تحریر

إبراهيم

آیات ۴۲ تا ۵۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

42-45

روزِقیامت نافرمانوں کا کیا حال ہوگا

ویڈیو

وَ لَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰہَ غَافِلًا عَمَّا یَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ ۬ؕ اِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمۡ لِیَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِیۡہِ الۡاَبۡصَارُ ﴿ۙ۴۲﴾ مُہۡطِعِیۡنَ مُقۡنِعِیۡ رُءُوۡسِہِمۡ لَا یَرۡتَدُّ اِلَیۡہِمۡ طَرۡفُہُمۡ ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُہُمۡ ہَوَآءٌ ﴿ؕ۴۳﴾ وَ اَنۡذِرِ النَّاسَ یَوۡمَ یَاۡتِیۡہِمُ الۡعَذَابُ فَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رَبَّنَاۤ اَخِّرۡنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ نُّجِبۡ دَعۡوَتَکَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ ؕ اَوَ لَمۡ تَکُوۡنُوۡۤا اَقۡسَمۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ مَا لَکُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ ﴿ۙ۴۴﴾ وَّ سَکَنۡتُمۡ فِیۡ مَسٰکِنِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ تَبَیَّنَ لَکُمۡ کَیۡفَ فَعَلۡنَا بِہِمۡ وَ ضَرَبۡنَا لَکُمُ الۡاَمۡثَالَ ﴿۴۵﴾

آیت 42

وَ لَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰہَ غَافِلًا عَمَّا یَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ ۬ؕ

’’اور آپ ہر گز نہ سمجھیں اللہ کو غافل اُس سے جو یہ ظالم کر رہے ہیں۔‘‘

اِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمۡ لِیَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِیۡہِ الۡاَبۡصَارُ ﴿ۙ۴۲﴾

’’یقینا وہ انہیں مہلت دے رہا ہے اُس دن تک جس میں نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔‘‘

آیت 43

مُہۡطِعِیۡنَ مُقۡنِعِیۡ رُءُوۡسِہِمۡ لَا یَرۡتَدُّ اِلَیۡہِمۡ طَرۡفُہُمۡ ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُہُمۡ ہَوَآءٌ ﴿ؕ۴۳﴾

’’وہ دوڑتے ہوں گے (محشر کی طرف) اپنے سروں کو اوپر اٹھائے‘نہیں لوٹے گی ان کی طرف ان کی نگاہ‘ اور ان کے دل اُڑے ہوئے ہوں گے۔‘‘

خوف اور دہشت کے سبب نظریں ایک جگہ جم کر رہ جائیں گی اور اِدھر اُدھر حرکت کرنا بھی بھول جائیں گی۔ یہ میدانِ حشر میں لوگوں کی کیفیت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔

آیت 44

وَ اَنۡذِرِ النَّاسَ یَوۡمَ یَاۡتِیۡہِمُ الۡعَذَابُ

’’اور (اے نبیﷺ!) خبردار کر دیجیے لوگوں کو اُس دن سے جب ان پر عذاب آئے گا ‘‘

فَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رَبَّنَاۤ اَخِّرۡنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ نُّجِبۡ دَعۡوَتَکَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ ؕ

’’تو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کی روش اختیار کی تھی :اے ہمارے پروردگار! ہمیں مہلت دے دے بس تھوڑی سی مدت تک‘ ہم تیری دعوت قبول کرلیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے۔‘‘

اَوَ لَمۡ تَکُوۡنُوۡۤا اَقۡسَمۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ مَا لَکُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ ﴿ۙ۴۴﴾

’’(جواب میں کہا جائے گا) کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو پہلے قسمیں کھایا کرتے تھے کہ تمہارے لیے کوئی زوال نہیں ہے۔‘‘

کہ ہمارا اقتدار‘ ہماری یہ شان و شوکت‘ ہماری یہ جاگیریں‘ یہ سب کچھ ہماری بڑی سوچی سمجھی منصوبہ بندیوں کا نتیجہ ہے‘انہیں کہاں سے زوال آئے گا!

آیت 45

وَّ سَکَنۡتُمۡ فِیۡ مَسٰکِنِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ

’’اور تم آباد تھے ان ہی لوگوں کے مسکنوں میں جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا‘‘

تمہارے آس پاس کے علاقوں میں وہ قومیں آباد تھیں جو ماضی میں اللہ کے عذاب کا نشانہ بنیں۔ قومِ عاد بھی اسی جزیرہ نمائے عرب میں آباد تھی‘ قومِ ثمود کے مساکن بھی تمہیں دعوتِ عبرت دیتے رہے‘ قومِ مدین کا علاقہ بھی تم سے کچھ زیادہ دور نہیں تھا اور قومِ لوط کے شہروں کے آثار سے بھی تم لوگ خوب واقف تھے۔

وَ تَبَیَّنَ لَکُمۡ کَیۡفَ فَعَلۡنَا بِہِمۡ وَ ضَرَبۡنَا لَکُمُ الۡاَمۡثَالَ ﴿۴۵﴾

’’اور تم پر اچھی طرح واضح ہو گیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا‘ اور ہم نے تمہارے لیے مثالیں بھی بیان کر دی تھیں۔‘‘

ان کے حالات پوری طرح کھول کر تم لوگوں کو سنا دیے گئے تھے۔ یہ تذکیر بایام اللہ کی تفصیلات کی طرف اشارہ ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں اور اس سلسلے میں حضورﷺ سے اسی سورت کی آیت ۵ میں خصوصی طور پر فرمایا گیا: {وَ ذَکِّرۡہُمۡ بِاَیّٰىمِ اللّٰہِ ؕ } ’’کہ آپؐ اللہ کے دنوں (اقوامِ گزشتہ کے واقعاتِ عذاب)کے حوالے سے ان لوگوں کو خبردار کریں۔

46-47

اللہ کے رسول ﷺ استقامت کا پہاڑ تھے

ویڈیو

وَ قَدۡ مَکَرُوۡا مَکۡرَہُمۡ وَ عِنۡدَ اللّٰہِ مَکۡرُہُمۡ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مَکۡرُہُمۡ لِتَزُوۡلَ مِنۡہُ الۡجِبَالُ ﴿۴۶﴾ فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰہَ مُخۡلِفَ وَعۡدِہٖ رُسُلَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿ؕ۴۷﴾

آیت 46

وَ قَدۡ مَکَرُوۡا مَکۡرَہُمۡ

’’اور انہوں نے اپنی سی چالیں چلیں‘‘

اے قریشِ مکہ ! جس طرح آج تم ہمارے نبیﷺ کے خلاف اپنی چالیں چل رہے ہو‘اسی طرح تم سے پہلے والے لوگوں نے بھی کچھ کمی نہیں کی تھی۔ جہاں تک ان کا بس چلا تھا انہوں نے اپنی چالیں چلی تھیں۔ قومِ نوحؑ‘ قومِ ہودؑ‘قومِ صالحؑ اور قومِ لوطؑ کے سرداروں نے اپنے رسولوں کے خلاف جوکچھ کیا اور جو کچھ کہا اس کی تفصیلات ہم تمہیں سنا چکے ہیں۔ اور قومِ شعیب ؑکے سرداروں کی مجبوری کا ذکر بھی ہم کر چکے ہیں جو تم لوگوں کی مجبوری سے ملتی جلتی تھی۔ یعنی ان کا بے چارگی سے یہ کہنا کہ اگر تمہارا قبیلہ تمہاری پشت پر نہ ہوتا تو ہم اب تک تمہیں سنگسار کر چکے ہوتے۔ چنانچہ ہمارے لیے اور ہمارے نبیﷺ کے لیے تمہاری یہ چالیں‘ یہ سازشیں اور یہ ریشہ دوانیاں کوئی انہونی نہیں ہیں۔ البتہ تم لوگ اپنی پیشرو اقوام کے واقعات کے آئینے میں اپنے مستقبل اور انجام کی جھلک دیکھنا چاہوتو صاف دیکھ سکتے ہو۔تم لوگ اندازہ کر سکتے ہو کہ تم سے پہلے ان مشرکین حق کی چالیں کس حد تک کامیاب ہوئیں او ر تم تجزیہ کر سکتے ہو کہ ہر بار حق و باطل کی کش مکش کا آخری نتیجہ کیا نکلا۔

وَ عِنۡدَ اللّٰہِ مَکۡرُہُمۡ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مَکۡرُہُمۡ لِتَزُوۡلَ مِنۡہُ الۡجِبَالُ ﴿۴۶﴾

’’اور اللہ ہی کۓ قبضہ قدرت میں ہیں اُن کی تمام چالیں۔ اور ان کی چالیں ایسی تو نہ تھیں کہ اُن سے پہاڑ ٹل جاتے۔‘اللہ تعالیٰ ان کی تمام چالوں کا احاطہ کیے ہوئے تھااور یہ ممکن نہیں تھا کہ اللہ کی مرضی اور مشیت کے خلاف ان کا کوئی منصوبہ کامیاب ہو جاتا۔ بہر حال ان کی چالیں اور منصوبہ بندیاں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کچھ ایسی نہیں تھیں کہ اُن کے سبب پہاڑ اپنی جگہ بدلنے پر مجبور ہوجاتے۔

آیت 47

فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰہَ مُخۡلِفَ وَعۡدِہٖ رُسُلَہٗ ؕ

’’تو آپ یہ مت سمجھیں کہ اللہ اپنے اس وعدے کے خلاف کرے گا جو اُس نے اپنے رسولوں سے کیا۔‘‘

یہاں پر رسول کے بجائے رُسل جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے ‘یعنی تمام رسولوں کے ساتھ اللہ کا یہ مستقل وعدہ رہا کہ تمہاری مدد کی جائے گی اور آخری کامیابی تمہاری ہی ہو گی۔جیسا کہ سورۃ المجادلہ کی آیت ۲۱ میں فرمایا گیا: {کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیۡ ؕ } یعنی اللہ نے طے کیا ہوا ہے‘ لکھ کر رکھا ہوا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آ کر رہیں گے۔درمیان میں کچھ اونچ نیچ ہوگی‘ تکلیفیں بھی آئیں گی‘ آزمائشوں کا سامنا بھی کرنا ہو گا‘ مگر فتح ہمیشہ حزب اللہ ہی کی ہو گی۔ آزمائشوں کے ان مراحل کے بارے میں سورۃ البقر ۃمیں فرمایا:

دوسرے مقام کی آیت

وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿ۙ۱۵۵﴾

’’ اور ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مال اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے‘تو آپ ؐصبر کرنے والوں کو بشارت سنا دیں۔‘‘

اس کے بعد سورۃ البقرۃ میں ہی فرمایا:

دوسرے مقام کی آیت

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ مَسَّتۡہُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلۡزِلُوۡا حَتّٰی یَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ ﴿۲۱۴﴾

’’کیا تم سمجھتے ہو کہ یوں ہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں جیسی (مشکلات) تو پیش آئی ہی نہیں۔ اُن کو تو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچی تھیں اور وہ ہلا ڈالے گئے تھے‘یہاں تک کہ پیغمبر اور اُن کے ساتھ جو مؤمنین تھے سب پکار اٹھے کہ کب آئے گی اللہ کی مدد‘ آگاہ ہو جائو! اللہ کی مدد قریب ہے۔‘‘

بہر حال اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولوں سے یہ پختہ وعدہ رہا ہے کہ حق و باطل کی اس کش مکش میں بالآخر فتح انہی کی ہو گی اورانہیں جھٹلانے والوں کو اُن کے سامنے سزا دی جائے گی۔ یہ ساری باتیں تفصیل سے قرآن میں بیان کی جا چکی ہیں تا کہ ان لوگوں کو کوئی شک نہ رہے۔

اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿ؕ۴۷﴾

’’یقینا اللہ زبردست ہے انتقام لینے والا۔‘‘

٭ اس آیت کا یہ ترجمہ ’’وَاِنْ کَانَ مَکْرُہُمْ‘‘میں’’اِنْ‘‘کو نافیہ مان کرکیا گیا ہے اور یہ حضرت شیخ الہندؒ کے ترجمے کے موافق ہے۔ بعض مفسرین نے’’اِنْ‘‘شرطیہ اور وائو اصلیہ مان کر ترجمہ یوں کیا ہے: ’’اگرچہ ان کی یہ چالیں ایسی (زبردست) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جاتے۔ ‘‘ (اضافہ از مرتب)

48-51

روز قیامت آسمان اور زمین بدل دیے جائیں گے

ویڈیو

یَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَیۡرَ الۡاَرۡضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوۡا لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ ﴿۴۸﴾ وَ تَـرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ یَوۡمَئِذٍ مُّقَرَّنِیۡنَ فِی الۡاَصۡفَادِ ﴿ۚ۴۹﴾ سَرَابِیۡلُہُمۡ مِّنۡ قَطِرَانٍ وَّ تَغۡشٰی وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ ﴿ۙ۵۰﴾ لِیَجۡزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۵۱﴾

آیت 48

یَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَیۡرَ الۡاَرۡضِ وَ السَّمٰوٰتُ

’’جس دن زمین بدل دی جائے گی اس زمین کے سوا (کسی اور شکل میں) اور آسمانوں کو بھی (بدل دیا جائے گا)‘‘

یہ روزِ محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قبل ازیں بھی کئی دفعہ ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی‘ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔ سورۃ الفجرمیں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے: {اِذَا دُکَّتِ الۡاَرۡضُ دَکًّا دَکًّا ﴿ۙ۲۱﴾} ’’جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا‘‘۔پھر سورۃ الانشقاق میں فرمایا گیا ہے: {وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ ۙ﴿۳﴾} ’’اور جب زمین کو کھینچا جائے گا‘‘۔ اس طرح تمام تفصیلات کو جمع کر کے جو صورت حال ممکن ہوتی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کو ختم کر کے اسے بالکل ہموار بھی کیا جائے گااور وسیع بھی۔ اس طرح اسے ایک بہت بڑے میدان کی شکل دے دی جائے گی۔جب زمین کو ہموار کیا جائے گاتو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے‘ زمین کے پچکنے سے اس کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گااور سمندر بھاپ بن کر اُڑ جائیں گے۔ اسی طرح نظامِ سماوی میں بھی ضرور ی ردّ وبدل کیا جائے گا‘ جس کے بارے میں سورۃ القیامہ میں اس طرح بتایا گیا ہے: {وَ جُمِعَ الشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ ۙ﴿۹﴾} یعنی سورج اور چاند کو یکجا کر دیا جائے گا۔ واللہ اعلم!

حال ہی میں ایک صاحب نے ’’The Machanics of the Dooms Day‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ یہ صاحب ماہر طبیعیات ہیں۔ میں نے اس کتاب کا پیش لفظ بھی لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے بہت سی ایسی باتیں لکھی ہیں جن کی طرف اس سے پہلے توجہ نہیں کی گئی۔ اس لحاظ سے ان کی یہ باتیں یقینا قابل غور ہیں۔ انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ قیامت کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس وقت پوری کائنات ختم ہو جائے گی‘ بلکہ یہ واقعہ صرف ہمارے نظامِ شمسی میں رونما ہو گا۔ جس طرح اس کائنات کے اندر کسی گلیکسی یا کسی گلیکسی کے کسی حصے کی موت واقع ہوتی رہتی ہے اسی طرح ایک وقت آئے گا جب ہمارا نظامِ شمسی تباہ ہو جائے گا اور تباہ ہونے کے بعد کچھ اور شکل اختیار کرلے گا۔ ہماری زمین بھی چونکہ اس نظام کا حصہ ہے ‘لہٰذا اس پر بھی ہر چیز تباہ ہو جائے گی‘ اور یہی قیامت ہوگی۔ واللہ اعلم!

وَ بَرَزُوۡا لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ ﴿۴۸﴾

’’اور یہ حاضر ہو جائیں گے اللہ کے سامنے جوواحد و قہار ہے۔‘‘

سورۃ الفجر میں اس وقت کا منظر بایں الفاظ بیان ہوا ہے: {وَّ جَآءَ رَبُّکَ وَ الۡمَلَکُ صَفًّا صَفًّا ﴿ۚ۲۲﴾وَ جِایۡٓءَ یَوۡمَئِذٍۭ بِجَہَنَّمَ ۬ۙ …} ’’اور اللہ تعالیٰ اس وقت نزول فرمائے گا ‘فرشتے بھی قطار در قطار آئیں گے اور جہنم بھی سامنے پیش کر دی جائے گی…‘‘ اللہ تعالیٰ کے نزول فرمانے کی کیفیت کا ہم تصور نہیں کر سکتے۔ جس طرح ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کے آخری حصے میں آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے‘ لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ اس نزول کی کیفیت کیا ہوتی ہے‘ اسی طرح آج ہم نہیں جان سکتے کہ روزِ قیامت جب اللہ تعالیٰ زمین پر نزول فرمائے گا تو اس کی کیفیت کیا ہو گی۔ ممکن ہے تب اس کی حقیقت ہم پر منکشف کر دی جائے۔

آیت 49

وَ تَـرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ یَوۡمَئِذٍ مُّقَرَّنِیۡنَ فِی الۡاَصۡفَادِ ﴿ۚ۴۹﴾

’’اور تم دیکھو گے مجرموں کو اُس روز کہ وہ جکڑے ہوئے ہوں گے باہم زنجیروں میں۔‘‘

آیت 50

سَرَابِیۡلُہُمۡ مِّنۡ قَطِرَانٍ وَّ تَغۡشٰی وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ ﴿ۙ۵۰﴾

’’ان کے کرتے ہوں گے گندھک کے اور ڈھانپے ہوئے ہو گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘

آیت 51

لِیَجۡزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۵۱﴾

’’تا کہ اللہ بدلہ دے دے ہر جان کو جو کچھ بھی اُس نے کمایا۔ یقینا اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘

اُس دن اللہ تعالیٰ کو اتنے زیادہ لوگوں کا حساب لیتے ہوئے دیر نہیں لگے گی۔

52

مقاصدِ نزولِ قرآن

ویڈیو

ہٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنۡذَرُوۡا بِہٖ وَ لِیَعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿٪۵۲﴾

آیت 52

ہٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ

’’یہ پہنچا دینا ہے لوگوں کے لیے ‘‘

اس قرآن اور اس کے احکام کو لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری ہم نے محمد رسول اللہﷺ پر ڈالی تھی۔ آپﷺ نے یہ ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کر دی ہے۔ اب یہ ذمہ داری آپﷺ کی اُمت کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ پیغام تمام انسانوں تک پہنچائے۔

وَ لِیُنۡذَرُوۡا بِہٖ

’’تا کہ وہ اس کے ذریعے سے خبردار کر دیے جائیں‘‘

یعنی اس قرآن کے ذریعے سے تمام انسانوں کی تذکیر و تنذیر کا حق ادا ہو جائے۔ اس حوالے سے سورۃ الانعام کی آیت ۱۹ کے یہ الفاظ بھی یاد کر لیجیے : {وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ ؕ } ’’یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے تا کہ میں خبردار کردوں اس کے ذریعے سے تمہیں بھی اور (ہر اُس شخص کو) جس تک بھی یہ پہنچ جائے۔‘‘

وَ لِیَعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿٪۵۲﴾

’’اورتا کہ وہ جان لیں کہ صرف وہی معبود ہے اکیلا‘ اور اس لیے کہ نصیحت اخذ کریں عقل والے لوگ۔‘‘

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآنِ العظیم‘ ونفعنی وایاکم بالایات والذکر الحکیم

یوٹیوب پر دیکھیے