تحریر

الرعد

آیات ۲۷ تا ۴۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

27-29

دلوں کو اطمینان اللہ کی یاد سے ہوتا ہے

ویڈیو

وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ اَنَابَ ﴿ۖۚ۲۷﴾ اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَطۡمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ بِذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾ اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوۡبٰی لَہُمۡ وَ حُسۡنُ مَاٰبٍ ﴿۲۹﴾

آیت 27

وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ

’’اور کہتے ہیں یہ کافرلوگ کہ کیوں نہیں اتاری گئی اس شخص پر کوئی نشانی اس کے ربّ کی طرف سے؟‘‘

مشرکین مکہ کی ہٹ دھرمی ملاحظہ ہو‘بار بار ان کی اسی بات اور اسی دلیل کا ذکر ہو رہا ہے کہ محمد رسول اللہﷺ پرکوئی حسی معجزہ کیوں نہیں اُتارا گیا؟

قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ اَنَابَ ﴿ۖۚ۲۷﴾

’’آپؐ کہہ دیجیے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کر تا ہے اور اپنی طرف ہدایت اُسی کو دیتا ہے جو خود (اس کی طرف) رجوع کرے۔‘‘

جو لوگ خود ہدایت کے طالب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں‘ وہ انہیں نعمتِ ہدایت سے سرفراز فرماتا ہے۔

آیت 28

اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَطۡمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ بِذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ

’’ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں۔‘‘

دل اور روح کے لیے تسکین کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ کا ذکر ہے اس لیے کہ انسان کی روح اس کے دل کی مکین ہے اور روح کا تعلق براہِ راست اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہے۔ جیسا کہ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ۸۵ میں فرمایا گیا: {وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ } ’’اور (اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں ‘آپ فرمائیں کہ روح میرے پروردگار کے امرمیں سے ہے‘‘۔لہٰذا جس طرح انسانی جسم کی حیات کا منبع (source) یہ زمین ہے اور جسم کی نشوونما اور تقویت کا سارا سامان زمین ہی سے مہیا ہوتاہے اسی طرح انسانی روح کا منبع ذاتِ باری تعالیٰ ہے اور اس کی نشوونما اور تقویت کے لیے غذا کا سامان بھی وہیں سے آتا ہے۔ چنانچہ روح امر اللہ ہے اور اس کی غذا ذکر اللہ اور کلام اللہ ہے۔

اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾

’’آگاہ ہو جاؤ! اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی دل مطمئن ہوتے ہیں۔‘‘

دنیوی مال ومتاع اور سامانِ عیش و آسائش کی بہتات سے نفس اور جسم کی تسکین کا سامان تو ہو سکتا ہے‘یہ چیزیں دل کے سکون و اطمینان کا باعث نہیں بن سکتیں۔ دل کو یہ دولت نصیب ہو گی تو اللہ کے ذکر سے ہو گی۔

آیت 29

اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوۡبٰی لَہُمۡ وَ حُسۡنُ مَاٰبٍ ﴿۲۹﴾

’’جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے مبارک باد ہے اور لوٹنے کا بہت اچھا مقام ہے۔‘‘

30-31

نبی اکرم ﷺ کی دلجوئی

ویڈیو

کَذٰلِکَ اَرۡسَلۡنٰکَ فِیۡۤ اُمَّۃٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہَاۤ اُمَمٌ لِّتَتۡلُوَا۠ عَلَیۡہِمُ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ بِالرَّحۡمٰنِ ؕ قُلۡ ہُوَ رَبِّیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ اِلَیۡہِ مَتَابِ ﴿۳۰﴾ وَ لَوۡ اَنَّ قُرۡاٰنًا سُیِّرَتۡ بِہِ الۡجِبَالُ اَوۡ قُطِّعَتۡ بِہِ الۡاَرۡضُ اَوۡ کُلِّمَ بِہِ الۡمَوۡتٰی ؕ بَلۡ لِّلّٰہِ الۡاَمۡرُ جَمِیۡعًا ؕ اَفَلَمۡ یَایۡـَٔسِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ لَّوۡ یَشَآءُ اللّٰہُ لَہَدَی النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا تُصِیۡبُہُمۡ بِمَا صَنَعُوۡا قَارِعَۃٌ اَوۡ تَحُلُّ قَرِیۡبًا مِّنۡ دَارِہِمۡ حَتّٰی یَاۡتِیَ وَعۡدُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ﴿٪۳۱﴾

آیت 30

کَذٰلِکَ اَرۡسَلۡنٰکَ فِیۡۤ اُمَّۃٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہَاۤ اُمَمٌ لِّتَتۡلُوَا۠ عَلَیۡہِمُ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ بِالرَّحۡمٰنِ ؕ

’’(اے نبیﷺ!) اسی طرح ہم نے آپ کو بھیجا ہے ایک ایسی امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ تلاوت کر کے سنائیں ان لوگوں کووہ (کتاب) جو ہم نے وحی کی ہے آپ کی طرف درآں حالیکہ یہ لوگ رحمٰن کا انکار کر رہے ہیں۔‘‘

اگرچہ اللہ تعالیٰ کا نام ’’الرحمن ‘‘عرب میں پہلے سے متعارف تھا مگر مشرکین مکہ ’’اللہ‘‘ ہی کو جانتے اور مانتے تھے ‘اس لیے وہ اس نام سے بدکتے تھے اور عجیب انداز میں پوچھتے تھے کہ یہ رحمن کون ہے؟ ( الفرقان :۶۰ )

قُلۡ ہُوَ رَبِّیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ

’’کہہ دیجیے کہ وہ میرا رب ہے‘اُس کے سوا اورکوئی معبود نہیں۔‘‘

عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ اِلَیۡہِ مَتَابِ ﴿۳۰﴾

’’اُسی پر میں نے بھروسا کیا ہے اور اُسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔‘‘

آیت 31

وَ لَوۡ اَنَّ قُرۡاٰنًا سُیِّرَتۡ بِہِ الۡجِبَالُ اَوۡ قُطِّعَتۡ بِہِ الۡاَرۡضُ اَوۡ کُلِّمَ بِہِ الۡمَوۡتٰی ؕ

’’اور اگر ہوتاکوئی ایسا قرآن جس کے ذریعے سے پہاڑ چل پڑتے‘یا زمین کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے یا کلام کرتے اس کے ذریعے مردے (تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے)۔‘‘

یہاں پھر حسی معجزوں کے بارے میں مشرکین کے مطالبے کا جوا ب دیا جا رہا ہے ۔ سورۃ الانعام میں یہ مضمون تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اگر ہم نے کوئی ایسا قرآن اتاراہوتا جس کی تاثیر سے طرح طرح کے حسی معجزات کا ظہور ہوتا تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ یہ قرآن ہر اُس شخص کے لیے سراپا معجزہ ہے جو واقعی ہدایت کا خواہش مند ہے۔ یہ طالبانِ حق کے دلوں کو گداز کرتا ہے ‘ان کی روح کو تازگی بخشتاہے ‘ان کے لاشعور کے اندر خوابیدہ ایمانی حقائق کو جگاتا ہے ۔ ایسے لوگ اپنی ہدایت کا تمام سامان اس قرآن کے اندر موجود پاتے ہیں۔

بَلۡ لِّلّٰہِ الۡاَمۡرُ جَمِیۡعًا ؕ اَفَلَمۡ یَایۡـَٔسِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ لَّوۡ یَشَآءُ اللّٰہُ لَہَدَی النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ

’’بلکہ اختیار توکل کا کل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کیا اہل ایمان اس پر مطمئن نہیں ہو جاتے کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو ہدایت دے دیتا؟‘‘

اہل ایمان کو تو یہ یقین ہے نا کہ اگر اللہ چاہتا تو دنیا کے تمام انسانوں کو ہدایت دے سکتا تھا ‘اور اگر اُس نے ایسا نہیں کیا تو یہ ضرور اسی کی مشیت ہے۔ لہٰذا اس یقین سے اُن کو تو دل جمعی اور اطمینان حاصل ہوجانا چاہیے۔

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا تُصِیۡبُہُمۡ بِمَا صَنَعُوۡا قَارِعَۃٌ اَوۡ تَحُلُّ قَرِیۡبًا مِّنۡ دَارِہِمۡ حَتّٰی یَاۡتِیَ وَعۡدُ اللّٰہِ ؕ

’’اور جو کافر ہیں ان کو برابر پہنچتی رہے گی ان کے اعمال کے سبب کوئی نہ کوئی آفت ‘یا ان کے گھروں کے قریب اترتی رہے گی ‘یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آ جائے۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ﴿٪۳۱﴾

’’یقینا اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘

ان لوگوں کے کرتوتوں کی پاداش میں ان پر کوئی نہ کوئی آفت اور مصیبت نازل ہوتی رہے گی ۔ وہ مسلسل خوف کی کیفیت میں مبتلا رہیں گے ‘یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو جائے۔

32-34

حق کے مخالفین کا برا انجام

ویڈیو

وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَمۡلَیۡتُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثُمَّ اَخَذۡتُہُمۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ﴿۳۲﴾ اَفَمَنۡ ہُوَ قَآئِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ۚ وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ ؕ قُلۡ سَمُّوۡہُمۡ ؕ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَہٗ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی الۡاَرۡضِ اَمۡ بِظَاہِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ ؕ بَلۡ زُیِّنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مَکۡرُہُمۡ وَ صُدُّوۡا عَنِ السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۳۳﴾ لَہُمۡ عَذَابٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَشَقُّ ۚ وَ مَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ ﴿۳۴﴾

آیت 32

وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَمۡلَیۡتُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثُمَّ اَخَذۡتُہُمۡ ۟

’’اور (اے نبیﷺ!) آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا‘تو میں نے ڈھیل دی (کچھ عرصہ کے لیے ) کافروں کو ‘پھر میں نے ان کو پکڑ لیا۔‘‘

فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ﴿۳۲﴾

’’تو کیسا رہا میرا عذاب!‘‘

ذرا تصور کریں قومِ نوحؑ‘قومِ ہودؑ،قومِ صالحؑ‘قومِ لوطؑ‘قومِ شعیبؑ اور آلِ فرعون کے انجام کا اور پھر سوچیں کہ ان نافرمان قوموںکی جب گرفت ہوئی تو وہ کس قدر عبرتناک تھی ۔

آیت 33

اَفَمَنۡ ہُوَ قَآئِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ۚ

’’توکیا وہ ہستی جو ہر جان سے محاسبہ کرنے والی ہے جو اُس نے کمائی کی ہے (اوروں کی طرح ہو سکتی ہے؟)‘‘

اللہ تعالیٰ ہر آن ہر شخص کے ساتھ موجود ہے اور اس کی ایک ایک حرکت اور اس کے ایک ایک عمل پر نظر رکھتا ہے ۔کیا ایسی قدرت کسی اور کو حاصل ہے؟

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ ؕ

’’اور انہوں نے اللہ کے شریک بنا لیے ہیں۔‘‘

انہوں نے ایسی بصیر‘خبیر اور عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہستی کے مقابلے میں کچھ معبود گھڑ لیے ہیں ‘جن کی کوئی حیثیت نہیں۔

قُلۡ سَمُّوۡہُمۡ ؕ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَہٗ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی الۡاَرۡضِ

’’آپؐ کہیے! ذرا ن کے نام تو بتاؤ!کیا تم اللہ کو جتانا چاہتے ہو وہ شے جو وہ نہیں جانتا زمین میں؟‘‘

یعنی اللہ جو اس قدر علیم اور بصیر ہستی ہے کہ اپنے ہر بندے کے ہر خیال اور ہر فعل سے واقف ہے‘تو تم لوگوں نے جو بھی معبود بنائے ہیں کیا اُن کے پاس اللہ سے زیادہ علم ہے؟کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبر دے رہے ہو جس سے وہ ناواقف ہے؟

اَمۡ بِظَاہِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ ؕ

’’یا تم صرف سطحی سی بات کرتے ہو؟‘‘

یعنی یونہی جو منہ میں آتا ہے تم لوگ کہہ ڈالتے ہو اور ان شریکوں کے بارے میں تمہارے اپنے دعوے کھوکھلے ہیں۔ تمہارے ان دعووں کی بنیادوں میں یقین کی پختگی نہیں ہے۔ ان کے بارے میں تمہاری ساری باتیں سطحی نوعیت کی ہیں‘عقلی اور منطقی طور پر تم خود بھی اُن کے قائل نہیں ہو۔

بَلۡ زُیِّنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مَکۡرُہُمۡ وَ صُدُّوۡا عَنِ السَّبِیۡلِ ؕ

’’بلکہ ان کافروں کے لیے ان کی مکاریاں مزین کر دی گئی ہیں‘اور وہ روک دیے گئے ہیں (سیدھے) راستے سے۔‘‘

وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۳۳﴾

’’اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔‘‘

اب گویا ان کے دل اُلٹ دیے گئے ہیں‘ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی ہے اور ان کے اعمال کو دیکھتے ہوئے اللہ نے ان کی گمراہی کے بارے میں آخری فیصلہ دے دیا ہے ۔ اب ان کو کوئی راہِ راست پر نہیں لا سکتا۔

آیت 34

لَہُمۡ عَذَابٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَشَقُّ ۚ

’’ان کے لیے عذاب ہے دنیا کی زندگی میں بھی ‘اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ سخت ہو گا۔‘‘

وَ مَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ ﴿۳۴﴾

’’اور نہیں ہو گا کوئی بھی ان کو اللہ سے بچانے والا۔‘‘

35

جنّت متّقیوں کے لیے ہے

ویڈیو

مَثَلُ الۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ؕ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ اُکُلُہَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّہَا ؕ تِلۡکَ عُقۡبَی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ٭ۖ وَّ عُقۡبَی الۡکٰفِرِیۡنَ النَّارُ ﴿۳۵﴾

آیت 35

مَثَلُ الۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ؕ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ اُکُلُہَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّہَا ؕ

’’مثال اُس جنت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقیوں سے ‘اس کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ‘اس کے پھل بھی ہمیشہ قائم رہنے والے ہوں گے اور اس کے سائے بھی۔‘‘

تِلۡکَ عُقۡبَی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ٭ۖ وَّ عُقۡبَی الۡکٰفِرِیۡنَ النَّارُ ﴿۳۵﴾

’’یہ ہے انجام ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی ‘اور کافروں کا انجام توآگ ہے۔‘‘

36-40

نبی اکرم ﷺ اور مشرکین کے درمیان کشمکش

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مِنَ الۡاَحۡزَابِ مَنۡ یُّنۡکِرُ بَعۡضَہٗ ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ وَ لَاۤ اُشۡرِکَ بِہٖ ؕ اِلَیۡہِ اَدۡعُوۡا وَ اِلَیۡہِ مَاٰبِ ﴿۳۶﴾ وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ حُکۡمًا عَرَبِیًّا ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ ﴿٪۳۷﴾ وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِکَ وَ جَعَلۡنَا لَہُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ ذُرِّیَّۃً ؕ وَ مَا کَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ ﴿۳۸﴾ یَمۡحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَ یُثۡبِتُ ۚۖ وَ عِنۡدَہٗۤ اُمُّ الۡکِتٰبِ ﴿۳۹﴾ وَ اِنۡ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ وَ عَلَیۡنَا الۡحِسَابُ ﴿۴۰﴾

آیت 36

وَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ

’’اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی تھی وہ خو ش ہور ہے ہیں اس (قرآن) سے جو (اے نبیﷺ!) آپ کی طرف نازل کیا گیاہے‘‘

یہ مدینہ کے اہل کتاب میں سے نیک سرشت لوگوں کا ذکر ہے ۔ اُن کو جب خبریں ملتی تھیں کہ مکہ میں آخری نبیﷺ کا ظہور ہو چکا ہے تو وہ ان خبروں سے خوش ہوتے تھے۔

وَ مِنَ الۡاَحۡزَابِ مَنۡ یُّنۡکِرُ بَعۡضَہٗ ؕ

’’اور بعض گروہوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اس کے بعض حصوں کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘

قُلۡ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ وَ لَاۤ اُشۡرِکَ بِہٖ ؕ اِلَیۡہِ اَدۡعُوۡا وَ اِلَیۡہِ مَاٰبِ ﴿۳۶﴾

’’آپؐ کہیے کہ مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی بندگی کروں اور اس کے ساتھ شرک نہ کروں‘اُسی کی طرف میں بلا رہا ہوں اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔‘‘

آیت 37

وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ حُکۡمًا عَرَبِیًّا ؕ

’’اور اسی طرح ہم نے اس کو اتارا ہے عربی میںِ قول فیصل بنا کر۔‘‘

’’حکم ‘‘بمعنی ’’فیصلہ‘‘ یعنی یہ قرآنِ عربی قولِ فیصل بن کر آیا ہے۔ جیسا کہ سورۃ الطارق میں فرمایا : {اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ ﴿ۙ۱۳﴾وَّ مَا ہُوَ بِالۡہَزۡلِ ﴿ؕ۱۴﴾} ’’یہ کلام (حق کو باطل سے) جدا کرنے والا ہے اور کوئی بے ہودہ بات نہیں ہے۔‘‘

وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ ﴿٪۳۷﴾

’’اور (اے نبیﷺ!) اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح علم آچکا ہے تو نہیں ہو گا آپ کے لیے بھی اللہ کی طرف سے نہ کوئی حمایتی اور نہ کوئی بچانے والا۔‘‘

آیت 38

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِکَ وَ جَعَلۡنَا لَہُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ ذُرِّیَّۃً ؕ

’’اور ہم نے بھیجا رسولوں کو آپؐ سے پہلے بھی اور ہم نے بنائیں ان کے لیے بیویاں بھی اور اولاد بھی۔‘‘

آپﷺ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ہیں وہ سب عام انسانوں کی طرح پیدا ہوئے (سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے)‘پھر انہوں نے نکاح بھی کیے اور ان کی اولادیں بھی ہوئیں۔

وَ مَا کَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ ﴿۳۸﴾

’’اور کسی رسول کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ کوئی نشانی (معجزہ) لے آتا مگر اللہ کے اِذن سے ۔ہر شے کے لیے ایک مقرر وقت لکھا ہو اہے۔‘‘

آیت 39

یَمۡحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَ یُثۡبِتُ ۚۖ وَ عِنۡدَہٗۤ اُمُّ الۡکِتٰبِ ﴿۳۹﴾

’’اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے‘ اور اُسی کے پاس ہے اُمّ الکتاب۔‘‘

اُمّ الکتاب یعنی اصل کتاب اللہ کے پاس ہے ۔ سورۃ الزخرف میں اس کے متعلق یوں فرمایا گیا ہے: {وَ اِنَّہٗ فِیۡۤ اُمِّ الۡکِتٰبِ لَدَیۡنَا لَعَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ؕ﴿۴﴾} ’’اور یہ اصل کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس ہے جو بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے۔‘‘آپ اسے لوحِ محفوظ کہیں‘ام الکتاب کہیں یا کتابِ مکنون کہیں‘اصل قرآن اس کے اندر ہے۔ یہ قرآن جو ہمارے پاس ہے یہ اُس کی مصدقہ نقل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص عنایت اور مہربانی سے حضورﷺ کی وساطت سے ہمیں دنیا میں عطا کر دیا ہے۔

آیت 40

وَ اِنۡ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ

’’اور خواہ ہم دکھا دیں آپ کو اس کا کچھ حصہ جس کی ہم ان کو دھمکی دے رہے ہیں‘یا ہم آپ ؐکو وفات دے دیں‘‘

یعنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپؐ کی زندگی ہی میں ان کو عذابِ الٰہی میں سے کچھ حصہ مل جائے‘اور یہ بھی ہو سکتاہے کہ آپﷺ کی زندگی میں ان پر ایسا وقت نہ آئے‘ بلکہ عذاب کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم آپؐ کو وفات دے دیں۔

فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ وَ عَلَیۡنَا الۡحِسَابُ ﴿۴۰﴾

’’پس آپؐ کے ذمہ تو پہنچانا ہی ہے اور ہمارے ذمہ حساب لینا ہے۔‘‘

آپﷺ پر ہمارا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری تھی‘سو آپﷺ نے یہ ذمہ داری احسن طریقہ سے ادا کردی۔ اب اُن کو ہدایت دینا یا نہ دینا‘اُن پر عذاب بھیجنا یا نہ بھیجنا اور ان کا حساب لینا ‘یہ سب کچھ ہمارے ذمے ہے اور ہم یہ فیصلے اپنی مشیت کے مطابق کریں گے۔

41-43

مخالفین حق کے لیے دھمکی

ویڈیو

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُہَا مِنۡ اَطۡرَافِہَا ؕ وَ اللّٰہُ یَحۡکُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُکۡمِہٖ ؕ وَ ہُوَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۴۱﴾ وَ قَدۡ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلِلّٰہِ الۡمَکۡرُ جَمِیۡعًا ؕ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ ؕ وَ سَیَعۡلَمُ الۡکُفّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿۴۲﴾ وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَسۡتَ مُرۡسَلًا ؕ قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۙ وَ مَنۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡکِتٰبِ ﴿٪۴۳﴾

آیت 41

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُہَا مِنۡ اَطۡرَافِہَا ؕ

’’کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو گھٹاتے چلے آ رہے ہیں اس کے کناروں سے ؟‘‘

وَ اللّٰہُ یَحۡکُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُکۡمِہٖ ؕ وَ ہُوَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۴۱﴾

’’اور اللہ ہی فیصلہ کرتا ہے‘ کوئی نہیں پیچھے ڈالنے والا اس کے حکم کو‘اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘

یہ مضمون سورۃ الانبیاء میں اس طرح بیان ہوا ہے: {اَفَلَا یَرَوۡنَ اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُہَا مِنۡ اَطۡرَافِہَا ؕ اَفَہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿۴۴﴾} ’’کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں ‘تو کیا اب یہ غالب آنے والے ہیں؟‘‘یہ اُس دَور کی طرف اشارہ ہے جب مشرکین مکہ نے مکہ کے اندر رسول اللہﷺاور مسلمانوں کے خلاف دشمنی کی بھٹی پورے زور شور سے دہکا رکھی تھی اور وہ لوگ اس میں اپنے سارے وسائل اس اُمید پر جھونکے جا رہے تھے کہ ایک دن محمدﷺ اور آپؐ کی اس تحریک کو نیچا دکھاکر رہیں گے۔ اس صورتِ حال میں انہیں مکہ کے مضافاتی علاقوں (اُمّ القریٰ وَ مَنْ حَوْلَھَا) کے معروضی حالات کے حوالے سے مستقبل کی ایک امکانی جھلک دکھائی جا رہی ہے کہ بے شک ابھی تک مکہ کے اندر تمہاری حکمت عملی کسی حد تک کامیاب ہے‘ لیکن کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ مکہ کے آس پاس کے قبائل کے اندر اس دعوت کے اثر و نفوذ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے مقابلے میں تمہارا حلقہ اثر روز بروز سکڑتا چلا جا رہا ہے۔ جیسے قبیلہ بنی غفار کے ایک نوجوان ابوذر رضی اللہ عنہ یہ دعوت قبول کر کے اپنے قبیلے میں ایک مبلغ کی حیثیت سے واپس گئے ہیں اور آپؓ کی وساطت سے یہ دعوت اس قبیلے میں بھی پہنچ گئی ہے۔ یہی حال اردگرد کے دوسرے قبائل کا ہے۔ ان حالات میں کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا کہ یہ دعوت رفتہ رفتہ تمہارے چاروں طرف سے تمہارے گرد گھیرا تنگ کر تی چلی جا رہی ہے؟اب وہ وقت بہت قریب نظر آ رہا ہے جب تمہارے ارد گرد کا ماحول اسلام قبول کر لے گا اور تم لوگ اس کے دائرہ اثر کے اندر محصور ہو کر رہ جائو گے۔

اس آیت میںجس صورتِ حال کا ذکر ہے اس کا عملی مظاہرہ ہجر ت کے بعد بہت تیزی کے ساتھ سامنے آیا۔ حضورﷺ نے مدینہ تشریف لانے کے بعد ایک طرف قریشِ مکہ کے لیے ان کی تجارتی شاہراہوں کو مخدوش بنا دیا تو دوسری طرف مدینہ کے آس پاس کے قبائل کے ساتھ سیاسی معاہدات کر کے اس پورے علاقے سے قریش مکہ کے اثر و رسوخ کی بساط لپیٹ دی۔ مدینہ کے مضافات میں آباد بیشتر قبائل قریشِ مکہ کے حلیف تھے مگر اب ان میں سے اکثر یا تو مسلمانوں کے حلیف بن گئے یا انہوں نے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کر دیا۔ قریش مکہ کی معاشی ناکہ بندی (economic blockade) اور سیاسی انقطاع (political isolation) کے لیے رسول اللہﷺ کے یہ اقدامات اس قدر مؤثر تھے کہ اس کے بعد انہیں اپنے اردگرد سے سکڑتی ہوئی زمین بہت واضح انداز میں دکھائی دینے لگی۔

دراصل فلسفۂ سیرت کے اعتبار سے یہ بہت اہم موضوع ہے مگر بہت کم لوگوں نے اس پر توجہ دی ہے۔ میں نے اپنی کتاب ’’منہج انقلاب نبویﷺ‘‘ میں اس پر تفصیل سے بحث کی ہے۔

آیت 42

وَ قَدۡ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ

’’اور جو ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی بڑی چالیں چلی تھیں‘‘

اپنے اپنے دَور میں منکرین حق نے انبیاء و رسل کی دعوتِ حق کو روکنے کے لیے سازشوں کے خوب جال پھیلائے تھے اور بڑی بڑی منصوبہ بندیاں کی تھیں۔

فَلِلّٰہِ الۡمَکۡرُ جَمِیۡعًا ؕ

’’لیکن ساری کی ساری تدبیریں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی تدبیروں اور سازشوں کا مکمل طور پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس کی مشیت کے خلاف ان کی کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔

یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ ؕ وَ سَیَعۡلَمُ الۡکُفّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿۴۲﴾

’’وہ جانتا ہے ہر جان جو کچھ کماتی ہے ۔اور عنقریب معلوم ہو جائے گا ان کافروں کو کہ دارِ آخرت کی کامیابی کس کے لیے ہے!‘‘

دارِآخرت کی بھلائی اور اس کا آرام کس کے لیے ہے ‘انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا۔

آیت 43

وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَسۡتَ مُرۡسَلًا ؕ

’’اور یہ کافر کہتے ہیں کہ آپؐ (اللہ کے) رسول نہیں ہیں۔‘‘

قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۙ

’’آپؐ کہہ دیجیے کہ اللہ کافی ہے گواہ میرے اور تمہارے درمیان‘‘

اللہ جانتا ہے کہ میں اس کا رسول ہوں اور اُس کا جاننا میرے لیے کافی ہے۔

وَ مَنۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡکِتٰبِ ﴿٪۴۳﴾

’’اور جن کے پاس کتاب کا علم ہے (وہ بھی اس پر شاہد ہیں)۔‘‘

میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے کہ میں اُس کا رسول ہوں او رپھر ہر اُس شخص کی گواہی جو کتابِ آسمانی کا علم رکھتا ہے۔اللہ تو جانتا ہی ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور میرا معاملہ اُسی کے ساتھ ہے۔ اس کے علاوہ یہ اہل کتاب بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔اہل کتاب کے اس معاملے کو البقرۃ : ۱۴۶ اور الانعام:۲۰ میں اس طرح واضح فرمایا گیا ہے : {یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ ؕ } کہ یہ آپﷺ کو بحیثیت رسول ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیمoo

یوٹیوب پر دیکھیے