تحریر

يوسف

آیات ۱۰۲ تا ۱۱۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

102-105

حق واضح ہونے کے باوجود بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

ویڈیو

ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَ ۚ وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ اَجۡمَعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ وَ ہُمۡ یَمۡکُرُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾ وَ مَاۤ اَکۡثَرُ النَّاسِ وَ لَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾ وَ مَا تَسۡـَٔلُہُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۱۰۴﴾ وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ یَمُرُّوۡنَ عَلَیۡہَا وَ ہُمۡ عَنۡہَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾

آیت 102

ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَ ۚ

’’یہ ہے غیب کی خبروں میں سے جو ہم وحی کرتے ہیں (اے محمدﷺ) آپ کی طرف۔‘‘

وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ اَجۡمَعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ وَ ہُمۡ یَمۡکُرُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾

’’اور آپؐ ان کے پاس موجود نہیں تھے جب انہوں نے اتفاقِ رائے کیا تھا اپنے معاملے پر اور جب وہ لوگ سازش کر رہے تھے۔‘‘

آیت 103

وَ مَاۤ اَکۡثَرُ النَّاسِ وَ لَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾

’’اور بہت سے لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں ‘چاہے آپ کتنی ہی خواہش رکھیں۔‘‘

ان منکرینِ حق نے اپنی طرف سے ایک سوال کیا تھا‘ ہم نے اس کا مفصل جواب دے دیا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس قدر عمدہ اور خوبصورت جواب پا کر وہ لوگ ایمان بھی لے آئیں گے۔ نہیں ایسا نہیں ہو گا۔ ان میں سے اکثر لوگ آپﷺ کی شدید خواہش کے باوجود بھی ایمان نہیں لائیں گے۔

آیت 104

وَ مَا تَسۡـَٔلُہُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۱۰۴﴾

’’اور (اے نبیﷺ!) آپ اس پر ان سے کوئی اجر تو نہیں مانگ رہے‘ یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے۔‘‘

آیت 105

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ یَمُرُّوۡنَ عَلَیۡہَا وَ ہُمۡ عَنۡہَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾

’’اور کتنی ہی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں جن پر سے یہ گزرتے رہتے ہیں‘لیکن یہ اُن سے اعراض ہی کرتے ہیں۔‘‘

یہ لوگ زمین و آسمان کی وسعتوں میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار نشانیوں کو بار بار دیکھتے ہیں مگر کبھی ان پر غورکرکے سبق حاصل نہیں کرتے۔

106-107

ایمان لانے والوں کی اکثریت شرک کرتی ہے

ویڈیو

وَ مَا یُؤۡمِنُ اَکۡثَرُہُمۡ بِاللّٰہِ اِلَّا وَ ہُمۡ مُّشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾ اَفَاَمِنُوۡۤا اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ غَاشِیَۃٌ مِّنۡ عَذَابِ اللّٰہِ اَوۡ تَاۡتِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾

آیت 106

وَ مَا یُؤۡمِنُ اَکۡثَرُہُمۡ بِاللّٰہِ اِلَّا وَ ہُمۡ مُّشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾

’’اور ان میں اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر اس طرح کہ (کسی نہ کسی نوع کا) شرک بھی کرتے ہیں۔‘‘

یہ آیت ہمارے لیے بہت زیادہ لائق توجہ ہے اور ہم سب کو اس پر بہت غور وخوض کرنے کی ضرورت ہے۔ شرک کا معاملہ ان لوگوں کا تو بالکل واضح ہے جو ایک اللہ کے ساتھ بے شمار دوسرے معبودوں پر ایمان رکھتے ہیں اور مختلف ناموں سے اُن کی پوجا کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ خود کو موحد سمجھتے ہیں اور اپنے خیال میں وہ امکانی حد تک موحد ہوتے بھی ہیں‘ بسا اوقات غیر شعوری طور پر وہ بھی کسی نہ کسی نوع کے شرک میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ اس صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے بڑی گہری بصیرت کی ضرورت ہے‘ اور ایسی بصیرت اور ایسا علم حاصل کرنا ہر صاحب شعور مسلمان پر فرض ہے تا کہ وہ خود کو اس مہلک اور تباہ کن گناہ سے بچا سکے۔

شرک کو قرآن مجید میں بدترین گناہ اور سب سے بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس گناہ کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سوررۃ النساء میں وہ آیت (۴۸ اور ۱۱۶) دو مرتبہ آئی ہے جس میں شرک کا ارتکاب کرنے والے فرد کے لیے معافی اور مغفرت کے کسی بھی امکان کو سختی سے رد کر دیا گیا ہے: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ} --- اس اعتبار سے میں یہاں پر ایک دفعہ پھر ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ’’حقیقت و اقسام شرک ‘‘کے موضوع پر میری چھ گھنٹے کی تقاریر کی ریکارڈنگ آپ ضرورسنیں (اب اسی نام سے کتاب بھی دستیاب ہے‘ جس کا مطالعہ کر لیں)اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ شرک کی حقیقت اور اس کی اقسام کیا ہیں؟ ماضی میں شرک کی کیا صورتیں تھیں اور آج کے دور کا سب سے بڑا شرک کون سا ہے؟ شرک فی الذات کیا ہے؟ شرک فی الصفات کیا ہے؟ شرک فی الحقوق کیا ہے؟ نظریاتی شرک کیا ہے؟ سائنس میں یہ شرک کس طورسے آیا ہے؟قوم پرستی‘ مادہ پرستی‘ نفس پرستی اور دولت پرستی کس اعتبار سے شرک کے زمرے میں آتی ہے؟ کون کون سے بڑے شرک ہیں جن میں آج ہمارے ملوث ہونے کا امکان ہے؟ شرک کے بارے میں یہ تمام تفصیلات جاننا ایک بندۂ مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

آیت 107

اَفَاَمِنُوۡۤا اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ غَاشِیَۃٌ مِّنۡ عَذَابِ اللّٰہِ

’’کیا وہ اس سے بے خوف ہو چکے ہیں کہ آدھمکے اُن پر ڈھانپ لینے والی آفت اللہ کے عذاب کی‘‘

اَوۡ تَاۡتِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾

’’یا (اُن کو یہ ڈر بھی نہیں رہا کہ) آ جائے اُن پر قیامت اچانک اور انہیں اس کا احساس تک نہ ہو!‘‘

108

اتباعِ رسول ﷺ کا تقاضا . . . . دعوتِ الی اللہ

ویڈیو

قُلۡ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ۟ؔ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیۡ ؕ وَ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾

آیت 108

قُلۡ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ۟ؔ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیۡ ؕ

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے ‘میں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں‘پوری بصیرت کے ساتھ‘ میں بھی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے۔‘‘

یعنی میرا اس راستے کو اختیار کرنا اور پھر اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا‘ یونہی کوئی اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے مترادف نہیں ہے ‘بلکہ میں اپنی بصیرتِ باطنی کے ساتھ ‘پوری سوجھ بوجھ اور پورے شعور کے ساتھ اس راستے پر خود بھی چل رہا ہوں اور اس راستے کی طرف دوسروں کو بھی بلا رہاہوں۔ اسی طرح میرے پیروکار بھی کوئی اندھے بہرے مقلد نہیں ہیں بلکہ پورے شعور کے ساتھ میری پیروی کر رہے ہیں۔

آج کے دور میں اس شعوری ایمان کی بہت ضرورت ہے۔ اگرچہ blind faith بھی اپنی جگہ بہت قیمتی چیز ہے اور یہ بھی انسان کی زندگی اور زندگی کی اقدار میں انقلاب لا سکتا ہے‘ لیکن آج ضرورت چونکہ نظام بدلنے کی ہے اور نظام پر معاشرے کے intelligentsia کا تسلط ہے‘اس لیے جب تک اس طبقے کے اندر شعور اور بصیرت والا ایمان پیدا نہیں ہو گا‘ یہ نظام تبدیل نہیں ہو سکتا۔

وَ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾

’’اور اللہ پاک ہے اور میں ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘

109-110

تمام رسول انسان ہی تھے

ویڈیو

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡقُرٰی ؕ اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ وَ لَدَارُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾ حَتّٰۤی اِذَا اسۡتَیۡـَٔسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ قَدۡ کُذِبُوۡا جَآءَہُمۡ نَصۡرُنَا ۙ فَنُجِّیَ مَنۡ نَّشَآءُ ؕ وَلَا یُرَدُّ بَاۡسُنَا عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۱۰﴾

آیت 109

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡقُرٰی ؕ

’’اور (اے نبیﷺ!)ہم نہیں بھیجتے رہے آپ سے پہلے (رسول بنا کر) مگر مردوں ہی کو بستیوں والوں میں سے ‘ جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔‘‘

یعنی آپﷺ سے پہلے مختلف ادوار میں اور مختلف علاقوں میں جو انبیاء و رسل آئے وہ سب آدمی ہی تھے اور ان ہی بستیوں کے رہنے والوں میں سے تھے۔

اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ

’’تو کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوںکا جو ان سے پہلے تھے۔‘‘

یہ انہی اقوام کے انجام کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر انبا ء الرسل کے تحت قرآن میں بار بار آیا ہے۔

وَ لَدَارُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾

’اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیار کریں ۔ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘

اگلی آیت مشکلات القرآن میں سے ہے اور اس کے بارے میں بہت سی آراء ہیں۔ میرے نزدیک جو رائے صحیح تر ہے‘ صرف وہ یہاں بیان کی جا رہی ہے۔

آیت 110

حَتّٰۤی اِذَا اسۡتَیۡـَٔسَ الرُّسُلُ

’’یہاں تک کہ جب رسول مایوس ہو گئے‘‘

یعنی متعلقہ قوم میں جس قدر فطرتِ سلیمہ کی استعداد (potential) تھی اس لحاظ سے نتائج سامنے آچکے۔ ان میں سے جن لوگوں نے ایمان لانا تھا وہ ایمان لا چکے اورمزید کسی کے ایمان لانے کی توقع نہ رہی۔ بالفاظِ دیگر اِس چاٹی میں سے جس قدر مکھن نکلنا تھا نکل چکا‘ اب اسے مزید بلونے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا۔

وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ قَدۡ کُذِبُوۡا

’’اور لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا‘‘

یہاں ظَنُّوْٓا کا فاعل متعلقہ قوم کے لوگ ہیں ‘یعنی اب تک جو لوگ ایمان نہیں لائے تھے وہ مزید دلیر ہوگئے۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ سب کچھ واقعی جھوٹ تھا۔ کیونکہ اگر سچ ہوتا تو اتنے عرصے سے ہمیں جو عذاب کی دھمکیاں مل رہی تھیں وہ پوری ہو جاتیں۔ ہم ایمان بھی نہیں لائے اور عذاب بھی نہیں آیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت کا دعویٰ اور عذاب کے یہ ڈراوے سب جھوٹ ہی تھا۔

جَآءَہُمۡ نَصۡرُنَا ۙ

’’تو ان کو ہماری مدد آ پہنچی‘‘

یعنی انبیا ء و رسل کی دعوت اور حق و باطل کی کشمکش کے دوران ہمیشہ ایسا ہوا کہ جب دونوں طرف کی سوچ اپنی اپنی آخری حد تک پہنچتی (پیغمبر سمجھتے کہ اب مزید کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا اور منکرین سمجھتے کہ اب کوئی عذاب وغیرہ نہیں آئے گا ‘یہ سب ڈھونگ تھا) تو عین ایسے موقع پر نبیوں ؑاور رسولوں ؑکے پاس ہماری طرف سے مدد پہنچ جاتی۔

فَنُجِّیَ مَنۡ نَّشَآءُ ؕ وَلَا یُرَدُّ بَاۡسُنَا عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۱۰﴾

’’پس بچا لیا گیا ان کو جن کو ہم نے چاہا ۔اور ہمارا عذاب پھیرا نہیں جا سکتا مجرم قوم سے۔‘‘

یعنی اپنے انبیاء ورسل کے لیے ہماری یہ مدد منکرین حق پر عذاب کی صورت میں آتی اور اس عذاب سے جسے ہم چاہتے بچا لیتے‘ لیکن اس سلسلے کی اٹل حقیقت یہ ہے کہ ایسے موقع پر مجرمین پر ہمارا عذاب آ کر ہی رہتا ہے۔ اُن کی طرف سے اس کا رخ کسی طور سے موڑا نہیں جا سکتا۔

111

قرآن کے واقعات میں درسِ عبرت ہے

ویڈیو

لَقَدۡ کَانَ فِیۡ قَصَصِہِمۡ عِبۡرَۃٌ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ؕ مَا کَانَ حَدِیۡثًا یُّفۡتَرٰی وَ لٰکِنۡ تَصۡدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ تَفۡصِیۡلَ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۱۱۱﴾

آیت 111

لَقَدۡ کَانَ فِیۡ قَصَصِہِمۡ عِبۡرَۃٌ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ؕ

’’یقینا ان (سابقہ اقوام) کے واقعات میں ہوش مند لوگوں کے لیے عبرت ہے۔‘‘

مَا کَانَ حَدِیۡثًا یُّفۡتَرٰی وَ لٰکِنۡ تَصۡدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ

’’ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں جسے گھڑ لیا گیا ہو‘ بلکہ یہ تو تصدیق (کرتے ہوئے آیا) ہے اُس کی جو اس سے پہلے موجود ہے‘‘

یعنی یہ واقعات تورات میں بھی ہیں اور قرآن انہی واقعات کی تصدیق کررہا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کے سلسلے میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بہت عمدگی کے ساتھ تورات اور قرآن کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے حسنِ بیان اور اس کے حکیمانہ انداز کا معیار اس قدر بلند ہے کہ تورات میں اس کا عشر عشیرِ بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل تورات توگم ہو گئی تھی۔ بعد میں حافظے کی مدد سے جو تحریریں مرتب کی گئیں‘ ان میں ظاہر ہے وہ معیار تو پیدا نہیں ہو سکتا تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ تورات میں تھا۔

وَ تَفۡصِیۡلَ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۱۱۱﴾

’’اور (اس میں) تفصیل ہے ہر چیز کی اور ہدایت اور رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو (اس پر)ایمان لاتے ہیں۔‘‘

یعنی وہ علم جو اس دنیا میں انسان کے لیے ضروری ہے اور وہ راہنمائی جو دُنیوی زندگی میں اسے درکار ہے سب کچھ اس قرآن میں موجود ہے۔

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیمo o

یوٹیوب پر دیکھیے