تحریر

النحل

آیات ۱۸ تا ۴۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

18-19

تم اللّٰہ کی نعمتیں شمار نہیں کر سکتے

ویڈیو

وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۸﴾ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴿۱۹﴾

آیت 18

وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ

’’اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو اُن کا احاطہ نہیں کر سکو گے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی گنتی تو کجا اس کی بے شمار نعمتیں ایسی ہیں جن سے انسان فیض یاب تو ہو رہا ہے لیکن ان تک انسان کے علم اور شعور کی ابھی پہنچ ہی نہیں۔

اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۸﴾

’’یقینا اللہ بہت بخشنے والا ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘

آیت 19

وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴿۱۹﴾

’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘

20-23

اپنے جیسے انسانوں کو معبود نہ بناؤ

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾ اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَالَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مُّنۡکِرَۃٌ وَّ ہُمۡ مُّسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۲۲﴾ لَاجَرَمَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡتَکۡبِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾

آیت 20

وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾

’’اور جن کو یہ پکارتے ہیں اللہ کے سواوہ کچھ پیدا نہیں کرتے ‘ بلکہ وہ تو خود پیدا کیے گئے ہیں۔‘‘

انبیاء و رسل ؑہوں‘ ملائکہ ہوں یا اولیاء اللہ ‘سب مخلوق ہیں‘ خالق صرف اللہ کی ذات ہے۔

آیت 21

اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾

’’مردہ ہیں‘ زندہ نہیں ہیں۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔‘‘

جن اولیاء اللہ کے ناموں پر انہوں نے بت بنا رکھے ہیں وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں‘ وہ فوت ہو چکے ہیں اور انہیں کچھ معلوم نہیں کہ قیامت کب برپا ہو گی اور کب انہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

آیت 22

اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ

’’تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘

فَالَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مُّنۡکِرَۃٌ وَّ ہُمۡ مُّسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۲۲﴾

’’تو وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے دل منکر ہیں اور وہ تکبر کرتے ہیں۔‘‘

اس نکتے کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں آخرت کا یقین نہیں ہے وہ حق بات کو قبول کرنے سے کیوں جھجکتے ہیں اور ان کے اندر استکبار کیوں پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کا فلسفہ یہ ہے کہ جو شخص فطرتِ سلیمہ کا مالک ہے اس کے اندر اچھائی اور برائی کی تمیز موجود ہوتی ہے۔ اس کا دل اس حقیقت کا قائل ہوتا ہے کہ اچھائی کا اچھا بدلہ ملنا چاہیے اور برائی کا برا ؏ ’’گندم از گندم بروید‘ جوزجو!‘‘

یہی فلسفہ یا تصور منطقی طور پر ایمان بالآخرت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ مگر دنیا میں جب پوری طرح نیکی کی جزا اور برائی کی سزا ملتی ہوئی نظر نہیں آتی تو ایک صاحبِ شعور انسان لازماً سوچتا ہے کہ اعمال اور اس کے نتائج کے اعتبار سے دنیوی زندگی ادھوری ہے اور اس دنیا میں انصاف کی فراہمی کماحقہ ممکن ہی نہیں۔ مثلاً اگر ایک ستر سالہ بوڑھا ایک نوجوان کو قتل کر دے تو اس دنیا کا قانون اسے کیا سزا دے گا؟ ویسے تو یہاں انصاف تک پہنچنے کے لیے بہت سے کٹھن مراحل طے کرنے پڑتے ہیں‘ لیکن اگر یہ تمام مراحل طے کر کے انصاف مل بھی جائے تو قانون زیادہ سے زیادہ اس بوڑھے کو پھانسی پر لٹکا دے گا۔ لیکن کیا اس بوڑھے کی جان واقعی اس نوجوان مقتول کی جان کے برابر ہے؟ نہیں ‘ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ وہ نوجوان تو اپنے خاندان کا واحد سہارا تھا‘ اس کے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوئے‘ ایک نوجوان عورت بیوہ ہو ئی‘ خاندان کا معاشی سہارا چھن گیا۔ اس طرح اس کے لواحقین اور خاندان کے لیے اس قتل کے اثرات کتنے گھمبیر ہوں گے اور کہاں کہاں تک پہنچیں گے‘ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ دوسری طرف وہ بوڑھا شخص جو اپنی طبعی عمر گزار چکا تھا‘ جس کے بچے خود مختار زندگیاں گزار رہے ہیں ‘ جس کی کوئی معاشی ذمہ داری بھی نہیں ہے‘ اس کے پھانسی پرچڑھ جانے سے اس کے پس ماندگان پر ویسے اثرات مرتب نہیں ہوں گے جیسے اس نوجوان کی جان جانے سے اس کے پس ماندگان پر ہوئے تھے۔ ایسی صورت میں دنیا کا کوئی قانون مظلوم کو پورا پورا بدلہ دے ہی نہیں سکتا۔ ایسی مثالیں عقلی اور منطقی طور پر ثابت کرتی ہیں کہ یہ دُنیا نا مکمل ہے۔ اس دنیا کے معاملات اور افعال کا ادھورا پن ایک دوسری دنیا کا تقاضا کرتاہے جس میں اس دنیا کے تشنہ تکمیل رہ جانے والے معاملات پورے انصاف کے ساتھ اپنے اپنے منطقی انجام کو پہنچیں۔اب ایک ایسا شخص جو فطرتِ سلیمہ کا مالک ہے ‘اس کے شعور میں نیکی اور بدی کا ایک واضح اور غیر مبہم تصور موجود ہے‘ وہ لازمی طور پر آخرت کے بارے میں مذکورہ منطقی نتیجے پر پہنچے گااورپھر وہ قرآن کے تصورِ آخرت کو قبول کرنے میں بھی پس و پیش نہیں کرے گا ‘مگر اس کے مقابلے میں ایک ایسا شخص جس کے شعور میں نیکی اور بدی کا واضح تصور موجود نہیں ‘ وہ قرآن کے تصورِ آخرت پر بھی دل سے یقین نہیں رکھتا اورفکرِ آخرت سے بے نیاز ہو کر غرور اور تکبر میں بھی مبتلا ہو چکا ہے‘ اُس کا دل پیغامِ حق کو قبول کرنے سے بھی منکر ہو گا۔ ایسے شخص کے سامنے حکیمانہ درس اور عالمانہ وعظ سب بے اثر ثابت ہوں گے۔

آیت 23

لَاجَرَمَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ؕ

’’کوئی شک نہیں کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں۔‘‘

اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡتَکۡبِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾

’’ یقینا وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

24-25

گمراہی پھیلانا گناہ جاریہ ہے

ویڈیو

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ مَّا ذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّکُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾ لِیَحۡمِلُوۡۤا اَوۡزَارَہُمۡ کَامِلَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۙ وَ مِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِیۡنَ یُضِلُّوۡنَہُمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوۡنَ ﴿٪۲۵﴾

آیت 24

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ مَّا ذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّکُمۡ ۙ

’’اور جب اُن سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے؟‘‘

نبی اکرمﷺ کی دعوت کا چرچا جب مکہ کے اطراف و اکناف میں ہونے لگا تولوگ اہلِ مکہ سے پوچھتے کہ محمد (ﷺ) جوکہہ رہے ہیں کہ مجھ پر اللہ کا کلام نازل ہوتا ہے ‘تم لوگوں نے تو یہ کلام سنا ہے ‘چنانچہ تمہاری اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟ اس کے مضامین کیا ہیں؟

قَالُوۡۤا اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾

’’ وہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگوں کے قصے ہیں۔‘‘

کہ یہ کلام تو بس پرانے قصے کہانیوں پر مشتمل ہے ۔ یہ سب گزشتہ قوموں کے واقعات ہیں جو اِدھر اُدھر سے سن کر ہمیں سنا دیتے ہیں اور پھر ہم پر دھونس جماتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔

آیت 25

لِیَحۡمِلُوۡۤا اَوۡزَارَہُمۡ کَامِلَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۙ

’’تا کہ یہ اٹھائیں اپنے (گناہوں کے) بوجھ پورے کے پورے قیامت کے دن‘‘

یوں ان کے دل حق کی طرف مائل نہیں ہو رہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ روز قیامت وہ اپنی اس گمراہی اور سر کشی کے وبال میں گرفتار ہوں گے۔

وَ مِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِیۡنَ یُضِلُّوۡنَہُمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ

’’اور کچھ اُن لوگوں کے بوجھ بھی جنہیں یہ گمراہ کررہے ہیں لاعلمی میں۔‘‘

یعنی قیامت کے دن وہ نہ صرف اپنی گمراہی کا خمیازہ بھگتیں گے‘ بلکہ بہت سے دوسرے لوگوں کی گمراہی کا وبال بھی ان پر ڈالا جائے گا جنہیں اپنے نام نہاد ‘ دانشورانہ مشوروں سے انہوں نے گمراہ کیا ہو گا۔ جیسے قرب و جوار کے لوگ جب اہل مکہ سے اس کلام کے بارے میں پوچھتے تھے یا مکہ کے عام لوگ قرآن سے متاثر ہو کر اپنے سرداروں سے پوچھتے تھے کہ اُن کی اس کلام کے بارے میں کیا رائے ہے؟ ایسی صورت میں یہ لوگ اپنے عوام کو یہ کہہ کر گمراہ کرتے تھے کہ ہاں ہم نے بھی یہ کلام سنا ہے‘ اس میں کوئی خاص بات نہیں ہے ‘بس سنی سنائی باتیں ہیں اور پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوۡنَ ﴿٪۲۵﴾

’’آگاہ رہو !بہت برا ہو گا جو بوجھ وہ اٹھائے ہوں گے۔‘‘

26-27

اللہ کا ایسا عذاب جس کا گمان تک نہ تھا

ویڈیو

قَدۡ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَاَتَی اللّٰہُ بُنۡیَانَہُمۡ مِّنَ الۡقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیۡہِمُ السَّقۡفُ مِنۡ فَوۡقِہِمۡ وَ اَتٰىہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾ ثُمَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یُخۡزِیۡہِمۡ وَ یَقُوۡلُ اَیۡنَ شُرَکَآءِیَ الَّذِیۡنَ کُنۡتُمۡ تُشَآقُّوۡنَ فِیۡہِمۡ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ اِنَّ الۡخِزۡیَ الۡیَوۡمَ وَ السُّوۡٓءَ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾

آیت 26

قَدۡ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ

’’(اسی طرح کی) چالیں چلی تھیں انہوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے‘‘

ان سے پہلے بھی مختلف ا قوام کے لوگوں نے ہمارے انبیاء و رسل کی مخالفت کی تھی اور ان کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے آزمائے تھے اور سازشیں کی تھیں۔

فَاَتَی اللّٰہُ بُنۡیَانَہُمۡ مِّنَ الۡقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیۡہِمُ السَّقۡفُ مِنۡ فَوۡقِہِمۡ

’’تو اللہ حملہ آور ہوا ان کے قلعوں پر بنیادوں سے ‘ پھر گرپڑیں ان پر چھتیں ان کے اوپر سے ‘‘

جب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آیا تو مخالفین کی تمام سازشوں کو جڑوں سے اُکھاڑ پھینکا گیا اور ان کی بستیوں کو تلپٹ کر دیا گیا۔ سدوم اور عامورہ کی بستیوں کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں: {فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا جَعَلۡنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا } (ہود:۸۲) ’’پھر جب آ گیا ہمارا حکم تو ہم نے کر دیا اس کے اوپر والے حصے کو اس کا نیچے والا‘‘۔ یعنی اس کو تہ و بالا کر دیا۔ اس سلسلے میں قرآن حکیم کے اندر تو صرف انہی چند اقوام کا ذکر آیا ہے جن سے اہلِ عرب واقف تھے‘ ورنہ رسول تو ہر علاقے اور ہر قوم میں آتے رہے ہیں ‘ازروئے الفاظِ قرآنی: {وَّ لِکُلِّ قَوۡمٍ ہَادٍ ٪﴿۷﴾} (الرعد) ’’ اور ہر قوم کے لیے ایک راہنما ہے۔‘‘

خود ہندوستان کے علاقے میں بھی بہت سے انبیاء ورسل ؑکے مبعوث ہونے کے آثار ملتے ہیں۔ ہریانہ‘ ضلع حصار‘ جس علاقے میں میرا بچپن گزرا‘ وہاں مختلف مقامات پر سیاہ رنگ کی راکھ کے بڑے بڑے ٹیلے موجود تھے‘ جن کی کھدائی کے دوران بستیوں کے آثار ملتے تھے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے یہ اپنے زمانے کی پر رونق بستیاں تھیں ‘ان کے باشندوں نے اپنے رسولوں ؑکی نافرمانیاں کیں اور انہیں عذابِ خداوندی نے جلا کر بھسم کر ڈالا‘ جس طرح پومپیائی پرلاوے کی بارش ہوئی اور پوری بستی جلتے ہوئے لاوے کے اندر دب گئی۔ اس علاقے میں دریائے سرسوتی بہتا تھا جو ہندوستان کا ایک بہت بڑا دریا تھا اور اسے مقدس مانا جاتا تھا (دریائے گنگا بہت بعد کے زمانے میں وجود میں آیا۔)آج دریائے سرسوتی کا کچھ پتا نہیں چلتا کہ یہ کہاں کہاں سے گزرتا تھا اور ماہرین آثارِ قدیمہ اس کی گزر گاہ تلاش کر رہے ہیں۔یہ سب آثار بتاتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر مختلف زمانوں میں انبیاء و رسل ؑآئے اور ان کی نافرمانیوں کے سبب اُن کی قومیں اللہ کے عذاب کاشکار ہوئیں۔ان آثار کی شہادتوں کے علاوہ کچھ ایسے مکاشفات بھی ہیں کہ مشرقی پنجاب کے جس علاقے میں شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ علیہ کا مدفن ہے اس علاقے میں تیس انبیاء مدفون ہیں۔ واللہ اعلم!

وَ اَتٰىہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾

’’اور اُن پر عذاب وہاں سے آیا جہاں سے انہیں گمان تک نہ تھا۔‘‘

آیت 27

ثُمَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یُخۡزِیۡہِمۡ وَ یَقُوۡلُ اَیۡنَ شُرَکَآءِیَ الَّذِیۡنَ کُنۡتُمۡ تُشَآقُّوۡنَ فِیۡہِمۡ ؕ

’’پھر قیامت کے دن اللہ انہیں رسوا کرے گا اور کہے گا :کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کی حمیت میں تم جھگڑتے تھے؟‘‘

قیامت کے دن انہیں مزید رسوا کرنے کے لیے ان سے پوچھا جائے گا کہ آج تمہارے وہ من گھرٹ معبود کہاں ہیں جن کی حمایت اور حمیت کی وجہ سے تم بڑی بڑی جنگیں لڑنے پر تیار ہو جاتے تھے؟

قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ اِنَّ الۡخِزۡیَ الۡیَوۡمَ وَ السُّوۡٓءَ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾

’’کہیں گے وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے کہ یقینا آج کے دن رسوائی اور بد بختی کافروں ہی کے لیے ہے۔‘‘

28-29

قبر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے

ویڈیو

الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۪ فَاَلۡقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعۡمَلُ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ بَلٰۤی اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۸﴾ فَادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ فَلَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۲۹﴾

آیت 28

الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۪

’’جن (کی روحوں) کو قبض کرتے ہیں فرشتے اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے‘‘

ایسے لوگ جنہیں اپنی زندگی میں اللہ یاد ہے نہ آخرت‘ نیکی کی رغبت ہے نہ برائی سے نفرت‘ بس اپنی عیش کوشی اور نفس پرستی میں مگن ہیں۔ اسی حالت میں جب فرشتے ان کے پاس پروانۂ موت لے کر آ دھمکیں گے:

فَاَلۡقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعۡمَلُ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ

’’تو (اُس وقت) وہ اطاعت پیش کریں گے کہ ہم توکوئی برے کام نہیں کر رہے تھے۔‘‘

بَلٰۤی اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۸﴾

’’(تو فرشتے کہیں گے) کیوں نہیں ‘اللہ خوب جانتا ہے اسے جو کچھ تم کر رہے تھے۔‘‘

موت کے فرشتوں کے سامنے وہ سرتسلیم خم کرتے ہوئے اپنے اسلام اور اطاعت کا اظہار کریں گے اور اس طرح ان کے سامنے بھی جھوٹ بولنے کی کوشش کریں گے۔

آیت 29

فَادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ

’’اب تم داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں‘ اسی میں ہمیشہ ہمیش رہنے کے لیے ۔‘‘

فَلَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۲۹﴾

’’ پس کیا ہی برا ٹھکانہ ہے متکبرین کا!‘‘

30-31

سب سے بڑی خیر اللہ کی کتاب قرآنِ کریم

ویڈیو

وَ قِیۡلَ لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا مَاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّکُمۡ ؕ قَالُوۡا خَیۡرًا ؕ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃٌ ؕ وَ لَدَارُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ ؕ وَ لَنِعۡمَ دَارُ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾ جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ لَہُمۡ فِیۡہَا مَا یَشَآءُوۡنَ ؕ کَذٰلِکَ یَجۡزِی اللّٰہُ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۳۱﴾

آیت 30

وَ قِیۡلَ لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا مَاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّکُمۡ ؕ

’’اور (جب) پوچھا جاتا ہے اہلِ تقویٰ سے کہ یہ کیا نازل کیا ہے تمہارے رب نے ؟‘‘

دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں‘ جن کے دلوں میں اخلاقی حس بیدار اور جن کی روحیں زندہ ہیں‘ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہﷺ جو کلام آپ لوگوں کو سناتے ہیں وہ کیا ہے؟

قَالُوۡا خَیۡرًا ؕ

’’ وہ کہتے ہیں بھلائی۔ ‘‘

یعنی یہ کلام خیرہی خیر ہے اور ہماری ہی بھلائی کے لیے نازل ہواہے۔

لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃٌ ؕ وَ لَدَارُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ ؕ وَ لَنِعۡمَ دَارُ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾

’’جن لوگوں نے نیکی کی روش اختیار کی ان کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے‘ اور آخرت کا گھر تو کہیں بہتر ہے۔ اورکیا ہی اچھا ہے وہ گھر متقیوں کا!‘‘

آیت 31

جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ لَہُمۡ فِیۡہَا مَا یَشَآءُوۡنَ ؕ

’’باغات ہمیشہ رہنے والے جن میں وہ داخل ہوں گے‘ان کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی‘ ان کے لیے وہاں ہر وہ شے ہو گی جو وہ چاہیں گے۔‘‘

کَذٰلِکَ یَجۡزِی اللّٰہُ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۳۱﴾

’’اسی طرح اللہ بدلہ دے گا اپنے متقی بندوں کو۔‘‘

32

قبرجنّت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے

ویڈیو

الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ طَیِّبِیۡنَ ۙ یَقُوۡلُوۡنَ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمُ ۙ ادۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۳۲﴾

آیت 32

الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ طَیِّبِیۡنَ ۙ

’’ان (کی روحوں) کو فرشتے قبض کرتے ہیں درآنحالیکہ وہ پاک ہوتے ہیں‘‘

جن کی روحیں پاکیزہ اور جن کی زندگیاں تقویٰ کی آئینہ دار ہوتی ہیں‘ جب اُن کے پاس موت کے فرشتے آتے ہیں تو:

یَقُوۡلُوۡنَ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمُ ۙ ادۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۳۲﴾

’’کہتے ہیں سلام ہو آپ پر‘ داخل ہو جائیے جنت میں اپنے اعمال کے بدلے میں۔‘‘

33-34

نافرمانوں کو کس بات کا انتظار ہے

ویڈیو

ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِیَہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَوۡ یَاۡتِیَ اَمۡرُ رَبِّکَ ؕ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ وَ مَا ظَلَمَہُمُ اللّٰہُ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۳۳﴾ فَاَصَابَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۳۴﴾

آیت 33

ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِیَہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَوۡ یَاۡتِیَ اَمۡرُ رَبِّکَ ؕ

’’اب یہ لوگ کس شے کے منتظر ہیں سوائے اس کے کہ آ دھمکیں ان پر فرشتے یا آ جائے فیصلہ آپؐ کے رب کا!‘‘

گزشتہ بارہ برس سے رسول اللہﷺقریش مکہ کو دعوت دے رہے ہیں‘ دو تہائی کے قریب قرآن بھی اب تک نازل ہو چکا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں کو اب مزید کس چیز کا انتظار ہے؟ اب تو بس یہی مرحلہ باقی رہ گیا ہے کہ فرشتے اللہ کا فیصلہ لے کر پہنچ جائیں اور وہ نقشہ سامنے آ جائے جس کی جھلک سورۃ الفجر میں اس طرح دکھائی گئی ہے : {وَّ جَآءَ رَبُّکَ وَ الۡمَلَکُ صَفًّا صَفًّا ﴿ۚ۲۲﴾وَ جِایۡٓءَ یَوۡمَئِذٍۭ بِجَہَنَّمَ ۬ۙ یَوۡمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُ الۡاِنۡسَانُ وَ اَنّٰی لَہُ الذِّکۡرٰی ﴿ؕ۲۳﴾} ’’اور آئے گا آپؐ کا رب اور فرشتے صف بہ صف ۔اور لائی جائے گی اُس دن جہنم ‘ اُس دن ہوش آئے گا انسان کو ‘مگر کیا فائدہ ہو گاتب اسے اس ہوش کا!‘‘

کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ وَ مَا ظَلَمَہُمُ اللّٰہُ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۳۳﴾

’’یہی روش اختیار کی تھی انہوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے ۔ اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا ‘بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔‘‘

جن گزشتہ اقوام کے عبرت ناک انجام کے بارے میں تفصیلات قرآن میں بتائی جا رہی ہیں انہیں ان کے اپنے کرتوتوں کی سزا ملی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر قطعاً ظلم نہیں ہوا تھا۔

آیت 34

فَاَصَابَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۳۴﴾

’’پھر ان پر واقع ہو کر رہیں وہ برائیاں جو وہ کرتے تھے اور گھیر لیا ان کو اسی نے جس کا وہ استہزا کرتے تھے۔‘‘

35

شرک کے لیے خوشنما جواز

ویڈیو

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا عَبَدۡنَا مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ نَّحۡنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمۡنَا مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۚ فَہَلۡ عَلَی الرُّسُلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۳۵﴾

آیت 35

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا عَبَدۡنَا مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ نَّحۡنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا

’’اور کہتے ہیں یہ مشرک لوگ کہ اگر اللہ چاہتا تو اللہ کے سوا کسی کی پوجا نہ کرتے ‘نہ ہم اور نہ ہمارے آباء و اَجداد‘‘

ان کی دلیل یہ تھی کہ اس دنیا میں تو جو اللہ چاہتا ہے وہی کچھ ہوتا ہے‘ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہے۔ اگر وہ چاہتا کہ ہم کوئی دوسرے معبود نہ بنائیں اور ان کی پرستش نہ کریں‘ تو کیسے ممکن تھا کہ ہم ایسا کر پاتے؟ چنانچہ اگر اللہ نے ہمیں اس سے روکا نہیں ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس میں اس کی مرضی شامل ہے اور اس کی طرف سے ہمیں ایسا کرنے کی اجازت ہے۔

وَ لَا حَرَّمۡنَا مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۚ

’’اور نہ حرام قرار دیتے ہم اس کے (حکم کے) بغیر کسی بھی چیز کو۔ اسی طرح کیا تھا اُن لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے۔‘‘

فَہَلۡ عَلَی الرُّسُلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۳۵﴾

’’پس نہیں ہے رسولوں پر کچھ ذمہ داری سوائے واضح طور پر پہنچا دینے کے۔‘‘

ہمارے رسول ؑاس قسم کی کٹ حجتی اور کج بحثی میں نہیں الجھتے۔ ان کی ذمہ داری ہمارا پیغام واضح طور پر پہنچا دینے کی حد تک ہے اور یہ ذمہ داری ہمارے رسول ؑہمیشہ سے پوری کرتے آئے ہیں۔ پیغام پہنچ جانے کے بعد اسے تسلیم کرنا یا نہ کرنا متعلقہ قوم کا کام ہے‘ جس کے لیے ان کا ایک ایک فرد ہمارے سامنے جوابدہ ہے۔

36-37

رسولوں کی دعوت . . . . اللہ کی عبادت اور طاغوت سے بغاوت

ویڈیو

وَ لَقَدۡ بَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ ہَدَی اللّٰہُ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَیۡہِ الضَّلٰلَۃُ ؕ فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۳۶﴾ اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰی ہُدٰىہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّضِلُّ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۳۷﴾

آیت 36

وَ لَقَدۡ بَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ۚ

’’اور ہم نے تو ہر اُمت میں ایک رسول ؑبھیجا (اس پیغام کے ساتھ)کہ اللہ ہی کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو!‘‘

طاغوت کا لفظ ’طغٰی‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ لہٰذا جو کوئی اللہ کی بندگی اور اطاعت سے سرکشی اور سرتابی کر رہا ہو‘ وہ طاغوت ہے‘ چاہے وہ انسان ہو یا جن‘ کسی ریاست کا کوئی ادارہ ہو ‘ آئین ہو یا خود ریاست ہو۔ بہر حال جو بھی اللہ کی اطاعت سے سرتابی کر کے اس کی بندگی سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا‘ وہ گویا اللہ کے مقابلے میں حاکمیت کا دعویدار ہو گا اور اسی لیے طاغوت کے زمرے میں شمار ہو گا۔ طاغوت سے کنارہ کشی کا حکم سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۵۶میں اس طرح آیا ہے: {فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ٭ لَا انۡفِصَامَ لَہَا ؕ } ’’جس کسی نے کفر کیا طاغوت سے اور ایمان لایا اللہ پر تو یقینا اس نے تھام لیا ایک مضبوط حلقہ جس کو ٹوٹنا نہیں ہے۔‘‘

فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ ہَدَی اللّٰہُ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَیۡہِ الضَّلٰلَۃُ ؕ

’’ تو اُن میں کچھ ایسے بھی تھے جنہیں اللہ نے ہدایت دے دی‘اور کچھ وہ بھی تھے جن پر مسلط ہو گئی گمراہی۔‘‘

فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۳۶﴾

’’ تو تم گھومو پھرو زمین میں اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا!‘‘

تم اپنے تجارتی قافلوں کے ساتھ اصحابِ حجر کی بستیوں سے بھی گزرتے ہو‘ تم نے قومِ ثمود کے محلات کے کھنڈرات بھی دیکھے ہیں۔ تم قومِ مدین کے انجام سے بھی واقف ہو اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ سدوم اور عامورہ کی بستیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہواتھا۔ یہ تمام تاریخی حقائق تمہارے علم میں ہیں اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ ان سب کو کس جرم کی سزا بھگتنا پڑی تھی۔

آیت 37

اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰی ہُدٰىہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّضِلُّ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۳۷﴾

’’(اے نبیﷺ!)اگر آپ کو بہت خواہش ہے ان کی ہدایت کی تو یقینا اللہ ہدایت نہیں دیتا اُسے جس کو وہ گمراہ کر دیتا ہے‘اور ان کے لیے نہیں ہوں گے کوئی مدد گار۔‘‘

اس سلسلے میں اللہ کا قانون اٹل ہے ۔ اللہ کی طرف سے لوگوں تک حق کی دعوت پہنچانے کا پورابندوبست کیا جاتا ہے‘ ان پر ہدایت منکشف کی جاتی ہے اور بار بار انہیں موقع دیا جاتا ہے کہ وہ سیدھے راستے پر آ جائیں۔ لیکن اگر کوئی شخص حق کو واضح طور پر پہچان لینے کے بعد ہر بار اسے رد کر دے تو اس سے ہدایت کی توفیق سلب کر لی جاتی ہے۔ پھر وہ حق کو پہچاننے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کی گمراہی پر مہر تصدیق ثبت ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگوں ہی کے متعلق سورۃ البقرۃ کی آیت ۷میں فرمایا گیا ہے: {خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫} ’’ اللہ نے مہر لگا دی ہے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر‘ اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑ چکا) ہے‘‘۔ چنانچہ اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں آیت زیر نظر میں فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبیﷺ ! آپ کی شدید خواہش ہے کہ یہ لوگ ایمان لا کر راہِ ہدایت پر آ جائیں‘ مگر چونکہ یہ حق کو اچھی طرح پہچان لینے کے بعد اس سے روگردانی کر چکے ہیں اس لیے ان کی گمراہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے‘ اور اللہ کا اٹل قانون ہے کہ وہ ایسے گمراہوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ سورۃ القصص کی آیت ۵۶میں اسی اصول کو واضح تر انداز میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے: {اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ } ’’(اے نبیﷺ!) بے شک آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کوآپ چاہیں بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے۔‘‘

38-40

اللہ جھوٹوں کو گھر تک پہنچائے گا

ویڈیو

وَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ ۙ لَا یَبۡعَثُ اللّٰہُ مَنۡ یَّمُوۡتُ ؕ بَلٰی وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾ لِیُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِیۡ یَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ وَ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰذِبِیۡنَ ﴿۳۹﴾ اِنَّمَا قَوۡلُنَا لِشَیۡءٍ اِذَاۤ اَرَدۡنٰہُ اَنۡ نَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿٪۴۰﴾

آیت 38

وَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ ۙ لَا یَبۡعَثُ اللّٰہُ مَنۡ یَّمُوۡتُ ؕ

’’اور وہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں‘اپنی پکی قسمیں کہ اللہ ہر گز نہیں اٹھائے گا اُس کو جو مر جائے گا۔‘‘

مشرکینِ مکہ اگرچہ عمومی طور پر مرنے کے بعد دوسری زندگی کے قائل تھے مگر ان کا اس سلسلہ میں عقیدہ یہ تھا کہ جن بتوں کی وہ پوجا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے ان کے سفارشی ہوں گے اور اس طرح روزِ حشر کی تمام سختیوں سے وہ انہیں بچا لیں گے۔ لیکن ان کے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا۔ ان لوگوں کے اس عقیدہ کا تذکرہ قرآن میں متعدد بار ہوا ہے ۔ سورۃ الانعام میں ان لوگوں کا قول اس طرح نقل کیا گیا ہے: {وَ قَالُوۡۤا اِنۡ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا وَ مَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِیۡنَ ﴿۲۹﴾} ’’ اور وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے یہ ہماری زندگی مگر صرف دنیا کی اور ہم (دوبارہ) اٹھائے نہیں جائیں گے۔‘‘

بَلٰی وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾

’’کیوں نہیں‘ یہ وعدہ ہے اُس کے ذمہ سچا (کہ تم ضرور اٹھائے جائو گے) لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔‘‘

آیت 39

لِیُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِیۡ یَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ وَ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰذِبِیۡنَ ﴿۳۹﴾

’’تاکہ وہ واضح کر دے اُن پر وہ تمام چیزیں جن میں وہ لوگ اختلاف کرتے تھے اور اس لیے بھی کہ کفار جان لیں کہ وہی جھوٹے تھے۔‘‘

اللہ تعالیٰ پوری نوعِ انسانی کے ایک ایک فرد کو دوبارہ اٹھائے گا اور انہیں ایک جگہ جمع کرے گا ۔ پھر ان کے تمام اختلافی نظریات و عقائد کے بارے میں حتمی طور پر انہیں بتا دیا جائے گا۔ چنانچہ اس وقت تمام منکرینِ حق کو اقرار کیے بغیر چارہ نہ رہے گاکہ ان کے خیالات و نظریات واقعی جھوٹ اور باطل پر مبنی تھے۔

آیت 40

اِنَّمَا قَوۡلُنَا لِشَیۡءٍ اِذَاۤ اَرَدۡنٰہُ اَنۡ نَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿٪۴۰﴾

’’ہمارا قول تو کسی چیز کے بارے میں بس یہ ہوتا ہے ‘ جب ہم اس کا ارادہ کرتے ہیں کہ ہم فرماتے ہیں اُسے ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔‘‘

اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ حکم عالمِ امر کے بارے میں ہے ‘جبکہ عالمِ خلق میں یوں نہیں ہوتا (عالم امر اور عالم خلق کے بارے میں وضاحت اس سورۃ کی آیت ۲ اور سورۃ الاعراف کی آیت ۵۴کے ضمن میں گزر چکی ہے)۔ عالم امر میں کسی واقعے یا کسی چیز کے ظہور پذیر ہونے کے لیے اسباب ‘ وسائل اور وقت درکار نہیں‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ارادہ فرماکر کن فرماتے ہیں تو وہ چیز وجود میں آ جاتی ہے۔ عالم خلق میں بھی کلی اختیار تو اللہ ہی کا ہے مگر اس عالم کو عام طبعی قوانین کے مطابق چلایا جاتا ہے۔ چنانچہ عالم خلق میں کسی چیز کو وجود میں آنے اور مطلوبہ معیار تک پہنچنے کے لیے اسباب‘ وسائل اور وقت کی ضرورت پیش آتی ہے۔یہ کائنات اپنے تمام طبعی موجودات کے ساتھ عالم خلق کا اظہار ہے۔ آیت زیر نظر کے موضوع کی مناسبت سے یہاں میں کائنات کی تخلیق کے آغاز سے متعلق اپنی سوچ اور فکر کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔

کائنات کی تخلیق کے بارے میں ایک طرف تو پرانے فلسفیانہ تصورات ہیں اور دوسری طرف جدید سائنسی نظریات (theories) ۔فلسفیانہ تصورات کے مطابق سب سے پہلے وجودِ باری تعالیٰ سے عقلِ اوّل وجود میں آئی۔ عقلِ اوّل سے پھر فلکِ اوّل اور پھر فلکِ اوّل سے فلکِ ثانی وغیرہ۔ یہ مشائین کے فلسفے ہیں جو ارسطو اور اس کے شاگردوں کے نظریات کے ساتھ دنیا میں پھیلے اور ہمارے ہاں بھی بہت سے متکلمین ان سے متاثر ہوئے۔ بہر حال جدید سائنسی انکشافات کے ذریعے ان میں سے کسی بھی نظریے کی کہیں کوئی تائید و تصدیق نہیں ہوئی۔

دوسری طرف جدید فزکس کے میدان میں اعلیٰ علمی سطح پر اس سلسلے میں جتنے بھی نظریات (theories) ہیں اُن میں’’عظیم دھماکے‘‘ (Big Bang) کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس تصور کے تحت Big Bang کے نتیجے میں ارب ہا ارب درجۂ حرارت کے حامل بے شمار ذرات وجود میں آئے۔ یہ ذرات تیزی سے حرکت کرتے ہوئے مختلف forms میں اکٹھے ہوئے تو کہکشائیں (galaxies) وجود میں آئیں اور چھوٹے بڑے بے شمار ستاروں کا ایک جہان آباد ہو گیا۔ انہی ستاروں میں ایک ہماراسورج بھی تھا ‘جس کے اندر مزید ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں اس کے سیارے (planets) وجود میں آئے۔ سورج کے ان سیاروں میں سے ایک سیارہ ہماری زمین ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی ہوتی رہی اور بالآخر اس پر نباتاتی اور حیوانی زندگی کے لیے سازگار ماحول وجود میں آیا ۔آج کی سائنس فی الحال ’’بگ بینگ‘‘سے آگے کوئی نظریہ قائم کرنے سے قاصر ہے۔ اس نظریے سے جو معلومات سائنس نے اخذ کی ہیں وہ ان تمام حقائق کے ساتھ مطابقت (corroboration) رکھتی ہیں جن کا علم اس موضوع پر ہمیں قرآن سے ملتا ہے۔ اس سے پہلے مادے کے بارے میں سائنس قانون بقائے مادہ (Law of conservation of mass) کی قائل تھی کہ مادہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا‘ مگرنئے نظریے کو اپنا کر سائنس نے نہ صرف بگ بینگ کو کائنات کا نقطہ آغاز تسلیم کر لیا ہے بلکہ یہ بھی مان لیا ہے کہ مادہ ایک خاص وقت تک کے لیے ہے اور ایک خاص وقت کے بعد ختم ہو جائے گا۔

جہاں تک کا ئنات کی تخلیق کے آغاز کے بارے میں میری اپنی سوچ کا تعلق ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے ایک امرِ ’’کُن‘‘ سے ہوئی (اللہ کے حکم سے ‘نہ کہ اُس کی ذات سے)۔ پھر اس امر ’’کن‘‘ کا ظہور ایک خنک نور یا ٹھنڈی روشنی کی صورت میں ہوا (یہ خنک نور حرفِ کن کا ظہور تھا نہ کہ ذاتِ باری تعالیٰ کا)۔اس روشنی میں حرارت نہیں تھی ‘گویا یہ مادی روشنی (material light) کے وجود میں آنے سے پہلے کادور تھا۔آج جس روشنی کو ہم دیکھتے یا پہچانتے ہیں اس میں حرارت ہوتی ہے اور اسی حرارت کی وجہ سے یہ material light ہے۔ امرِ ’’کن‘‘ سے ظہور پانے والے اس خنک نور سے پہلے مرحلے پر ملائکہ کی پیدائش ہوئی۔ جیسے کہ مسلم شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث مروی ہے کہ حدیث((خُلِقَتِ الْمَلَائِکَۃُ مِنْ نُوْرٍ)) یعنی ’’ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو نور سے پیدا کیا‘‘۔ اسی نور سے انسانی ارواح پیدا کی گئیں ‘ اورسب سے پہلے روحِ محمدی ﷺ پیدا کی گئی‘جیسا کہ حدیث بیان کی جاتی ہے : حدیث(( اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ))۱ یعنی اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرا نور پیدا کیا ۔ ’’نُورِی‘‘ اور ’’رُوحِی‘‘ گویا دو مترادف الفاظ ہیں ‘کیونکہ روح کا تعلق بھی نور سے ہے۔ بہرحال یہ کائنات کی تخلیق کا مرحلہ اول ہے جس میں فرشتوں اور انسانی ارواح کی تخلیق ہوئی۔

اس کے بعد کسی مرحلے پر اس خنک نور میں کسی نوعیت کا زوردار دھماکہ (explosion) ہوا جس کو آج کی سائنس’’بگِ بینگ‘‘ کے نام سے پہچانتی ہے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں حرارت کا وہ گولا وجود میں آیا‘ جو بہت چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل تھا۔ ان ذرات کا درجہ حرارت ناقابل تصور حد تک تھا۔ یہ گویا طبعی دنیا (Physical World) کا نقطہ آغاز تھا۔ اسی دور میں اس آگ کی لپٹ سےِ جنات پیدا کیے گئے اور انہی انتہائی گرم ذرات سے کہکشائیں‘ ستارے اور سیارے وجود میں آئے۔

ان سیاروں میں سے ایک سیارہ یا کرہ ہماری زمین ہے جو ابتدا میں انتہائی گرم تھی۔ اس کے ٹھنڈا ہونے پر اس کے اندر سے بخارات نکلے جو اس کے گرد ایک ہالے کی شکل میں جمع ہو گئے۔ ان بخارات سے پانی وجود میں آیا جو ہزار ہا برس تک زمین پر بارش کی صورت میں برستا رہا۔ اس کے نتیجے میں تمام روئے زمین پر ہر طرف پانی ہی پانی پھیل گیا۔ اُس وقت تک زمین پر پانی کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ یہی وہ دور تھا جس کا ذکر قرآن میں بایں الفاظ کیا گیا ہے: {وَّ کَانَ عَرۡشُہٗ عَلَی الۡمَآءِ } (ھود:۷) ’’کہ اُس کا عرش (اُس وقت) پانی پر تھا‘‘۔ پھر زمین جب مزید ٹھنڈا ہونے پر سکڑی تو اس کی سطح پر نشیب و فراز نمودار ہوئے۔ کہیں پہاڑ وجود میں آئے تو کہیں سمندر۔اس کے بعد نباتاتی اور حیوانی حیات کا آغاز ہو۔ اس حیات کے ارتقاء کے بلند ترین مرحلے پر انسان کی تخلیق ہوئی اور حضرت آدمؑ کی روح ان کے وجود کو سونپی گئی۔ حضرت آدمؑ کی تاجپوشی کا یہی واقعہ ہے جہاں سے قرآن آدمؑ کی تخلیق کا تذکرہ کرتا ہے۔ اس لحاظ سے انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کااعلیٰ ترین شاہکار بھی ہے اور اس پوری کائنات کی تخلیق کا اصل مقصود و مطلوب بھی۔

یہاں ایک نکتہ یہ بھی سمجھ لیں کہ عالمِ خلق اور عالمِ امر بالکل الگ الگ نہیں ہیں ۔یعنی یوں نہیں کہا جا سکتا کہ یہاں تک تو عالم خلق ہے اور یہاں سے آگے عالم امر ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے‘ بلکہ یہ دونوں عالم ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط اور باہم گندھے ہوئے ہیں۔ مثلاًاس عالم خلق میں تمام انسانوں کی ارواح موجود ہیں‘ جن کا تعلق عالم امر سے ہے : {وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ } (بنی اسرائیل :۸۵) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ علیہ نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ ‘‘میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض نیک بندوں کی ارواح کو فرشتوں کے طبقۂ اسفل میں شامل کر لیتے ہیں‘ چنانچہ یہ نیک ارواح ان فرشتوں کے ساتھ سرگرمِ عمل رہتی ہیں جو اللہ کے احکام کی تعمیل و تنفیذ میں مصروف ہیں۔ اسی طرح فرشتے جو کہ عالم امر کی مخلوق ہیں وہ بھی یہاں عالم خلق میں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ دو دو فرشتے تو ہم میں سے ہر انسان کے ساتھ بطور نگران مقرر کیے گئے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

حدیث((مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُوْنَہٗ بَیْنَھُمْ اِلاَّ نَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَحَفَّتْھُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ فِیْمَنْ عِنْدَہٗ)) ۱

’’اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں کچھ لوگ کتاب اللہ کی تلاوت اور اس کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے جمع نہیں ہوتے مگر یہ کہ ان کے اوپر سکینت نازل ہوتی ہے‘ اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ‘ فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین (ملأ اعلیٰ) میں ان کا ذکر کرتا ہے۔‘‘

اس حدیث کی رو سے درسِ قرآن کی اس محفل میں یقینا فرشتے موجود ہیں‘ وہ عالم امر کی شے ہیں‘ ہم نہ انہیں دیکھ سکتے ہیں نہ ان سے خطاب کر سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اہلِ ایمان جنات بھی موجود ہوں اور قرآن سن رہے ہوں۔چنانچہ ارواح‘ فرشتے اور وحی تینوں کا تعلق اگرچہ عالم امر سے ہے مگر ان کا عمل دخل عالم خلق میں بھی ہے۔ اس طرح عالم خلق اور عالم امر کو بالکل الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں میں مرزا عبدالقاد ربیدلؔ کے ایک مشہور شعر کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جو تخلیقِ کائنات اور تخلیق آدمؑ کے اس فلسفہ کو بہت خوبصورتی سے واضح کرتا ہے:

ہر دو عالمِ خاک شد تا بست نقشِ آدمی

اے بہارِ نیستی از قدرِ خود ہشیار باش!

مرزا عبدالقاد ربیدلؔ ہندوستان میں اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں تھے۔ وہ عظیم فلسفی اور فارسی کے بہت بڑے شاعر تھے۔ ان کا شمار دنیا کے چوٹی کے فلسفیوں میں ہوتا تھا۔ ان کی شاعرانہ عظمت کے سامنے مرزا غالب بھی پانی بھرتے اور ان کی طرز کو اپنانے میں فخر محسوس کرتے نظر آتے ہیں: ؎

طرزِ بیدل ؔمیں ریختہ لکھنا

اسد اللہ ؔخاں قیامت ہے!

موضوع کی اہمیت کے پیش نظر یہاں مرزا بیدلؔ کے مندرجہ بالا شعر کی وضاحت ضروری ہے ۔ اس شعر میں وہ فرماتے ہیں’’ ہر دو عالم خاک شد‘‘ یعنی دونوں عالم خاک ہو گئے۔ شاعر کے اپنے ذہن میں اس کی وضاحت کیا تھی اس کے بارے میں شاعر خود جانتا ہے یا اللہ تعالیٰ ---- لیکن میں اس سے یہ نکتہ سمجھا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نےِ عالم امر کو تنزل کے مختلف مراحل سے گزار کر عالمِ خلق کی شکل دی۔ پھر اس کے مزید تنزلات کے نتیجے میں زمین (مٹی)پیدا کی گئی ۔گویا دونوں جہانوں نے خاک کی صورت اختیار کر لی‘ تب جا کر کہیں حیاتِ ارضی کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر اس سلسلے میں ارتقا کا وہ بلند ترین مرحلہ آیا: ’’تابست نقشِ آدمی!‘‘ جب آدمی کا نقش بننا شروع ہوا۔

دوسرے مصرعے میں (اے بہارِ نیستی از قدرِ خود ہشیار باش!) ’’نیست‘‘ کے فلسفے کو بھی اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ’’وحدت الوجود‘‘ کے فلسفے کے مطابق حقیقی وجود صرف اللہ کا ہے ‘ باقی جو کچھ بھی ہمیں نظر آتا ہے اس میں سے کسی چیز کا وجود حقیقی نہیں ہے۔ گویا اللہ کے علاوہ اس کائنات کی ہر چیز ’’نیست‘‘ ہے ’’ہست‘‘ نہیں ہے:

کُلُّ مَا فِی الْـکَوْنِ وَ ھْمٌ اَوْ خَیَالٌ

اَوْ عُکُوسٌ فِی المَرایَا اَوْ ظِلَال

یعنی اللہ کے وجود کے علاوہ جو وجود بھی نظر آتے ہیں وہ وہم ہیں یا خیالی تصویریں ۔اس طرح یہ تمام عالم گویا ’’نیست‘‘ ہے اور اس عالمِ نیست کی ’’بہار ‘‘انسان ہے‘جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : {خَلَقۡتُ بِیَدَیَّ ؕ} ( صٓ:۷۵) کہ میں نے اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے۔ اللہ کا ایک ہاتھ گویا عالمِ امر اوردوسرا ہاتھ عالم خلق ہے۔ اس طرح انسان اللہ تعالیٰ کے عملِ تخلیق کا کلائمکس ‘ مسجودِ ملائک اورخلیفۃ اللہ ہے۔ چنانچہ مرزا بیدک فرماتے ہیں(اے بہارِ نیستی از قدرِ خود ہوشیار باش!)کہ اے انسان! اے اس عالمِ نیستی کی بہار! ذرا اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانو! تمہیں وجود میں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دو عالم کو نہ جانے تنزلات کی کن کن منازل سے نیچے اُتار کر خاک کیا ‘تب کہیں جا کر تمہارا نقش بنا۔

(۱) اس روایت کو امام سیوطیؒ نے شرح الموافق میں نقل کیا ہے۔ محدثین کی تحقیق کے مطابق یہ حدیث موضوع ہے۔ تاہم اس کو استشہاداً ذکر کرنے والوں میں بڑے بڑے علماء شامل ہیں۔مثلاً علامہ آلوسی نے روح المعانی میں اور ملا علی قاری نے المرقاۃ میں اسے ذکر کیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر صاحب ؒکا استدلال بہرحال صحیح حدیث ((خُلِقَتِ الْمَلَائِکَۃُ مِنْ نُوْرٍ))سے ہے اور یہ حدیث محض استشہاداً بیان کی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ؒشاید اس حدیث کے موضوع ہونے سے واقف نہیں تھے‘ لہٰذا حاشیہ میں تصریح کرنا ضروری سمجھا گیا۔ (ادارہ)

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار‘ باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن وعلی الذکر۔

یوٹیوب پر دیکھیے