سورۃ الرعد سے مکی مدنی سورتوں کے زیر مطالعہ گروپ کے دوسرے ذیلی گروپ کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس ذیلی گروپ میں اس سورت کے علاوہ سورۂ ابراہیم اور سورۃ الحجر شامل ہیں۔ یہ تینوں سورتیں نسبتاً چھوٹی ہیں‘ جبکہ پہلے ذیلی گروپ میں شامل تینوں سورتیں ان کے مقابلے میں طویل تھیں۔ سورۃ الرعد اور سورۂ ابراہیم کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے‘ان دونوں کے مضامین میں بھی مشابہت ہے اور طوالت میں بھی یہ تقریباً برابر ہیں‘ البتہ سورۃ الحجر منفرد ہے۔ جہاں تک سورۃ الرعد کے موضوع کا تعلق ہے یہ سورت ’’التذکیر بِآلَائِ اللّٰہ ‘‘ پر مشتمل ہے۔ اس میں اقوامِ گزشتہ کا تذکرہ کسی رسول یا قوم کا نام لیے بغیر بالکل سرسری انداز میں آیا ہے۔
’’اللہ ہی ہے جس نے اٹھایا ہے آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے جنہیں تم دیکھتے ہو‘‘
اس کائنات کے اندر جو بلندیاں ہیں انہیں ستونوں یا کسی طبعی سہارے کی ضرورت نہیں ہے‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے باہمی کشش کا ایک عظیم الشان نظام وضع کیا گیا ہے ‘جس کے تحت تمام کہکشائیں‘ستارے اور سیارے اپنے اپنے مقام پر رہ کر اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔
’’پھر وہ متمکن ہوا عرش پر اور اُس نے (مسلسل)کام میں لگا دیا سورج اور چاند کو۔‘‘
کُلٌّ یَّجۡرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ
’’ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت معین کے لیے ۔‘‘
یعنی اس کائنات کی ہر چیز متحرک ہے ‘چل رہی ہے‘یہاں پر سکون اور قیام کا کوئی تصور نہیں ۔ دوسرا اہم نکتہ جو یہاں بیان ہوا وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر شے کی عمریا مہلت مقرر ہے۔ ہر ستارے‘ہر سیارے‘ ہر نظامِ شمسی اور ہر کہکشاں کی مہلت زندگی مقرر و معین ہے۔
جوڑے بنانے کے اس قانون کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ الذاریات آیت ۴۹ میں اس طرح بیان فرمایا ہے: {وَ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَیۡنِ …} ’’اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے…‘‘۔ گویا یہ زوجین (نر اور مادہ)کی تخلیق اور ان کا قاعدہ و قانون اللہ تعالیٰ نے اس عالم خلق کے اندر ایک باقاعدہ نظام کے طور پر رکھا ہے۔
یہاں پر پھلوں کے حوالے سے اشارہ ہے کہ نباتات میں بھی نر اور مادہ کا باقاعدہ نظام موجود ہے۔ کہیں نر اور مادہ پھول الگ الگ ہوتے ہیں اور کہیں ایک ہی پھول کے اندر ایک حصہ نر اور ایک حصہ مادہ ہوتا ہے۔
’’اور زمین میں قطعات ہیں ایک دوسرے سے متصل اور باغات انگوروں کے اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت ‘جڑوں سے ملے ہوئے بھی اور الگ الگ بھی‘انہیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے‘‘
’’اور اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو قابل تعجب ہے ان کا یہ قول کہ کیا جب ہم (مر کر) مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم از سرِ نو وجود میں آئیں گے؟‘‘
یعنی کفار کا مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پرتعجب کرنا‘بذاتِ خود باعثِ تعجب ہے۔ جس اللہ نے پہلی مرتبہ تم لوگوں کو تخلیق کیا‘پوری کائنات اور اس کی ایک ایک چیز پر حکمت طریقے سے بنائی اُس کے لیے یہ تعجب کرنا کہ وہ ہمیں دوبارہ کیسے زندہ کرے گا‘یہ سوچ اور یہ نظریہ اپنی جگہ بہت ہی مضحکہ خیز اور باعثِ تعجب ہے۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ ۚ
’’یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا۔‘‘
دوبارہ جی اٹھنے کے عقیدے سے ان کا یہ انکار دراصل اللہ کے وجود کا انکار ہے۔ اُس کی قدرت اور اس کے عَلٰی کُلِّ شَییٍٔ قَدِیْـر ہونے کا انکار ہے۔
’’اور یقینا آپ کا رب لوگوں کے حق میں معاف کرنے والا ہے ان کے ظلم کے باوجود۔‘‘
یہ اُس کی رحمت اور شانِ غفاری کا مظہر ہے کہ ان کے مطالبے کے باوجود اور ان کے شرک وظلم میں اس حد تک بڑھ جانے کے باوجود عذاب بھیجنے میں تاخیر فرما رہا ہے۔
’’(اے نبیﷺ !) آپ تو بس خبردار کر دینے والے ہیں اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے۔‘‘
جس طرح ہم نے ہر قوم کے لیے پیغمبر بھیجے ہیں اسی طرح آپؐ کوبھی ہم نے اِن لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا ہے۔ آپؐ کے ذمہ ان کی تبشیر‘تنذیر اور تذکیر ہے۔ آپﷺ اپنا یہ فرض ادا کرتے رہیں۔
’’اللہ خوب جانتا ہے کہ ہر مادہ کیا اٹھائے ہوئے ہے‘‘
ہر مادہ چاہے وہ انسان ہے یا حیوان‘اس کے رحم میں جو کچھ ہے اللہ کے علم میں ہے۔
وَ مَا تَغِیۡضُ الۡاَرۡحَامُ وَ مَا تَزۡدَادُ ؕ
’’اور (وہ جانتا ہے) جس قدر رحم سکڑتے ہیں یا بڑھتے ہیں۔‘‘
جب حمل ٹھہر جاتا ہے تو رحم سکڑتا ہے اور جب بچہ بڑھتا ہے تو اس کے بڑھنے سے رحم پھیلتا ہے۔ ایک ایک مادہ کے اندر ہونے والی اس طرح کی ایک ایک تبدیلی کو اللہ خوب جانتا ہے۔
وَ کُلُّ شَیۡءٍ عِنۡدَہٗ بِمِقۡدَارٍ ﴿۸﴾
’’اور ہر چیز اُس کے ہاں اندازے کے مطابق ہے۔‘‘
اس کائنات کا پورا نظام ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت چل رہا ہے جہاں ہر چیز کی مقدار اور ہر کام کے لیے قاعدہ اور قانون مقرر ہے۔
’’(اُس کے علم میں)برابر ہیں تم میں سے جو بات کو (دل میں) چھپائیں اور جو اسے (بلند آوازسے) ظاہر کریں اوروہ جو رات کی تاریکی میں چھپے ہوئے ہوں اور جو دن کی روشنی میں چلتے پھرتے ہوں۔‘‘
غیاب کی صورت ہو یا ظہور کا عالم ‘اللہ کے علم کے سامنے سب برابر ہے۔ ہر چیز اور اس کی ہر کیفیت ہر آن اس کے سامنے حاضر و موجود ہے۔
’’اس (انسان) کے لیے باری باری آنے والے (پہرے دارمقرر) ہیں‘وہ اس کے سامنے اور اس کے پیچھے سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں اللہ کے حکم سے۔‘‘
یہ مضمون اس سے پہلے ہم سورۃ الانعام (آیت ۶۱) میں بھی پڑھ چکے ہیں: {وَ یُرۡسِلُ عَلَیۡکُمۡ حَفَظَۃً ؕ } کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے تمہارے اوپر محافظ بھیجتا ہے ۔ اللہ کے مقرر کردہ یہ فرشتے اللہ کی مشیت کے مطابق ہروقت انسان کی حفاظت کرتے رہتے ہیں ‘حتیٰ کہ اس کی موت کا وقت آ پہنچتا ہے۔
’’یقینا اللہ کسی قوم کے حالات نہیں بدلتا‘جب تک کہ وہ خود نہیں بدل دیتے اُس (کیفیت) کو جو اُن کے دلوں میں ہے۔‘‘
آپ اپنی باطنی کیفیت کو بدلیں گے‘اس کے لیے محنت کریں گے تو اللہ کی طرف سے بھی آپ کے معاملے میں تبدیلی کر دی جائے گی۔ مولانا ظفر علی خان نے اس آیت کی ترجمانی ان خوبصورت الفاظ میں کی ہے: ؎
’’اور جب اللہ کسی قوم کے لیے کسی بری شے (عذاب) کا فیصلہ کر لیتا ہے توپھر اس کو لوٹانے والا کوئی نہیں ہے‘اور نہیں ہے ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار۔‘‘
’’وہی ہے جو تمہیں دکھاتا ہے بجلی (کی چمک) خوف سے بھی اور امید سے بھی ‘اور وہ اٹھاتا ہے بڑے بوجھل بادل۔‘‘
گہرے بادلوں کی گرج چمک میں خوف کے سائے بھی ہوتے ہیں اور امید کی روشنی بھی کہ شاید اس بارش سے فصلیں لہلہا اٹھیں اور ہماری قحط سالی خوشحالی میں بدل جائے۔یعنی ایسی صورت حال میں خوف و رجاء کی کیفیت ایک ساتھ دلوں پر طاری ہوتی ہے۔
یعنی اللہ ہی ایک ہستی ہے جس کو پکارنا‘جس سے دعا کرنا برحق ہے‘ کیونکہ ایک وہی ہے جو تمہاری پکار کو سنتا ہے‘تمہاری حاجت کو جانتا ہے‘تمہاری حاجت روائی کرنے پر قادر ہے‘اس لیے اس کو پکارنا حق بھی ہے اور سودمند بھی۔ اسے چھوڑ کر کسی اور کو پکارو گے ‘چاہے وہ کوئی فرشتہ ہو‘ولی ہو یا نبی‘کوئی تمہاری پکار اور فریاد کو نہیں سنے گا‘ اور جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے‘ تمہاری ہر ایسی پکار اکارت جائے گی۔ اس فقرے کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ ’’اُسی کی دعوت حق ہے‘‘۔ یعنی جس چیز کی دعوت وہ دے رہا ہے ‘جس راستے کی طرف وہ بلا رہا ہے وہی حق ہے۔
’’مگر جیسے کوئی پھیلا دے اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف کہ وہ اُس کے منہ تک پہنچ جائے‘حالانکہ وہ اس (کے منہ)تک پہنچنے والا نہیں ہے۔‘‘
جیسے اپنے ہاتھ پھیلا کر پانی کو اپنے منہ کی طرف بلانا ایک کارِ عبث ہے‘ اسی طرح کسی غیر اللہ کو پکارنا ‘اُس کے سامنے گڑ گڑانا اور اس سے داد رسی کی امید رکھنا بھی کارِ عبث ہے۔
’’اللہ ہی کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے‘آمادگی کے ساتھ بھی اور مجبوراً بھی‘ اور اُن کے سائے بھی صبح وشام (اُسی کو سجدہ کرتے ہیں)۔‘‘
صبح کے وقت جب سورج نکلتا ہے اور سائے زمین پر لمبے ہو کر پڑے ہوتے ہیں وہ اس حالت میں اللہ کو سجدہ کر رہے ہوتے ہیں اور اسی طرح شام کو غروبِ آفتاب کے وقت بھی یہ سائے حالت سجدہ میں ہوتے ہیں۔
’’کیا انہوں نے اللہ کے ایسے شریک ٹھہرا لیے ہیں جنہوں نے تخلیق کی ہے اُس کی تخلیق کی طر ح‘تو یہ تخلیق اُن پر مشتبہ ہو گئی ہے؟‘‘
یعنی ان مشرکین کا معاملہ تو یوں لگتا ہے جیسے اُن کے معبودوں نے بھی کچھ مخلوق پیدا کر رکھی ہے اور کچھ مخلوق اللہ کی ہے ۔ اب وہ بے چارے اس شش و پنج میں پڑے ہوئے ہیں کہ کون سی مخلوق کو اللہ سے منسوب کریں اور کس کس کو اپنے ان معبودوں کی مخلوق مانیں! جب ایسا نہیں ہے اور وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اس کا خالق اور مالک اللہ ہے تو پھر اللہ کو اکیلا اور واحد معبود ماننے میں وہ کیوں شکوک و شبہات کا شکار ہو رہے ہیں؟