باری تعالیٰ سے عقلِ اوّل وجود میں آئی۔ عقلِ اوّل سے پھر فلکِ اوّل اور پھر فلکِ اوّل سے فلکِ ثانی وغیرہ۔ یہ مشائین کے فلسفے ہیں جو ارسطو اور اس کے شاگردوں کے نظریات کے ساتھ دنیا میں پھیلے اور ہمارے ہاں بھی بہت سے متکلمین ان سے متاثر ہوئے۔ بہر حال جدید سائنسی انکشافات کے ذریعے ان میں سے کسی بھی نظریے کی کہیں کوئی تائید و تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری طرف جدید فزکس کے میدان میں اعلیٰ علمی سطح پر اس سلسلے میں جتنے بھی نظریات (theories) ہیں اُن میں’’عظیم دھماکے‘‘ (Big Bang) کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس تصور کے تحت Big Bang کے نتیجے میں ارب ہا ارب درجۂ حرارت کے حامل بے شمار ذرات وجود میں آئے۔ یہ ذرات تیزی سے حرکت کرتے ہوئے مختلف forms میں اکٹھے ہوئے تو کہکشائیں (galaxies) وجود میں آئیں اور چھوٹے بڑے بے شمار ستاروں کا ایک جہان آباد ہو گیا۔ انہی ستاروں میں ایک ہماراسورج بھی تھا ‘جس کے اندر مزید ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں اس کے سیارے (planets) وجود میں آئے۔ سورج کے ان سیاروں میں سے ایک سیارہ ہماری زمین ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی ہوتی رہی اور بالآخر اس پر نباتاتی اور حیوانی زندگی کے لیے سازگار ماحول وجود میں آیا ۔آج کی سائنس فی الحال ’’بگ بینگ‘‘سے آگے کوئی نظریہ قائم کرنے سے قاصر ہے۔ اس نظریے سے جو معلومات سائنس نے اخذ کی ہیں وہ ان تمام حقائق کے ساتھ مطابقت (corroboration) رکھتی ہیں جن کا علم اس موضوع پر ہمیں قرآن سے ملتا ہے۔ اس سے پہلے مادے کے بارے میں سائنس قانون بقائے مادہ (Law of conservation of mass) کی قائل تھی کہ مادہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا‘ مگرنئے نظریے کو اپنا کر سائنس نے نہ صرف بگ بینگ کو کائنات کا نقطہ آغاز تسلیم کر لیا ہے بلکہ یہ بھی مان لیا ہے کہ مادہ ایک خاص وقت تک کے لیے ہے اور ایک خاص وقت کے بعد ختم ہو جائے گا۔
جہاں تک کا ئنات کی تخلیق کے آغاز کے بارے میں میری اپنی سوچ کا تعلق ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے ایک امرِ ’’کُن‘‘ سے ہوئی (اللہ کے حکم سے ‘نہ کہ اُس کی ذات سے)۔ پھر اس امر ’’کن‘‘ کا ظہور ایک خنک نور یا ٹھنڈی روشنی کی صورت میں ہوا (یہ خنک نور حرفِ کن کا ظہور تھا نہ کہ ذاتِ باری تعالیٰ کا)۔اس روشنی میں حرارت نہیں تھی ‘گویا یہ مادی روشنی (material light) کے وجود میں آنے سے پہلے کادور تھا۔آج جس روشنی کو ہم دیکھتے یا پہچانتے ہیں اس میں حرارت ہوتی ہے اور اسی حرارت کی وجہ سے یہ material light ہے۔ امرِ ’’کن‘‘ سے ظہور پانے والے اس خنک نور سے پہلے مرحلے پر ملائکہ کی پیدائش ہوئی۔ جیسے کہ مسلم شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث مروی ہے کہ حدیث((خُلِقَتِ الْمَلَائِکَۃُ مِنْ نُوْرٍ)) یعنی ’’ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو نور سے پیدا کیا‘‘۔ اسی نور سے انسانی ارواح پیدا کی گئیں ‘ اورسب سے پہلے روحِ محمدی ﷺ پیدا کی گئی‘جیسا کہ حدیث بیان کی جاتی ہے : حدیث(( اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ))۱ یعنی اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرا نور پیدا کیا ۔ ’’نُورِی‘‘ اور ’’رُوحِی‘‘ گویا دو مترادف الفاظ ہیں ‘کیونکہ روح کا تعلق بھی نور سے ہے۔ بہرحال یہ کائنات کی تخلیق کا مرحلہ اول ہے جس میں فرشتوں اور انسانی ارواح کی تخلیق ہوئی۔
اس کے بعد کسی مرحلے پر اس خنک نور میں کسی نوعیت کا زوردار دھماکہ (explosion) ہوا جس کو آج کی سائنس’’بگِ بینگ‘‘ کے نام سے پہچانتی ہے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں حرارت کا وہ گولا وجود میں آیا‘ جو بہت چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل تھا۔ ان ذرات کا درجہ حرارت ناقابل تصور حد تک تھا۔ یہ گویا طبعی دنیا (Physical World) کا نقطہ آغاز تھا۔ اسی دور میں اس آگ کی لپٹ سےِ جنات پیدا کیے گئے اور انہی انتہائی گرم ذرات سے کہکشائیں‘ ستارے اور سیارے وجود میں آئے۔
ان سیاروں میں سے ایک سیارہ یا کرہ ہماری زمین ہے جو ابتدا میں انتہائی گرم تھی۔ اس کے ٹھنڈا ہونے پر اس کے اندر سے بخارات نکلے جو اس کے گرد ایک ہالے کی شکل میں جمع ہو گئے۔ ان بخارات سے پانی وجود میں آیا جو ہزار ہا برس تک زمین پر بارش کی صورت میں برستا رہا۔ اس کے نتیجے میں تمام روئے زمین پر ہر طرف پانی ہی پانی پھیل گیا۔ اُس وقت تک زمین پر پانی کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ یہی وہ دور تھا جس کا ذکر قرآن میں بایں الفاظ کیا گیا ہے: {وَّ کَانَ عَرۡشُہٗ عَلَی الۡمَآءِ } (ھود:۷) ’’کہ اُس کا عرش (اُس وقت) پانی پر تھا‘‘۔ پھر زمین جب مزید ٹھنڈا ہونے پر سکڑی تو اس کی سطح پر نشیب و فراز نمودار ہوئے۔ کہیں پہاڑ وجود میں آئے تو کہیں سمندر۔اس کے بعد نباتاتی اور حیوانی حیات کا آغاز ہو۔ اس حیات کے ارتقاء کے بلند ترین مرحلے پر انسان کی تخلیق ہوئی اور حضرت آدمؑ کی روح ان کے وجود کو سونپی گئی۔ حضرت آدمؑ کی تاجپوشی کا یہی واقعہ ہے جہاں سے قرآن آدمؑ کی تخلیق کا تذکرہ کرتا ہے۔ اس لحاظ سے انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کااعلیٰ ترین شاہکار بھی ہے اور اس پوری کائنات کی تخلیق کا اصل مقصود و مطلوب بھی۔
یہاں ایک نکتہ یہ بھی سمجھ لیں کہ عالمِ خلق اور عالمِ امر بالکل الگ الگ نہیں ہیں ۔یعنی یوں نہیں کہا جا سکتا کہ یہاں تک تو عالم خلق ہے اور یہاں سے آگے عالم امر ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے‘ بلکہ یہ دونوں عالم ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط اور باہم گندھے ہوئے ہیں۔ مثلاًاس عالم خلق میں تمام انسانوں کی ارواح موجود ہیں‘ جن کا تعلق عالم امر سے ہے : {وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ } (بنی اسرائیل :۸۵) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ علیہ نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ ‘‘میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض نیک بندوں کی ارواح کو فرشتوں کے طبقۂ اسفل میں شامل کر لیتے ہیں‘ چنانچہ یہ نیک ارواح ان فرشتوں کے ساتھ سرگرمِ عمل رہتی ہیں جو اللہ کے احکام کی تعمیل و تنفیذ میں مصروف ہیں۔ اسی طرح فرشتے جو کہ عالم امر کی مخلوق ہیں وہ بھی یہاں عالم خلق میں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ دو دو فرشتے تو ہم میں سے ہر انسان کے ساتھ بطور نگران مقرر کیے گئے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
حدیث((مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُوْنَہٗ بَیْنَھُمْ اِلاَّ نَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَحَفَّتْھُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ فِیْمَنْ عِنْدَہٗ)) ۱
’’اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں کچھ لوگ کتاب اللہ کی تلاوت اور اس کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے جمع نہیں ہوتے مگر یہ کہ ان کے اوپر سکینت نازل ہوتی ہے‘ اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ‘ فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین (ملأ اعلیٰ) میں ان کا ذکر کرتا ہے۔‘‘
اس حدیث کی رو سے درسِ قرآن کی اس محفل میں یقینا فرشتے موجود ہیں‘ وہ عالم امر کی شے ہیں‘ ہم نہ انہیں دیکھ سکتے ہیں نہ ان سے خطاب کر سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اہلِ ایمان جنات بھی موجود ہوں اور قرآن سن رہے ہوں۔چنانچہ ارواح‘ فرشتے اور وحی تینوں کا تعلق اگرچہ عالم امر سے ہے مگر ان کا عمل دخل عالم خلق میں بھی ہے۔ اس طرح عالم خلق اور عالم امر کو بالکل الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں میں مرزا عبدالقاد ربیدلؔ کے ایک مشہور شعر کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جو تخلیقِ کائنات اور تخلیق آدمؑ کے اس فلسفہ کو بہت خوبصورتی سے واضح کرتا ہے:
ہر دو عالمِ خاک شد تا بست نقشِ آدمی
اے بہارِ نیستی از قدرِ خود ہشیار باش!
مرزا عبدالقاد ربیدلؔ ہندوستان میں اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں تھے۔ وہ عظیم فلسفی اور فارسی کے بہت بڑے شاعر تھے۔ ان کا شمار دنیا کے چوٹی کے فلسفیوں میں ہوتا تھا۔ ان کی شاعرانہ عظمت کے سامنے مرزا غالب بھی پانی بھرتے اور ان کی طرز کو اپنانے میں فخر محسوس کرتے نظر آتے ہیں: ؎
طرزِ بیدل ؔمیں ریختہ لکھنا
اسد اللہ ؔخاں قیامت ہے!
موضوع کی اہمیت کے پیش نظر یہاں مرزا بیدلؔ کے مندرجہ بالا شعر کی وضاحت ضروری ہے ۔ اس شعر میں وہ فرماتے ہیں’’ ہر دو عالم خاک شد‘‘ یعنی دونوں عالم خاک ہو گئے۔ شاعر کے اپنے ذہن میں اس کی وضاحت کیا تھی اس کے بارے میں شاعر خود جانتا ہے یا اللہ تعالیٰ ---- لیکن میں اس سے یہ نکتہ سمجھا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نےِ عالم امر کو تنزل کے مختلف مراحل سے گزار کر عالمِ خلق کی شکل دی۔ پھر اس کے مزید تنزلات کے نتیجے میں زمین (مٹی)پیدا کی گئی ۔گویا دونوں جہانوں نے خاک کی صورت اختیار کر لی‘ تب جا کر کہیں حیاتِ ارضی کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر اس سلسلے میں ارتقا کا وہ بلند ترین مرحلہ آیا: ’’تابست نقشِ آدمی!‘‘ جب آدمی کا نقش بننا شروع ہوا۔
دوسرے مصرعے میں (اے بہارِ نیستی از قدرِ خود ہشیار باش!) ’’نیست‘‘ کے فلسفے کو بھی اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ’’وحدت الوجود‘‘ کے فلسفے کے مطابق حقیقی وجود صرف اللہ کا ہے ‘ باقی جو کچھ بھی ہمیں نظر آتا ہے اس میں سے کسی چیز کا وجود حقیقی نہیں ہے۔ گویا اللہ کے علاوہ اس کائنات کی ہر چیز ’’نیست‘‘ ہے ’’ہست‘‘ نہیں ہے:
کُلُّ مَا فِی الْـکَوْنِ وَ ھْمٌ اَوْ خَیَالٌ
اَوْ عُکُوسٌ فِی المَرایَا اَوْ ظِلَال
یعنی اللہ کے وجود کے علاوہ جو وجود بھی نظر آتے ہیں وہ وہم ہیں یا خیالی تصویریں ۔اس طرح یہ تمام عالم گویا ’’نیست‘‘ ہے اور اس عالمِ نیست کی ’’بہار ‘‘انسان ہے‘جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : {خَلَقۡتُ بِیَدَیَّ ؕ} ( صٓ:۷۵) کہ میں نے اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے۔ اللہ کا ایک ہاتھ گویا عالمِ امر اوردوسرا ہاتھ عالم خلق ہے۔ اس طرح انسان اللہ تعالیٰ کے عملِ تخلیق کا کلائمکس ‘ مسجودِ ملائک اورخلیفۃ اللہ ہے۔ چنانچہ مرزا بیدک فرماتے ہیں(اے بہارِ نیستی از قدرِ خود ہوشیار باش!)کہ اے انسان! اے اس عالمِ نیستی کی بہار! ذرا اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانو! تمہیں وجود میں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دو عالم کو نہ جانے تنزلات کی کن کن منازل سے نیچے اُتار کر خاک کیا ‘تب کہیں جا کر تمہارا نقش بنا۔
(۱) اس روایت کو امام سیوطیؒ نے شرح الموافق میں نقل کیا ہے۔ محدثین کی تحقیق کے مطابق یہ حدیث موضوع ہے۔ تاہم اس کو استشہاداً ذکر کرنے والوں میں بڑے بڑے علماء شامل ہیں۔مثلاً علامہ آلوسی نے روح المعانی میں اور ملا علی قاری نے المرقاۃ میں اسے ذکر کیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر صاحب ؒکا استدلال بہرحال صحیح حدیث ((خُلِقَتِ الْمَلَائِکَۃُ مِنْ نُوْرٍ))سے ہے اور یہ حدیث محض استشہاداً بیان کی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ؒشاید اس حدیث کے موضوع ہونے سے واقف نہیں تھے‘ لہٰذا حاشیہ میں تصریح کرنا ضروری سمجھا گیا۔ (ادارہ)
(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار‘ باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن وعلی الذکر۔