سورۂ ابراہیم کاسورۃ الرعد کے ساتھ جوڑے کا تعلق ہے۔ ان دونوں سورتوں میں کئی ایسی آیات ہیں جوسورۃ البقرۃ کی بعض آیات کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں۔ سورۃ الرعد میں کسی نبی یا رسول کا ذکر نام کے ساتھ نہیں آیا‘اسی طرح سورۂ ابراہیم میں بھی انبیاء ورسل علیہم السلام کا تذکرہ قدرے مختلف انداز میں آیا ہے۔ شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر چند آیات میں کرنے کے بعد زمانہ قبل کے سب انبیا ء و رسل علیہم السلام کا ذکر جمع کے صیغے میں ایک ساتھ کیا گیا ہے ‘جبکہ آخر میں اختصار کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے ۔ اسی وجہ سے اس سورۃ کا نام بھی آپؑ سے منسوب ہے ۔
اس مقام پر حروفِ مقطعات کے بارے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مکی سورتوں کے اس سلسلے کے پہلے ذیلی گروپ کی تینوں سورتوں (یونس‘ ہود اور یوسف) کا آغاز الٓــرٰسے ہو رہا ہے‘ جبکہ دوسرے ذیلی گروپ کی پہلی سورۃ (الرعد) الٓمّٓرٰ سے اور دوسری دونوں سورتیں (ابراہیم اور الحجر) پھر الٓــرٰ سے ہی شروع ہورہی ہیں۔
’’(اے نبیﷺ!) یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے آپ کی طرف تا کہ آپ نکالیں لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف‘اُن کے رب کے اذن سے‘‘
قرآن کریم میں اندھیرے کے لیے لفظ ’’ظُلُمات‘‘ ہمیشہ جمع اور اس کے مقابلے میں ’’نُـور‘‘ ہمیشہ واحد استعمال ہوا ہے۔ چونکہ کسی فرد کی ہدایت کے لیے فیصلہ اللہ کی طرف سے ہی ہوتا ہے‘ اس لیے فرمایا کہ آپﷺ کا انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لانے کا یہ عمل اللہ کے حکم اور اس کی منظوری سے ہو گا۔
اِلٰی صِرَاطِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ ۙ﴿۱﴾
’’اُس ہستی کے راستے کی طرف جو سب پر غالب اور اپنی ذات میں خود محمود ہے۔‘‘
’’وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں‘‘
یہ آیت ہم سب کو دعوت دیتی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنی ترجیحات کا تجزیہ کرے کہ اس کی مہلتِ زندگی کے اوقات کار کی تقسیم کیا ہے؟ اس کی بہترین صلاحیتیں کہاں کھپ رہی ہیں؟ اور اس نے اپنی زندگی کا بنیادی نصب العین کس رخ پر متعین کر رکھا ہے؟ پھر اپنی مشغولیات میں سے دنیا اور آخرت کے حصے الگ الگ کر کے دیکھے کہ دُنیوی زندگی (مَتاعُ الغُرُوْر) کو سمیٹنے کی اس بھاگ دوڑ میں سے اصل اور حقیقی زندگی (خَیْرٌ وَّاَبْقٰی) کے لیے اس کے دامن میں کیا کچھ بچتا ہے؟
’’اور وہ روکتے ہیں اللہ کے رستے سے اور اس کے اندر کجی تلاش کرتے ہیں۔ یقینا یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔‘‘
اللہ کے راستے سے روکنے کی مثالیں آج بھی آپ کو قدم قدم پر ملیں گی۔ مثلاً ایک نوجوان کو اگر اللہ کی طرف سے دین کا شعور اور متاعِ ہدایت نصیب ہوئی ہے اور وہ اپنی زندگی کو اسی رخ پر ڈالنا چاہتا ہے تو اس کے والدین اور دوست احباب اس کو سمجھانے لگتے ہیں‘ کہ تم اپنے کیرئیر کو دیکھو‘ اپنے مستقبل کی فکر کرو‘ یہ تمہارے دماغ میں کیا فتور آ گیا ہے؟ غرض وہ کسی نہ کسی طرح سے اسے قائل کر کے اپنے اسی رستے پر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں جس پر وہ خود اپنی زندگیاں برباد کر رہے ہیں۔
’’اور ہم نے نہیں بھیجا کسی رسولؑ کو مگر اُس کی قوم کی زبان ہی میں تا کہ وہ ان کے لیے (اللہ کے احکام ) اچھی طرح واضح کر دے۔‘‘
یعنی ہر قوم کی طرف مبعوث رسول پر وحی اُس قوم کی اپنی ہی زبان میں آتی تھی تا کہ بات کے سمجھنے اور سمجھانے میں کسی قسم کا ابہام نہ رہ جائے‘ اور ابلاغ کا حق ادا ہو جائے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات دی گئی تو عبرانی زبان میں د ی گئی جو آپؑ کی قوم کی زبان تھی۔
’’اور (اسی طرح) ہم نے بھیجا تھا موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ کہ نکالواپنی قوم کو اندھیروں سے اُجالے کی طرف اور انہیں خبردار کرواللہ کے دنوں کے حوالے سے۔‘‘
یہ ’’التّذکیر بایّام اللّٰہ ‘‘ کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ علیہ کے حوالے سے قبل ازیں بار بار آ چکا ہے۔ شاہ ولی اللہؒ نے اپنی مشہور کتاب ’’الفوز الکبیر‘‘ میں مضامین قرآن کی تقسیم کے سلسلے میں ’’التذکیر بایام اللّٰہ‘‘ کی یہ اصطلاح استعمال کی ہے ‘یعنی اللہ کے ان دنوں کے حوالے سے لوگوں کو خبردار کرنا جن دنوں میں اللہ نے بڑے بڑ ے فیصلے کیے اور ان فیصلوں کے مطابق کئی قوموں کو نیست و نابود کر دیا۔ اس کے ساتھ شاہ ولی اللہ ؒنے دوسری اصطلاح ’’التذکیر بِآلاء اللّٰہ ‘‘ کی استعمال کی ہے‘ یعنی اللہ کی نعمتوں اور اس کی نشانیوں کے حوالے سے تذکیر اور یاد دہانی۔
’’یقینا اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس انسان کے لیے جو بہت صبر کرنے والا اور بہت شکر کرنے والا ہے۔‘‘
صَبَّار اور شَکُور دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ صبر اور شکر یہ دونو ں صفات آپس میں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی (complementary) نوعیت کی ہیں۔ چنانچہ ایک بندۂ مؤمن کو ہر وقت ان میں سے کسی ایک حالت میں ضرورہو نا چاہیے اور اگر وہ ان میں سے ایک حالت سے نکلے تو دوسری حالت میں داخل ہو جائے۔اگر اللہ نے اس کو نعمتوں اور آسائشوں سے نوازا ہے تو وہ شکر کرنے والا ہو اور اگر کوئی مصیبت یاتنگی اسے پہنچی ہے تو صبر کرنے والا ہو ۔
حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’مؤمن کا معاملہ تو بہت ہی خوب ہے‘ اس کے لیے ہر حال میں بھلائی ہے‘ اور یہ بات مؤمن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہے۔ اگر اسے کوئی آسائش پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے‘ پس یہ اُس کے لیے بہتر ہے ‘اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے‘ پس یہ اُس کے لیے بہتر ہے۔‘‘
(۱)صحیح مسلم‘ کتاب الزھد والرقائق‘ باب المؤمن امرہ کلہ خیر۔
’’اور کہا کہ ہم تو انکار کرتے ہیں اس کا جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ‘اور تم ہمیں جس چیز کی دعوت دے رہے ہو اُس کے بارے میں ہم سخت الجھن میں ڈال دینے والے شک میں مبتلا ہیں۔‘‘
یہاں تمام رسولوں کو ایک جماعت فرض کر کے اُن کا ذکر اکٹھے کیا جا رہا ہے ‘کیونکہ سب نے اپنی اپنی قوم کو ایک جیسی دعوت دی اور اُس دعوت کے جواب میں سب رسولوں کی قوموں کا ردِ عمل بھی تقریباً ایک جیسا تھا۔ ان سب اقوام نے اپنے رسولوں کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تو ان باتوں کے متعلق بہت سے شکوک و شبہات لاحق ہیں‘ جن کی وجہ سے ہم سخت الجھن میں پڑ گئے ہیں ۔
’’ان کے رسولوں نے کہا کہ کیا تم لوگوں کو اللہ کی ذات کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے؟‘‘
یہ searching question کا سا انداز ہے جس میں بات وہاں سے شروع کی جا رہی ہے جہا ں تک خود فریق ثانی کو بھی اتفاق ہے۔ مذکورہ تمام اقوام کے کفار و مشرکین میں ایک عقیدہ ہمیشہ مشترک رہا ہے کہ وہ تمام لوگ نہ صرف اللہ کو مانتے تھے بلکہ اسے زمین وآسمان کا خالق بھی تسلیم کرتے تھے۔ چنانچہ جس قوم کے لوگوں نے بھی اپنے رسول ؑکی دعوت کو شکوک و شبہات کی بنا پر رد کرنا چاہا ان کو ہمیشہ یہی جواب دیا گیا ۔ یعنی سب سے پہلے اللہ کی ذات کا معاملہ ہمارے تمہارے درمیان واضح ہونا چاہیے کہ تمہیں اللہ کی ذات کے بارے میں شک ہے یا اس کے خالق ارض و سماوات ہونے میں؟
’’اُن کے رسولوں نے ان سے کہا کہ واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تمہاری ہی طرح کے انسان‘ لیکن اللہ احسان فرماتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے۔‘‘
یہ اللہ کی مرضی کا معاملہ ہے‘وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے۔ اس نے ہمیں اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے‘ ہماری طرف وحی بھیجی ہے اور ہمیں مامور کیا ہے کہ ہم آپ لوگوں کو خبردار کریںا ور اس کے احکام آپ تک پہنچائیں۔
’’اور ہم صبر ہی کریں گے اس ایذا پر جو تم ہمیں پہنچا رہے ہو‘ اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے تمام توکل کرنے والوں کو۔‘‘
آیت 13
وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِرُسُلِہِمۡ
’’اور کہا ان لوگوں نے جو کافر ہوئے تھے اپنے رسولوں سے‘‘
رسولوں کی جماعت اور ان کی قوموں کے درمیان ہونے والے سوالات و جوابات کا تذکرہ جاری ہے ۔ یعنی اپنے اپنے زمانے میں اپنے اپنے رسولوں سے متعلقہ اقو ام کے لوگوں نے کہا:
’’اور ہم آباد کریں گے زمین میں تم لوگوں کو ان کے بعد۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی طرف وحی بھیجی کہ اب تمام کافر وں کو ہلاک کر دیا جائے گا اور اس کے بعد رسول ؑاور ان کے ساتھ بچ جانے والے تمام اہل ایمان کو پھر سے زمین میں آباد کرنے کا سامان کیا جائے گا۔
’’اور انہوں نے فیصلہ طلب کیا اور نا مراد ہو کر رہا ہر سرکش ضدی۔‘‘
جو لوگ کفر و شرک پر ڈٹے رہتے وہ اس بات پر بھی اپنے رسول ؑسے اصرار کرتے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان آخری فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ پھر جب اللہ کی طرف سے وہ آخری فیصلہ عذابِ استیصال کی صورت میں آتا تو اس کے نتیجے میں سرکش اور ہٹ دھرم قوم کو نیست و نابود کر دیا جاتا۔ ایسے منکرین حق کی تباہی و بربادی کا نقشہ قرآن حکیم میں اس طرح کھینچا گیا ہے : {کَاَنۡ لَّمۡ یَغۡنَوۡا فِیۡہَا ۚۛ } (الاعراف: ۹۲) ’’وہ ایسے ہو گئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں‘‘ اور {فَاَصۡبَحُوۡا لَا یُرٰۤی اِلَّا مَسٰکِنُہُمۡ ؕ} ( الاحقاف: ۲۵ ) یعنی وہ ایسے ہو گئے کہ ان کے دیار و امصار میں صرف اُن کے محلات و مساکن ہی نظر آتے تھے جبکہ اُ ن کے مکینوں کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ اور یہ سب کچھ تو ان لوگوں کے ساتھ اس دنیا میں ہوا‘ جبکہ آخرت کی بڑی سزا اُس کے علاوہ ہے جس کو جھیلتے ہوئے ان میں سے ہر ایک سرکش ضدی اس طرح نشانِ عبرت بنے گا:
’’اور اُسے ہر طرف سے موت (آتی ہوئی نظر) آئے گی لیکن مر نہیں سکے گا۔‘‘
شدید تکلیف میں موت انسان کو راحت پہنچادیتی ہے۔ بعض بیمار ایسے ہوتے ہیں کہ تکلیف کی شدت میں ایڑیاں رگڑ رہے ہوتے ہیں اور موت ان کے لیے راحت کا سامان بن جاتی ہے۔ لیکن جہنم ایسی جگہ ہے کہ جہاں انسان کو موت نہیں آئے گی۔ سورۂ طٰہٰ میں اس کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: {لَا یَمُوۡتُ فِیۡہَا وَ لَا یَحۡیٰی ﴿ؕ۱۳﴾} ’’نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جی پائے گا‘‘۔ اہلِ جہنم شدید خواہش کریں گے کہ موت آ جائے اور ان کا قصہ تمام ہو جائے مگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو گی۔
وَ مِنۡ وَّرَآئِہٖ عَذَابٌ غَلِیۡظٌ ﴿۱۷﴾
’’اور اس کے بعد اُس کے لیے ایک اور سخت عذاب ہو گا۔‘‘
یعنی اس سختی میں مسلسل اضافہ ہوتا جائے گا‘ عذاب کی شدت درجہ بدرجہ بڑھتی ہی چلی جائے گی۔