اسلوب کے اعتبار سے سورۃ الحجر اپنے گروپ کی باقی تینوں سورتوں سے بالکل منفرد ہے‘ بالکل اسی طرح جس طرح پچھلی ذیلی گروپ میں سورۂ یوسف باقی دونوں سورتوں سے منفرد تھی۔ چنانچہ اس ذیلی گروپ کی پہلی دونوں سورتوں ( الرعد اور ابراہیم) کانہ صرف مزاج اور اسلوب ایک سا ہے بلکہ دونوں میں نسبتِ زوجیت بھی ہے‘ جبکہ سورۃ الحجر کا مزاج‘ انداز اور اسلوب ان دونوں سورتوں سے مختلف ہے۔
اسلوب میں ایک بنیادی فرق تو آیات کی طوالت کے سلسلے میں ہے۔ دوسری دونوں سورتوں کی آیات کے مقابلے میں سورۃ الحجر کی آیات نسبتاً چھوٹی ہیں۔ سورۃ الرعد کے چھ رکوع ہیں اور اس کی آیات ۴۳ ہیں۔ گویا اوسطاً ایک رکوع میں سات آیات ہیں ۔ اسی طرح سورئہ ابراہیم کے سات رکوع ہیں اور اس کی ۵۲آیات ہیں۔ یعنی اس کے ایک رکوع میں بھی اوسطاً تقریباً سات آیات ہی ہیں۔ اب جب ہم اس حوالے سے سورۃ الحجر کو دیکھتے ہیں تو اس کے چھ رکوع میں ۹۹ آیات ہیں ۔ یعنی ایک رکوع میں اوسطاً ۱۶ آیات ہیں۔ آیات کے چھوٹے ہونے کامطلب یہ ہے کہ اس سورت کا اسلوب مکی دور کی ابتدائی سورتوں سے ملتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سورۃ الحجر ابتدائی چار سال میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ایک ہے۔
سورتوں کے اسلوب کے بارے میں ایک بنیادی نکتہ بہت اہم ہے کہ بالکل ابتدائی دور میں نازل ہونے والی سورتوں کی آیات چھوٹی اور رِدھم (rhythm) بہت تیز ہے۔ ان میں صوتی آہنگ اور غنائیت بھی بہت واضح ہے۔ جبکہ بعد میں نازل ہونے والی سورتوں کے مزاج اور اسلوب میں اس لحاظ سے ہمیں بتدریج تبدیلی نظر آتی ہے اور یہ تبدیلی مدنی دور میں جا کر اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے جہاں آیات نسبتاًطویل ہیں اور ردھم بہت دھیما۔ چنانچہ مدنی دور میں آیت دَین‘ آیت الکرسی اور آیت البر جیسی غیر معمولی طوالت کی حامل آیات بھی ہیں جو ابتدائی دور کی بعض سورتوں سے بھی زیادہ طویل ہیں۔ سورتوں کے اس اسلوب کی مثال ایک ایسے دریا کی سی ہے جو پہاڑوں سے نکلتا ہے اور بتدریج سفر کرتے ہوئے میدانی علاقے میں پہنچتا ہے۔ پہاڑی علاقے میں اس کا بہائو بہت تیز اور پاٹ مختصر ہوتا ہے ‘لیکن میدانی علاقے میں آ کر اس کے بہائو میں ٹھہرائو اور پاٹ میں وسعت آ جاتی ہے۔ جیسے دریائے سندھ ‘جو پہاڑی علاقوں سے گزرتے ہوئے ایک ندی کا منظر پیش کرتا ہے ‘ میدانی علاقوں میں دریا خان وغیرہ کے قریب اس کا پانی میلوں میں پھیلا نظر آتا ہے۔
اس مثال کے مطابق ابتدائی دور کی سورتوں کا رِدھم تیز اورآیات محکم ہیں‘ اِن کے مضامین میں جامعیت اور گہرائی زیادہ ہے ‘جبکہ بعد میں نازل ہونے والی سورتوں میں یہ مضامین بتدریج پھیلتے گئے ہیں اور پھر اس نسبت سے عبارت کا رِدھم بھی مدہم ہوتا گیا ہے۔ اس تدریجی تبدیلی کے حوالے سے دیکھیں تو مکی دور کی آخری سورتوں میں بھی ہمیں وہ رِدھم نمایاں محسوس نہیں ہوتا جو ابتدائی زمانے کی سورتوں‘ مثلاً سورۂ قٓ‘ سورۃ النجم‘ سورۃالرحمٰن‘ سورۃ الواقعہ اور سورۃ الملک میں نظر آتا ہے۔
اب رہا یہ سوال کہ ابتدائی دور میں نازل ہونے والی سورۃ الحجر کو مصحف کے وسط میں اور ایسی سورتوں کے درمیان میں کیوں رکھا گیا ہے جن کا زمانہ نزول بعد کا ہے ‘تو اس کا واضح اور حتمی جواب تو یہی ہے کہ اس معاملے کا تعلق توقیفی امور سے ہے اور اس کی اصل حکمت بھی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ مگر اس سلسلے میں میری ایک اپنی رائے ہے جس کا اظہار کرنے کی جسارت کر رہا ہوں‘ اور وہ یہ کہ یہاں ایک جیسی مکی سورتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو گیارہویں پارے سے شروع ہو کر اٹھارہویں پارے تک چلا گیا ہے۔ ان سورتوں میں ایک جیسے مضامین تکرار کے ساتھ آ رہے ہیں۔ چنانچہ اس یکسانیت کو ختم کرنے اور ایک طرح کا تنوع پیدا کرنے کے لیے ابتدائی دور کی ایک سورت کو یہاں پر رکھا گیا ہے۔ ورنہ مزاج اور اسلوب کے اعتبار سے سورۃ الحجر کی بہت زیادہ مشابہت سورۃ الشعراء کے ساتھ ہے۔ واللہ اعلم!
یہاں پر سورۃ الحجر کی ایک آیت کو تیرہویں پارے میں اور باقی سورت کو چودہویں پارے میں دیکھ کر پاروں کی تقسیم کی بنیاد اور اس کے طریق کار کے بارے میں بھی سوال اٹھتا ہے۔ اس سلسلے میں بنیادی طور پر یہ بات اہم ہے کہ یہ تقسیم صحابہؓ کے زمانے میں نہیں تھی‘ بلکہ بعد میں کی گئی‘ اور بغرضِ تلاوت قرآن مجید کو تیس برابر اجزاء میں تقسیم کردیا گیا‘ تاکہ روزانہ ایک پارے کی تلاوت سے مہینے بھر میں قرآن ختم کر لیا جائے۔بہر حال اس تقسیم میں کوئی خاص حکمت نظر نہیں آتی اور نہ ہی اس میں مضمون کے تسلسل کا خیال رکھا گیا ہے۔ اس تقسیم میں جابجا سورتوں کی فصیلیں ٹوٹتی نظر آتی ہیں۔ کئی مقامات پر کسی سورۃ کی چند آیات ایک پارے میں اور باقی سورۃ اگلے پارے میں شامل کی گئی ہے۔ جیسے سورۂ ہود کی ابتدائی پانچ آیات گیارہویں پارے میں ہیں جبکہ باقی پوری سورت بارہویں پارے میں ہے۔ اس کے برعکس قرآن حکیم کی منازل کی تقسیم صحابہؓ کے دور میں ہوئی اور اس تقسیم میں بڑا حسن نظر آتا ہے۔
حروفِ مقطعات کا یہ سلسلہ سورۂ یونس سے شروع ہوا تھا۔ پانچ سورتوں کے آغاز میں الٓــرٰ کے حروف ہیں اور ایک سورۃ(الرعد) میں الٓـمّٓرٰ۔ یہ اس سلسلہ کی چھٹی اور آخری سورت ہے۔
’’(اے نبیﷺ!) چھوڑ دیجیے ان کو‘ یہ کھا پی لیں اور فائدہ اٹھالیں‘‘
زمین میں جو مہلت انہیں ملی ہوئی ہے اس میں خوب مزے کر لیں۔
وَ یُلۡہِہِمُ الۡاَمَلُ
’’اور(لمبی لمبی) امیدیں ان کو غافل کیے رکھیں‘‘
اَلْھٰی‘ یُلْھِی‘ اِلْھَائً کے معنی ہیں غافل کردینا۔ سورۃ التکاثر میں فرمایا گیا: {اَلۡہٰکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿۱﴾حَتّٰی زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ ؕ﴿۲﴾} ’’غافل کیے رکھا تمہیں کثرت کی خواہش کے مقابلے نے ‘یہاں تک کہ تم نے قبریں جادیکھیں‘‘۔انسان کے لمبے لمبے منصوبے بنانے کو ’’طولِ اَمل‘‘ کہتے ہیں۔ جب انسان اس گورکھ دھندے میں پڑ جائے‘ تو خواہشوں اور آرزوئوں کا یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا‘ مگر زندگی ختم ہو جاتی ہے ۔حدیث نبویﷺ ہے: حدیث((مَا قَلَّ وَکَفٰی خَیْرٌ مِمَّا کَثُرَ وَاَلْھٰی))۱ یعنی اگر کوئی شے کم ہے لیکن آپ کو کفایت کر جائے‘ آپ کی ضرورت اس سے پوری ہو جائے تویہ اس سے کہیں بہتر ہے جو آپ کی ضرورت سے زیادہ ہو اور آپ کو اپنے خالق اور مالک کی یاد سے غافل کر دے ۔
اگر مال و دولت کی ریل پیل ہے ‘ رزق اور سامانِ آسائش کی فراوانی ہے‘ کبھی کوئی حاجت پریشان نہیں کرتی‘ کوئی محرومی‘ کوئی نارسائی اللہ کی یاد تازہ کرنے کا سبب نہیں بنتی‘ تو ایسی حالت میں رفتہ رفتہ انسان کے بالکل غافل ہوجانے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ اتنا ملے جس سے ضرورت پوری ہو جائے اور کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرنا پڑے۔ لیکن اس قدر فراوانی نہ ہو کہ غفلت غلبہ پا لے۔
فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳﴾
’’تو عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔‘‘
(۱)مسند احمد‘ ح ۲۰۷۲۸۔ راوی : حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ۔
وہ شخص جس پر (اُس کے بقول) یہ ذکر نازل ہوا ہے (ہمارے نزدیک ) تم تو یقینا دیوانے ہو۔‘‘ معاذ اللہ! ثم معاذ اللہ!!---- مجنون ’’جن‘‘ سے مشتق ہے ۔ عربی میں جن کے معنی مخفی چیز کے ہیں۔ اسی معنی میں رحمِ مادر میں بچے کو جنین کہا جاتا ہے ‘کیونکہ وہ نظر سے پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے لفظ ’’جنت ‘‘ بھی اسی مادہ سے ہے اور اس سے مراد ایسی زمین ہے جو درختوں اور گھاس وغیرہ سے پوری طرح ڈھکی ہوئی ہو۔ سورۃ الانعام آیت ۷۶ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تذکرے میں یہ لفظ اس طرح آیا ہے: {فَلَمَّا جَنَّ عَلَیۡہِ الَّیۡلُ} یعنی جب رات کی تاریکی نے اسے ڈھانپ لیا۔چنانچہ مجنون اس شخص کو بھی کہا جاتا ہے جس پر جن کے اثرات ہوں‘ آسیب کا سایہ ہو اور اس کو بھی جس کا ذہنی توازن درست نہ ہو۔
رسول اللہﷺ کے بارے میں یہ بات وحی کے بالکل ابتدائی دور میں کہی گئی تھی اور اس کے کہنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو اس طرح کے خیالات کا اظہار معاندانہ انداز میں نہیں بلکہ ہمدردی میں کر رہے تھے۔ یعنی جب ابتدا میں حضورﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور بتایا کہ غارِ حرا میں ان کے پاس فرشتہ آیا ہے تو بہت سے لوگوں کو گمان ہوا کہ شاید آپﷺ کو کسی بد روح وغیرہ کا اثر ہو گیا ہے۔ چونکہ نبوت ملنے اور فرشتہ کے آنے کا دعویٰ ان کے لیے باکل نئی بات تھی اس لیے ان کا واقعی یہ خیال تھا کہ اکیلے کئی کئی راتیں غارِ حرا میں رہنے کی وجہ سے ضرور آپﷺ پر کسی بد روح یا جن کے اثرات ہو گئے ہیں۔ چنانچہ سورۂ نٓ (اس کا دوسرا نام سورۃ القلم بھی ہے) جو کہ بالکل ابتدائی دور کی سورۃ ہے ‘اس میں ان لوگوں کے خیالات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا : {مَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ بِمَجۡنُوۡنٍ ۚ﴿۲﴾} ’’ آپ ؐ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں۔‘‘
’’کیوں نہیں لے آتے ہمارے سامنے فرشتوں کو اگر تم سچے ہو؟‘‘
اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ان باتوں کا جواب آ رہا ہے:
آیت 8
مَا نُنَزِّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃَ اِلَّا بِالۡحَقِّ
’’ہم نہیں اتارا کرتے فرشتوں کو مگر حق کے ساتھ‘‘
یعنی یہ لوگ فرشتوں کو بلانا چاہتے ہیں یا اپنی شامت کو؟ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ عاد و ثموداور قومِ لوط پر فرشتے نازل ہوئے تو کس غرض سے نازل ہوئے! انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ فرشتے جب کسی قوم پر نازل ہوتے ہیں تو آخری فیصلے کے نفاذ کے لیے نازل ہوتے ہیں۔
وَ مَا کَانُوۡۤا اِذًا مُّنۡظَرِیۡنَ ﴿۸﴾
’’اور (اگر فرشتے نازل ہو گئے تو) پھر انہیں مہلت نہیں دی جائے گی۔‘‘
’’یقینا ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے اور بلاشبہ ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔‘‘
یہ آیت مبارکہ بہت اہم ہے ۔ جہاں تک اس کے پہلے حصے کا تعلق ہے تویہ حکم تورات پر بھی صادق آتا ہے اور انجیل پر بھی ۔ یعنی یہ دونوں کتابیں بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوئی تھیں۔ قرآن میں اس کی بار بار تصدیق بھی کی گئی ہے ۔ سورۃ المائدۃ کی آیت ۴۴ میں تورات کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق اس طرح کی گئی ہے: {اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىۃَ فِیۡہَا ہُدًی وَّ نُوۡرٌ ۚ } ۔ سورۂ آلِ عمران کی آیت ۳میں ان دونوں کتابوں کا ذکر فرمایا گیا: {وَ اَنۡزَلَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ۙ﴿۳﴾} ۔لیکن اس آیت کے دوسرے حصے میں جو حکم آیا ہے وہ صرف اور صرف قرآن کی شان ہے۔ اس سے پہلے کسی الہامی کتاب یا صحیفۂ آسمانی کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سابقہ کتب کی ہدایات و تعلیمات حتمی اور ابدی نہیں تھیں۔ وہ تو گویا عبوری ادوار کے لیے وقتی اور عارضی ہدایات تھیں اور اس لحاظ سے انہیں ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اب جبکہ ہدایت کامل ہوگئی تو اسے تا ابد محفوظ کر دیا گیا۔
یہ آیت ختم نبوت پر بھی بہت بڑی دلیل ہے۔ اگر سور ۃ المائدۃ کی آیت ۳ کے مطابق قرآن میں ہدایت درجۂ کاملیت تک پہنچ گئی اور آیت زیر نظر کے مطابق وہ ابدی طور پر محفوظ بھی ہو گئی تو وحی کے جاری رہنے کی ضرورت بھی ختم ہو گئی۔ چنانچہ قادیانیوں کے پاس اِن دونوں قرآنی حقائق کو تسلیم کر لینے کے بعد (اور ان کے لیے انہیں تسلیم کیے بغیر چارا بھی نہیں) وحی کے جاری رہنے کے جواز کی کوئی عقلی و منطقی دلیل باقی نہیں رہ جاتی۔ وحی کی ضرورت ان دونوں میں سے کسی ایک صورت میں ہی ہو سکتی ہے کہ یا تو ابھی ہدایت کامل نہیں ہوئی تھی اوراس کی تکمیل کے لیے وحی کے تسلسل کی ضرورت تھی۔ یا پھر ہدایت کامل تو ہو گئی تھی مگر بعد میں غیر محفوظ ہو گئی یا گم ہو گئی اور اس وجہ سے پیدا ہو جانے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے وحی کی ضرورت تھی۔ بہر حال اگر ان دونوں میں سے کوئی صورت بھی درپیش نہیں ہے تو سلسلۂ وحی کے جاری رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ (معاذ اللہ) عبث کام نہیں کرتا کہ ضرورت کے بغیر ہی سلسلۂ وحی کو جاری کیے رکھے۔
یہاں دو دفعہ (زیر نظر آیت سے قبل آیت ۶ میں بھی ) قرآن حکیم کے لیے ’’الذکر‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح سورئہ ’’ن‘‘ کی آخری دو آیات میں بھی قرآن حکیم کے لیے یہ لفظ آیا ہے۔ذکر کا مفہوم یاددہانی ہے۔ قرآنی فلسفے کے مطابق قرآن مجید کا ’’الذکر‘‘ ہونا اس مفہوم میں ہے کہ ایمانی حقائق خصوصی طور پر اللہ کی ذات اور اس کی صفات کا علم انسانی روح کے اندر موجود ہے‘مگر اس علم پر ذُہول (بھول اور غفلت) کا پردہ طاری ہو جاتا ہے۔ جیسے ایک وقت میں انسان کو ایک چیز یاد ہوتی ہے مگر بعد میں یاد نہیں رہتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس چیز کے بارے میں معلومات اس کی یادداشت کے تہہ خانے میں دب جاتی ہیں۔ پھر بعد میں کسی وقت جونہی کوئی چیز ان معلومات سے متعلق سامنے آتی ہے تو انسان کے ذہن میں وہ بھولی بسری معلومات پھر سے تازہ ہو جاتی ہیں۔ اس طرح ذہن میں موجود معلومات کو پھر سے تازہ کرنے والی چیز گویا یاد دہانی (reminder) کاکام کرتی ہے۔ مثلاً ایک دوست سے آپ کی سالہا سال سے ملاقات نہیں ہوئی اور اس کا خیال بھی کبھی نہیں آیا‘ مگر ایک دن اچانک اس کا دیا ہوا ایک قلم یا رومال سامنے آنے سے اس دوست کی یاد یکدم ذہن میں تازہ ہوگئی ۔ اس قلم یا رومال کی حیثیت گویا ایک نشانی (یاآیت )کی ہے جس سے آپ کے ذہن میں ایک بھولی بسری یاد پھرسے تازہ ہو گئی۔
اسی طرح اللہ کی ذات کا علم انسانی روح میں خفتہ (dormant) حالت میں موجود ہے ۔ اس علم کو پھر سے جگا کر تازہ کرنے اور اس پر پڑے ہوئے ذہول اور نسیان کے پردوں کو ہٹانے کے لیے آیاتِ آفاقیہ‘ آیاتِ انفسیہ اور آیاتِ قرآنیہ گویا یاد دہانی کا کام دیتی ہیں اور اللہ کی یاد کو انسان کے ذہن میں تازہ کرتی ہیں۔ اس لحاظ سے قرآن کو الذکر (یاد دہانی) کے نام سے موسوم کیا گیاہے۔
’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نے آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے تھے ‘پہلی جماعتوں میں۔‘‘
شِیَع‘ شِیْعَۃ کی جمع ہے اور اس کے معنی الگ ہو کر پھیلنے والے گروہ کے ہیں۔جیسے حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹوں کی نسلیں بڑھتی گئیں تو ان کے قبیلے اور گرو ہ علیحدہ ہوتے گئے اور یوں تقسیم ہو ہو کر روئے زمین پرپھیلتے گئے۔ اردو الفاظ’’اشاعت ‘‘اور’’ شائع ‘‘ بھی اسی مادہ سے مشتق ہیں ‘چنانچہ ان الفاظ میں بھی پھیلنے اور پھیلانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔
’’اسی طرح ہم اس کو چبھو دیتے تھے مجرموں کے دلوں میں۔‘‘
حق کی دعوت اپنی تاثیر کی وجہ سے ہمیشہ مخاطبین کے دلوں میں اتر جاتی ہے ۔ چنانچہ جو لوگ انبیاء کی دعوت کو ٹھکراتے رہے ‘وہ اس کی حقانیت کو خوب پہچان لینے کے بعد ٹھکرا تے رہے ۔ اس لیے کہ حق کو حق تسلیم کرنے سے اُن کے مفادات پر زد پڑتی تھی۔
’’(تو اے نبیﷺ!) یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے اور پہلے لوگوں کی سنت گزر چکی ہے۔‘‘
انبیاء و رسل کے مخاطبین کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے۔ جس طرح ہم نے اپنے رسول محمد ﷺ پریہ ’’الذکر‘‘ نازل کیا ہے اسی طرح پہلے بھی ہم اپنے رسولوں پر کتابیں اور صحیفے نازل کرتے رہے ہیں‘ مگر ان کی قوموں کے لوگ اکثر انکار ہی کرتے رہے۔
’’اور ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور ہم نے اسے (آسمانوں کو اور برجوں کو) مزین کر دیا ہے دیکھنے والوں کے لیے۔‘‘
ان برجوں کی اصل حقیقت کا ہمیں علم نہیں ہے‘ اس لحاظ سے یہ آیت بھی آیاتِ متشابہات میں سے ہے۔ البتہ رات کے وقت آسمان پر ستاروں کی بہار وہ دلکش منظرپیش کرتی ہے جس سے ہر دیکھنے والے کی آنکھ محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔
’’اور ہم نے حفاظت کی ہے اس کی ہر شیطانِ مردود سے۔‘‘
یہ گویا ہمارے ایمان بالغیب کا حصہ ہے کہ ان ستاروں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں۔ اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں انسان کی جدید تحقیق ماضی قریب میں ہوئی ہے‘ لیکن ابھی بھی اس سلسلے میں انسانی علم بہت محدود ہے۔ وائرس اور بیکٹیریا کے بارے میں کچھ ہی عرصہ پہلے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ بھی کوئی مخلوق ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات میں یقینا بہت سے ایسے حقائق ہوں گے جن کے بارے میں اب بھی انسان کچھ نہیں جانتا۔ بہر حال اب تک جتنی مخلوقات کے بارے میں ہمیں علم ہے ان میں صرف تین قسم کی مخلوقات ایسی ہیں جن میں خود شعوری (self consciousness) پائی جاتی ہے‘ یعنی ملائکہ‘ جنات اور انسان۔ ان میں سے پہلے ملائکہ کو پیدا کیا گیا‘ پھر جنات کو اور پھر انسان کو۔ گویا انسان اس کائنات کی تخلیق کے اعتبار سے Recent دور کی مخلوق ہے۔ البتہ انسانوں کی ارواح اسی دور میں پیدا کی گئیں جب ملائکہ کو پیدا کیا گیا۔ بہر حال خود شعوری صرف ان تین قسم کی مخلوقات میں ہی پائی جاتی ہے ‘باقی جو بھی مخلوقات اس کائنات میں موجود ہیں ‘چاہے وہ خشکی اور سمندر کے جانور ہوں یا ہوا میں اڑنے والے پرندے ‘ان میں شعور تو ہے مگر خود شعور ی نہیں ہے۔
جناتِ کی تخلیق چونکہ آگ سے ہوئی ہے لہٰذا ان کے اندر مخفی قوت (potential energy) انسانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ میرا گمان ہے کہ جنات کو سورج کی آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور اس لحاظ سے انہیں پورے نظامِ شمسی کے دائرے میں آمد و رفت کی طاقت اور استعداد حاصل ہے اور اس کے لیے انہیں کسی راکٹ یا مشینی ذرائع کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی اسی استعداد سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے وہِ عالم بالا سے اللہ تعالیٰ کے احکام اور تدبیرات کی ترسیل کے دوران ملائکہ سے کچھ خبریں اُچکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر وہ ایسی خبریں انسانوں میں اپنے دوست دار عامل اور کاہن لوگوں کو بتاتے ہیں تاکہ وہ اپنی دکانیں چمکا سکیں۔ اس کی مثال یوں ہے جیسے ایوانِ صدر سے احکام کی ترسیل و تقسیم کے دوران کوئی شخص متعلقہ اہلکاروں سے ان احکام کے بارے میں خبریں حاصل کر کے قبل ازوقت ان لوگوں تک پہنچا دے جو ان کے ذریعے سے اپنی دکانیں چمکانا چاہتے ہیں۔
جناتِ کو نظامِ شمسی کی حدود پھلانگنے سے روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ستاروں میں میزائل نصب کر رکھے ہیں۔ جب بھی کوئی جن اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر میزائل پھینکا جاتا ہے جسے ہم شہابِ ثاقب کہتے ہیں۔ اس پورے نظام پر ہم ’’کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا‘‘ کے اصول کے تحت یقین رکھتے ہیں جو ہمارے ایمان بالغیب کا حصہ ہے۔ بہر حال سائنسی ترقی کے سبب کائنات کے بارے میں اب تک سامنے آنے والی معلومات اور ایجادات کے ساتھ بھی ان قرآنی معلومات کا کسی نہ کسی حد تک تطابق (corroboration) موجود ہے۔
آیت 18
اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ
’’ماسوائے اس کے کہ جو کوئی چوری چھپے سننا چاہے‘‘
جیسے ایک فرشتہ کچھ احکام لے کر آ رہا ہو اور کوئی جن اس سے کوئی سن گن لینے کی کوشش کرے ۔فرشتے نوری ہیں اور جن ناری مخلوق ہیں‘ چنانچہ نور اور نار کے درمیان زیادہ بعد نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہونا ممکن ہے۔ عزازیل (ابلیس) کا بھی ایک جن ہونے کے باوجود فرشتوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔
فَاَتۡبَعَہٗ شِہَابٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۸﴾
’’تو اُس کا پیچھا کرتا ہے ایک انگارہ چمکتا ہوا۔‘‘
ایسی خلاف ورزی کی صورت میں اس جن پر میزائل پھینکا جاتا ہے۔ یہ میزائل اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد کے لیے ستاروں میں نصب کر رکھے ہیں۔
’’اور اس میں اُگا دی ہم نے ہر شے ٹھیک اندازے کے مطابق۔‘‘
کائنات کے اس خدائی نظام میں ہر چیز کی مقدار اور تعداد اس حد تک ہی رکھی گئی ہے جس حد تک اس کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی چیز اس مقررہ حد سے بڑھے گی تو وہ اس نظام میں خلل کا باعث بنے گی۔ مثلاً بعض مچھلیوں کے انڈوں کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے ۔یہ تمام انڈے اگر مچھلیاں بن جائیں تو چند ہی سالوں میں ایک مچھلی کی اولاد اس زمین کے حجم سے بھی کئی گنا زیادہ بڑھ جائے۔ بہر حال اس کائنات کے نظام کو درست رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر چیز کو ایک طے شدہ اندازے اور ضرورت کے مطابق رکھا گیا ہے۔
’’اور ہم نے بنائے ہیں تمہارے لیے اس میں ذرائع معاش اور (ان کے لیے بھی) جنہیں تم رزق نہیں دیتے۔‘‘
کچھ مخلوق تو ایسی ہے جس کی روزی اور کھانے پینے کا انتظام بظاہر انسانوں کی ذمہ داری ہے ‘جیسے پالتو جانور‘مگر بہت سی مخلوقات ایسی ہیں جن کے رزق کی ذمہ داری انسانوں پر نہیں ہے‘ مگر اللہ ان سب کو ان کے حصے کا رزق بہم پہنچا رہا ہے۔
’’ہم نہیں نازل کرتے اس میں سے مگر ایک طے شدہ اندازے کے مطابق۔‘‘
اُن لامتناہی اور لا محدود خزانوں سے صرف ضرورت کے مطابق اشیاء دنیا میں بھیجی جاتی ہیں ۔جیسے ہمارے ہاں بڑے بڑے گوداموں سے ضرورت کے مطابق چیزوں کی ترسیل کی جاتی ہے۔
آیت 22
وَ اَرۡسَلۡنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ
’’اور ہم بھیجتے ہیں ہوائیں جو بوجھل ہوتی ہیں ( یا بوجھل کرنے والی ہوتی ہیں)‘‘
لَوَاقِحَ کا مفہوم پہلے تو یہی سمجھا جاتا تھا کہ یہ ہوائیں بادلوں کو اٹھا کر لاتی ہیں اور بارش کا سبب بنتی ہیں ‘ لیکن اب جدید سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ polen grains بھی ہوائوں کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں جن سے پھولوں کی فرٹیلائزیشن ہوتی ہے ‘جس کے نتیجے میں فصلیں اور پھل پیدا ہوتے ہیں ۔یوں یہ سارا نباتاتی نظام بھی ہواؤں کی وجہ سے چل رہا ہے۔
’’پس ہم نے اتارا آسمان سے پانی پھر وہ تم لوگوں کوپلایا۔‘‘
پانی مبدأ حیات ہے۔ زمین پر ہرطرح کی زندگی کے وجود کا منبع اور سرچشمہ بھی پانی ہے اور پھر پانی پر ہی زندگی کی بقا کا انحصار بھی ہے ۔پانی کی اس اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے اس کی تقسیم و ترسیل کا ایک لگا بندھا نظام وضع کیا ہے جسے آج کی سائنس نے واٹر سائیکل کا نام دیا ہے۔ واٹر سائیکل کا یہ عظیم الشان نظام اللہ تعالیٰ کے عجائبات میں سے ہے۔ سمندروں سے ہوائوںتک بخارات پہنچا کر بارش اور برفباری کا انتظام‘ گلیشیئرز کی شکل میں بلند و بالا پہاڑوں پر واٹر سٹوریج کا اہتمام‘ پھر چشموں‘ ندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے سے اس پانی کی وسیع و عریض میدانی علاقوں تک رسائی اور زیر زمین پانی کا عظیم الشان ذخیرہ ۔یہ اللہ تعالیٰ کا وضع کردہ وہ واٹرسائیکل ہے جس پر پوری دنیا میں ہر قسم کی زندگی کا دارومدار ہے۔
وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ لَہٗ بِخٰزِنِیۡنَ ﴿۲۲﴾
’’ اور تم ا س کے جمع کرنے والے نہیں ہو۔‘‘
یہ تمہارے بس میں نہ تھا کہ تم پانی کے اس ذخیرے کو جمع کرتے۔
623-25
اللہ جانتا ہے کہ آگے بڑھنے والوں کواور پیچھے رہنے والوں کو
’’اور ہم جانتے ہیں تم میں سے آگے بڑھنے والوں کو بھی اور جانتے ہیں پیچھے رہنے والوں کو بھی۔‘‘
چونکہ یہ نبوت کے بالکل ابتدائی زمانے کی سورت ہے اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم جانتے ہیں اُن لوگوں کو جو حق کی اس دعوت پر فوراًلبیک کہیں گے اور آگے بڑھ کر قرآن کو سینوں سے لگائیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ {وَ السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ} ( التوبہ: ۱۰۰) کے مصداق کون لوگ ہوں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ابو بکر( رضی اللہ عنہ)قبولِ حق کے لیے ایک لمحے کی دیر نہیں لگائے گا۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ عثمان( رضی اللہ عنہ) بھی اس دعوت کو فوراً قبول کر لے گا۔ یہ بھی ہمارے علم میں ہے کہ ابو بکر( رضی اللہ عنہ)کی تبلیغ سے طلحہ‘ زبیر‘ عبدالرحمن بن عوف اور سعید بن زید ( رضوان اللہ علیہم اجمعین)جیسے لوگ فوراً ایما ن لے آئیں گے‘ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کون کون بدنصیب ہیں جو اس سعادت کو سمیٹنے میں پیچھے رہ جائیں گے۔