نَبِّیٔۡ عِبَادِیۡۤ اَنِّیۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿ۙ۴۹﴾
’’(اے نبیﷺ!) میرے بندوں کو بتا دیجئے کہ میں یقینا بہت بخشنے والا‘ نہایت رحم کرنے والا ہوں۔‘‘
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
نَبِّیٔۡ عِبَادِیۡۤ اَنِّیۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿ۙ۴۹﴾ وَ اَنَّ عَذَابِیۡ ہُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِیۡمُ ﴿۵۰﴾ وَ نَبِّئۡہُمۡ عَنۡ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۵۱﴾ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ اِنَّا مِنۡکُمۡ وَجِلُوۡنَ ﴿۵۲﴾ قَالُوۡا لَا تَوۡجَلۡ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۵۳﴾ قَالَ اَبَشَّرۡتُمُوۡنِیۡ عَلٰۤی اَنۡ مَّسَّنِیَ الۡکِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوۡنَ ﴿۵۴﴾ قَالُوۡا بَشَّرۡنٰکَ بِالۡحَقِّ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡقٰنِطِیۡنَ ﴿۵۵﴾ قَالَ وَ مَنۡ یَّقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَۃِ رَبِّہٖ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ ﴿۵۶﴾ قَالَ فَمَا خَطۡبُکُمۡ اَیُّہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۵۷﴾ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمٍ مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۵۸﴾ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوۡہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۵۹﴾ اِلَّا امۡرَاَتَہٗ قَدَّرۡنَاۤ ۙ اِنَّہَا لَمِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿٪۶۰﴾
نَبِّیٔۡ عِبَادِیۡۤ اَنِّیۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿ۙ۴۹﴾
’’(اے نبیﷺ!) میرے بندوں کو بتا دیجئے کہ میں یقینا بہت بخشنے والا‘ نہایت رحم کرنے والا ہوں۔‘‘
وَ اَنَّ عَذَابِیۡ ہُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِیۡمُ ﴿۵۰﴾
’’اور یہ کہ میرا عذاب بھی بہت دردناک عذاب ہے۔‘‘
یقینامیں غفور اور رحیم ہوں‘ مگر دوسری طرف میرا عذاب بھی بہت سخت ہوتا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص نڈر اور نچنت بھی نہ ہو جائے‘ بلکہ میرے بندوں کو ہر وقت ’’بین الخوف و الرجا ‘‘کی کیفیت میں رہنا چاہیے۔وہ میری رحمت اور مغفرت کی امید بھی رکھیں اور میرے عذاب سے ڈرتے بھی رہیں۔
وَ نَبِّئۡہُمۡ عَنۡ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۵۱﴾
’’اور انہیں ذرا بتایئے ابراہیم ؑ کے مہمانوں کے بارے میں۔‘‘
یہ واقعہ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہم سورئہ ہود کے ساتویں رکوع میں بھی پڑھ چکے ہیں۔
اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ اِنَّا مِنۡکُمۡ وَجِلُوۡنَ ﴿۵۲﴾
’’جب وہ داخل ہوئے آپؑ کے ہاں تو انہوں نے سلام کیا‘ آپؑ نے کہا کہ ہمیں تو تم سے خوف آ رہا ہے۔‘‘
آپ کے اجنبی ہونے کی وجہ سے ہمیں آ پ سے خدشہ ہے ۔لہٰذا بہتر ہو گا اگر آپ لوگ اپنی شناخت کروادیں۔
قَالُوۡا لَا تَوۡجَلۡ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۵۳﴾
’’انہوں نے کہا کہ ڈرئیے نہیں ‘ہم آپؑ کو ایک صاحب علم بیٹے کی بشارت دیتے ہیں۔‘‘
فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری دی ۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ولادت اس سے چند برس قبل ہو چکی تھی۔ واضح رہے کہ قرآن حکیم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے ’’غلام حلیم‘‘ اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے لیے ’’غلام علیم‘‘ کے الفاظ آتے ہیں۔
قَالَ اَبَشَّرۡتُمُوۡنِیۡ عَلٰۤی اَنۡ مَّسَّنِیَ الۡکِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوۡنَ ﴿۵۴﴾
’’آپؑ نے کہا کہ کیا تم مجھے خوشخبری دے رہے ہو باوجود اس کے کہ مجھ پر بڑھاپا طاری ہو چکا ہے‘ تو تم مجھے یہ کیسی خوشخبری دے رہے ہو!‘‘
عَلٰی یہاں پر ’’ علی الرغم ‘‘ کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے کہ میرے بڑھاپے کے باوجود تم مجھے جو بیٹے کی خوشخبری دے رہے ہو تو کہیں تم لوگوں کوکوئی مغالطہ تو نہیں ہو رہا؟
قَالُوۡا بَشَّرۡنٰکَ بِالۡحَقِّ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡقٰنِطِیۡنَ ﴿۵۵﴾
’’انہوں نے کہا کہ ہم آپؑ کو حق کے ساتھ بشارت دے رہے ہیں ‘تو آپؑ نا امید لوگو ں میں سے نہ ہوں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ ہم آپ کے ربّ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور یہ جوبشارت ہم نے آپؑ کو دی ہے یہ حقیقی اور قطعی بات ہے‘ بالکل ایسا ہی ہو گا۔
قَالَ وَ مَنۡ یَّقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَۃِ رَبِّہٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ ﴿۵۶﴾
’’آپؑ نے کہا کہ کون ہو گا جو اپنے رب کی رحمت سے مایوس ہو‘ سوائے گمراہوں کے!‘‘
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور رحمت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ستاسی (۸۷) برس کی عمر میں بیٹا عطا کیا۔ اسی طرح کا معاملہ حضرت زکریا علیہ السلام کے ساتھ بھی پیش آیا۔ حضرت زکریا علیہ السلام کی زوجہ محترمہ ساری عمر بانجھ رہیں‘مگر جب وہ دونوں میاں بیوی بہت بوڑھے ہو چکے تھے تو اللہ نے انہیں بیٹا (حضرت یحییٰ علیہ السلام ) عطا کیا۔
قَالَ فَمَا خَطۡبُکُمۡ اَیُّہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۵۷﴾
’’آپؑ نے پوچھا : اے فرستادو! تمہاری کیا مہم ہے؟‘‘
اب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ لوگوں کے یہاں آنے کا کیا مقصد ہے؟ آپ کو کیا مہم درپیش ہے؟
قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمٍ مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۵۸﴾
’’انہوں نے کہا کہ ہمیں بھیجا گیا ہے ایک مجرم قوم کی طرف۔‘‘
اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوۡہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۵۹﴾
’’سوائے آلِ لوطؑ کے‘ ان سب کو ہم ضروربچا لیں گے۔‘‘
اِلَّا امۡرَاَتَہٗ قَدَّرۡنَاۤ ۙ اِنَّہَا لَمِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿٪۶۰﴾
’’سوائے اُن کی بیوی کے‘ ہم نے اندازہ ٹھہرالیا ہے کہ وہ یقینا پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی۔‘‘
فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوۡطِۣ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿ۙ۶۱﴾ قَالَ اِنَّکُمۡ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿۶۲﴾ قَالُوۡا بَلۡ جِئۡنٰکَ بِمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَمۡتَرُوۡنَ ﴿۶۳﴾ وَ اَتَیۡنٰکَ بِالۡحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴿۶۴﴾ فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ اتَّبِعۡ اَدۡبَارَہُمۡ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ وَّ امۡضُوۡا حَیۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۵﴾ وَ قَضَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ ذٰلِکَ الۡاَمۡرَ اَنَّ دَابِرَ ہٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِیۡنَ ﴿۶۶﴾ وَ جَآءَ اَہۡلُ الۡمَدِیۡنَۃِ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۶۷﴾ قَالَ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ ضَیۡفِیۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ ﴿ۙ۶۸﴾ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ لَا تُخۡزُوۡنِ ﴿۶۹﴾ قَالُوۡۤا اَوَ لَمۡ نَنۡہَکَ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۷۰﴾ قَالَ ہٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیۡۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ فٰعِلِیۡنَ ﴿ؕ۷۱﴾ لَعَمۡرُکَ اِنَّہُمۡ لَفِیۡ سَکۡرَتِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۷۲﴾ فَاَخَذَتۡہُمُ الصَّیۡحَۃُ مُشۡرِقِیۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾ فَجَعَلۡنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَ اَمۡطَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ حِجَارَۃً مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ﴿ؕ۷۴﴾ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِیۡنَ ﴿۷۵﴾ وَ اِنَّہَا لَبِسَبِیۡلٍ مُّقِیۡمٍ ﴿۷۶﴾ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ؕ۷۷﴾
فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوۡطِۣ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿ۙ۶۱﴾
’’تو جب لوطؑ کے گھر پہنچے وہ بھیجے ہوئے۔‘‘
قَالَ اِنَّکُمۡ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿۶۲﴾
’’اُس (لوطؑ) نے کہا کہ یقینا تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘
حضرت لوط علیہ السلام نے دیکھا کہ یہ بالکل اجنبی لوگ ہیں‘ تو انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگ کون ہیں‘ اور کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے؟
قَالُوۡا بَلۡ جِئۡنٰکَ بِمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَمۡتَرُوۡنَ ﴿۶۳﴾
’’انہوں نے کہا : بلکہ ہم تو آپؑ کے پاس وہ شے لے کر آئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘
حضرت لوط علیہ السلام جب اپنی قوم کو متنبہ کرتے تھے کہ اگر تم لوگ شرک سے اور اس فعل خبیث سے باز نہیں آئو گے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا‘ تووہ آپؑ کا مذاق اڑاتے تھے‘ کیونکہ انہیں یقین نہیں تھا کہ ان پر واقعی عذاب آجائے گا۔ فرشتوں نے کہا کہ آج ہم وہی عذاب لے کر آ گئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک میں تھے۔
وَ اَتَیۡنٰکَ بِالۡحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴿۶۴﴾
’’اور ہم آئے ہیں آپؑ کے پاس حق (قطعی فیصلے) کے ساتھ اور یقینا ہم سچے ہیں۔‘‘
فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ اتَّبِعۡ اَدۡبَارَہُمۡ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ
’’تو آپؑ اپنے گھر والوں کو لے جائیے رات کے ایک حصے میں‘ اور آپؑ ان کے پیچھے پیچھے جائیے‘ اور آپ لوگوںمیں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے‘‘
یعنی آپ لوگ صبح ہونے سے پہلے پہلے یہاں سے نکل جائیں۔پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اب دوستی اور ہمدردی جیسے جذبات کا اظہار کسی بھی شکل میں نہیں ہونا چاہیے۔
وَّ امۡضُوۡا حَیۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۵﴾
’’اور آپ ؑ چلے جائیے جہاں آپؑ کو حکم ہوا ہے۔‘‘
وَ قَضَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ ذٰلِکَ الۡاَمۡرَ اَنَّ دَابِرَ ہٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِیۡنَ ﴿۶۶﴾
’’اور ہم نے لوطؑ کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کر دیاکہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔‘‘
وہاں سے نکلنے سے پہلے حضرت لوط علیہ السلام کو بتا دیا گیا کہ اس پوری قوم کو تہس نہس کر دیا جائے گا اور یہاں کوئی ایک متنفس بھی نہیں بچے گا۔
وَ جَآءَ اَہۡلُ الۡمَدِیۡنَۃِ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۶۷﴾
’’اور آئے اہلِ شہر خوشیاں مناتے ہوئے۔‘‘
حضرت لوط علیہ السلام کے ہاں خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر بد قماش قسم کے لوگوں نے خوشی خوشی آپؑ کے گھر پر یلغار کر دی۔
قَالَ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ ضَیۡفِیۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ ﴿ۙ۶۸﴾
’’لوطؑ نے کہا :یہ میرے مہمان ہیں ‘چنانچہ تم لوگ مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘
وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ لَا تُخۡزُوۡنِ ﴿۶۹﴾
’’اللہ سے ڈرو اور مجھے بے آبرو مت کرو۔‘‘
قَالُوۡۤا اَوَ لَمۡ نَنۡہَکَ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۷۰﴾
’’انہوں نے کہا :کیا ہم نے آپؑ کو سب دنیا والوں (کی حمایت میں کھڑے ہونے) سے منع نہیں کیا تھا؟‘‘
کیا ہم آپ کو منع نہیں کر چکے کہ آپ ہر کسی کی طرف داری کرتے ہوئے ہمارے معاملے میں دخل اندازی نہ کیا کریں۔ ہم جس کے ساتھ جو چاہیں کریں ‘ آپ بیچ میں آنے والے کون ہوتے ہیں؟
قَالَ ہٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیۡۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ فٰعِلِیۡنَ ﴿ؕ۷۱﴾
’’آپؑ نے کہا :یہ میری بیٹیاں ہیں اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے۔‘‘
قبل ازیں اس فقرے کی وضاحت ہو چکی ہے ۔ یعنی میری قوم کی بیٹیاں جو تمہارے گھروں میں موجود ہیں ان کی طرف رجوع کرو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے لیے فطری ساتھی بنایا ہے۔ اس فقرے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپؑ نے اتمام حجت کے لیے ان میں سے دو سرداروں کو یہاں تک کہہ دیا ہو کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو میں اپنی بیٹیوں کا نکاح تم سے کیے دیتا ہوں۔
لَعَمۡرُکَ اِنَّہُمۡ لَفِیۡ سَکۡرَتِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۷۲﴾
’’قسم ہے آپؐ کی جان کی ‘وہ لوگ اپنی اس بدمستی میں بالکل اندھے ہو گئے تھے۔‘‘
عمہ کے مادہ میں دل کے اندھے پن کا مفہوم پایا جاتا ہے ‘یعنی ان لوگوں کے دل بھلائی اور برائی کی تمیز سے بالکل عاری ہو گئے تھے۔
فَاَخَذَتۡہُمُ الصَّیۡحَۃُ مُشۡرِقِیۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾
’’تو انہیں آ پکڑا ایک چنگھاڑنے اجالا ہونے کے وقت۔‘‘
یعنی پو پھٹتے ہی ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا ایک زبردست چنگھاڑ کے ساتھ ٹوٹ پڑا۔
فَجَعَلۡنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَ اَمۡطَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ حِجَارَۃً مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ﴿ؕ۷۴﴾
’’پھر ہم نے اس کے اوپر والے حصے کو بنا دیا اس کے نچلے والا‘ اورہم نے برسائے ان کے اوپر پکی ہوئی مٹی کے کنکر۔‘‘
یعنی ان آبادیوں کو پوری طرح تلپٹ کر دیا گیا اور ان پر سنگِ گل کی بارش برسائی گئی۔
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِیۡنَ ﴿۷۵﴾
’’یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو حق کے متلاشی ہوتے ہیں۔‘‘
’’متوسمین ‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو آیاتِ آفاقیہ‘ آیاتِ تاریخیہ‘ آیاتِ انفسیہ یا آیاتِ قرآنیہ کے ذریعے سے حقیقت کو جاننا اور پہچاننا چاہیں۔ اسم (اصل مادہ ’’ س م و‘‘ ہے ‘الف اس کے حروف اصلیہ میں سے نہیں ہے) کے معنی علامت کے ہیں۔ اردو میں لفظ ’’اسم ‘‘کو نام کے مترادف کے طور پر جانا جاتا ہے ‘اس لیے کہ کسی چیز یا شخص کا نام بھی ایک علامت کا کام دیتا ہے ‘جس سے اس کی پہچان ہوتی ہے۔ لہٰذا جو اصحابِ بصیرت علامتوں سے متوسم (باب تفعل) ہوتے ہیں ‘ان کے لیے ایسے واقعات میں سامانِ عبرت موجود ہے۔
وَ اِنَّہَا لَبِسَبِیۡلٍ مُّقِیۡمٍ ﴿۷۶﴾
’’اور یہ بستیاں ایک سیدھی راہ پر واقع تھیں۔‘‘
قومِ لوطؑ کی یہ بستیاں اس شاہراہ عام پر واقع تھیں جو یمن (بحیرۂ عرب) اور شام (بحیرئہ روم) کے ساحلوں کو آپس میں ملاتی تھی۔مشرقی ممالک (ہندوستان‘ چین‘ جاوا‘ ملایا وغیرہ) سے یورپ جانے کے لیے جو سامان آتا تھا وہ یمن کے ساحل پر اتارا جاتا تھا اور پھر اس راستے سے تجارتی قافلے اسے شام اور فلسطین کے ساحل پر پہنچا دیتے تھے۔ اسی طرح یورپ سے مشرقی ممالک کے لیے آنے والا سامان شام کے ساحل پر اترتا تھا اور یہی قافلے اسے یمن کے ساحل پر پہنچانے کا ذریعہ بنتے تھے۔ اُس وقت نہر سویز بھی نہیں بنی تھی اور ’’راس امید‘‘ والا راستہ (Around the Cape of Good Hope) بھی دریافت نہیں ہوا تھا‘ جو واسکوڈے گاما نے ۱۴۹۸ء میں تلاش کیا۔چنانچہ یہ شاہراہ اس زمانے میں مشرق اور مغرب کے درمیان تجارتی رابطے کا واحد ذریعہ تھی۔
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ؕ۷۷﴾
’’یقینا اس میں نشانی ہے اہلِ ایمان کے لیے۔‘‘
وَ اِنۡ کَانَ اَصۡحٰبُ الۡاَیۡکَۃِ لَظٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۷۸﴾ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ ۘ وَ اِنَّہُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ؕ٪۷۹﴾
وَ اِنۡ کَانَ اَصۡحٰبُ الۡاَیۡکَۃِ لَظٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۷۸﴾
’’اور بے شک بن والے بھی ظالم تھے۔‘‘
’’اصحاب الایکہ‘‘ سے اہل مدین مراد ہیں۔ یہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم تھی مگر یہاں اس قوم کا ذکر کرتے ہوئے آپؑ کا نام نہیں لایا گیا۔ ان سب اقوام کا تذکرہ یہاں پر انباء الرسل کے انداز میں ہورہا ہے۔
فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ ۘ وَ اِنَّہُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ؕ٪۷۹﴾
’’توان سے بھی ہم نے انتقام لیا۔اور یہ دونوں بستیاں بھی کھلے راستے پر واقع تھیں۔‘‘
اس سے مراد وہی تجارتی شاہراہ ہے جس کا ذکر ابھی ہوا ہے۔یہ اصحابِ حجر کے مساکن سے بھی ہو کر گزرتی تھی جبکہ اہل مدین کی آبادیاں اور قومِ لوطؑ کی بستیاں بھی اسی شاہراہ پر واقع تھیں۔
وَ لَقَدۡ کَذَّبَ اَصۡحٰبُ الۡحِجۡرِ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿ۙ۸۰﴾ وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ اٰیٰتِنَا فَکَانُوۡا عَنۡہَا مُعۡرِضِیۡنَ ﴿ۙ۸۱﴾ وَ کَانُوۡا یَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا اٰمِنِیۡنَ ﴿۸۲﴾ فَاَخَذَتۡہُمُ الصَّیۡحَۃُ مُصۡبِحِیۡنَ ﴿ۙ۸۳﴾ فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿ؕ۸۴﴾
وَ لَقَدۡ کَذَّبَ اَصۡحٰبُ الۡحِجۡرِ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿ۙ۸۰﴾
’’اور (اسی طرح) حجر والوں نے بھی مرسلین کو جھٹلایا۔‘‘
اصحاب الحجر سے مراد قومِ ثمود ہے۔ قومِ ثمود حجر کے علاقے میں آباد تھی اور ان کی طرف حضرت صالح علیہ السلام مبعوث کیے گئے تھے۔ جیسے حضرت ہود علیہ السلام کی قومِ عاد کا ذکر ’’احقاف ‘‘کے حوالے سے بھی ہوا ہے (ملاحظہ ہو سورۃ الاحقاف)جو اس قوم کا علاقہ تھا‘ اسی طرح قومِ ثمود کا ذکر یہاں’’اصحاب الحجر‘‘ کے نام سے ہوا ہے ۔ یہاں پر ’’مرسلین‘‘ کے لفظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم میں پہلے بہت سے انبیاء آئے اور پھر آخر میں رسول کی حیثیت سے حضرت صالح علیہ السلام تشریف لائے ۔
وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ اٰیٰتِنَا فَکَانُوۡا عَنۡہَا مُعۡرِضِیۡنَ ﴿ۙ۸۱﴾
’’اور انہیں ہم نے اپنی آیات عطا کیں لیکن وہ ان سے اعراض ہی کرتے رہے۔‘‘
قومِ ثمود کو بطور خاص اونٹنی کی صورت میں حسی معجزہ دکھایا گیا تھا کہ ایک چٹان شق ہوئی اور اس کے اندر سے ایک خوبصورت گابھن اونٹنی برآمد ہو گئی۔
وَ کَانُوۡا یَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا اٰمِنِیۡنَ ﴿۸۲﴾
’’اور وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے‘ امن و سکون کے ساتھ ۔‘‘
قومِ ثمود کے یہ گھر آج بھی موجود ہیں اور دیکھنے والوں کو دعوتِ عبرت دے رہے ہیں۔ میں نے خود بھی ان کا مشاہدہ کیا ہے۔
فَاَخَذَتۡہُمُ الصَّیۡحَۃُ مُصۡبِحِیۡنَ ﴿ۙ۸۳﴾
’’تو انہیں آ پکڑا ایک چنگھاڑ نے صبح کے وقت۔‘‘
فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿ؕ۸۴﴾
’’تو کچھ کام نہ آ سکا اُن کے جو وہ کماتے تھے۔‘‘
وہ خوشحال قوم تھی مگر انہوں نے جو مال و اسباب جمع کر رکھا تھا وہ انہیں عذابِ الٰہی سے بچانے کے لیے کچھ بھی مفید ثابت نہ ہوسکا۔
اس سورئہ مبارکہ میں اب تک تین رسولوں کا ذکر ’’انبا ء الرسل‘‘کے انداز میں ہوا ہے۔ ان میں سے حضرت شعیب اور حضرت صالح علیہما السلام کا نام لیے بغیر ان کی قوموں کا ذکر کیا گیا ہے ‘ جب کہ حضرت لوط علیہ السلام کا ذکرنام لے کر کیا گیا ہے ۔ اس کے برعکس حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر یہاں بھی قصص النبیین کے انداز میں آیا ہے ‘ بالکل اسی طرح جس طرح سورۂ ہود میں آیا تھا۔
اس سورۃ کی آخری پندرہ آیات دعوتِ دین کے اعتبار سے بہت اہم ہیں۔
وَ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ ؕ وَ اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ فَاصۡفَحِ الصَّفۡحَ الۡجَمِیۡلَ ﴿۸۵﴾ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۸۶﴾ وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنٰکَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِیۡ وَ الۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِیۡمَ ﴿۸۷﴾ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡہِمۡ وَ اخۡفِضۡ جَنَاحَکَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾ وَ قُلۡ اِنِّیۡۤ اَنَا النَّذِیۡرُ الۡمُبِیۡنُ ﴿ۚ۸۹﴾ کَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَی الۡمُقۡتَسِمِیۡنَ ﴿ۙ۹۰﴾ الَّذِیۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِیۡنَ ﴿۹۱﴾ فَوَ رَبِّکَ لَنَسۡـَٔلَنَّہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾ عَمَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿ٙ۹۳﴾ فَاصۡدَعۡ بِمَا تُؤۡمَرُ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۹۴﴾ اِنَّا کَفَیۡنٰکَ الۡمُسۡتَہۡزِءِیۡنَ ﴿ۙ۹۵﴾ الَّذِیۡنَ یَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ ۚ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۶﴾ وَ لَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّکَ یَضِیۡقُ صَدۡرُکَ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۹۷﴾ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ وَ کُنۡ مِّنَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿ۙ۹۸﴾ وَ اعۡبُدۡ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الۡیَقِیۡنُ ﴿٪۹۹﴾
وَ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ ؕ
’’اور ہم نے نہیں تخلیق کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ۔‘‘
یہ کائنات ایک با مقصد تخلیق ہے‘کوئی کھیل تماشا نہیں۔ ہندو مائتھالوجی کی طرز پر یہ کوئی رام کی لیلا نہیں ہے کہ رام جی جس کو چاہیں راجہ بنا کر تخت پر بٹھا دیں اور جسے چاہیں تخت سے نیچے پٹخ دیں‘بلکہ یہ کائنات اور اس کی ایک ایک چیز کی تخلیق با معنی اور با مقصد ہے۔اس حقیقت کو سورۂ آل عمران میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے: {رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾} ’’اے ہمارے رب! تو نے یہ کائنات بے مقصد نہیں بنائی ‘تیری ذات اس سے بہت اعلیٰ اور پاک ہے‘ لہٰذا ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔‘‘
وَ اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ
’’اور یقینا قیامت آ کر رہے گی‘‘
چونکہ یہ کائنات اور اس کی ہر چیز حق کے ساتھ تخلیق کی گئی ہے ‘لہٰذا اس حق کا منطقی تقاضا ہے کہ ایک یومِ حساب آئے ‘ لہٰذا قیامت آ کر رہے گی۔اس کائنات کا بغور جائزہ لینے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اس کی تمام چیزیں انسان کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو منطقی سوال اٹھتا ہے کہ پھر انسان کو کس لیے پیدا کیا گیا ہے ؟اور انسان کے اندر جو اخلاقی حس پیدا کی گئی ہے‘ اسے پیدائشی طور پر نیکی اور بدی کی جو تمیز دی گئی ہے یہاں دنیا میں اس سے کیا نتائج بر آمد ہو رہے ہیں؟ اس دنیا میں تو اخلاقیات کے اصولوں کے برعکس نتائج سامنے آتے ہیں ۔یہاں چور ڈاکو اور لٹیرے عیش کرتے نظر آتے ہیں اور نیک سیرت لوگ فاقے کرنے پر مجبور ہیں۔ لہٰذا اس صورتِ حال کا منطقی تقاضا ہے کہ اس دنیا کے بعد ایک اور دنیا ہو جس میں ہر شخص کا پورا پورا حساب ہو اور ہر شخص کو ایسا صلہ اور بدلہ ملے جو اس کے اعمال کے عین مطابق ہو۔
فَاصۡفَحِ الصَّفۡحَ الۡجَمِیۡلَ ﴿۸۵﴾
’’تو (اے نبیﷺ!) آپ ان سے خوبصورتی کے ساتھ در گزرکریں۔‘‘
یہ مجرم لوگ ہماری پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے۔ قیامت آئے گی اور یہ لوگ ضرور کیفر کردار کو پہنچیں گے‘ مگر ابھی ہم انہیں ڈھیل دینا چاہتے ہیں‘ مزید کچھ دیر کے لیے مہلت دینا چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپﷺفی الحال ان کی دل آزار باتیں برداشت کریں‘ ان کی معاندانہ سرگرمیوں کے جواب میں صبر کریں اور احسن انداز میں اس سب کچھ کو نظر انداز کر دیں۔ اس رویے اور ایسے طرزِ عمل سے آپﷺ کے درجات بلند ہوں گے۔
اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۸۶﴾
’’یقینا آپؐ کا رب پیدا کرنے والا‘ خوب جاننے والا ہے۔‘‘
وہ جو پیدا کرنے والا ہے ‘اپنی مخلوق کو خوب جانتا بھی ہے۔ سورۃ الملک میں فرمایا گیا: {اَلَا یَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ؕ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿٪۱۴﴾} ’’کیا اُسی کے علم میں نہیں ہو گا جس نے پیدا کیا؟ بلکہ وہ تو نہایت باریک بین باخبر ہے‘‘۔ کسی مشین کو بنانے والا اس کے تمام کل پرزوں سے خوب واقف ہوتا ہے۔
وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنٰکَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِیۡ وَ الۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِیۡمَ ﴿۸۷﴾
’’اور ہم نے آپؐ کو دی ہیں سات بار بار پڑھی جانے والی آیات اور عظمت والا قرآن۔‘‘
اس پر تقریباً تمام امت کا اجماع ہے کہ یہاں سات بار بار دہرائے جانے والی آیات سے مراد سورۃ الفاتحہ ہے۔ حدیث میں سورۃ الفاتحہ کو نماز کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے: حدیث((لَا صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ)) (متفق علیہ) یعنی جو شخص (نمازمیں )سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں۔ قبل ازیں سورۃ الفاتحہ کے مطالعے کے دوران ہم وہ حدیث قدسی بھی پڑھ چکے ہیں جس میں سورۃ الفاتحہ ہی کونماز قرار دیا گیا ہے: حدیث((قَسَمْتُ الصَّلَاۃَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ نِصْفَیْنِ…)) (رواہ مسلم) اب جبکہ ہر نمازی اپنی نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کر رہا ہے تو اندازہ کریں کہ دنیا بھر میں ان سات آیات کی تلاوت کتنی مرتبہ ہوتی ہو گی۔ اس کے علاوہ آیت زیر نظر میں اس سورۃ کو ’’قرآن عظیم‘‘ کا نام بھی دیا گیاہے۔ یعنی اہمیت اور فضیلت کے اعتبار سے سورۃ الفاتحہ قرآن عظیم کا درجہ رکھتی ہے۔ اسی بنیاد پر اس سورت کو اساس القرآن اوراُم القرآن قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسے الکافیہ (کفایت کرنے والی) اور الشافیہ (شفا دینے والی)جیسے نام بھی دیے گئے ہیں۔
ایک حدیث کے مطابق سورۃ الفاتحہ جیسی کوئی سورت نہ تورات میں ہے ‘نہ انجیل میں اور نہ ہی قرآن میں۔ چنانچہ یہاں حضورﷺ کی دلجوئی کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبیؐ دیکھیں ہم نے آپؐ کو اتنا بڑاخزانہ عطا فرمایا ہے۔ ابو جہل اگر خود کو مالدار سمجھتا ہے‘ ولید بن مغیرہ اپنے زعم میں اگر بہت بڑا سردار ہے تو آپ(ﷺ) مطلق پروا نہ کریں ۔ ان لوگوں کی سوچ کے اپنے پیمانے ہیں ۔ ان بد بختوں کو کیا معلوم کہ ہم نے آپؐ کو کتنی بڑی دولت سے نوازا ہے!
لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡہُمۡ
’’آپؐ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اُس مال و متاع کی طرف جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دے رکھا ہے‘‘
ابوجہل کی دولت و شوکت‘ ولید بن مغیرہ کے باغات اور ان جیسے دوسرے کافروں کی جاگیریں آپؐ کو ہر گز متاثر نہ کریں۔ آپؐ ان کی ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔ایک حدیث میں ہے کہ اگر دینا و ما فیہا کی حیثیت اللہ کی نگاہ میں مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی تک نہ دیتا۔ چنانچہ ان کفار کو جو مال و متاع اس دنیا میں دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی کچھ اہمیت نہیں ہے۔ اہل ایمان کو بھی چاہیے کہ وہ بھی مال و دولتِ دنیا کو اسی نظر سے دیکھیں۔
وَ لَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡہِمۡ
’’اور آپؐ ان کی حالت پر غم نہ کریں‘‘
یہ لوگ آپؐ کی دعوت کو ٹھکرا کر عذاب کے مستحق ہو رہے ہیں۔ ان میں آپؐ کے قبیلے کے افراد بھی شامل ہیں اور ابو لہب جیسے عزیز و اقارب بھی ‘ مگر آپؐ اب ان لوگوں کے انجام کے بارے میں بالکل پریشان نہ ہوں۔
وَ اخۡفِضۡ جَنَاحَکَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾
’’اور اہل ایمان کے لیے اپنے بازو جھکا کررکھیں۔‘‘
اہل ایمان کے ساتھ آپ(ﷺ) شفقت اور مہربانی سے پیش آئیں۔ اِن لوگوں میں فقراء و مساکین بھی ہیں اور غلام بھی ۔ یہ لوگ جب آپؐ کے پاس حاضر ہوں تو کمال تواضع سے ان کا استقبال کیجیے اور ان کی دلجوئی فرمائیے۔ اس سے قبل یہی بات اس انداز میں بیان فرمائی گئی ہے: {فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ ۙ} (الانعام:۵۴)۔ سورۃ الشعراء میں بھی اس مضمون کو ان الفاظ میں دہرایا گیا ہے : {وَ اخۡفِضۡ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۲۱۵﴾} کہ اہل ایمان جو آپ(ﷺ) کی پیروی کر رہے ہیں‘آپ اپنے کندھے ان کے لیے جھکا کر رکھیے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں والدین کے ادب و احترام کے سلسلے میں بھی یہی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ اولاد اپنے والدین کے ساتھ ادب‘ محبت‘ عاجزی اور انکساری کا معاملہ کرے۔
وَ قُلۡ اِنِّیۡۤ اَنَا النَّذِیۡرُ الۡمُبِیۡنُ ﴿ۚ۸۹﴾
’’اور کہہ دیجیے کہ میں تو کھلم کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔‘‘
میری اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو واضح طور پر خبردار کر دوں۔
کَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَی الۡمُقۡتَسِمِیۡنَ ﴿ۙ۹۰﴾
’’جیسے کہ ہم نے نازل کیا ان تقسیم کرنے والوں پر۔‘‘
الَّذِیۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِیۡنَ ﴿۹۱﴾
’’جنہوں نے (اپنے) قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔‘‘
اس آیت کے مفہوم کے سلسلے میں مفسرین نے مختلف آراء بیان کی ہیں۔ اس ضمن میں زیادہ قرین قیاس رائے یہ ہے کہ یہاں لفظ ’’قرآن‘‘ کا اطلاق تورات پر ہوا ہے۔ جیسا کہ سورۂ سبا کی آیت ۳۱ میں فرمایا گیا: {وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ بِہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ ؕ} یعنی کفار کہتے ہیں کہ نہ اس قرآن پرایمان لاؤ اور نہ اس پرجو اس سے پہلے تھا۔ تو گویا تورات بھی قرآن ہی تھا اور یہود نے اپنے مفادات کے لیے اپنے اس قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔ ان کے اس کارنامے کا تذکرہ سورۃ الانعام کی آیت ۹۱ میں اس طرح ہوا ہے: {تَجۡعَلُوۡنَہٗ قَرَاطِیۡسَ تُبۡدُوۡنَہَا وَ تُخۡفُوۡنَ کَثِیۡرًا ۚ } ’’ تم نے اس (تورات) کو ورق ورق کر دیا ہے‘ ان میں سے کسی حصے کو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپا کر رکھتے ہو۔‘‘
فَوَ رَبِّکَ لَنَسۡـَٔلَنَّہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾
’’تو(اے محمدﷺ!) آپ کے رب کی قسم! ہم ان سب سے پوچھ کر رہیں گے۔‘‘
اس آیت کا مضمون اور انداز وہی ہے جو اس سے پہلے ہم سورۃ الاعراف میں پڑھ چکے ہیں: {فَلَنَسۡـَٔلَنَّ الَّذِیۡنَ اُرۡسِلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَنَسۡـَٔلَنَّ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۶﴾} ’’ ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف رسولوںؑ کو بھیجا گیا اور ان سے بھی جن کو رسول ؑبنا کر بھیجا گیا‘‘۔چنانچہ اے نبی(ﷺ) یہ تھوڑے وقت کی بات ہے ‘ہم ان سے ایک ایک چیز کا حساب لے کر رہیں گے۔
عَمَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿ٙ۹۳﴾
’’جو کچھ یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔‘‘
فَاصۡدَعۡ بِمَا تُؤۡمَرُ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۹۴﴾
’’ اب آپؐ علی الاعلان بیان کریں جس کا آپؐ کو حکم دیا جا رہا ہے اور ان مشرکوں کی ذرا پروا نہ کریں۔‘‘
اس حکم کورسول اللہﷺ کی دعوتی تحریک میں ایک نئے موڑ کی حیثیت حاصل ہے۔ اس سے قبل آپﷺ اپنے قریبی ساتھیوں اور رشتہ داروں کو انفرادی طور پر دعوت دے رہے تھے‘ جیسے آپﷺ نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بات کی‘ اپنے پرانے دوست حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دعوت دی‘ اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اعتماد میں لیاجو آپؐ کے زیر کفالت بھی تھے اور اپنے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے بھی بات کی۔ آپ ﷺکی اس انفرادی دعوت کا سلسلہ ابتدائی طور پر تقریباً تین سال پر محیط نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اس دور کی دعوت کو ایک خفیہ (underground) تحریک سے تعبیر کرتے ہیں مگر یہ درست نہیں۔ اعلانِ نبوت کے بعد آپﷺ کی سیرت میں کوئی دن بھی ایسا نہیں آیا جس میں آپﷺنے اپنی اس دعوت کو خفیہ رکھا ہو‘ مگر ایسا ضرور ہے کہ آپﷺ کی دعوت فطری اور تدریجی انداز میں آگے بڑھی اور آہستہ آہستہ ارتقا پذیر ہوئی ۔
اس دعوت کا آغاز گھر سے ہوا‘ پھر آپﷺ تعلق اور قرابت داری کی بنیاد پر مختلف افراد کو انفرادی انداز میں دعوت دیتے رہے اورپھر تقریباً تین سال کے بعد آپﷺ کو حکم ہوا کہ اب آپﷺ علی الاعلان یہ دعوت دینا شروع کر دیں۔ اس حکم کے بعد آپﷺ نے ایک دن عرب کے رواج کے مطابق کوہِ صفا پر چڑھ کر لوگوں کو اونچی آواز سے اپنی طرف بلانا شروع کیا۔ عرب میں رواج تھا کہ کسی اہم خبر کا اعلان کرنا ہوتا تو ایک آدمی اپنا پورا لباس اتارتا ‘ بالکل ننگا ہو کر کسی اونچی جگہ پر چڑھ جاتا اور ’’وَاصَبَاحَا‘‘ کا نعرہ لگاتا‘کہ ہائے وہ صبح جو آیا چاہتی ہے! یعنی میں تم لوگوں کو آنے والی صبح کی خبر دینے والا ہوں! اس زمانے میں ایسی خبر عام طور پر کسی مخالف قبیلہ کے شب خون مارنے کے بارے میں ہوتی تھی کہ فلاں قبیلہ آج صبح سویر ے تم پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے۔ ایسے شخص کو ’’نذیر عریاں ‘‘کہا جاتا تھا۔ اس رواج کے مطابق (لباس اتارنے کی بیہودہ رسم کو چھوڑ کر) آپﷺ نے کوہِ صفا پر کھڑے ہو کر ’’وَاصَبَاحَا‘‘ کا نعرہ لگایا۔ جس جس نے آپﷺ کی آواز سنی وہ بھاگم بھاگ آپﷺکے پاس آ پہنچا کہ آپﷺ کوئی اہم خبر دینے والے ہیں۔ جب سب لوگ اکٹھے ہو گئے تو آپﷺ نے ان کے سامنے اللہ کا پیغام پیش کیا‘ جس کے جواب میں آپؐ کے بدبخت چچا ابو لہب نے کہا : تَــبًّا لَکَ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا؟ ’’تمہارے لیے ہلاکت ہو(نعوذ باللہ) اس کام کے لیے تم نے ہمیں جمع کیا تھا؟‘‘دعوت کو ڈنکے کی چوٹ بیان کرنے کے اس حکم اور اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی۔
اِنَّا کَفَیۡنٰکَ الۡمُسۡتَہۡزِءِیۡنَ ﴿ۙ۹۵﴾
’’ ہم آپؐ کی طرف سے کافی ہیں ان استہزا کرنے والوں (سے نمٹنے) کے لیے ۔‘‘
آپؐ ان کی مخالفت کی پروا نہ کریں ‘ہم ان سے اچھی طرح نمٹ لیں گے۔ یہ لوگ آپؐ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں گے۔
الَّذِیۡنَ یَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ ۚ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۶﴾
’’جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود گھڑے بیٹھے ہیں۔تو عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔‘‘
ایسے لوگوں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اصل حقیقت کیا تھی اور وہ کن گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔
وَ لَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّکَ یَضِیۡقُ صَدۡرُکَ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۹۷﴾
’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ ؐکا سینہ تنگ ہوتا ہے ان کی باتوں سے۔‘‘
علی الاعلان دعوت کی وجہ سے مخالفت کا ایک طوفان آپؐ پر امڈ آیا تھا۔ پہلے مرحلے میں یہ مخالفت اگرچہ زبانی طعن و تشنیع اور بد گوئی تک محدودتھی مگر بہت تکلیف دہ تھی۔ کسی نے مجنون اور کاہن کہہ دیا‘ کسی نے شاعر کا خطاب دے دیا۔ کوئی دور کی کوڑی لایا کہ آپؐ نے گھر میں ایک عجمی غلام چھپا رکھا ہے‘ اس سے معلومات لے کر ہم پر دھونس جماتے ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو واقعی سمجھتے تھے کہ آپﷺ پر آسیب وغیرہ کے اثرات ہو گئے ہیں۔ ایسے لوگ ازراہِ ہمدردی ایسی باتوں کا اظہار کر تے رہتے تھے ۔ ایک دفعہ عتبہ بن ربیعہ نے اسی طرح آپﷺ سے اظہارِ ہمدردی کیا ۔ وہ قبیلے کا معمر بزرگ تھا۔ اس نے کہا :اے میرے بھتیجے ‘بڑے بڑے عاملوں اور کاہنوں سے میرے تعلقات ہیں‘ آپ(ﷺ )کہیں تو میں ان میں سے کسی کو بلا لاؤں اور آپؐ کا علاج کرائوں؟ان سب باتوں سے آپؐ کو بہت تکلیف ہوتی تھی اور آپؐ کی اسی تکلیف اور دل کی گھٹن کا یہاں تذکرہ کیا جا رہا ہے کہ اے نبیؐ ان لوگوں کی بیہودہ باتوں سے آپؐ کو جو تکلیف ہوتی ہے وہ ہمارے علم میں ہے ۔ یہ مضمون سورۃ الانعام کی آیت ۳۳میں بھی گزر چکا ہے ۔
٭ ابولہب کے اس قول کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ایک پوری سورۃ ’’اللَّھب‘‘ نازل فرمائی۔ جس کی پہلی آیت میں ہی فرمایا: {تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ} ’’ابولہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو۔‘ ‘ (مرتب)
فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ وَ کُنۡ مِّنَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿ۙ۹۸﴾
’’پس آپؐ تسبیح کیجیے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جائیے۔‘‘
آپؐ اپنے رب کی تسبیح و تحمیدمیں مشغول رہیں۔ اسی کے آگے جھکے رہیں اور اس طرح اپنے تعلق مع اللہ کو مزید مضبوط کریں۔ اللہ سے اپنے اس قلبی اور ذہنی رشتے کو جتنا مضبوط کریں گے اسی قدر آپﷺ کے دل کو سکون و اطمینا ن ملے گااور صبر و استقامت کے رستے پر چلنا اور ان سختیوں کو جھیلنا آپؐ کے لیے آسان ہو گا۔
وَ اعۡبُدۡ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الۡیَقِیۡنُ ﴿٪۹۹﴾
’’اور اپنے رب کی بندگی میں لگے رہیں یہاں تک کہ یقینی شے وقوع پذیر ہو جائے۔‘‘
عام طور پر یہاں ’’یقین‘‘ سے موت مراد لی گئی ہے ۔ یعنی اپنی زندگی کی آخری گھڑی تک اس کی بندگی میں لگے رہیے اور اس سلسلے میں لمحہ بھر کے لیے بھی غفلت نہ کیجیے :
تا دمِ آخر دمے فارغ مباش
اندریں رہ مے تراش و مے خراش!
بعض لوگ یہاں ’’یقین ‘‘سے اللہ تعالیٰ کی نصرت بھی مراد لیتے ہیں کہ کفار کے خلاف اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آجائے‘ اُس کی مدد اہلِ حق کے شامل حال ہو جائے اور انہیں کفار پر غلبہ حاصل ہو جائے۔
بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم