تحریر

الرعد

آیات ۱۷ تا ۲۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

17-18

حق و باطل کے لیے مثال

ویڈیو

اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتۡ اَوۡدِیَۃٌۢ بِقَدَرِہَا فَاحۡتَمَلَ السَّیۡلُ زَبَدًا رَّابِیًا ؕ وَ مِمَّا یُوۡقِدُوۡنَ عَلَیۡہِ فِی النَّارِ ابۡتِغَآءَ حِلۡیَۃٍ اَوۡ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثۡلُہٗ ؕ کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡحَقَّ وَ الۡبَاطِلَ ۬ؕ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذۡہَبُ جُفَآءً ۚ وَ اَمَّا مَا یَنۡفَعُ النَّاسَ فَیَمۡکُثُ فِی الۡاَرۡضِ ؕ کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ ﴿ؕ۱۷﴾ لِلَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمُ الۡحُسۡنٰی ؕؔ وَ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَہٗ لَوۡ اَنَّ لَہُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ لَافۡتَدَوۡا بِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الۡحِسَابِ ۬ۙ وَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿٪۱۸﴾

آیت 17

اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتۡ اَوۡدِیَۃٌۢ بِقَدَرِہَا

’’وہ آسمان سے پانی برساتا ہے‘پھر تمام ندیاں بہنے لگتی ہیں اپنی اپنی وسعت کے مطابق‘‘

قرآن چونکہ حجاز میں نازل ہورہا تھا اس لیے اس میں زیادہ تر مثالیں بھی اسی سرزمین سے دی گئی ہیں۔اس مثال میں بھی علاقہ حجاز کے پہاڑی سلسلوں اور وادیوں کا ذکرہے‘کہ جب بارش ہوتی ہے تو ہر وادی میں اُس کی وسعت کے مطابق سیلابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ کسی وادی کا catchment area زیادہ ہے تو وہاں زیادہ زوردار سیلاب آ جاتا ہے اور جس کا کم ہے وہاں تھوڑا سیلاب آ جاتا ہے۔

فَاحۡتَمَلَ السَّیۡلُ زَبَدًا رَّابِیًا ؕ

’’پھر اٹھا لاتا ہے سیلاب اُبھرتے جھاگ کو۔‘‘

پانی جب زور سے بہتا ہے تو ا س کے اوپر جھاگ سا بن جاتا ہے۔لیکن اس جھاگ کی کوئی حقیقت اور وقعت نہیں ہوتی۔

وَ مِمَّا یُوۡقِدُوۡنَ عَلَیۡہِ فِی النَّارِ ابۡتِغَآءَ حِلۡیَۃٍ اَوۡ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثۡلُہٗ ؕ

’’اور جن (دھاتوں) کو یہ لوگ آ گ پر تپاتے ہیں زیور یا دوسری چیزیں بنانے کے لیے ان پر بھی اسی طرح کا جھاگ اُبھرتا ہے۔‘‘

کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡحَقَّ وَ الۡبَاطِلَ ۬ؕ

’’اسی طرح اللہ حق و باطل کو ٹکراتا ہے۔‘‘

اس کا دوسرا ترجمہ یوں ہو گا :’’اسی طرح اللہ حق و باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔‘‘

فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذۡہَبُ جُفَآءً ۚ

’’تو جو جھاگ ہے وہ خشک ہو کر زائل ہو جاتا ہے۔‘‘

جھاگ کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہوتی‘اصل نتائج کے اعتبار سے اس کا ہونا یا نہ ہونا گویا برابر ہے۔

وَ اَمَّا مَا یَنۡفَعُ النَّاسَ فَیَمۡکُثُ فِی الۡاَرۡضِ ؕ

’’اور جو چیز لوگوں کے لیے مفید ہوتی ہے وہ ٹھہر جاتی ہے زمین میں۔‘‘

سیلاب کا پانی زمین میں جذب ہو کر فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جبکہ جھاگ ضائع ہو جاتا ہے‘اسی طرح پگھلی ہوئی دھات کے اوپر پھولا ہواجھاگ اور میل کچیل فضول چیز ہے‘اصل خالص دھات اس جھاگ کے نیچے کٹھالی کی تہہ میں موجود ہوتی ہے جس سے زیور یا کوئی دوسری قیمتی چیز بنائی جاتی ہے۔

کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ ﴿ؕ۱۷﴾

’’اسی طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔‘‘

یہ آیت کارل مارکس کے dialectical materialism کے فلسفے کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اس فلسفے کا جتنا حصہ درست ہے وہ اس آیت میں موجود ہے۔ دورِ جدید کے یہ جتنے بھی نظریے (theories) ہیں ان میں سے ہر ایک میں کچھ نہ کچھ سچائی موجود ہے۔ ڈارون کا نظریۂ ارتقاء ہویا فرائیڈ اور مارکس کے نظریات‘ان میں سے کوئی بھی سو فیصد غلط نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان نظریات میں غلط اور درست خیالات گڈ مڈہیں۔ جہاں تک مارکس کے نظریہ جدلیاتی مادیت (dialectical materialism) کا تعلق ہے اس کے مطابق کسی معاشرے میں ایک خیال یا نظریہ جنم لیتا ہے جس کو thesis کہا جاتاہے۔ اس کے ردِّعمل کے طور پر اینٹی تھیسس (antithesis) وجود میں آتا ہے ۔ پھر یہ تھیسس اور اینٹی تھیسس ٹکراتے ہیں اور ان کے ٹکرانے سے ایک نئی شکل پیدا ہو تی ہے جسے سِن تھیسس (synthesis) کہا جاتا ہے۔ یہ اگرچہ اس نظریہ کی بہتر شکل ہوتی ہے مگر یہ بھی اپنی جگہ کامل نہیں ہوتی‘ اس کے اندر بھی نقائص موجود ہوتے ہیں۔ چنانچہ اِسی سن تھیسس کی کوکھ سے ایک اور اینٹی تھیسس جنم لیتاہے۔ ان کا پھر آپس میں اسی طرح ٹکرائو ہوتا ہے اور پھر ایک نیا سن تھیسس وجود میں آتا ہے۔ یہ عمل (process) اسی طرح بتدریج آگے بڑھتا چلا جاتاہے۔ اس تصادم میں جو چیز فضول‘ غلط اور بیکارہوتی ہے وہ ضائع ہوتی رہتی ہے‘ مگر جو علم اور خیال معاشرے اور نسل انسانی کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے وہ کسی نہ کسی شکل میں موجود رہتا ہے۔

دورِ جدید کے بیشتر نظریے (theories) ایسے لوگوں کی تخلیق ہیں جن کے علم اور سوچ کا انحصار کلی طور پر مادے پر تھا۔ یہ لوگ روح اور اس کی حقیقت سے بالکل نابلد تھے۔ بنیادی طور پر یہی وجہ تھی کہ ان لوگوں کے اخذ کردہ نتائج اکثر و بیشتر غلط اور گمراہ کن تھے۔بہر حال اس سارے عمل (process) میں غلط اور باطل خیالات و مفروضات خود بخود چھٹتے رہتے ہیں اور نسل انسانی کے لیے مفید علوم کی تطہیر (purification) ہوتی رہتی ہے۔ سورۃ الانبیاء کی آیت ۱۸ میں یہ حقیقت اس طرح واضح کی گئی ہے : {بَلۡ نَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ عَلَی الۡبَاطِلِ فَیَدۡمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ ؕ} ’’ہم دے مارتے ہیں حق کو باطل پر ‘تو وہ باطل کا بھیجا نکال دیتا ہے ‘ پھر وہ (باطل) غائب ہو جاتا ہے‘‘۔ حق و باطل اور خیر و شر کی اس کش مکش کے ذریعے سے گویا نسلِ انسانی تدریجاً تمدن اور ارتقاء کے مراحل طے کر تے ہوئے رفتہ رفتہ بہتری کی طرف آ رہی ہے۔

علامہ اقبال کے مطابق نسلِ انسانی کے لیے کامل بہتری یا حتمی کامیابی اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کی تعمیل میں پوشیدہ ہے جس کا کامل عملی نمونہ اس دنیا میں پندرہ سو سال پہلے نبی آخر الزماںﷺ نے پیش کیا تھا۔ارتقاءِ فکر انسانی کے سفر کے نام پر انسانی تمدن کے چھوٹے بڑے تمام قافلے شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی مینارۂ نور (light house) کی طرف رواں دواں ہیں۔ اگر کسی ماحو ل میں روشنی کی کوئی کرن اجالا بکھیرتی نظر آتی ہے تو وہ اسی منبع نور کی مرہونِ منت ہے۔ اور اگر کسی ماحول کے حصے کی تاریکیاں ابھی تک گہری ہیں تو جان لیجئے کہ وہ اپنی اس فطری اور حتمی منزل سے ہنوز دور ہے۔ اس سلسلے میں اقبالؔ کے اپنے الفاظ ملاحظہ ہوں :

ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بو

زانکہ از خاکش بروید آرزو

یا زنورِ مصطفٰےؐ او را بہاست

یا ہنوز اندر تلاش مصطفیٰ ؐاست

آیت 18

لِلَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمُ الۡحُسۡنٰی ؕؔ

’’جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہا ان کے لیے بھلائی ہے۔‘‘

وَ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَہٗ لَوۡ اَنَّ لَہُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ لَافۡتَدَوۡا بِہٖ ؕ

’’او ر جنہوں نے اُس کی دعوت کو قبول نہیں کیا‘اگر ان کے پاس ہو جو کچھ ہے زمین میں سب کا سب اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی تو وہ (یہ سب کچھ) ضرور بدلے میں دے ڈالیں۔‘‘

اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الۡحِسَابِ ۬ۙ وَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿٪۱۸﴾

’’یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا حساب ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے ‘اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔‘‘

یعنی ان کے حساب کا جو نتیجہ نکلنے والا ہے وہ ان کے حق میں بہت برا ہو گا۔

19-24

حق کا ساتھ دینے والوں کی صفات

ویڈیو

اَفَمَنۡ یَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ الۡحَقُّ کَمَنۡ ہُوَ اَعۡمٰی ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿ۙ۱۹﴾ الَّذِیۡنَ یُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ وَ لَا یَنۡقُضُوۡنَ الۡمِیۡثَاقَ ﴿ۙ۲۰﴾ وَ الَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ وَ یَخَافُوۡنَ سُوۡٓءَ الۡحِسَابِ ﴿ؕ۲۱﴾ وَ الَّذِیۡنَ صَبَرُوا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً وَّ یَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿ۙ۲۲﴾ جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا وَ مَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَدۡخُلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ کُلِّ بَابٍ ﴿ۚ۲۳﴾ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿ؕ۲۴﴾

آیت 19

اَفَمَنۡ یَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ الۡحَقُّ کَمَنۡ ہُوَ اَعۡمٰی ؕ

’’(اے نبیﷺ!) کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ آپ پر آپ کے ربّ کی طرف سے نازل کیا گیا وہ حق ہے‘بھلااُس جیسا ہو سکتا ہے جو اندھا ہے؟‘‘

اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿ۙ۱۹﴾

’’ یقینا نصیحت تو عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔‘‘

آیت 20

الَّذِیۡنَ یُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ وَ لَا یَنۡقُضُوۡنَ الۡمِیۡثَاقَ ﴿ۙ۲۰﴾

’’وہ لوگ جو اللہ کے (ساتھ کیے گئے) عہد کو پورا کرتے ہیں اور قول و قرار کو توڑتے نہیں ہیں۔‘‘

قبل ازیں سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۷۷ میں بھی ہم ان سے ملتے جلتے یہ الفاظ پڑ ھ آئے ہیں: {وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ } ۔اللہ کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں سے ایک تو وہ عہد الست ہے (بحوالہ الاعراف:۱۷۲) جو ہم نے عالم ارواح میں اللہ کے ساتھ کیا ہے‘پھر ہر بندۂ مؤمن کا میثاق شریعت ہے کہ میں اللہ کے تمام احکامات کی تعمیل کروں گا۔ پھر اللہ کا مؤمن کے ساتھ کیا گیا وہ سودا بھی ایک عہد ہے جس کا ذکر سورۃ التوبہ ‘۔آیت۱۱۱ میں ہے اور جس کے مطابق اللہ نے مؤمنین کے جان و مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ آیت زیر نظر میں یہ ان خو ش قسمت لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ کے ساتھ کیے گئے تما م عہد درجہ بدرجہ پورے کرتے ہیں۔

آیت 21

وَ الَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ وَ یَخَافُوۡنَ سُوۡٓءَ الۡحِسَابِ ﴿ؕ۲۱﴾

’’اور جو لوگ جوڑتے ہیں اُس کو جس کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے‘اور جو ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب سے اور اندیشہ رکھتے ہیں برے حساب کا۔‘‘

وہ لوگ قرابت کے رشتوں کو جوڑتے ہیں‘ یعنی صلۂ رحمی کرتے ہیں اورحسابِ آخرت کے نتائج کی برائی سے ہمیشہ خوفزدہ رہتے ہیں کہ اس دن حساب کے نتائج منفی ہونے کی صورت میں کہیں ہماری شامت نہ آ جائے۔

آیت 22

وَ الَّذِیۡنَ صَبَرُوا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً

’’اور وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضا جوئی کے لیے ‘اور نماز قائم کی‘اور خرچ کیا اس میں سے جو ہم نے انہیں دیا تھا پوشیدہ طور پر بھی اور علانیہ بھی‘‘

وَّ یَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿ۙ۲۲﴾

’’اور وہ بھلائی سے برائی کو دور کرتے ہیں‘ یہی لوگ ہیں جن کے لیے دارِ آخرت کی کامیابی ہے۔‘‘

وہ برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے‘بلکہ کوئی شخص اگر ان کے ساتھ برائی کرتا ہے تو وہ جواباً اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آتے ہیں تا کہ اس کے اندر اگر نیکی کا جذبہ موجود ہے تووہ جاگ جائے۔ (اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ!)

آیت 23

جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا وَ مَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَدۡخُلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ کُلِّ بَابٍ ﴿ۚ۲۳﴾

’’(آخرت کا گھر)وہ باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے‘جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو بھی صالح ہوں گے ان کے آباء ‘ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے ‘اور ہر دروازے سے جنت کے فرشتے ان کے سامنے حاضر ہوں گے ۔ ‘‘

آیت 24

سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿ؕ۲۴﴾

’’(اور کہیں گے )سلامتی ہو آپ پر بسبب اس کے جو آپ لوگوں نے صبر کیا‘تو کیا ہی اچھا ہے یہ آخرت کا گھر!‘‘

جنت میں اپنے آباء و اَجداد اور اہل و عیال میں سے صالح لوگوں کی معیت گویا اللہ کی طرف سے اپنے نیک بندوں کے لیے ایک اعزاز ہو گا‘اور اس کے لیے اگر ضرورت ہوئی تو ان کے ان رشتہ داروں کے درجات بھی بڑھا دیے جائیں گے۔مگر یہاں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ اہل جنت کے جو قرابت دار کفار اور مشرکین تھے‘ان کے لیے رعایت کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی‘بلکہ اس رعایت سے صرف وہ اہل ایمان مستفیض ہوں گے جو ’’صالحین‘‘ کی baseline پر پہنچ چکے ہوں گے۔ یعنی سورۃ النساء ‘آیت ۶۹ میں جو مدارج بیان ہوئے ہیں ان کے اعتبار سے جو مسلمان کم سے کم درجے کی جنت میں داخلے کا مستحق ہو چکا ہو گا ‘اس کے مدارج اس کے کسی قرابت دارکی وجہ سے بڑھا دیے جائیں گے جو جنت میں اعلیٰ مراتب پر فائز ہوگا۔ مثلاً ایک شخص کو جنت میں بہت اعلیٰ مرتبہ عطا ہو اہے ‘اب اس کا باپ ایک صالح مسلمان کی baseline پر پہنچ کر جنت میں داخل ہونے کا مستحق تو ہو چکا ہے مگر جنت میں اس کا درجہ بہت نیچے ہے‘ تو ایسے شخص کے مراتب بڑھا کر اسے اپنے بیٹے کے ساتھ اعلیٰ درجے کی جنت میں پہنچا دیاجائے گا۔

25-26

حق کے دشمنوں کا کردار

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِیۡثَاقِہٖ وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۙ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ اللَّعۡنَۃُ وَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴿۲۵﴾ اَللّٰہُ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ وَ فَرِحُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا مَتَاعٌ ﴿٪۲۶﴾

آیت 25

وَ الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِیۡثَاقِہٖ وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۙ

’’اور (اس کے برعکس) وہ لوگ جو توڑتے ہیں اللہ کے عہد کواس کو مضبوطی سے باندھنے کے بعد اور کاٹتے ہیں ان (رشتوں) کو جن کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد مچاتے ہیں۔‘‘

قبل ازیں سورۃ البقرۃ‘ آیت ۲۷ میں بھی ہم بعینہٖ یہ الفاظ پڑھ آئے ہیں: {الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِیۡثَاقِہٖ ۪ وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ} وہاں اس حوالے سے کچھ وضاحت بھی ہو چکی ہے۔

اُولٰٓئِکَ لَہُمُ اللَّعۡنَۃُ وَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴿۲۵﴾

’’یہی لوگ ہیں جن کے لیے لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا گھر (جہنم ) ہے۔‘‘

آیت 26

اَللّٰہُ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ

’’اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔‘‘

وَ فَرِحُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا مَتَاعٌ ﴿٪۲۶﴾

’’اور یہ لوگ مگن ہیں دنیا کی زندگی پر‘ حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے تھوڑے سے فائدے کے۔‘‘

جو لوگ اُخروی زندگی کے انعامات کے اُمیدوار نہیں ہیں ان کی جہد و کوشش کی جولان گاہ یہی دنیوی زندگی ہے۔ ان کی تمام تر صلاحیتیں اسی زندگی کی آسائشوں کے حصول میں صرف ہوتی ہیں اور وہ اس کی زیب و زینت پر فریفتہ اور اس میں پوری طرح مگن ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے اس طرزِ عمل پر بہت خوش اور مطمئن ہوتے ہیں‘ حالانکہ دنیا کی زندگی آخر ت کے مقابلے میں ایک متاعِ قلیل و حقیر کے سوا کچھ بھی نہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے