تحریر

إبراهيم

آیات ۲۴ تا ۲۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

24-27

اچھے اور برے نظریات کے لیے مثالیں

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ ﴿ۙ۲۴﴾ تُؤۡتِیۡۤ اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍۭ بِاِذۡنِ رَبِّہَا ؕ وَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۵﴾ وَ مَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیۡثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیۡثَۃِۣ اجۡتُثَّتۡ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَہَا مِنۡ قَرَارٍ ﴿۲۶﴾ یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیۡنَ ۟ۙ وَ یَفۡعَلُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ ﴿٪۲۷﴾

آیت 24

اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً

’’کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ نے کیسی مثال بیان کی ہے کلمۂ طیبہ کی!‘‘

کلمۂ طیبہ سے عام طور پر تو کلمۂ توحید ’’لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ مراد لیا جاتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہ افضل الذکر ہے ‘لیکن یہاں کلمہ طیبہ سے توحید پر مبنی عقائد و نظریات‘ بھلائی کی ہر بات‘ کلامِ طیب اور حق کی دعوت مراد ہے۔

کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ ﴿ۙ۲۴﴾

’’(اس کی مثال ایسی ہے) جیسے ایک پاکیزہ درخت‘اس کی جڑ مضبوط اور شاخیں آسمان میں ہیں۔‘‘

آیت 25

تُؤۡتِیۡۤ اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍۭ بِاِذۡنِ رَبِّہَا ؕ

’’یہ (درخت) ہر فصل میں اپنا پھل لاتا ہے اپنے رب کے حکم سے۔‘‘

اس درخت کی جڑیں زمین میں مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں‘ ا س کی شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور اس کا پھل بھی متواتر آ رہا ہے۔

وَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۵﴾

’’اور اللہ مثالیں بیان کرتا ہے لوگوں کے لیے تا کہ وہ نصیحت اخذ کریں۔‘‘

کوئی بھلائی کا کام ہو‘ نیکی کی دعوت ہو‘ راہِ حق کی کوئی تحریک ہو‘ جس نے بھی ایسی کسی نیکی کی ابتدا کی اس نے گویا اپنے لیے ایک بہت عمدہ پھلدار درخت لگا لیا۔ یہ درخت جب تک باقی رہے گا اپنے اثرات و ثمرات سے نہ معلوم کس کس کو فیض یاب کرے گا۔ جیسے کسی نے بھلائی کی دعوت دی اوراس دعوت کو کچھ لوگوں نے قبول کیا‘ انہوں نے اس دعوت کو مزید آگے پھیلایا‘ یوں اس نیکی کا حلقۂ اثر وسیع سے وسیع تر ہوتا جائے گا اور نہ معلوم مستقبل میں ایسے نیک اثرات مزید کہاں کہاں تک پہنچیں گے۔ حضرت جریر بن عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

حدیث((مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہٗ اَجْرُھَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہٗ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْئٌ ‘ وَمَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْقُصَ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیْئٌ)) ۱

’’جس کسی نے اسلام میں کسی نیک کام کا آغاز کیا تو اُس کے لیے اس کام کا اجر بھی ہو گا اور بعد میں جوکوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی اس کو ملے گا‘ لیکن ان کے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ اور جس کسی نے اسلام میں کسی بری شے کا آغاز کیا تو اس پر اس کا گناہ بھی ہو گا اور بعد میں جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کے گناہ کا بوجھ بھی اس پر ڈالا جائے گا ‘ مگر ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔‘‘

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الزکاۃ‘ باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ او کلمۃ طیبۃ۔

آیت 26

وَ مَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیۡثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیۡثَۃِۣ اجۡتُثَّتۡ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَہَا مِنۡ قَرَارٍ ﴿۲۶﴾

’’اور کلمۂ خبیثہ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گھٹیا درخت (جھاڑ جھنکاڑ)‘ جسے زمین کے اوپر سے ہی اکھاڑ لیا جائے ‘ اُس کے لیے کوئی قرار نہیں۔‘‘

بھلائی اور اس کے اثرات کے مقابلے میں برائی‘ برائی کی دعوت اور برائی کے اثرات کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بہت عمدہ‘مضبوط اور پھلدار درخت کے مقابلے میں جھاڑ جھنکاڑ۔ نہ اس کی جڑوں میں مضبوطی‘نہ وجود کو ثبات‘ نہ سایہ‘ نہ پھل۔ برائی بعض اوقات لوگوں میں رواج بھی پا جاتی ہے‘انہیں بھلی بھی لگتی ہے اور اس کی ظاہری خوبصورتی میں لوگوں کے لیے وقتی طور پر کشش بھی ہوتی ہے ۔ جیسے مالِ حرام کی کثرت اور چمک دمک لوگوں کو متاثر کرتی ہے مگر حقیقت میں نہ تو برائی کو ثبات اوردوام حاصل ہے اور نہ اس کے اثرات میں لوگوں کے لیے فائدہ!

آیت 27

یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ

’’اللہ ثبات عطا کرتا ہے اہلِ ایمان کو قولِ ثابت کے ذریعے سے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔‘‘

یہاں قولِ ثا بت سے مراد ایمان ہے۔ آخرت پر پختہ ایمان رکھنے والا شخص دنیا کے اندر اپنے کردار اور نظریات میں مضبوط اور ثابت قدم ہوتا ہے۔ اس کے حوصلے‘اس کے موقف اور اس کی صلاحیتوں کو اللہ تعالیٰ استقامت بخشتا ہے ۔ ایسے لوگوں کو اسی طرح کا ثبات آخرت میں بھی عطا ہو گا۔

وَ یُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیۡنَ ۟ۙ وَ یَفۡعَلُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ ﴿٪۲۷﴾

’’اور گمراہ کر دیتا ہے اللہ ظالموں کو‘ اور اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے