وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَمۡلَیۡتُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثُمَّ اَخَذۡتُہُمۡ ۟
’’اور (اے نبیﷺ!) آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا‘تو میں نے ڈھیل دی (کچھ عرصہ کے لیے ) کافروں کو ‘پھر میں نے ان کو پکڑ لیا۔‘‘
فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ﴿۳۲﴾
’’تو کیسا رہا میرا عذاب!‘‘
ذرا تصور کریں قومِ نوحؑ‘قومِ ہودؑ،قومِ صالحؑ‘قومِ لوطؑ‘قومِ شعیبؑ اور آلِ فرعون کے انجام کا اور پھر سوچیں کہ ان نافرمان قوموںکی جب گرفت ہوئی تو وہ کس قدر عبرتناک تھی ۔
اَفَمَنۡ ہُوَ قَآئِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ۚ
’’توکیا وہ ہستی جو ہر جان سے محاسبہ کرنے والی ہے جو اُس نے کمائی کی ہے (اوروں کی طرح ہو سکتی ہے؟)‘‘
اللہ تعالیٰ ہر آن ہر شخص کے ساتھ موجود ہے اور اس کی ایک ایک حرکت اور اس کے ایک ایک عمل پر نظر رکھتا ہے ۔کیا ایسی قدرت کسی اور کو حاصل ہے؟
وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ ؕ
’’اور انہوں نے اللہ کے شریک بنا لیے ہیں۔‘‘
انہوں نے ایسی بصیر‘خبیر اور عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہستی کے مقابلے میں کچھ معبود گھڑ لیے ہیں ‘جن کی کوئی حیثیت نہیں۔
قُلۡ سَمُّوۡہُمۡ ؕ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَہٗ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی الۡاَرۡضِ
’’آپؐ کہیے! ذرا ن کے نام تو بتاؤ!کیا تم اللہ کو جتانا چاہتے ہو وہ شے جو وہ نہیں جانتا زمین میں؟‘‘
یعنی اللہ جو اس قدر علیم اور بصیر ہستی ہے کہ اپنے ہر بندے کے ہر خیال اور ہر فعل سے واقف ہے‘تو تم لوگوں نے جو بھی معبود بنائے ہیں کیا اُن کے پاس اللہ سے زیادہ علم ہے؟کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبر دے رہے ہو جس سے وہ ناواقف ہے؟
اَمۡ بِظَاہِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ ؕ
’’یا تم صرف سطحی سی بات کرتے ہو؟‘‘
یعنی یونہی جو منہ میں آتا ہے تم لوگ کہہ ڈالتے ہو اور ان شریکوں کے بارے میں تمہارے اپنے دعوے کھوکھلے ہیں۔ تمہارے ان دعووں کی بنیادوں میں یقین کی پختگی نہیں ہے۔ ان کے بارے میں تمہاری ساری باتیں سطحی نوعیت کی ہیں‘عقلی اور منطقی طور پر تم خود بھی اُن کے قائل نہیں ہو۔
بَلۡ زُیِّنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مَکۡرُہُمۡ وَ صُدُّوۡا عَنِ السَّبِیۡلِ ؕ
’’بلکہ ان کافروں کے لیے ان کی مکاریاں مزین کر دی گئی ہیں‘اور وہ روک دیے گئے ہیں (سیدھے) راستے سے۔‘‘
وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۳۳﴾
’’اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔‘‘
اب گویا ان کے دل اُلٹ دیے گئے ہیں‘ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی ہے اور ان کے اعمال کو دیکھتے ہوئے اللہ نے ان کی گمراہی کے بارے میں آخری فیصلہ دے دیا ہے ۔ اب ان کو کوئی راہِ راست پر نہیں لا سکتا۔
لَہُمۡ عَذَابٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَشَقُّ ۚ
’’ان کے لیے عذاب ہے دنیا کی زندگی میں بھی ‘اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ سخت ہو گا۔‘‘
وَ مَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ ﴿۳۴﴾
’’اور نہیں ہو گا کوئی بھی ان کو اللہ سے بچانے والا۔‘‘