وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡقُرٰی ؕ
’’اور (اے نبیﷺ!)ہم نہیں بھیجتے رہے آپ سے پہلے (رسول بنا کر) مگر مردوں ہی کو بستیوں والوں میں سے ‘ جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔‘‘
یعنی آپﷺ سے پہلے مختلف ادوار میں اور مختلف علاقوں میں جو انبیاء و رسل آئے وہ سب آدمی ہی تھے اور ان ہی بستیوں کے رہنے والوں میں سے تھے۔
اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ
’’تو کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوںکا جو ان سے پہلے تھے۔‘‘
یہ انہی اقوام کے انجام کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر انبا ء الرسل کے تحت قرآن میں بار بار آیا ہے۔
وَ لَدَارُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾
’اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیار کریں ۔ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘
اگلی آیت مشکلات القرآن میں سے ہے اور اس کے بارے میں بہت سی آراء ہیں۔ میرے نزدیک جو رائے صحیح تر ہے‘ صرف وہ یہاں بیان کی جا رہی ہے۔
حَتّٰۤی اِذَا اسۡتَیۡـَٔسَ الرُّسُلُ
’’یہاں تک کہ جب رسول مایوس ہو گئے‘‘
یعنی متعلقہ قوم میں جس قدر فطرتِ سلیمہ کی استعداد (potential) تھی اس لحاظ سے نتائج سامنے آچکے۔ ان میں سے جن لوگوں نے ایمان لانا تھا وہ ایمان لا چکے اورمزید کسی کے ایمان لانے کی توقع نہ رہی۔ بالفاظِ دیگر اِس چاٹی میں سے جس قدر مکھن نکلنا تھا نکل چکا‘ اب اسے مزید بلونے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا۔
وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ قَدۡ کُذِبُوۡا
’’اور لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا‘‘
یہاں ظَنُّوْٓا کا فاعل متعلقہ قوم کے لوگ ہیں ‘یعنی اب تک جو لوگ ایمان نہیں لائے تھے وہ مزید دلیر ہوگئے۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ سب کچھ واقعی جھوٹ تھا۔ کیونکہ اگر سچ ہوتا تو اتنے عرصے سے ہمیں جو عذاب کی دھمکیاں مل رہی تھیں وہ پوری ہو جاتیں۔ ہم ایمان بھی نہیں لائے اور عذاب بھی نہیں آیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت کا دعویٰ اور عذاب کے یہ ڈراوے سب جھوٹ ہی تھا۔
جَآءَہُمۡ نَصۡرُنَا ۙ
’’تو ان کو ہماری مدد آ پہنچی‘‘
یعنی انبیا ء و رسل کی دعوت اور حق و باطل کی کشمکش کے دوران ہمیشہ ایسا ہوا کہ جب دونوں طرف کی سوچ اپنی اپنی آخری حد تک پہنچتی (پیغمبر سمجھتے کہ اب مزید کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا اور منکرین سمجھتے کہ اب کوئی عذاب وغیرہ نہیں آئے گا ‘یہ سب ڈھونگ تھا) تو عین ایسے موقع پر نبیوں ؑاور رسولوں ؑکے پاس ہماری طرف سے مدد پہنچ جاتی۔
فَنُجِّیَ مَنۡ نَّشَآءُ ؕ وَلَا یُرَدُّ بَاۡسُنَا عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۱۰﴾
’’پس بچا لیا گیا ان کو جن کو ہم نے چاہا ۔اور ہمارا عذاب پھیرا نہیں جا سکتا مجرم قوم سے۔‘‘
یعنی اپنے انبیاء ورسل کے لیے ہماری یہ مدد منکرین حق پر عذاب کی صورت میں آتی اور اس عذاب سے جسے ہم چاہتے بچا لیتے‘ لیکن اس سلسلے کی اٹل حقیقت یہ ہے کہ ایسے موقع پر مجرمین پر ہمارا عذاب آ کر ہی رہتا ہے۔ اُن کی طرف سے اس کا رخ کسی طور سے موڑا نہیں جا سکتا۔