وَ قَدۡ مَکَرُوۡا مَکۡرَہُمۡ
’’اور انہوں نے اپنی سی چالیں چلیں‘‘
اے قریشِ مکہ ! جس طرح آج تم ہمارے نبیﷺ کے خلاف اپنی چالیں چل رہے ہو‘اسی طرح تم سے پہلے والے لوگوں نے بھی کچھ کمی نہیں کی تھی۔ جہاں تک ان کا بس چلا تھا انہوں نے اپنی چالیں چلی تھیں۔ قومِ نوحؑ‘ قومِ ہودؑ‘قومِ صالحؑ اور قومِ لوطؑ کے سرداروں نے اپنے رسولوں کے خلاف جوکچھ کیا اور جو کچھ کہا اس کی تفصیلات ہم تمہیں سنا چکے ہیں۔ اور قومِ شعیب ؑکے سرداروں کی مجبوری کا ذکر بھی ہم کر چکے ہیں جو تم لوگوں کی مجبوری سے ملتی جلتی تھی۔ یعنی ان کا بے چارگی سے یہ کہنا کہ اگر تمہارا قبیلہ تمہاری پشت پر نہ ہوتا تو ہم اب تک تمہیں سنگسار کر چکے ہوتے۔ چنانچہ ہمارے لیے اور ہمارے نبیﷺ کے لیے تمہاری یہ چالیں‘ یہ سازشیں اور یہ ریشہ دوانیاں کوئی انہونی نہیں ہیں۔ البتہ تم لوگ اپنی پیشرو اقوام کے واقعات کے آئینے میں اپنے مستقبل اور انجام کی جھلک دیکھنا چاہوتو صاف دیکھ سکتے ہو۔تم لوگ اندازہ کر سکتے ہو کہ تم سے پہلے ان مشرکین حق کی چالیں کس حد تک کامیاب ہوئیں او ر تم تجزیہ کر سکتے ہو کہ ہر بار حق و باطل کی کش مکش کا آخری نتیجہ کیا نکلا۔
وَ عِنۡدَ اللّٰہِ مَکۡرُہُمۡ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مَکۡرُہُمۡ لِتَزُوۡلَ مِنۡہُ الۡجِبَالُ ﴿۴۶﴾
’’اور اللہ ہی کۓ قبضہ قدرت میں ہیں اُن کی تمام چالیں۔ اور ان کی چالیں ایسی تو نہ تھیں کہ اُن سے پہاڑ ٹل جاتے۔‘اللہ تعالیٰ ان کی تمام چالوں کا احاطہ کیے ہوئے تھااور یہ ممکن نہیں تھا کہ اللہ کی مرضی اور مشیت کے خلاف ان کا کوئی منصوبہ کامیاب ہو جاتا۔ بہر حال ان کی چالیں اور منصوبہ بندیاں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کچھ ایسی نہیں تھیں کہ اُن کے سبب پہاڑ اپنی جگہ بدلنے پر مجبور ہوجاتے۔
فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰہَ مُخۡلِفَ وَعۡدِہٖ رُسُلَہٗ ؕ
’’تو آپ یہ مت سمجھیں کہ اللہ اپنے اس وعدے کے خلاف کرے گا جو اُس نے اپنے رسولوں سے کیا۔‘‘
یہاں پر رسول کے بجائے رُسل جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے ‘یعنی تمام رسولوں کے ساتھ اللہ کا یہ مستقل وعدہ رہا کہ تمہاری مدد کی جائے گی اور آخری کامیابی تمہاری ہی ہو گی۔جیسا کہ سورۃ المجادلہ کی آیت ۲۱ میں فرمایا گیا: {کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیۡ ؕ } یعنی اللہ نے طے کیا ہوا ہے‘ لکھ کر رکھا ہوا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آ کر رہیں گے۔درمیان میں کچھ اونچ نیچ ہوگی‘ تکلیفیں بھی آئیں گی‘ آزمائشوں کا سامنا بھی کرنا ہو گا‘ مگر فتح ہمیشہ حزب اللہ ہی کی ہو گی۔ آزمائشوں کے ان مراحل کے بارے میں سورۃ البقر ۃمیں فرمایا:
دوسرے مقام کی آیتوَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿ۙ۱۵۵﴾
’’ اور ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مال اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے‘تو آپ ؐصبر کرنے والوں کو بشارت سنا دیں۔‘‘
اس کے بعد سورۃ البقرۃ میں ہی فرمایا:
دوسرے مقام کی آیتاَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ مَسَّتۡہُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلۡزِلُوۡا حَتّٰی یَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ ﴿۲۱۴﴾
’’کیا تم سمجھتے ہو کہ یوں ہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں جیسی (مشکلات) تو پیش آئی ہی نہیں۔ اُن کو تو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچی تھیں اور وہ ہلا ڈالے گئے تھے‘یہاں تک کہ پیغمبر اور اُن کے ساتھ جو مؤمنین تھے سب پکار اٹھے کہ کب آئے گی اللہ کی مدد‘ آگاہ ہو جائو! اللہ کی مدد قریب ہے۔‘‘
بہر حال اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولوں سے یہ پختہ وعدہ رہا ہے کہ حق و باطل کی اس کش مکش میں بالآخر فتح انہی کی ہو گی اورانہیں جھٹلانے والوں کو اُن کے سامنے سزا دی جائے گی۔ یہ ساری باتیں تفصیل سے قرآن میں بیان کی جا چکی ہیں تا کہ ان لوگوں کو کوئی شک نہ رہے۔
اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿ؕ۴۷﴾
’’یقینا اللہ زبردست ہے انتقام لینے والا۔‘‘
٭ اس آیت کا یہ ترجمہ ’’وَاِنْ کَانَ مَکْرُہُمْ‘‘میں’’اِنْ‘‘کو نافیہ مان کرکیا گیا ہے اور یہ حضرت شیخ الہندؒ کے ترجمے کے موافق ہے۔ بعض مفسرین نے’’اِنْ‘‘شرطیہ اور وائو اصلیہ مان کر ترجمہ یوں کیا ہے: ’’اگرچہ ان کی یہ چالیں ایسی (زبردست) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جاتے۔ ‘‘ (اضافہ از مرتب)