’’اور یاد کرو جب کہا ابراہیم ؑنے کہ اے میرے رب اس شہر (مکہ) کو بنا دے امن کی جگہ اور بچائے رکھ مجھے اور میری اولاد کو اس سے کہ ہم بتوں کی پرستش کریں۔‘‘
یہ مضمون سورۃ البقرۃ کے پندرھویں رکوع کے مضمون سے ملتا جلتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ما قبل زمانہ کی جو تاریخ ہمیں معلوم ہوئی ہے اس کے مطابق اس دور کی سب سے بڑی گمراہی بت پرستی تھی ۔ آپؑ سے پہلے کی تمام اقوام اسی گمراہی میں مبتلا تھیں ۔ آپؑ کی اپنی قوم کا اس سلسلے میں یہ حال تھا کہ انہوں نے ایک بہت بڑے بت خانے میں بہت سے بت سجا رکھے تھے۔ انہی بتوں کاسورۃ الانبیاء میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو توڑا تھا۔ اس کے علاوہ آپؑ کی قوم ستاروں کی پوجا بھی کرتی تھی‘ جبکہ نمرود نے انہیں سیاسی شرک میں بھی مبتلا کر رکھا تھا ۔ وہ اختیارِ مطلق کا دعویدار تھا اور جس چیز کو وہ چاہتا جائز قرار دیتا اور جس کو چاہتا ممنوع۔
’’اے میرے پروردگار! ان بتوں نے (پہلے بھی) بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ تو جو کوئی میری پیروی کرے وہ تو بلاشبہ مجھ سے ہے‘‘
میں نے خود کو ہر قسم کے شرک سے پاک کر لیا ہے‘ اب جو لوگ میری پیروی کریں‘ شرک سے دُور رہیں‘ توحید کے راستے پر چلیں‘ ایسے لوگ تو میرے ہی ساتھی ہیں‘ اُن کے ساتھ تو تیرا وعدہ پورا ہو گا۔
’’اور جومیری نافرمانی کرے تو بلاشبہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طبیعت کے بارے میں ہم سورۂ ہود میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ چکے ہیں: {اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ لَحَلِیۡمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیۡبٌ ﴿۷۵﴾} کہ آپؑ بہت ہی نرم دل‘ حلیم الطبع اور ہر وقت اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ چنانچہ جب گنہگاروں کا ذکر ہوا ہے تو آپؑ نے اللہ کی صفاتِ غفاری اور رحیمی کا ذکر کرنے پرہی اکتفا کیا ہے۔ بالکل اسی انداز میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی التجا کا ذکر سورۃ المائدۃ میں آیا ہے : {اِنۡ تُعَذِّبۡہُمۡ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغۡفِرۡ لَہُمۡ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۱۸﴾} یعنی پروردگار !اگر تو انہیں عذاب دے گا تو وہ تیرے ہی بندے ہیں‘تو جس طرح چاہے انہیں عذاب دے‘ تیرا اختیار مطلق ہے۔ لیکن اگر تو انہیں معاف کر دے توبھی تیرے اختیار اور تیری حکمت پر کوئی اعتراض کرنے والا نہیں ہے۔
’’اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد (کی ایک شاخ) کو آباد کر دیا ہے اس بے آب و گیاہ وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس‘‘ اے ہمارے پروردگار! تیرے حکم کے مطابق میں نے یہاں تیرے اس محترم گھر کے پاس اپنی اولاد کو لا کر آباد کر دیا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں پہلے رَبِّ‘ رَبِّ (اے میرے پروردگار!)کا صیغہ آ رہا تھا مگراب ’’رَبَّـنَا‘‘ جمع کا صیغہ آ گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر آپؑ کے ساتھ حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی شامل ہو گئے ہیں۔ یہاں پر عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ کے الفاظ سے اُن روایات کو بھی تقویت ملتی ہے جن کے مطابق بیت اللہ کی تعمیر سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے کی تھی۔ ان روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا تعمیر کردہ بیت اللہ ابتدائی زمانہ میں گر گیا اور سیلاب کے سبب اس کی دیواریں وغیرہ بھی بہہ گئیں‘ صرف بنیادیں باقی رہ گئیں۔ان ہی بنیادوں پر پھر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے اس کی تعمیر کی جس کا ذکر سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۲۷ میں ملتا ہے: {وَ اِذۡ یَرۡفَعُ اِبۡرٰہٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَیۡتِ وَ اِسۡمٰعِیۡلُ ؕ } ۔ بہر حال حضرت ابراہیم علیہ السلام عرض کر رہے ہیں :