سورۂ یونس سے شروع ہونے والے مکی سورتوں کے طویل سلسلے کی اب تک ہم چھ سورتوں کا مطالعہ کر چکے ہیں۔ ان چھ سورتوں کو بھی ہم نے تین تین سورتوں کے مزید دو ذیلی گروپس میں تقسیم کیا تھا۔ پہلے گروپ میں شامل تین سورتیں ( یونس‘ ہود اور یوسف) نسبتاً طویل ہیں‘جبکہ دوسرے گروپ کی سورتیں ( الرعد‘ ابراہیم اور الحجر) نسبتاً چھوٹی ہیں۔ دوسرے گروپ کی اِن سورتوں میں پہلی دو یعنی سورۃ الرعد اور سورۂ ابراہیم میں نسبت زوجیت ہے جبکہ سورۃ الحجر بالکل منفرد نوعیت کی سورۃ ہے۔ اب سورۃ النحل سے مکی سورتوں کے اس طویل سلسلے کے تیسرے ذیلی گروپ کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس گروپ میں سورۃ النحل ‘ سورۂ بنی اسرائیل اور سورۃ الکہف شامل ہیں۔یہ تینوں سورتیں بھی نسبتاً طویل ہیں۔ ان میں سورۃ النحل منفرد ہے جبکہ سورۂ بنی اسرائیل اور سورۃ الکہف میں جوڑے کا تعلق ہے۔
سورۃ النحل کا زمانۂ نزول مکہ کا آخری دور معلوم ہوتا ہے ۔ اس سورۃ کی خاص اہمیت یہ ہے کہ اس میں اللہ کی نعمتوں کا ذکر بہت جامعیت کے ساتھ ہوا ہے اور اس کے مضامین کی سورۃ الانعام اور سورۃ الروم کے مضامین کے ساتھ گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔
جب ہم نے اپنا رسول ؐ بھیج دیا اور اس پر اپناکلام بھی نازل کرنا شروع کر دیا ہے تو گویا فیصلہ کن وقت آن پہنچا ہے۔ اب معاملہ صرف مہلت کے دورانیے کا ہے کہ ہمارے رسول اور ہمارے پیغام کا انکار کرنے والوں کو مشیت الٰہی کے مطابق کس قدر مہلت ملتی ہے۔ بہر حال اب جلدی مچانے کی ضرورت نہیں۔ اللہ کا عذاب بس اب آیا ہی چاہتا ہے ‘اس کے لیے اب بہت زیادہ وقت نہیں رہ گیا۔
سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱﴾
’’وہ پاک اور بلند و بالا ہے اُس شرک سے جو وہ کرتے ہیں۔‘‘
’’وہ اُتارتا ہے فرشتوں کو اپنے امر کی روح کے ساتھ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے‘ کہ خبردار کر دو (میرے بندوں کو ) کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے پس تم میرا ہی تقویٰ اختیار کرو۔‘‘
بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ سے مراد اللہ کی وحی ہے۔ یعنی حضرت محمدﷺ کو اللہ نے اپنی وحی کے لیے چن لیا اور آپﷺ کی طرف حضرت جبرائیل ؑوحی لے کر آئے۔ یہاں پر لفظ’’امر‘‘ کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ سورۃ الاعراف کی آیت ۵۴میں فرمایا گیا: {اَلَا لَہُ الۡخَلۡقُ وَ الۡاَمۡرُ ؕ} ’’آگاہ ہوجاؤ‘ اُسی کے لیے خلق ہے اور اُسی کے لیے امر‘‘۔ یعنی عالمِ خلق اور عالم امر دو الگ الگ عالم ہیں۔ عالم امر کا معاملہ یہ ہے کہ اُس میں وقت کا عامل بالکل کارفرما نہیں۔ اس عالم میں کسی کام کے کرنے یا کوئی واقعہ وقوع پذیر ہونے میں وقت درکار نہیں ہوتا۔ بس اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے اور اس کے ’’کُنْ ‘‘ فرمانے سے وہ کام ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ سورۂ یٰـسٓ میں فرمایا گیا: {اِنَّمَاۤ اَمۡرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۸۲﴾} ’’اُس کا امر تو یہی ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو بس یہی ہوتا کہ وہ اسے کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔‘‘
اس کے برعکس عالم خلق میں کسی کام کے پایہ تکمیل تک پہنچنے میں وقت درکار ہوتا ہے ۔جیسے قرآن میں متعدد بار فرمایا گیا کہ اللہ نے زمین و آسمان چھ دنوں میں تخلیق کیے ۔ اسی طرح دنیا کا سارا نظام عالم خلق کے اصولوں پر چل رہا ہے۔ مثلاً آم کی گٹھلی سے کونپلیں پھوٹتی ہیں‘ پھر بڑھتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ اس سارے عمل میں وقت درکار ہوتا ہے۔
یہاں پر روح کے ذکر کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ روح کا تعلق عالمِ امر سے ہے ۔ عالم امر کی صرف تین چیزیں ہی ہمارے علم میں ہیں۔ ملائکہ‘ روح اور وحی۔ قرآن میں ملائکہ کو بھی روح کہا گیاہے۔ جیسے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے لیے روح القدس اور روح الامین کے الفاظ آئے ہیں۔ سورۃ الشعراء میں فرمایا گیا: {نَزَلَ بِہِ الرُّوۡحُ الۡاَمِیۡنُ ﴿ۙ۱۹۳﴾} جبکہ سورۃ البقرۃ کی آیت ۸۷میں ارشاد ہوا: {وَ اَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ؕ} ۔ اسی طرح قرآن میں وحی کو بھی روح کہا گیا ہے‘ اور یہ وحی نازل بھی روح پر ہوتی ہے۔ جب محمد رسول اللہﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپﷺ اس کا ادراک طبعی حواسِ خمسہ سے نہیں کرتے تھے‘ بلکہ وحی براہِ راست آپﷺ کے قلبِ مبارک پر نازل ہوتی تھی۔ اس لیے کہ قلبِ محمدیؐ روحِ محمدیﷺ کامسکن تھا : {نَزَلَ بِہِ الرُّوۡحُ الۡاَمِیۡنُ ﴿ۙ۱۹۳﴾ عَلٰی قَلۡبِکَ لِتَکُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِیۡنَ ﴿۱۹۴﴾} ( الشعراء) ۔
چنانچہ وحی بھی روح ہے‘ اس کولانے والے جبرائیل ؑامین بھی روح ہیں اور اس کا نزول بھی روحِ محمدیﷺپر ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں جگر مراد آبادیؔ کا یہ شعر ان کی کسی خاص کیفیت کا مظہر معلوم ہوتا ہے ؎
’’اور چوپایوں کو بھی اُس نے پیدا کیا ‘ ان میں تمہارے لیے گرمی کا ساما ن اور کئی دوسرے فائدے بھی ہیں‘ اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو۔‘‘
بعض جانوروں کی اون سے تم لوگ لباس بنتے ہو‘ جو سردی کے موسم میں تمہیں گرمی پہنچاتا ہے‘بعض جانوروں کے بالوں سے بہت سی دوسری چیزیں بناتے ہو۔ اسی طرح یہ جانور اور بھی بہت سی صورتوں میں تمہارے لیے مفید اور مدد گار ہوتے ہیں ‘حتیٰ کہ تمہاری خوراک کی بیشتر ضروریات بھی انہی سے پوری ہوتی ہیں۔
’’اور تمہارے لیے ان میں بڑی شان و شوکت ہے جب تم شام کو انہیں چرا کر لاتے ہو اور جب (صبح کے وقت) چرانے کے لیے لے جاتے ہو۔‘‘
دیہاتی ماحول میں مویشیوں کی حیثیت بہت قیمتی سرمائے کی سی ہوتی ہے ‘اسی لیے انہیں مال مویشی کہا جاتا ہے۔ یہ جانور جب صبح چرنے کے لیے جاتے ہیں یا شام کے وقت جنگل سے چر کر واپس آ رہے ہوتے ہیں تو اُن کے مالکوں کے لیے یہ بڑا خوش کن منظر ہوتا ہے۔ جانوروں کا گلّہ یا ریوڑ جتنا بڑا ہو گا ‘ اس کے مالک کی حیثیت اور شان و شوکت اسی قدر زیادہ سمجھی جائے گی۔
’’اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں ایسی بستیوں کی طرف جن تک تم نہیں پہنچنے والے ہوتے مگر جان توڑ کر۔‘‘
ان میں ایسے جانور بھی ہیں جو سازو سامان کے نقل و حمل میں تمہارے کام آتے ہیں اور اُن کے بغیر تم یہ بھاری چیزیں اٹھا کر دور دراز علاقوں تک نہیں پہنچا سکتے ۔
’’اور(اسی نے پیدا کیے ) گھوڑے اور خچر اور گدھے‘ کہ تم ان پر سواری کرو اور (تمہارے لیے ہے اُن میں ) زینت بھی ۔‘‘
ان مویشیوں سے انسان کو بہت سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں اور یہ اس کے لیے باعثِ زیب و زینت بھی ہیں۔ خصوصی طور پر گھوڑا بہت حسین ا ور قیمتی جانور ہے اور اس کا مالک اسے اپنے لیے باعثِ فخر و تمکنت سمجھتاہے ۔
وَ یَخۡلُقُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸﴾
’’اور (ایسی چیزیں بھی) وہ پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم ہی نہیں۔‘‘
یعنی یہ تو چند وہ چیزیں ہیں جن کے بارے میں تم لوگ جانتے ہو‘ مگر اللہ تعالیٰ تو بے شمار ایسی چیزیں بھی تخلیق فرماتا ہے جن کے بارے میں تمہیں کچھ بھی علم نہیں۔
’’اور اللہ تک پہنچانے والا سیدھا راستہ ہے اور ان میں کچھ ٹیڑھے بھی ہیں۔‘‘
یہ سیدھا راستہ توحید کا راستہ ہے ۔ یہاں اس راستے کو ’’ قصد السبیل‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن میں اسے صراطِ مستقیم بھی کہا گیا ہے اور سوآء ا لسبیل بھی۔ یہی ایک راستہ ہے جو انسان کو اللہ تک پہنچاتا ہے ‘مگر بہت سے لوگ اس راستے سے بھٹک کر ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں پر مڑ جاتے ہیں جو انہیں گمراہی کے گڑھوں میں گرادیتی ہیں۔
وَ لَوۡ شَآءَ لَہَدٰىکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿٪۹﴾
’’اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔‘‘
اللہ اگر چاہتا تو سب انسانوں کو اسی ایک سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق اور سمجھ بوجھ دے دیتا۔
’’وہی ہے جس نے اتارا ہے آسمان سے تمہارے لیے پانی‘ اسی سے ہے (تمہارا )پینااور اسی سے ہیں درخت (نباتات وغیرہ) ‘جن میں تم (اپنے جانوروں کو) چراتے ہو۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہی بارش اور برف کی صورت میں بادلوں سے پانی برساتا ہے جس پر انسانی زندگی کا براہِ راست انحصار ہے اور پھر یہی پانی بے شمار نباتاتی اور حیوانی مخلوقات کو زندگی بخشتا ہے جو انسان ہی کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔
’’ یقینا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی شانِ خلاقی کے بے شمار انداز ہیں‘ اس کی تخلیق میں لامحدود تنوع ‘ بوقلمونی اور رنگا رنگی ہے۔ چنانچہ اب ایک دوسرے پہلو سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر ہونے جا رہا ہے:
’’اور اُس نے مسخر کر دیا تمہارے لیے رات اور دن کو‘‘
انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں رات اپنی جگہ اہم ہے اور دن کی اپنی اہمیت ہے۔ رات میں مجموعی طور پرایک سکون ہے۔ یہ انسانوں اور دوسرے جانداروں کے لیے باعثِ راحت ہے‘ اس میں وہ آرام کرتے ہیں‘ سوتے ہیں اور صبح تازہ دم ہو کر اٹھتے ہیں۔ دوسری طرف دن میں بھاگ دوڑ ‘ محنت‘ جدوجہد اور مختلف النوع انسانی سرگرمیاں ممکن ہوتی ہیں۔ اگر اس پہلو سے دنیا کے اجتماعی نظام کو دیکھا جائے تو یہ پورا نظام رات اور دن کے وجود کا مرہونِ منت نظر آتا ہے۔ نباتاتی نظام کو ہی لے لیجیے۔ اس کے لیے رات اور دن دونوں ہی ناگزیر ہیں۔ دن کو سورج کی روشنی اور تمازت سے نباتات کے لیے Photosynthesis کا عمل ممکن ہوتا ہے جو ان کی نشوونما کے لیے ناگزیر ہے۔ فصلوں اور پھلوں کوبھی پکنے کے لیے سورج کی روشنی اور حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری طرف رات کو نباتات respiration کے عمل کے ذریعے سے آکسیجن حاصل کرتے ہیں۔ گویا رات اور دن کے بغیر نباتات کا وجود ممکن ہی نہیں ہے اور انسانی زندگی میں نباتات کے عمل دخل کا تصور کریں تو اس ایک مثال سے ہی یہ حقیقت سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دن اور رات کو انسان کے لیے مسخر کر دینا کتنی بڑی نعمت ہے۔
’’اور وہی ہے جس نے سمندر کو تمہاری ضروریات پوری کرنے میں لگا دیا ہے تاکہ تم کھاؤ اس سے تازہ گوشت‘‘
سمندری خوراک ہمیشہ سے انسانی زندگی میں بہت اہم رہی ہے ۔دورِ جدید میں اس کی افادیت مزید نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے جس کی وجہ سے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔
’’اور اُس نے زمین میں لنگر ڈال دیے ہیں کہ تمہیں لے کر لڑھک نہ جائے اور اس میں ندیاں( بہا دی ہیں) اور راستے (بنا دیے ہیں) تا کہ تم اپنی منزلوں تک پہنچا کرو۔‘‘
یہاں اَنْہٰرًا وَّسُبُلاً کے اکٹھے ذکر کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو عملی طور پر بھی ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے ۔ پہاڑی سلسلوں میں عام طور پر ندیوں کی گزر گاہوں کے ساتھ ساتھ ہی راستے بنتے ہیں ۔ اسی طرح پہاڑوں کے درمیان قدرتی وادیاں انسانوں کی گزر گاہیں بھی بنتی ہیں اور پانی کے ریلوں کو راستے بھی فراہم کرتی ہیں۔
’’اور دوسری علامتیں بھی ہیں۔ اور وہ ستاروں سے بھی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی مد د کے لیے زمین میں طرح طرح کی علامتیں بنائیں تا کہ مختلف علاقوں اور راستوں کی پہچان ہو سکے۔اسی طرح آسمان کے ستاروں کو بھی سمتوں اور راستوں کے تعین کا ایک ذریعہ بنا دیا۔ پرانے زمانے میں سمندری اور صحرائی سفر رات کے وقت ستاروں کی مدد سے ہی ممکن ہوتے تھے۔
’’توکیا جو (یہ سب کچھ) پیدا کرتا ہے اُن کی طرح ہے جو (کچھ بھی) پیدا نہیں کرتے؟ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟‘‘
مشرکینِ عرب نے مختلف ناموں سے جو بت بنا رکھے تھے اُن کے بارے میں اُن کا عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے۔ سورۂ یونس کی آیت ۱۸ میں ان کے اس عقیدے کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے : {وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ } ’’اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں‘‘۔ اللہ کے بارے میں ان کا ماننا تھا کہ وہ کائنات اور اس میں موجود ہر چیز کا خالق ہے اور وہ یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ ان کے معبودوں کا اس تخلیق میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی وہ کوئی چیز تخلیق کر سکتے ہیں۔ قرآن میں ان کے اس عقیدے کا بھی بار بار ذکر آیا ہے : {وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ } (لقمان:۲۵) ’’ اگر آپؐ ان سے پوچھیں گے کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو لازماً یہی کہیں گے کہ اللہ نے!‘‘ان لوگوں کے اسی عقیدے کی بنیاد پر یہاں یہ سوال پوچھاگیا ہے کہ تمہارے یہ خود ساختہ معبود ‘جو کچھ بھی تخلیق کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ‘ کیا اُس اللہ کی مانند ہو سکتے ہیں جو اس کائنات اور اس میں موجود ہر چیز کا خالق ہے؟ اور اگر تم تسلیم کرتے ہو کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو کیا پھر بھی تم لوگ نصیحت نہیں پکڑتے ہو؟