تحریر

إبراهيم

آیات ۱۸ تا ۲۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

18

اخلاص سے تہی اعمال کی مثال

ویڈیو

مَثَلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ اَعۡمَالُہُمۡ کَرَمَادِۣ اشۡتَدَّتۡ بِہِ الرِّیۡحُ فِیۡ یَوۡمٍ عَاصِفٍ ؕ لَا یَقۡدِرُوۡنَ مِمَّا کَسَبُوۡا عَلٰی شَیۡءٍ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِیۡدُ ﴿۱۸﴾

آیت 18

مَثَلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ اَعۡمَالُہُمۡ کَرَمَادِۣ اشۡتَدَّتۡ بِہِ الرِّیۡحُ فِیۡ یَوۡمٍ عَاصِفٍ ؕ

’’مثال ان لوگوں کی جنہوں نے کفرکیا اپنے ربّ کے ساتھ (ایسی ہے) کہ ان کے اعمال ہوں راکھ کی مانند‘ جس پر زور دار ہواچلے آندھی کے دن۔‘‘

اللہ کے ہاں کسی بھی نیک عمل کی قبولیت کے لیے ایمان لازمی اور بنیادی شرط ہے۔ چنانچہ جو لوگ اپنے رب کا کفر کرتے ہیں ان کے نیک اعمال کو یہاں راکھ کے ایسے ڈھیر سے تشبیہہ دی گئی ہے جس پر تیز آندھی چلی اور اس کا ایک ایک ذرہ منتشر ہو گیا۔ یعنی بظاہر تو وہ ڈھیر نظر آتا تھا مگر اللہ کے ہاں اس کی کچھ بھی حیثیت باقی نہ رہی۔ یہ بہت اہم مضمون ہے اور قرآن کریم میں مختلف مثالوں کے ساتھ اسے تین بار دہرایا گیا ہے۔ سورۃ النور کی آیت ۳۹ میں کفار کے اعمال کو سراب سے تشبیہہ دی گئی ہے اور سورۃ الفرقان کی آیت ۲۳ میں منکرین آخرت کے اعمال کو {ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿۲۳﴾} یعنی ’’ہوا میں اڑتے ہوئے ذرات‘‘کی مانند قراردیا گیا ہے ۔

دراصل ہر انسان اپنی ذہنی سطح کے مطابق نیکی کا ایک تصور رکھتا ہے‘ کیونکہ نیکی ہر انسان کی روح کی ضرورت ہے ‘مگر نیکی کا تعلق چونکہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کی قبولیت کے ساتھ ہے ‘چنانچہ اس کے لیے معیار بھی وہی قابل قبول ہو گا جو اللہ نے خود قائم کیا ہے‘ اور وہ معیار سورۃ البقرۃ کی آیت البر کی روشنی میں یہ ہے:

دوسرے مقام کی آیت

لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾

’’نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر دو‘ بلکہ اصل نیکی تو اُس کی ہے جو ایمان لایا اللہ پر‘یومِ آخر ت پر‘ فرشتوں پر‘ کتاب پر اور نبیوں پر۔ اور اس نے خرچ کیا مال اس کی محبت کے باوجود قرابت داروں‘ یتیموں‘ محتاجوں‘ مسافروں اور مانگنے والوں پر اور گردنوں کے چھڑانے میں۔ اور قائم کی نماز اور ادا کی زکوٰۃ۔ اور جو پورا کرنے والے ہیں اپنے عہد کے جب کوئی عہد کر لیں۔ اور صبرکرنے والے فقر و فاقہ میں‘ تکالیف میں اور حالتِ جنگ میں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو سچے ہیں اور یہی حقیقت میں متقی ہیں۔‘‘

اگر نیکی اس معیار کے مطابق ہے تو پھر یہ واقعی نیکی ہے ‘لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو نیکی کی شکل میں دھوکہ‘ سراب‘ اور فریب ہے ‘نیکی نہیں ہے۔ دراصل جب انسان کی فطرت مسنح ہو جاتی ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کا نیکی کا تصور بھی مسنح ہو جاتا ہے۔ نیکی چونکہ ایک برے سے برے انسان کے بھی ضمیر کی ضرورت ہے اس لیے بجائے اس کے کہ ایک برا انسان اپنی اصلاح کر کے اپنے اعمال و کردار کو نیکی کے مطلوبہ معیار پر لے آئے‘وہ الٹا نیکی کے معیار کو گھسیٹ کر اپنے خیالات و نظریات کی گندگی کے ڈھیر کے اندر اس کی جگہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں چور‘ ڈاکو اور لٹیرے صدقہ وخیرات کرتے اور خدمت خلق کے بڑے بڑے کام کرتے نظر آتے ہیں اور جسم فروش عورتیں مزاروں پر دھمال ڈالتی اور نیاز بانٹتی دکھائی دیتی ہیں ۔ اس طرح یہ لوگ اپنے ضمیر کی تسکین کا سامان کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے پیشے میں قدرے قباحت کا عنصر پایا جاتا ہے تو کیا ہوا‘اس کے ساتھ ساتھ ہم نیکی کے فلاں فلاں کام بھی تو کرتے ہیں!

اسی طرح جب مذہبی مزاج رکھنے والے لوگوں کی فطرت مسنح ہوتی ہے تو وہ کبیرہ گناہوں کی طرف سے بے حس اور صغائر کے بارے میں بہت حساس ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ صغائر کے بارے میں تو بڑے زور دار مباحثے اور مناظرے کررہے ہوتے ہیں‘ مگر کبائر کو وہ لائق اعتناء ہی نہیں سمجھتے۔ اس پس منظر میں صحیح طرز عمل یہ ہے کہ پہلے کبائر سے کلی طو رپر اجتناب کیا جائے اور پھر اس کے بعد صغائر کی طرف توجہ کی جائے۔ بہر حال قیامت کے دن بے شمار ایسے لوگ ہوں گے جو اپنے زعم میں بہت زیادہ نیکیاں لے کر آئے ہوں گے‘مگر اللہ کے نزدیک ان کی نیکیوں کی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں ہو گی۔

لَا یَقۡدِرُوۡنَ مِمَّا کَسَبُوۡا عَلٰی شَیۡءٍ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِیۡدُ ﴿۱۸﴾

’’انہیں کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا اُس میں سے جو کمائی انہوں نے کی ہو گی۔یہی تو ہے دُور کی گمراہی۔‘‘

ان کو زعم ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں بہت نیک کام کیے تھے‘ خدمت خلق کے بڑے بڑے پراجیکٹ شروع کر رکھے تھے‘ مگر اُس دن وہاں ان میں سے کوئی نیکی بھی ان کے کام آنے والی نہیں ہو گی۔

19-20

اللہ کی پکڑ سے ڈرتے رہو

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ وَ یَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿ۙ۱۹﴾ وَّ مَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیۡزٍ ﴿۲۰﴾

آیت 19

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ

’’کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پید ا کیاہے؟‘‘

اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ وَ یَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿ۙ۱۹﴾

’’اگر وہ چاہے تو تم لوگوںکو لے جائے (ہلاک کردے) اور ایک نئی مخلوق کو لے آئے۔‘‘

اس کی قدرت‘قوتِ تخلیق اور تخلیقی مہارت ختم تو نہیں ہو گئی‘ وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے ختم کر دے اور جب چاہے کوئی نئی مخلوق پیدا کر دے۔

آیت 20

وَّ مَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیۡزٍ ﴿۲۰﴾

’’اور یہ کام اللہ پر کوئی بھاری نہیں ہے۔‘‘

21

دنیا دار قائدین کی پیروی برباد کردے گی

ویڈیو

وَ بَرَزُوۡا لِلّٰہِ جَمِیۡعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا اِنَّا کُنَّا لَکُمۡ تَبَعًا فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا مِنۡ عَذَابِ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ قَالُوۡا لَوۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ لَہَدَیۡنٰکُمۡ ؕ سَوَآءٌ عَلَیۡنَاۤ اَجَزِعۡنَاۤ اَمۡ صَبَرۡنَا مَا لَنَا مِنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿٪۲۱﴾

آیت 21

وَ بَرَزُوۡا لِلّٰہِ جَمِیۡعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا اِنَّا کُنَّا لَکُمۡ تَبَعًا فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا مِنۡ عَذَابِ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ

’’اور وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے سب کے سب‘ تو کہیں گے کمزور لوگ متکبرین سے کہ ہم آپ لوگوں کے پیروکار تھے‘ تو کیاآپ اللہ کے عذاب میں سے ہمارے لیے کچھ کمی کر سکتے ہیں؟‘‘

کمزور لوگ طاقتور لوگوں سے ‘جنہیں وہ دنیا میں اپنے سردار اور لیڈر مانتے تھے‘ کہیں گے کہ ہم آپ کے فرمانبردار تھے‘ آپ کا ہر حکم مانتے تھے‘ آپ کی خدمت کرتے تھے‘ آپ کے جھنڈے اٹھاتے تھے ‘ آپ کے لیے زندہ باد کے نعرے لگاتے تھے ‘تو کیا آپ ہماری اُن خدمات کے عوض آج اس عذاب سے ہمیں کچھ رعایت دلا سکتے ہیں؟

قَالُوۡا لَوۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ لَہَدَیۡنٰکُمۡ ؕ

’’وہ کہیں گے کہ اگر اللہ نے ہمیں ہدایت دی ہوتی تو ہم تمہیں بھی ہدایت کی راہ دکھاتے۔‘‘

وہ کورا جواب دے دیں گے کہ ہم خود گمراہ تھے‘ سو ہم نے تمہیں بھی گمراہ کیا۔

سَوَآءٌ عَلَیۡنَاۤ اَجَزِعۡنَاۤ اَمۡ صَبَرۡنَا مَا لَنَا مِنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿٪۲۱﴾

’’اب ہمارے حق میں برابر ہے ‘ خواہ ہم جزع فزع کریں یا صبر کریں‘ ہمارے لیے خلاصی کی کوئی صورت نہیں۔‘‘

اب تو یکساں ہے‘ خواہ ہم بے قراری کا مظاہرہ کریں‘ چیخیں چلائیں یا صبر کریں‘ہمارے لیے کوئی مفر نہیں‘ ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔

22-23

شیطان کی اپنے پیروکاروں کو ملامت

ویڈیو

وَ قَالَ الشَّیۡطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَ وَعَدۡتُّکُمۡ فَاَخۡلَفۡتُکُمۡ ؕ وَ مَا کَانَ لِیَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُکُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِیۡ ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِیۡ وَ لُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِکُمۡ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِیَّ ؕ اِنِّیۡ کَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَکۡتُمُوۡنِ مِنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۲﴾ وَ اُدۡخِلَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ؕ تَحِیَّتُہُمۡ فِیۡہَا سَلٰمٌ ﴿۲۳﴾

آیت 22

وَ قَالَ الشَّیۡطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الۡاَمۡرُ

’’اور شیطان کہے گا (اُس وقت) جب فیصلہ چکا دیا جائے گا‘‘

جب تمام بنی نوع انسان کی قسمت کا فیصلہ ہو جائے گا اور اہلِ جنت کو جنت کی طرف اور اہلِ جہنم کو جہنم کی طرف لے جایا جا رہا ہو گا تو شیطان کہے گا:

اِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَ وَعَدۡتُّکُمۡ فَاَخۡلَفۡتُکُمۡ ؕ

’’(دیکھو لوگو!) اللہ نے تم سے ایک وعدہ کیا تھاسچاوعدہ‘ اور میں نے بھی تم سے وعدے کیے تھے تو میں نے تم سے (اپنے وعدوں کی) خلاف ورزی کی۔‘‘

وَ مَا کَانَ لِیَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ

’’لیکن میرے پاس تم پر کوئی اختیار نہیں تھا‘‘ میں تم پر کسی قسم کا جبر نہیں کر سکتا تھا اور تمہیں زبردستی برائی کی طرف نہیں لا سکتا تھا ۔ یہ اختیار مجھے اللہ نے دیا ہی نہیں تھا۔

اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُکُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِیۡ ۚ

’’سوائے اس کے کہ میں نے تم لوگوں کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت کو قبول کر لیا۔‘‘

میں نے تم لوگوں کو ورغلایا‘ معصیت کی دعوت دی‘ اللہ کی نافرمانیوں اور بے حیائی کے کاموں کی ترغیب دی اور تم لوگوں نے میرا کہا مان لیا۔

فَلَا تَلُوۡمُوۡنِیۡ وَ لُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ

’’تو اب تم لو گ مجھے ملامت نہ کرو‘ بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔‘‘

کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سارے احکام تمہارے سامنے تھے‘ اس کے راستے کے تمام نشانات تم پر واضح تھے۔ ان سے روگردانی کر کے تم لوگوں نے اپنی مرضی سے میرے راستے کو اختیار کیا۔ میں تمہیں زبردستی کھینچ کر اس طرف نہیں لے کر آیا۔ چنانچہ آج مجھے کوسنے کے بجائے اپنے آپ کو لعن طعن کرو۔

مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِکُمۡ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِیَّ ؕ

’’اب نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں‘نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو۔‘‘

اِنِّیۡ کَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَکۡتُمُوۡنِ مِنۡ قَبۡلُ ؕ

’’بلاشبہ میں انکار کرتا ہوں اس کا جو قبل ازیں تم مجھے (اللہ کا) شریک ٹھہراتے رہے تھے۔‘‘

تم نے دنیا میں جو کچھ بھی کیا تھا انتہائی غلط کیا تھا۔ تم لوگوں کو اللہ کے احکام پر عمل کرنا چاہیے تھا اور اُس کے وعدے پر اعتبار کرنا چاہیے تھا۔ تم لوگ نہ صرف اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال کر میرا کہنا مانتے رہے بلکہ مجھے اس کے برابر کا درجہ بھی دیتے رہے۔آج میں تمہارے ان سب اعتقادات سے اعلانِ براء ت کرتا ہوں۔

اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۲﴾

’’یقینا ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘

آیت 23

وَ اُدۡخِلَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ؕ تَحِیَّتُہُمۡ فِیۡہَا سَلٰمٌ ﴿۲۳﴾

’’اور داخل کیے جائیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے ایسے باغات میں جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی‘ وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش اپنے رب کے حکم سے۔ وہاں ان کی ملاقات کی دعا (ایک دوسرے پر) سلام ہو گی۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے