تحریر

الحجر

آیات ۲۶ تا ۴۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

26-31

عظمتِ انسان

ویڈیو

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴿ۚ۲۶﴾ وَ الۡجَآنَّ خَلَقۡنٰہُ مِنۡ قَبۡلُ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷﴾ وَ اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴿۲۸﴾ فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَ نَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ ﴿۲۹﴾ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾ اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اَبٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ مَعَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿۳۱﴾

آیت 26

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴿ۚ۲۶﴾

’’اور یقینا ہم نے بنایا ہے انسان کو سنے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے۔‘‘

حَمَاٍ مَسْنُون سے سَنا ہوا گارا مراد ہے ‘جس سے بدبو بھی اُٹھ رہی ہو۔ اس رکوع میں یہ ثقیل اصطلاح تین مرتبہ استعمال ہوئی ہے ۔ انسان کے مادئہ تخلیق کے حوالے سے قرآن میں جو مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں ‘ان پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔سب سے پہلے مرحلے پر تُراب یعنی مٹی کا ذکر ہے ‘چنانچہ فرمایا: {وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ…} ( الروم:۲۰) ۔ مٹی میں پانی مل کر گارا بن جائے تو اس گارے کو عربی میں ’’طِین‘‘ کہتے ہیں۔ لہٰذا انسان کی تخلیق کے سلسلے میں طین کا ذکر بھی قرآن میں متعدد بار ہوا ہے ۔ سورۃ الاعراف میں ہم شیطان کا یہ قول پڑھ آئے ہیں: {خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿۱۲﴾} ’’ مجھے تونے بنایا آگ سے اور اس (آدم) کو بنایا مٹی سے‘‘۔طین کے بعد ’’طین لازب‘‘ کا مرحلہ ہے۔ سورۃ الصّٰفٰت میں فرمایا گیا: {اِنَّا خَلَقۡنٰہُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ لَّازِبٍ ﴿۱۱﴾} ’’طین لازب‘‘ اصل میں وہ گارا ہے جو عملِ تخمیر (fermentation) کی وجہ سے لیس دار ہو چکا ہو ۔ عام طور پر گارے میں کوئی organic matter بھوسہ وغیرہ ملانے سے اس کی یہ شکل بنتی ہے ۔ ’’طین لازب‘‘ کے بعداگلا مرحلہ ’’حماٍ مسنون‘‘ کا ہے ۔ اگر لیس دار گارا زیادہ دیر تک پڑا رہے اور اس میں سٹراند پیدا ہو جائے تو اس کو ’’حماٍ مسنون‘‘ کہا جاتا ہے ۔ پھر اگر یہ سنا ہو اگارا (حماٍ مسنون) خشک ہو کر سخت ہو جائے تو یہ کھنکنے لگتا ہے۔ آپ نے کسی دریا کے ساحل کے قریب یا کسی دلدلی علاقے میں دیکھا ہو گاکہ زمین کے اوپر خشک پپڑی سی آ جاتی ہے‘ جس پر چلنے سے یہ آواز پیدا کر کے ٹوٹتی ہے۔ایسی مٹی کے لیے قرآن نے ’’صَلْصَا لٍ کَالْفَخَّار‘‘ (الرحمن :۱۴) کی اصطلاح استعمال کی ہے ‘یعنی ٹھیکرے جیسی کھنکھناتی مٹی۔

انسان کے مادہ تخلیق کے لیے مندرجہ بالا تمام الفاظ میں سے صرف ایک بنیادی لفظ ہی کفایت کر سکتا تھا کہ ہم نے انسان کو مٹی سے بنایا‘ لیکن اس ضمن میں ان مختلف الفاظ (تُرَاب‘ طِین‘ طِین لازب‘ صَلصالٍ مِّن حماٍ مسنون اور صَلصالٍ کالفَخَّار) کے استعمال میں یقینا کوئی حکمت کارفرما ہو گی۔ ممکن ہے یہ تخلیق کے مختلف مراحل (stages) کا ذکر ہو اور اگر ایسا ہے تو نظریہ ارتقاء (Evolution Theory) کے ساتھ بھی اس کی تطبیق (corroboration) ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ انسان کی تخلیق اگر خصوصی طور پر بھی عمل میں آئی ہو تو ہو سکتا ہے کہ باقی حیوانات ارتقائی انداز میں پیدا کیے گئے ہوں۔ بہر حال زمین کی حیوانی حیات کے بارے میں سائنس بھی قرآن سے متفق ہے کہ یہ تمام مخلوق مٹی اور پانی سے بنی ہے۔ ادھر قرآن فرماتا ہے کہ مبدأ حیات پانی ہے اور اس سلسلے میں سائنس کا نظریہ بھی یہی ہے کہ ساحلی علاقوں میں مٹی اور پانی کے اتصال سے دلدل بنی‘ پھر اس دلدل کے اندر عمل تخمیر (fermentation) کے ذریعے سڑاند پیدا ہوئی تو وہاں ایلجی (Algai) یا امیبا (Amoeba) کی صورت میں نباتاتی یا حیوانی حیات کا آغاز ہوا۔ چنانچہ سائنسی تحقیق یہاں قرآن سے اتفاق کرتی نظر آتی ہے‘ گویا:؏ ’’متفق گر دید رائے بو علی بارائے من!‘‘

آیت 27

وَ الۡجَآنَّ خَلَقۡنٰہُ مِنۡ قَبۡلُ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷﴾

’’اور جنات کو ہم نے پیدا کیا تھا اس سے پہلے آگ کی لپٹ سے۔‘‘

یہ لفظ ’’سموم‘‘ اردو میں بھی معروف ہے ۔ موسم گرما میں صحرا میں چلنے والی تیز گرم ہوا کو بادِ سموم کہتے ہیں۔ آگ کے شعلے کا وہ حصہ جو بظاہر نظر آتا ہے اس کے گرد ہالے کی شکل میں اس کا وہ حصہ ہوتا ہے جو عام طور پر نظر نہیں آتا۔ شعلے کے اس نظر نہ آنے والے حصے کا درجہ حرارت نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ یہاں ’’نارِ سموم‘‘ سے مراد آگ کی وہی لپٹ یا لو مراد ہے جو شدید گرم ہوتی ہے اور اسی سے جنات کو پیدا کیا گیا ہے۔ یہاں ایک نکتہ یہ بھی مدِ نظر رہنا چاہیے کہ جنات کو اگرچہ آگ سے پیدا کیا گیا ہے مگر وہ آگ نہیں ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ہمیں مٹی سے پیدا کیا گیا ہے مگر ہم مٹی نہیں ہیں۔ دوسری اہم بات یہاں یہ واضح ہوئی کہ جناتِ کو انسانوں سے بہت پہلے پیدا کیا گیاتھا۔

آیت 28

وَ اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴿۲۸﴾

’’اور یاد کروجب کہا تھا آپؐ کے رب نے فرشتوں سے کہ میں بنانے والاہوں ایک بشر کو سنے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے۔‘‘

یہاں پھر وہی ثقیل اصطلاح (صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ) استعمال ہوئی ہے۔ انسانی تخلیق کی ابتدا کے بارے میں ایک نکتہ یہ بھی لائقِ توجہ ہے کہ قرآن میں جہاں بھی تخلیق کے ان ابتدائی مراحل کا ذکر آیا ہے ‘وہاں لفظ آدم استعمال نہیں ہوا‘ بلکہ بشر اور انسان کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ پورے قرآن میں صرف سورۂ آل عمران کی آیت ۵۹ایسی ہے جہاں اس ابتدائی تخلیق کے ضمن میں آدمؑ کا ذکر اس طرح آیا ہے : {اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۵۹﴾} ’’یقینا عیسیٰؑ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے۔ اس کو مٹی سے بنایا‘ پھر کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔‘‘

آیت 29

فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ

’’پھر جب میں اسے پوری طرح درست کر دوں‘‘

کسی بھی تخلیق کے بعد اس کا تسویہ ضروری ہوتا ہے۔ پہلے بنیادی ڈھانچہ بنایا جاتا ہے اور پھر اس کی نوک پلک سنواری جاتی ہے۔ جیسے ایک عمارت کا ڈھانچہ کھڑا کرنے کے بعد اس کی آرائش و زیبائش کی جاتی ہے اور رنگ و روغن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

وَ نَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ ﴿۲۹﴾

’’اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح میں سے ‘تو گر پڑنا اس کے لیے سجدے میں۔‘‘

آیت 30

فَسَجَدَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾

’’تو سجدہ کیا تمام فرشتوں نے مل کر۔‘‘

کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ میں بہت تاکید پائی جاتی ہے کہ سب کے سب نے اکٹھے ہو کر سجدہ کیا‘ اور ان میں سے کوئی بھی مستثنیٰ نہ رہا۔ جبرائیل‘ میکائیل‘ اسرافیل‘ عزرائیل سمیت سب جھک گئے‘ کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔فرشتوں کے ساتھ ذکر آنے کی وجہ سے گمان ہوتا ہے کہ جیسے ابلیس بھی فرشتہ تھا‘ مگر وہ فرشتہ نہیں تھا‘جیسا کہ سورۃ الکہف کی آیت ۵۰میں ’’کَانَ مِنَ الْجِنِّ ‘‘ فرما کر واضح کر دیا گیا کہ وہ جناتِ میں سے تھا۔

آیت 31

اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اَبٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ مَعَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿۳۱﴾

’’سوائے ابلیس کے‘ اُس نے انکار کیا سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے۔‘‘

32-35

اللہ کی لعنت ہے تکبّر کرنے والے پر

ویڈیو

قَالَ یٰۤـاِبۡلِیۡسُ مَا لَکَ اَلَّا تَکُوۡنَ مَعَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿۳۲﴾ قَالَ لَمۡ اَکُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَہٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴿۳۳﴾ قَالَ فَاخۡرُجۡ مِنۡہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿ۙ۳۴﴾ وَّ اِنَّ عَلَیۡکَ اللَّعۡنَۃَ اِلٰی یَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿۳۵﴾

آیت 32

قَالَ یٰۤـاِبۡلِیۡسُ مَا لَکَ اَلَّا تَکُوۡنَ مَعَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿۳۲﴾

’’اللہ نے فرمایا : اے ابلیس کیا ہوا تجھے کہ تو نہیں ہوا سجدہ کرنے والوں کے ساتھ؟‘‘

آیت 33

قَالَ لَمۡ اَکُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَہٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴿۳۳﴾

’’اُس نے کہا: میرے لیے روا نہیں ہے کہ سجدہ کروں اُس بشر کو جسے تو نے پیدا کیا ہے سنے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے۔‘‘

آیت 34

قَالَ فَاخۡرُجۡ مِنۡہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿ۙ۳۴﴾

’’اللہ نے فرمایا : بس نکل جاؤ اس میں سے ‘تم یقینا مردود ہو چکے ہو۔‘‘

آدم کو سجدہ کرنے کے حکم الٰہی کا انکار کر کے تم راندئہ درگاہ ہو چکے ہو۔ اب یہاں سے فی الفور نکل جاؤ!

آیت 35

وَّ اِنَّ عَلَیۡکَ اللَّعۡنَۃَ اِلٰی یَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿۳۵﴾

’’اور یقینا تم پر لعنت رہے گی روزِ جزا تک۔‘‘

36-40

ابلیس کے ناپاک عزائم

ویڈیو

قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۳۶﴾ قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ ﴿ۙ۳۷﴾ اِلٰی یَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴿۳۸﴾ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَیۡتَنِیۡ لَاُزَیِّنَنَّ لَہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَاُغۡوِیَنَّہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾ اِلَّا عِبَادَکَ مِنۡہُمُ الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۴۰﴾

آیت 36

قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۳۶﴾

’’اس نے عرض کی کہ اے میرے پروردگار! مجھے مہلت دے دے اُس دن تک جب یہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔‘‘

آیت 37

قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ ﴿ۙ۳۷﴾

’’اللہ نے فرمایا (جاؤ )تمہیں مہلت دے دی گئی۔‘‘

آیت 38

اِلٰی یَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴿۳۸﴾

’’وقتِ معین کے دن تک۔‘‘

یعنی روزِ قیامت تک تم زندہ رہو گے۔ ویسے تو جنوں کی عمریں انسانوں سے کافی زیادہ ہوتی ہوں گی مگر ایسا کوئی جن بھی نہیں ہے جو اس ابتدائی تخلیق کے وقت سے لے کر آج تک زندہ ہو‘ ماسوائے اس ایک جن کے جس کا نام عزازیل ہے۔ باقی اس کی اولاد اور ذریت اپنی جگہ ہے۔

آیت 39

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَیۡتَنِیۡ

’’اُس نے کہا : اے میرے پروردگار !چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیاہے‘‘

یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ ابلیس اپنی اس گمراہی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رہا ہے۔

لَاُزَیِّنَنَّ لَہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَاُغۡوِیَنَّہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾

’’میں یقینا مزین کر دوں گا ان کے لیے زمین میں (دنیا کو) اور میں ضرور گمراہ کر دوں گا ان سب کو۔‘‘

کہ میں اولادِ آدم کے لیے زمین میں دنیا کی رونقوں اور اس کی آرائش و زیبائش کو اس حد تک پر کشش بنا دوں گا کہ وہ اس میں گم ہو کر آپ کو اور آپ کے احکام کو بھول جائیں گے۔ اس طرح میں ان سب کو آپ کے سیدھے راستے سے گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔

آیت 40

اِلَّا عِبَادَکَ مِنۡہُمُ الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۴۰﴾

’’سوائے تیرے اُن بندوں کے جن کو تو ان میں سے (اپنے لیے) خالص کر لے۔‘‘

مخلَصین (لا م کی زبر کے ساتھ) سے مراد وہ بندے ہیں جنہیں اللہ خاص اپنے لیے چن لے‘ یعنی اللہ کے محبوب اور برگزیدہ بندے۔ اللہ کے ایسے بندوں کے بارے میں شیطان کا اعتراف ہے کہ ان پر میرا زور نہیں چلے گا۔

41-44

شیطان اسے بھٹکاتا ہے جو خود بھٹکنا چاہتا ہے

ویڈیو

قَالَ ہٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسۡتَقِیۡمٌ ﴿۴۱﴾ اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡغٰوِیۡنَ ﴿۴۲﴾ وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوۡعِدُہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۟ۙ۴۳﴾ لَہَا سَبۡعَۃُ اَبۡوَابٍ ؕ لِکُلِّ بَابٍ مِّنۡہُمۡ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴿٪۴۴﴾

آیت 41

قَالَ ہٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسۡتَقِیۡمٌ ﴿۴۱﴾

’’اللہ نے فرمایا کہ یہ ایک سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچانے والا ہے۔ ‘‘

یعنی میرے اور تمہارے درمیان یہ معاملہ طے ہو گیا ‘ تمہیں مہلت دے دی گئی۔ مجھ تک پہنچنے کا راستہ بالکل واضح ہے۔ تم اولادِ آدم کو اس راستے سے بہکانے کے لیے اپنا زور آزما لو۔

آیت 42

اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ

’’یقینامیرے بندوں پر تجھے کچھ اختیار نہیں ہو گا‘‘

یعنی صرف ’’مُخلَصین‘‘ ہی کی تخصیص نہیں ہے بلکہ کسی انسان پر بھی تجھے اختیار نہیں ہو گا۔

اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡغٰوِیۡنَ ﴿۴۲﴾

’’سوائے اُن کے جو خود تیری پیروی کریں گمراہوں میں سے۔‘‘

جو لوگ ’’غاوین ‘‘ میں سے ہوں گے‘ خود ان کے اندر سرکشی ہوگی‘ وہ خود اپنی نفس پرستی کی طرف مائل ہو کر تیری پیروی کریں گے‘ ان کولے جا کرتو گمراہی کے جس گڑھے میں چاہے پھینک دے اور جہنم کی جس وادی میں چاہے ان کو گرا دے‘ مجھے ان سے کوئی دلچسپی نہیں۔لیکن میرے کسی فرمانبردار بندے پر تجھے کوئی اختیار حاصل نہیں ہو گا۔

آیت 43

وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوۡعِدُہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۟ۙ۴۳﴾

’’ اور یقینا جہنم ہی ان سب کا موعود ٹھکانہ ہے۔‘‘

جو لوگ بھی تیری پیروی کریں گے ‘ان سب کے لیے جہنم کا وعدہ ہے۔

آیت 44

لَہَا سَبۡعَۃُ اَبۡوَابٍ ؕ لِکُلِّ بَابٍ مِّنۡہُمۡ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴿٪۴۴﴾

’’اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں‘ ان میں سے ہر دروازے کا ایک حصہ ہے مقرر شدہ۔‘‘

جہنم کے ہر دروازے میں سے داخل ہونے والےِ جنوں اور انسانوں کو مخصوص کر دیا گیا ہے۔ ممکن ہے دروازوں کی یہ تقسیم و تخصیص گناہوں کی نوعیت کے اعتبار سے ہو۔ واللہ اعلم!

اہل جہنم کے ذکر کے بعد اب اہل جنت کا ذکر ہونے جا رہا ہے۔ موازنے اور فوری تقابل (simultaneous contrast) کا یہ انداز و اسلوب قرآن میں ہمیں جگہ جگہ ملتا ہے۔

45-48

اہلِ جنت کی باہم کدورتیں ختم کر دی جائیں گی

ویڈیو

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ؕ۴۵﴾ اُدۡخُلُوۡہَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیۡنَ ﴿۴۶﴾ وَ نَزَعۡنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۴۷﴾ لَا یَمَسُّہُمۡ فِیۡہَا نَصَبٌ وَّ مَا ہُمۡ مِّنۡہَا بِمُخۡرَجِیۡنَ ﴿۴۸﴾

آیت 45

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ؕ۴۵﴾

’’(اس کے برعکس) یقینا متقی لوگ ہوں گے باغات اور چشموں میں۔‘‘

آیت 46

اُدۡخُلُوۡہَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیۡنَ ﴿۴۶﴾

’’(ان سے کہا جائے گا کہ )تم داخل ہو جاؤ ان (باغات) میں سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر۔‘‘

یہاں تم ہر طرح سے امن میں رہو گے‘ تمہیں کسی قسم کا کوئی اندیشہ نہیں ہو گا۔

آیت 47

وَ نَزَعۡنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنۡ غِلٍّ

’’اور ہم نکال دیں گے ان کے سینوں میں سے جو کچھ بھی کدورت ہو گی‘‘

یہ مضمون بالکل انہی الفاظ میں سورۃ الاعراف (آیت ۴۳) میں بھی آ چکا ہے۔ اہل ایمان کی آپس کی رنجشیں ‘کدورتیں اور شکایتیں ختم کر کے ان کے دلوں کو ہر قسم کے تکدر سے پاک کر دیا جائے گا۔

اِخۡوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۴۷﴾

’’بھائی بھائی (بن کر وہ بیٹھے ہوں گے) تختوں پر آمنے سامنے۔‘‘

جب کسی سے ناراضگی ہو تو آدمی آنکھیں چار نہیں کرتا‘ لیکن اہل جنت کے دل چونکہ ایک دوسرے کی طرف سے بالکل صاف ہوں گے‘ اس لیے وہ آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہوں گے۔

آیت 48

لَا یَمَسُّہُمۡ فِیۡہَا نَصَبٌ وَّ مَا ہُمۡ مِّنۡہَا بِمُخۡرَجِیۡنَ ﴿۴۸﴾

’’نہیں پہنچے گی انہیں اس میں کوئی تھکان‘ اور نہ ہی وہ اس میں سے نکالے جائیں گے۔‘‘

اہل جنت کو جنت میں داخل ہونے کے بعد وہاں سے نکالے جانے کا کھٹکا نہیں ہوگا اور نہ ہی اس میں انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف یا پریشانی ہو گی۔

یوٹیوب پر دیکھیے