تحریر

إبراهيم

آیات ۲۸ تا ۳۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

28-30

ناشکری کرنے والوں کا انجام

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ بَدَّلُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ کُفۡرًا وَّ اَحَلُّوۡا قَوۡمَہُمۡ دَارَ الۡبَوَارِ ﴿ۙ۲۸﴾ جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ؕ وَ بِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴿۲۹﴾ وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا لِّیُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ قُلۡ تَمَتَّعُوۡا فَاِنَّ مَصِیۡرَکُمۡ اِلَی النَّارِ ﴿۳۰﴾

آیت 28

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ بَدَّلُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ کُفۡرًا

’’کیا تم نے غور نہیں کیا ان لوگوں کے حال پر جنہوں نے اللہ کی نعمت کو بدل دیا کفر سے‘‘

اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت کی نعمت سے نوازا تھا‘ مگر انہوں نے ہدایت ہاتھ سے دے کر ضلالت اور گمراہی خرید لی۔ اللہ‘ اس کے رسول اور اس کی کتاب سے کفر کر کے انہوں نے اللہ کی نعمت سے خود کو محروم کر لیا۔

وَّ اَحَلُّوۡا قَوۡمَہُمۡ دَارَ الۡبَوَارِ ﴿ۙ۲۸﴾

’’اور انہوں نے اپنی قوم کو لا اتارا تباہی کے گھر میں۔‘‘

جیسے سورۂ ہود‘ آیت ۹۸ میں فرعون کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ روزِ محشر وہ اپنی قوم کی قیادت کرتا ہوا آئے گا اور اس پورے جلوس کو لا کر جہنم کے گھاٹ اتار دے گا۔ اسی طرح تمام قوموں اور تمام معاشروں کے گمراہ لیڈر اپنے اپنے پیروکاروں کو جہنم میں پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔

آیت 29

جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ؕ وَ بِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴿۲۹﴾

’’یہ (دارالبوار) جہنم ہے‘ وہ اس میں داخل ہوں گے‘ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے ٹھہرنے کی۔‘‘

آیت 30

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا لِّیُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ

’’اور انہوں نے اللہ کے مدّ مقابل (شریک) ٹھہرا دیے ہیں تا کہ گمراہ کریں لوگوں کو اُس کے راستے سے ۔‘‘

یعنی انہوں نے جھوٹے معبودوں کا ڈھونگ اس لیے رچایا ہے تا کہ لوگوں کو اللہ کی بندگی سے ہٹا کر گمراہ کردیں۔ ’’اَنداد‘‘ جمع ہے ’نِد‘ کی‘ اس کے معنی مدمقابل کے ہیں۔ سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۲ میں بھی ہم پڑھ آئے ہیں: {فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا} ’’تو اللہ کے مدمقابل نہ ٹھہرایا کرو‘‘۔ اس معاملے کی نزاکت کااندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک صحابیؓ نے حضورﷺ سے محاورۃً عرض کیا: مَاشَائَ اللّٰہُ وَمَا شِئْتَ ’’جو اللہ چاہے اور جو آپؐ چاہیں‘‘تو آپﷺ نے انہیں فوراً ٹوک دیا اور فرمایا: حدیث((أَجَعَلْتَنِیْ لِلّٰہِ نِدًّا؟ مَا شَائَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ))۱’’ کیاتو نے مجھے اللہ کا مد مقابل بنا دیا؟(بلکہ وہی ہو گا)جو تنہا اللہ چاہے!‘‘ یعنی مشیت تو اللہ ہی کی ہے‘جو ہو گا اسی کی مشیت اور مرضی سے ہوگا۔ اختیار صرف اُسی کا ہے‘ اور کسی کا کوئی اختیار نہیں۔

قُلۡ تَمَتَّعُوۡا فَاِنَّ مَصِیۡرَکُمۡ اِلَی النَّارِ ﴿۳۰﴾

’’آپؐ کہیے کہ (دنیا کی زندگی میں) تم فائدہ اٹھا لو‘ پھر یقینا تمہارا لوٹنا آگ ہی کی طرف ہے۔‘‘

(۱) ان الفاظ میں یہ حدیث علامہ محمد بن عبدالوہابؒ نے ’’کتاب التوحید‘‘ میں نسائی کے حوالے سے درج کی ہے۔ مسند احمد میں الفاظ وارد ہوئے ہیں:’((أَجَعَلْتَنِیْ وَاللّٰہَ عَدْلًا)) ’’کیا تو نے مجھے اور اللہ کو برابر کر دیا؟‘‘ (مرتب)

31

روزِ قیامت کوئی لین دین یا سفارش کام نہیں آئے گی

ویڈیو

قُلۡ لِّعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خِلٰلٌ ﴿۳۱﴾

آیت 31

قُلۡ لِّعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ

’’آپؐ کہیے میرے ان بندوں سے جو ایمان لائے ہیں کہ وہ نماز قائم کریں‘‘

یہاں یہ نکتہ لائقِ توجہ ہے کہ قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے رسول اللہﷺ کو مخاطب کر کے اہل ایمان کو بالواسطہ حکم دیا جا رہا ہے اور یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے اہلِ ایمان کو براہِ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ پورے مکی قرآن میں یٰٓــاَیُّـھَا الَّـذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے براہِ راست مسلمانوں سے خطاب نہیں کیا گیا۔ (سورۃ الحج میں ایک مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں مگر اس سورۃ کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔) اس میں جوحکمت ہے وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ جہاں تک مجھے اس کی وجہ سمجھ میں آئی ہے وہ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ یٰٓــاَیُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کا طرزِ خطاب اُمت کے لیے ہے اور مکی دور میں مسلمان ابھی ایک اُمت نہیں بنے تھے۔ مسلمانوں کو اُمت کا درجہ مدینہ میں آ کر تحویل قبلہ کے بعد ملا۔ پچھلے دو ہزار برس سے اُمتِ مسلمہ کے منصب پر یہودی فائز تھے ۔انہیں اس منصب سے معزول کر کے محمد رسول اللہﷺ کی اُمت کو اُمت مسلمہ کا درجہ دیا گیا اور تحویلِ قبلہ اس تبدیلی کی ظاہری علامت قرار پایا۔ یعنی یہودیوں کے قبلہ کی حیثیت بطورِ قبلہ ختم کرنے کا مطلب یہ قرار پایا کہ انہیں اُمتِ مسلمہ کے منصب سے معزول کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن میں یٰٓــاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ کے ذریعے مسلمانوں سے خطاب اس کے بعد شروع ہوا۔

وَ یُنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خِلٰلٌ ﴿۳۱﴾

’’اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہیں خفیہ اور علانیہ‘ اس سے پہلے پہلے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی اور نہ کوئی دوستی کام آئے گی۔‘‘

یہ آیت سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۵۴ سے بہت ملتی جلتی ہے۔ وہاں بیع اور دوستی کے علاوہ شفاعت کی بھی نفی کی گئی ہے : {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خُلَّۃٌ وَّ لَا شَفَاعَۃٌ ؕ } ۔ یعنی اُس دن سے پہلے پہلے ہمارے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کر لو جس میں نہ کوئی بیع ہوگی‘نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ ہی کسی کی شفاعت فائدہ مند ہوگی۔

32-34

اللہ کی نعمتوں کو شمار نہیں کیا جاسکتا

ویڈیو

اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّکُمۡ ۚ وَ سَخَّرَ لَکُمُ الۡفُلۡکَ لِتَجۡرِیَ فِی الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِہٖ ۚ وَ سَخَّرَ لَکُمُ الۡاَنۡہٰرَ ﴿ۚ۳۲﴾ وَ سَخَّرَ لَکُمُ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ دَآئِبَیۡنِ ۚ وَ سَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ ﴿ۚ۳۳﴾ وَ اٰتٰىکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مَا سَاَلۡتُمُوۡہُ ؕ وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَظَلُوۡمٌ کَفَّارٌ ﴿٪۳۴﴾

آیت 32

اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّکُمۡ ۚ

’’اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانو ں اور زمین کو اور اتارا آسمان سے پانی‘پھر نکالا اس کے ذریعے سے پھلوں کی شکل میں تمہارے لیے رزق۔‘‘

وَ سَخَّرَ لَکُمُ الۡفُلۡکَ لِتَجۡرِیَ فِی الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِہٖ ۚ وَ سَخَّرَ لَکُمُ الۡاَنۡہٰرَ ﴿ۚ۳۲﴾

’’اور مسخر کر دیا تمہارے لیے کشتی کو کہ وہ چلے سمندر میں اس کے حکم سے ‘اور اس نے مسخر کر دیے تمہارے لیے دریا (اورنہریں وغیرہ)۔‘‘

آیت 33

وَ سَخَّرَ لَکُمُ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ دَآئِبَیۡنِ ۚ وَ سَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ ﴿ۚ۳۳﴾

’’اور مسخر کر دیا تمہارے لیے سورج اور چاند کو‘ کہ مسلسل چل رہے ہیں‘ اور مسخر کر دیا تمہارے لیے رات کو اور دن کو۔‘‘

ان تمام چیزوں کے گنوانے سے انسان کو یہ جتلانا مقصود ہے کہ زمین کے دامن اور آسمان کی وسعتوں میں اللہ کی تمام تخلیقات اور فطرت کی تمام قوتیں مسلسل انسان کی خدمت میں اس کی نفع رسانی کے لیے مصروفِ کار ہیں اور وہ اس لیے کہ اس کائنات میں انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جو سب مخلوقات سے اعلیٰ ہے۔ اللہ نے یہ بساط کون و مکان انسان ہی کے لیے بچھائی ہے اور باقی تمام اشیاء کو اس لیے پید ا کیا ہے کہ وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ اس کی ضروریات پوری کریں۔ یہی بات سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۹ میں اس طرح بیان فرمائی گئی ہے : {ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ٭} یعنی یہ زمین میں جو کچھ بھی نظر آ رہا ہے یہ اللہ نے تمہارے (انسانوں کے ) لیے پیدا کیا ہے۔ اور ان چیزوں کو تمہاری ضرورتیں پوری کرنے کے لیے مسخر کر دیا ہے ۔

آیت 34

وَ اٰتٰىکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مَا سَاَلۡتُمُوۡہُ ؕ

’’اور اُس نے تمہیں وہ سب کچھ دیا جو تم نے اُس سے مانگا۔‘‘

یہ مانگنا شعوری بھی ہے اور غیر شعوری بھی۔ یعنی وہ تمام چیزیں بھی اللہ نے ہمارے لیے فراہم کی ہیں جن کا تقاضا ہمارا وجود کرتا ہے اورہمیں اپنی زندگی کو قائم رکھنے کے لیے ان کی ضرورت ہے۔ کیونکہ انسان کو پوری طرح شعور نہیں ہے کہ اسے کس کس اندازمیں کس کس چیز کی ضرورت ہے اور اس کی ضرورت کی یہ چیزیں اسے کہاں کہاں سے دستیاب ہوں گی۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کی دُنیوی زندگی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اسباب و نتائج کے ایسے ایسے سلسلے پیدا کر دیے ہیں جن کا احاطہ کرنا انسانی عقل کے بس میں نہیں ہے۔ اللہ نے بہت سی ایسی چیزیں بھی پیدا کر رکھی ہیں جن سے انسان کی ضرورتیں انجانے میں پوری ہور ہی ہیں۔ مثلاً ایک وقت تک انسان کو کب پتا تھا کہ کون سی چیز میں کون سا وٹامن پایا جاتا ہے۔ مگر وہ وٹامنز مختلف غذائوں کے ذریعے سے انسان کی ضرورتیں اس طرح پوری کر رہے تھے کہ انسان کو اس کی خبر تک نہ تھی۔ بہر حال اللہ ہمیں وہ چیزیں بھی عطا کرتا ہے جو ہم اس سے شعوری طور پر مانگتے ہیں اور وہ بھی جوہماری زندگی اور بقا کا فطری تقاضا ہیں۔

وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَظَلُوۡمٌ کَفَّارٌ ﴿٪۳۴﴾

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو گے تو نہیں گن سکو گے۔ یقینا انسان بڑا ہی ظالم اور بہت نا شکرا ہے ۔‘‘

انسان کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو گن سکے۔ کَفّار (ک کی زبر کے ساتھ) یہاں فَعّال کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے ‘یعنی نا شکری میں بہت بڑھا ہوا۔

یوٹیوب پر دیکھیے